یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏3 ص.‏ 13-‏19
  • بامقصد تعلیم

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بامقصد تعلیم
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • موثر خادم بننے کیلئے درکار مہارتیں
  • سکول کی موزوں تعلیم کے فوائد
  • کافی تعلیم
  • تعلیم کی بابت متوازن نظریہ
  • لاگت کا حساب لگانا
  • ایک متحد، تعلیم‌یافتہ قوم
  • زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے سمجھ‌داری سے فیصلے لیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • تعلیم—‏اِسے یہوؔواہ کی حمد کے لئے استعمال کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • کیا میرے بچے کو سکول جانا چاہئے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • اَے اولاد والو!‏ آپ اپنے بچوں کیلئے کیسا مستقبل چاہتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏3 ص.‏ 13-‏19

بامقصد تعلیم

‏”‏کسی راستباز کو علم دے اور وہ سیکھنے میں ترقی کریگا۔“‏—‏امثال ۹:‏۹‏، NW۔‏

۱.‏ علم کے سلسلے میں یہوواہ اپنے خادموں سے کیا توقع کرتا ہے؟‏

یہوواہ ”‏خدای علیم ہے۔“‏ (‏ا-‏سموئیل ۲:‏۳)‏ وہ اپنے خادموں کو تعلیم دیتا ہے۔ موسی نے پیشینگوئی کی تھی کہ ماصر امتیں اسرائیل کی بابت کہیں گی:‏ ”‏یقیناً یہ بزرگ قوم نہایت عقلمند اور دانشور ہے۔“‏ (‏استثنا ۴:‏۶)‏ سچے مسیحیوں کو بھی اسی طرح علیم ہونا چاہیے۔ انہیں خدا کے کلام کے عمدہ طالبلم ہونے کی ضرورت ہے۔ اسطرح کے مطالے کے مقصد کو ظاہر کرتے ہوئے رسول پولس نے لکھا:‏ ”‏ہم .‏ .‏ .‏ تمہارے واسطے یہ دعا کرنے اور درخواست کرنے سے باز نہیں آتے کہ تم کمال روحانی حکمت اور سمجھ کے ساتھ اسکی مرضی کے علم سے ممور ہو جاؤ۔ تاکہ تمہارا چال‌چلن خداوند کے لائق ہو اور اسکو ہر طرح سے پسند آئے اور تم میں ہر طرح کے نیک کام کا پھل لگے اور خدا کی پہچان میں بڑھتے جاؤ۔“‏—‏کلسیوں ۱:‏۹، ۱۰‏۔‏

۲.‏ (‏ا)‏خدا کی بابت صحیح علم حاصل کرنے کے لئے کیا ضروری ہے؟ (‏ب)‏ یہوواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی نے اس ماملے کو کیسے پیش کیا ہے؟‏

۲ خدا اور اسکے مقاصد کا صحیح علم حاصل کرنے کے نظریے سے مطالہ کرنا کم‌ازکم تھوڑی بہت تعلیم کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن بہتیرے لوگ جنہوں نے سچائی کو سیکھا ہے ایسے ممالک میں رہتے تھے جہاں ان کے پاس موزوں دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا موقع بہت کم تھا یا بالکل نہ تھا۔ صورت‌حال انکے لئے سازگار نہیں تھی۔ اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے بہت سال ہوئے یہوواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی نے ہدایت جاری کی ہوئی ہے کہ جہاں ضرورت ہو وہاں کلیسیاؤں کے اندر ہی خواندگی کی جماعتوں کو منظم کیا جانا چاہیے۔ ۳۰ سال سے زیادہ عرصہ ہوا، ایک برازیلی اخبار ڈیارئیو ڈی موژی نے ایک مضمون بنوان ”‏یہوواہ کے گواہ ناخواندگی کے خلاف جہاد کرتے ہیں،“‏ شائع کیا۔ اس نے بیان دیا:‏ ایک لائق استاد ”‏.‏ .‏ .‏ صبر کیساتھ دوسروں کو پڑھنا لکھنا سکھانا شروع کرتا ہے۔ .‏ .‏ .‏ شاگردوں کو، خدا کے خادموں کے طور پر انکے حالات ہی انہیں آمادہ کرتے ہیں کہ تقاریر پیش کرنے کی غرض سے زبان کے اپنے علم کو بڑھائیں۔“‏ اسطرح سے تمام دنیا میں ہزاروں لوگ خدا کے کلام کے اچھے طالبلم بننے کے قابل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بنیادی تعلیم کو ایک بلندپایہ مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے شروع کیا۔‏

موثر خادم بننے کیلئے درکار مہارتیں

۳، ۴.‏ (‏ا)‏سچے مسیحی تعلیم میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں؟ (‏ب)‏ اسرائیل میں کیا صورتحال تھی اور آجکل ہماری کلیسیاؤں میں کونسی بنیادی تعلیم قطی طور پر ضروری ہے؟‏

۳ سچے مسیحی نہ صرف تعلیم ہی کی خاطر بلکہ یہوواہ کے زیادہ موثر خادم بننے کیلئے تعلیم میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مسیح نے تمام مسیحیوں کو خاص کام دیا کہ ”‏سب قوموں کو شاگرد بناؤ .‏ .‏ .‏ اور انکو یہ تعلیم دو کہ ان سب باتوں پر عمل کریں جنکا میں نے تم کو حکم دیا۔“‏ (‏متی ۲۸:‏۱۹، ۲۰‏)‏ دوسروں کو سکھانے کیلئے انہیں پہلے خود سیکھنا ہے اور یہ مطالے کے اچھے طریقوں کا تقاضا کرتا ہے۔ انکے اندر احتیاط سے صحائف کی جانچ کرنے کی لیاقت ہونی چاہیے۔ (‏اعمال ۱۷:‏۱۱‏)‏ اپنے فریضے کو پورا کرنے کیلئے، انہیں روانی سے پڑھنے کے لائق ہونے کی بھی ضرورت ہے۔—دیکھیں حبقوق ۲:‏۲،‏ ۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱۳‏۔‏

۴ جیسے کہ ہم نے پچھلے مضمون میں دیکھا یہ یقین کرنے کی اچھی وجہ ہے کہ قدیم اسرائیل میں چھوٹے بچے بھی پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ (‏قضاہ ۸:‏۱۴، یسیاہ ۱۰:‏۱۹)‏ آجکل مسیحی خادموں کو جب وہ گھرباگھر گواہی دیتے ہیں تو انہیں صاف ستھرے نوٹس لکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ خط لکھتے ہیں، اجلاسوں پر نوٹس لکھتے ہیں، اور اپنے مطالے کے مواد کی تفسیر لکھتے ہیں۔ یہ سب کچھ آسانی سے پڑھی جانے والی لکھائی کا تقاضا کرتا ہے۔ مسیحی کلیسیا میں ریکارڈ رکھنا کم‌ازکم ریاضی کے بنیادی علم کو ضروری بنا دیتا ہے۔‏

سکول کی موزوں تعلیم کے فوائد

۵.‏ (‏ا)‏لفظ ”‏سکول“‏ کا مصدر کیا ہے؟ (‏ب)‏ نوجوان لوگوں کو کس موقع سے فوراً فائدہ اٹھانا چاہیے؟‏

۵ دلچسپی کی بات ہے کہ لفظ ”‏سکول“‏ یونانی لفظ سکولی سے مشتق ہے جسکا بنیادی مطلب ”‏فرصت“‏ یا فرصت کے وقت کو کسی سنجیدہ کارگزاری، جیسے کہ علم حاصل کرنے کیلئے استمال کرنا تھا۔ بدازاں یہ اس جگہ کا نام بن گیا جہاں پر ایسا علم حاصل کیا جاتا تھا۔ یہ اس چیز کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک وقت تھا جب—یونان اور دوسرے ممالک میں—صرف اونچے طبقے کو علم حاصل کرنے کی فرصت ہوتی تھی۔ مزدور طبقہ عام طور پر جاہل رہتا تھا۔ آجکل، زیادہ‌تر ممالک میں بچوں اور نوجوان لوگوں کو علم حاصل کرنے کا وقت دیا جاتا ہے۔ نوجوان گواہوں کو یقینی طور پر یہوواہ کے علیم اور قابل خادم بننے کیلئے وقت کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔—‏افسیوں ۵:‏۱۵، ۱۶‏۔‏

۶، ۷.‏ (‏ا)‏سکول کی موزوں تعلیم کے بض فائدے کیا ہیں؟ (‏ب)‏ کن طریقوں سے ایک غیرملکی زبان سیکھنا فائدہ‌مند ہو سکتا ہے؟ (‏ج)‏ آجکل بہت سے نوجوان لوگوں کے درمیان کیا صورتحال ہے جب وہ فارغ‌التحصیل ہوتے ہیں؟‏

۶ تاریخ، جغرافیہ، سائنس وغیرہ کا بنیادی علم نوجوان گواہوں کو متوازن خادم بننے کے قابل بنائیگا۔ انکی سکول کی تعلیم انہیں نہ صرف بہت سے مضامین بلکہ سیکھنے کے عمل کو بھی سکھائیگی۔ سچے مسیحی جب سکول چھوڑ دیتے ہیں تو بھی علم حاصل کرنا اور مطالہ کرنا بند نہیں کرتے۔ تاہم، اپنے مطالے سے جو کچھ وہ حاصل کرتے ہیں، اسکا بڑی حد تک انحصار انکے اس علم پر ہوگا کہ کسطرح مطالہ کریں۔ دنیاوی اور کلیسیائی تعلیم دونوں انکی مدد کر سکتی ہے کہ اپنی سوچنے کی صلاحیتوں کو ترقی دیں۔ (‏امثال ۵:‏۱، ۲‏)‏ جب وہ پڑھتے ہیں تو وہ یہ پہچاننے کے خوب اہل ہونگے کہ کونسی چیز اہم ہے، کونسی چیز نوٹ کرنے اور یاد رکھنے کے لائق ہے۔‏

۷ مثال کے طور پر، کوئی غیرملکی زبان سیکھنے سے نہ صرف نوجوان لوگوں کی ذہنی صلاحیت ترقی پائے گی بلکہ انہیں یہوواہ کی تنظیم کیلئے بھی زیادہ مفید بنائے گی۔ واچ‌ٹاور سوسائٹی کی بض برانچوں میں نوجوان بھائیوں نے روانی کیساتھ انگریزی پڑھنے اور بولنے کے قابل ہونے کو سودمند پایا ہے۔ علاوہ‌ازیں، تمام مسیحی خادموں کو اپنی مادری زبان میں صحیح تلفظ کیساتھ بولنے کے قابل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بادشاہت کی خوشخبری اس لائق ہے کہ اس کا اظہار گرامر کے قواعد کے مطابق درست انداز سے کیا جائے۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ آجکل دنیا میں، بہت سے نوجوان جب سکول سے فارغ‌التحصیل ہوتے ہیں تو ابھی تک صحیح طریقے سے بولنے اور لکھنے میں اور سادہ حساب کرنے میں بھی مشکل پاتے ہیں، اور انہیں تاریخ اور جغرافیے کا نہایت غیرواضح علم ہوتا ہے۔‏

کافی تعلیم

۸.‏ دنیاوی تعلیم اور کسی شخص کی اپنی کفالت کرنے کی لیاقت کے مضمون کے ساتھ کن صحائف کا تلق ہے؟‏

۸ پس دنیاوی تعلیم کیلئے ایک مسیحی کے رجحان پر غوروفکر کرنے کیلئے یہ موزوں وقت دکھائی دیتا ہے۔ کونسے بائبل اصول اس مضمون سے متلق ہیں؟ اولاً، بیشتر ممالک میں ”‏قیصر“‏ کی مناسب اطاعت مسیحی والدین سے تقاضا کرتی ہے کہ اپنے بچوں کو سکول بھیجیں۔ (‏مرقس ۱۲:‏۱۷،‏ ططس ۳:‏۱‏)‏ جہاں تک نوجوان گواہوں کا تلق ہے، انہیں اپنے سکول کے کام میں کلسیوں ۳:‏۲۳ کو یاد رکھنا چاہیے جو بیان کرتی ہے:‏ ”‏جو کام کرو جی سے کرو۔ یہ جان کر کہ خداوند کیلئے کرتے ہو نہ کہ آدمیوں کیلئے۔“‏ دوسرا متلقہ اصول یہ ہے کہ مسیحیوں کو خود اپنی کفالت کرنے کے قابل ہونا چاہیے، خواہ وہ کل‌وقتی پائنیر خادم ہی کیوں نہ ہوں۔ (‏۲-‏تھسلنیکیوں ۳:‏۱۰-‏۱۲‏)‏ اگر شادی‌شدہ ہے تو ایک مرد کو مناسب طور پر اپنی بیوی اور شاید پیدا ہونے والے بچوں کی ضرورت پوری کرنے، اور حاجتمندوں کو دینے اور منادی کرنے کے مقامی اور عالمگیر کام کی ماونت کرنے کیلئے دینے کی غرض سے تھوڑی زائد رقم پاس رکھنے کے قابل ہونا چاہیے۔—‏افسیوں ۴:‏۲۸،‏ ۱-‏تیمتھیس ۵:‏۸‏۔‏

۹، ۱۰.‏ (‏ا)‏بہت سے ممالک میں کیا رجحان پایا جاتا ہے؟ (‏ب)‏ ایک پائنیر خادم کس کو ایک مقول اجرت خیال کر سکتا ہے؟‏

۹ ان بائبل اصولوں کا لحاظ رکھنے اور اپنی مسیحی ذمہ‌داریوں کو پورا کرنے کیلئے ایک نوجوان مسیحی کو کتنی تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے؟ یہ ہر ملک میں فرق ہوتی ہے۔ تاہم، بالموم یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہتیرے ممالک میں یہ عام رجحان ہے کہ مقول اجرت حاصل کرنے کیلئے درکار تعلیم کا میار گزشتہ چند سالوں کی نسبت اب زیادہ بلند ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں واچ‌ٹاور سوسائٹی کی برانچوں سے ملنے والی رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ بہت سے علاقوں میں قانون کے مطابق کم‌ازکم مطلوبہ تعلیم یا بض ممالک میں ثانوی یا اعلی ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بد بھی مقول اجرت والی ملازمتیں تلاش کرنا مشکل ہے۔‏

۱۰ ”‏مقول اجرت“‏ سے کیا مراد ہے؟ یہ اونچی تنخواہ والی نوکریوں کو ظاہر نہیں کرتی۔ ویبسٹرز ڈکشنری اس ضمن میں ‏”‏مقول“‏ کی تریف ”‏کافی، تسلی بخش“‏ کے طور پر کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، انکے لئے ”‏کافی“‏ کس کو کہا جا سکتا ہے جو خوشخبری کے پائنیر خادم بننے کی خواہش رکھتے ہیں؟ ایسوں کو عام طور پر اپنے بھائیوں یا خاندان پر ”‏بوجھ“‏ ڈالنے سے گریز کرنے کیلئے جزوقتی کام کی ضرورت ہوتی ہے۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۹‏)‏ انکی اجرت کو ”‏کافی،“‏ یا ”‏تسلی‌بخش“‏ کہا جا سکتا ہے اگر وہ جو کچھ کماتے ہیں وہ انہیں مقول طریقے سے رہنے کی اجازت دے جبکہ اپنی مسیحی خدمتگزاری کو پورا کرنے کیلئے انکے پاس کافی وقت اور قوت بھی باقی چھوڑے۔‏

۱۱.‏ بض نوجوان اشخاص نے پائنیر خدمت کیوں چھوڑ دی ہے، اور کیا سوال پیدا ہوا ہے؟‏

۱۱ آجکل اکثر صورت‌حال کیا ہے؟ یہ رپورٹ دی گئی ہے کہ بض ممالک میں بہت سے نیک نیت نوجوانوں نے پائنیر بننے کی غرض سے کم‌ازکم مطلوبہ تعلیم مکمل کرنے کے بد سکول چھوڑ دیا ہے۔ وہ کوئی ہنر یا دنیاوی اہلیت نہیں رکھتے۔ اگر انکے والدین انکی مدد نہ کرتے تو انہیں جزوقتی کام ضرور تلاش کرنا پڑتا۔ بض کو ایسی ملازمتیں قبول کرنی پڑی ہیں، جنہوں نے ان سے اسی آمدنی کے ساتھ گزربسر کرنے کے لئے بہت طویل گھنٹوں تک کام کرنے کا تقاضا کیا۔ جسمانی طور پر تھک جانے سے انہوں نے پائنیر خدمتگزاری چھوڑ دی۔ ایسے اشخاص اپنی کفالت کرنے اور دوبارہ پائنیر خدمت شروع کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟‏

تعلیم کی بابت متوازن نظریہ

۱۲.‏ (‏ا)‏تعلیم کے سلسلے میں، ایک مسیحی کونسے دو انتہاپسند نظریات سے بچیگا؟ (‏ب)‏ یہوواہ کے مخصوص‌شدہ خادموں اور انکے بچوں کیلئے، تعلیم کو کیا مقصد پورا کرنا چاہیے؟‏

۱۲ تعلیم کی بابت متوازن نظریہ مدد کر سکتا ہے۔ دنیا کے بہت سے نوجوان لوگوں کیلئے، تعلیم حیثیت کی علامت ہے ینی کوئی ایسی چیز جو ماشرتی زینے پر چڑھنے کیلئے انکی مدد کرتی ہے، ایک کامیاب، مادہ‌پرستانہ طرززندگی کی کُنجی ہے۔ دوسروں کیلئے تعلیم حاصل کرنا ایک مشقت ہے جسے جتنا جلدی ممکن ہو سکے ختم کیا جائے۔ ان نظریوں میں سے کوئی بھی سچے مسیحیوں کے لئے مناسب نہیں ہے۔ پھر ”‏متوازن نظریہ“‏ کس کو کہا جا سکتا ہے؟ مسیحیوں کو تعلیم کو حصول‌مقصد کا ایک ذریہ خیال کرنا چاہیے۔ ان آخری دنوں میں انکا مقصد جتنا ممکن ہو اتنا زیادہ اور موثر طور پر یہوواہ کی خدمت کرنا ہے۔ اگر وہ کسی ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں پر کم‌ازکم یا اعلی ثانوی تعلیم بھی انہیں پائنیروں کے طور پر صرف اپنی کفالت کرنے کیلئے ناکافی آمدنی والی ملازمتیں حاصل کرنے کے قابل بنائیگی تو پھر ضمنی تعلیم یا ٹریننگ کے متلق سوچا جا سکتا ہے۔ یہ کل‌وقتی خدمت کا قطی نصب‌الین ہوگا۔‏

۱۳.‏ (‏ا)‏فلپائن میں کیسے ایک بہن اپنی خاندانی ذمہ‌داریوں کو پورا کرنے کے ساتھ اپنی پائنیر خدمت کو جاری رکھنے کے قابل ہوئی ہے؟ (‏ب)‏ کونسی آگاہی بروقت ہے؟‏

۱۳ بض نے ایسے تربیتی کورس کئے ہیں جنہوں نے انکے لئے ایسی ملازمت کے مواقع کھول دئے جو انہیں کل‌وقتی خدمت میں مشغول ہونے یا پھر سے شروع کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ فلپائن میں ایک بہن پورے خاندان کیلئے واحد کمانے والی تھی، لیکن وہ پائنیر خدمت کرنا چاہتی تھی۔ برانچ رپورٹ دیتی ہے:‏ ”‏وہ ایسا کرنے کے قابل ہوئی ہے اسلئے کہ اس نے سندیافتہ عوامی اکاؤنٹنٹ کے طور پر لائق ہونے کیلئے اضافی تعلیم حاصل کی ہے۔“‏ اسی برانچ رپورٹ نے بیان دیا:‏ ”‏ہمارے ہاں کافی تداد میں لوگ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اسکے ساتھ ہی ساتھ پائنیر خدمت کرنے کیلئے اپنے جدولوں کو ترتیب دینے کے قابل ہوئے ہیں۔ عام طور پر وہ زیادہ اچھے پبلشر بنتے ہیں چونکہ وہ مطالے کے زیادہ شائق ہیں، بشرطیکہ وہ دنیاوی حاصلات کیلئے حد سے زیادہ آرزومند نہ بنیں۔“‏ آخری بیان کو ہمارے غوروفکر کرنے کا موجب بننا چاہیے۔ اضافی تعلیم، جہاں پر یہ ضروری دکھائی دیتی ہو، اسکے مقصد، کو بھلانا یا مادہ‌پرستانہ نصب‌الین میں بدلنا نہیں چاہیے۔‏

۱۴، ۱۵.‏ (‏ا)‏تعلیم کے سلسلے میں کوئی ناقابل‌تغیر اصول کیوں نہیں بنانے چاہیں؟ (‏ب)‏ بض ذمہ‌دار بھائیوں نے کتنی دنیاوی تعلیم حاصل کی، لیکن کس چیز نے اس کی کمی کو پورا کیا ہے؟‏

۱۴ چند ایک ممالک میں، ثانوی سکول پیشہ‌وارانہ تربیت فراہم کرتے ہیں جو گریجویشن کے وقت تک، ایک مسیحی نوجوان کو کسی کاروبار یا پیشے کے لئے تیار کر سکتی ہے۔ جب یہ ماملہ نہ بھی ہو تو پھر بھی بض ممالک میں ہونہار نوجوان بنیادی تعلیم کے ساتھ ہی جزوقتی کام تلاش کر لیتے ہیں جو انہیں پائنیر خدمت کرنے کے لئے کافی رقم کمانے کے قابل بناتا ہے۔ اسلئے اضافی تعلیم کی حمایت میں یا مخالفت میں کوئی ناقابل‌تغیر قانون نہیں بنانے چاہئیں۔‏

۱۵ بہتیرے جو اب سفری نگہبانوں کے طور پر ذمہ‌دار عہدوں پر، سوسائٹی کے ہیڈکوارٹر، یا برانچوں میں سے کسی ایک میں خدمت کر رہے ہیں، انہوں نے صرف بنیادی تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ وفادار پائنیر تھے، انہوں نے سیکھنا کبھی نہ چھوڑا، تربیت حاصل کی، اور بڑی بڑی ذمہ‌داریاں انہیں سونپی گئی ہیں۔ انہیں اپنے انتخابات پر کوئی پشیمانیاں نہیں ہیں۔ اس کے برعکس، ان کے ہمصروں میں سے بض نے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کا انتخاب کیا اور روحانی ترقی کی راہ سے ہٹ گئے، اور ایمان کو تباہ کرنے والی فیلسوفیوں اور ”‏دنیا کی حکمت“‏ سے مغلوب ہو گئے۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۱۹-‏۲۱،‏ ۳:‏۱۹، ۲۰،‏ کلسیوں ۲:‏۸‏۔‏

لاگت کا حساب لگانا

۱۶.‏ (‏ا)‏کون فیصلہ کرتا ہے کہ آیا مزید تعلیم مناسب ہے، اور کس چیز کو ذہن میں سب سے بلند رکھنا چاہیے؟ (‏ب)‏ کس چیز کا خیال رکھا جانا چاہیے؟‏

۱۶ یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ آیا ایک نوجوان مسیحی کو مزید تعلیم یا تربیت حاصل کرنا چاہیے؟ یہاں پر سرداری کا بائبل اصول کارفرما ہوتا ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۳،‏ افسیوں ۶:‏۱‏)‏ اس بنا پر والدین یقینی طور پر پیشے یا ہنر کے انتخاب میں اور نتیجتاً تعلیم کی اتنی حد کیلئے اپنے بچوں کی راہنمائی کرنا چاہینگے جتنی کہ ضروری ہوگی۔ بہت سے ممالک میں ثانوی تعلیم کے دوران تلیمی اور پیشہ‌وارانہ انتخاب کافی پہلے کرنے پڑتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مسیحی والدین اور نوجوانوں کو دانشمندانہ انتخاب کرنے میں، بادشاہتی مفادات کو ذہن میں سب سے بلند درجے پر رکھتے ہوئے یہوواہ کی راہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نوجوان لوگ مختلف رجحانات اور فطری لیاقتیں رکھتے ہیں۔ عقلمند والدین ان کا لحاظ رکھینگے۔ ہر دیانتدارنہ کام باعزت ہے، خواہ دفتر میں کام کرنے کا ہو یا مزدوری کا ہو۔ جبکہ دنیا دفتری کام کو اونچا اور کسی کے ہاتھوں کی محنت مشقت کو حقیر سمجھتی ہے، لیکن بائبل یقینی طور پر ایسا نہیں کرتی۔ (‏اعمال ۱۸:‏۳‏)‏ پس آجکل جب والدین اور نوجوان مسیحی فائدے اور نقصانات کا احتیاط کیساتھ اور دعا کیساتھ اندازہ لگا لینے کے بد اعلی ثانوی تعلیم کی حمایت میں یا مخالفت میں فیصلہ کرتے ہیں تو کلیسیا میں دوسروں کو ان پر نکتہ‌چینی نہیں کرنی چاہیے۔‏

۱۷.‏ بض گواہ والدین اپنے بچوں کیلئے کیا انتخاب کرتے ہیں؟‏

۱۷ اگر مسیحی والدین ذمہ‌داری سے اپنے بچوں کو ثانوی تعلیم کے بد مزید تعلیم دلوانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ انکا مخصوص حق ہے۔ ایسی پڑھائی کا عرصہ منتخب پیشے یا دستکاری کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوگا۔ مالی وجوہات کے سبب سے اور اپنے بچوں کو جتنا جلدی ممکن ہو کل‌وقتی خدمت شروع کرانے کی خاطر، بہت سے مسیحی والدین نے ان کیلئے ووکیشنل یا ٹیکنیکل سکولوں میں کم‌مدتی تلیمی پروگراموں کا انتخاب کیا ہے۔ بض ماملات میں نوجوانوں کو کسی دستکاری کیلئے اپرنٹس بننے کی ضرورت پڑی ہے، لیکن ہمیشہ پوری زندگی یہوواہ کی خدمت کو نصب‌الین کے طور پر رکھ کر۔‏

۱۸.‏ اگر اضافی کورس کئے جاتے ہیں تو کس چیز کو ذہن میں رکھنا چاہیے؟‏

۱۸ اگر اضافی تلیمی کورس کئے جاتے ہیں تو یقینی طور پر محرک تلیمی میدان میں چمکنے یا کسی باوقار دنیاوی پیشے کیلئے کوشش کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ کورسوں کا احتیاط سے انتخاب کیا جانا چاہئے۔ اس رسالے نے اعلی تعلیم کے خطرات پر زور دیا ہے، اور جائز طور پر ایسا کیا ہے، کیونکہ زیادہ‌تر قابل‌حصول اعلی تعلیم بائبل کی ”‏صحیح تعلیم“‏ کی مخالفت کرتی ہے۔ (‏ططس ۲:‏۱،‏ ۱-‏تیمتھیس ۶:‏۲۰، ۲۱‏)‏ علاوہ‌ازیں، ۱۹۶۰ کے دہے سے لیکر اعلی تعلیم کی بہت سی درسگاہیں لاقانونیت اور بداخلاقی کے اکھاڑے بن چکی ہیں۔ ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ نے اس قسم کے ماحول میں جانے کی سختی سے حوصلہ‌شکنی کی ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۱۲،‏ ۴۵‏)‏ تاہم، یہ ماننا پڑے گا کہ نوجوان ہائی سکولوں اور ٹیکنیکل کالجوں اور کام کی جگہ پر بھی اسی طرح کے خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔—‏۱-‏یوحنا ۵:‏۱۹‏۔‏a

۱۹.‏ (‏ا)‏جو مزید کورس کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں انہیں کیا احتیاطی تدابیر کرنی چاہیں؟ (‏ب)‏ خوب فائدہ اٹھانے کی خاطر بعض نے اپنی تعلیم کو کیسے استعمال کیا ہے؟‏

۱۹ اگر مزید تعلیم کیلئے فیصلہ ہو جاتا ہے تو ایک نوجوان گواہ اچھا کریگا کہ اگر ممکن ہو تو یہ تعلیم گھر پر رہتے ہوئے حاصل کرے، یوں وہ ممول کے مطابق مطالے کی مسیحی عادات، اجلاس پر حاضری اور منادی کرنے کی کارگزاری کو جاری رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ شروع ہی میں بائبل اصولوں پر مناسب موقف اختیار کرنا چاہیے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دانی‌ایل اور اسکے تین عبرانی ساتھی جلاوطنی میں قید تھے، تو بھی جب ان سے بابل میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کا تقاضا کیا گیا تھا، تو انہوں نے یکساں طور پر اپنی راستی قائم رکھی۔ (‏دانی‌ایل، باب ۱‏)‏ روحانی مفادات کو پہلے رکھتے ہوئے، کئی ایک ممالک میں نوجوان گواہوں نے اکاؤنٹنٹوں، دستکاروں، استادوں، ترجمہ کرنے والوں، اور ترجمانوں، یا دوسرے پیشوں کے طور پر جزوقتی کام کیلئے خود کو لیس کرنے کی خاطر کورس کئے ہیں جنہوں نے پائنیر خدمت کے انکے اولین پیشے میں انکی پوری طرح مدد کی ہے۔ (‏متی ۶:‏۳۳‏)‏ ان نوجوانوں میں سے کئی ایک بد میں سفری نگہبان یا بیت‌ایل والنٹیر بن گئے ہیں۔‏

ایک متحد، تعلیم‌یافتہ قوم

۲۰.‏ یہوواہ کے لوگوں میں کس دنیاوی امتیاز کی کوئی جگہ نہیں ہے؟‏

۲۰ یہوواہ کے لوگوں کے درمیان خواہ کسی شخص کا پیشہ دفتری کام، مزدوری کا کام، کھیتی‌باڑی، یا خدمات‌عامہ ہے، سب کو بائبل کا اچھا طالبلم اور لائق استاد ہونے کی ضرورت ہے۔ پڑھنے، مطالہ کرنے اور تعلیم دینے میں حاصل‌کردہ سب کی مہارتیں اس امتیاز کو دور کرنے کی طرف مائل کرتی ہیں جو دنیا دفتر میں کام کرنے والوں اور مزدوری کرنے والوں کے درمیان کرتی ہے۔ اسکا نتیجہ اتحاد اور باہمی احترام ہوتا ہے جو خاص طور پر بیت‌ایل ہومز اور واچ‌ٹاور سوسائٹی کے تمیراتی کاموں کی جگہ پر رضاکارانہ کام کرنے والوں کے اندر نظر آتا ہے، جہاں پر روحانی لیاقتیں سب سے اہم ہیں اور سب سے ان کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ یہاں پر تجربہ‌کار دفتری عملہ ماہر دستکاروں کے ساتھ خوشی سے کام کرتا ہے، سب ایک دوسرے کیلئے قدردانی والی محبت ظاہر کرتے ہیں۔—‏یوحنا ۱۳:‏۳۴، ۳۵،‏ فلپیوں ۲:‏۱-‏۴‏۔‏

۲۱.‏ نوجوان مسیحیوں کا نصب‌الین کیا ہونا چاہیے؟‏

۲۱ اے اولاد والو، نئے عالمی ماشرے کے کارآمد ممبر بننے کے نشانے کی طرف اپنے بچوں کی راہنمائی کرو! نوجوان مسیحیو، یہوواہ کی خدمت کرنے میں اپنے استحقاقات کو پوری طرح سے تھامے رہنے کے لئے تعلیم کے مواقع کو خود کو لیس کرنے کے ذریہ کے طور پر استمال کرو۔ دعا ہے کہ تعلیم‌یافتہ اشخاص کے طور پر آپ سب اب اور ابدی طور پر خدا کی موعودہ ”‏نئی زمین“‏ پر تھیوکریٹک سوسائٹی کیلئے خوب لیس ممبر ثابت ہوں۔—‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏، یسیاہ ۵۰:‏۴، ۵۴:‏۱۳، ۱-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۳‏۔ (‏۱۴ ۱۱/۱ w۹۲)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ستمبر ۱، ۱۹۷۵ کے دی واچ‌ٹاور کے صفحات ۵۴۲-‏۵۴۴ کو بھی دیکھیں۔‏

اپنی یادداشت کو آزمائیں

▫ سچے مسیحی تعلیم میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں؟‏

▫ سچے مسیحی تعلیم کی بابت کونسے انتہاپسند نظریات سے گریز کریں گے؟‏

▫ اضافی تعلیم کے کونسے خطرات پر غور کرنا چاہیے، اور کونسی احتیاطی تدابیر کی جانی چاہیں؟‏

▫ یہوواہ کے لوگوں میں کس دنیاوی امتیاز کی کوئی جگہ نہیں ہے؟‏

‏[‏تصویر]‏

مستدی کے ساتھ مطالہ کرنے سے نوجوان مسیحی نئے عالمی ماشرے کے زیادہ کارآمد ممبر بن سکتے ہیں

‏[‏تصویر]‏

اگر اضافی تعلیم کا انتخاب کیا جاتا ہے تو اسے یہوواہ کی بہتر خدمت کرنے کی خواہش سے تحریک پانی چاہیے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں