بادشاہتی مناد رپورٹ دیتے ہیں
بولیویا میں بائبل سچائی ایک راہبہ کو آزاد کراتی ہے
بہتیرے خلوصدل لوگ جھوٹے مذہب سے بھاگ رہے ہیں، سچائی سیکھ رہے ہیں، اور سچے خدا، یہوواہ کی پرستش کرنے کیلئے آ رہے ہیں۔ بولیویا میں، بشمول ایک راہبہ کے، ۷،۶۰۰ سے زائد نے ایسا کیا ہے۔
جب ایم فقط نو سال کی تھی تو یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک کے ساتھ اس کا پہلا رابطہ ہوا تھا۔ جب گواہ اس کے دروازے پر آئے تو اس نے دروازہ کھولا، اور اس نے پہلی مرتبہ خدا کے نام یہوواہ کا تلفظ ہوتے ہوئے سنا۔ وہ اسے سالوں تک نہ بھلا سکی۔
چونکہ وہ خاندان میں اکلوتی لڑکی تھی، اسلئے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسے راہبہ بننا چاہیے۔ ”میں نے کتنی خوشی محسوس کی تھی کہ بالآخر میں خدا کی خدمت کرنے جا رہی تھی، میں نے یہی سوچا تھا،“ ایم کہتی ہے۔ لیکن جب اس نے کانونٹ میں ہونے والی طرفداری اور ناانصافی کو دیکھا تو اس کی خوشی کا طلسم ٹوٹ گیا۔ وہ کہتی ہے: ”شاید میں افسردگی کے ان حملوں اور ان روحانی اور جسمانی ضربوں کو کبھی نہیں بھولوں گی جو بہت زیادہ ذہنی کوفت کا موجب تھیں، جو میرے لئے خدا کی بابت یہ نظریہ اختیار کرنے کا سبب بنیں کہ وہ کوئی محبت رکھنے والا نہیں ہے بلکہ وہ ایسا ہے جو بیرحمی سے سزا دیتا ہے۔“
وہ بیان کو جاری رکھتی ہے: ”میں ایک راہبہ بننے کے وقت تک بائبل میں یہوواہ نام کو تلاش کرنے میں ناکام رہی تھی۔ مجھے صرف ”یاوے“ ملا، اور اس نے تو مجھے اور بھی الجھن میں ڈال دیا۔ ایک دن تو میں ان لوگوں کی تلاش میں باہر بھی نکلی جو یہوواہ کی بابت کلام کرتے تھے لیکن میں ان کو کبھی تلاش نہ کر پائی۔
”وقت گزرتا گیا اور ایک دن جب میں اپنے خاندان کے گھر جا رہی تھی تو میں نے ایک سائنبورڈ دیکھا، ”یہوواہ کے گواہوں کا کنگڈم ہال۔“ میں انہیں بتانا چاہتی تھی کہ وہ جھوٹے نبی ہیں، لیکن ہال میں کوئی نہ تھا۔ میں اتوار کو واپس گئی۔ ایک اجلاس ہو رہا تھا اور حاضرین کے درمیان ایک راہبہ کو پورے لباس میں دیکھ کر کافی لوگ حیران دکھائی دئے۔ اجلاس کے بعد میں نے جلدی سے نکل جانے کی کوشش کی۔ تاہم، گواہوں میں سے ایک نے مجھے سلام کیا، لہذا میں نے اس سے پوچھا، ”تم لوگ اس نام کو اپنے اوپر لیکر اس قدوس کی بےحرمتی کیوں کرتے ہو؟“ میرا سوال ایک بائبل مباحثے کا سبب بنا اور میں نے اسکے ساتھ بندوبست بنایا کہ وہ میرے خاندان کے گھر پر مجھ سے ملے۔ میرے والدین نے اسے باہر نکال دیا۔ تاہم، دو ماہ بعد، ہم پھر ملے، اور اس نے مجھے بائبل مطالعے کیلئے اپنے گھر پر بلایا۔ میں ان معلومات سے بہت متاثر ہوئی جو اس نے مجھے یہ ثابت کرنے کیلئے دکھائیں کہ مسیحیوں کو خدا کا نام استعمال کرنا چاہیے۔ اس شہادت نے مجھے ان تمام فضول باتوں سے قطع تعلق کرنے کیلئے ضروری قوت عطا کی جو مجھے بطور راہبہ کے سکھائی گئی تھیں۔
”کانونٹ میں اپنی زندگی کے متعلق مجھے بہت سی باتیں یاد ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک مرتبہ مجھے کھانے کے لئے زیادہ خوراک کی ضرورت تھی۔ لہذا، یہ نہ جانتے ہوئے کہ کانونٹ میں خطوط کا احتساب کیا جاتا ہے میں نے اپنے والدین کو کچھ بھیجنے کے لئے کہا۔ اگلے کھانے پر کافی مقدار میں بریڈ اور جیلی میرے سامنے رکھ دی گئی اور مجھے سب کھانے کے لئے مجبور کیا گیا۔ اب میرے پاس بہت زیادہ کھانا تھا۔ میں نے اس کا ذکر اپنی سہلیوں سے کیا، اور ایک نے تجویز پیش کی کہ میں اس بریڈ کو جسے میں کھا نہیں سکتی تھی چورا بنا کر فرش پر بکھیر دوں۔ جب میں نے ایسا کیا تو ایک راہبہ نے فوراً مجھے زور سے پکڑ لیا اور اس سخت حکم کے ساتھ فرش پر گرا دیا کہ مجھے تمام فرش کو اپنی زبان سے چاٹ کر صاف کرنا چاہیے۔ کمرہ بڑا تھا۔ حکم کی تعمیل کرتے وقت مجھے بڑی ہنسی اور قہقے سنائی دئے کسی طرح کا کوئی رحم نہ دکھایا گیا۔
”اب میں دیکھ سکتی ہوں کہ اس سب سے آزاد ہونا کتنا شاندار ہے۔ جیسے کہ توقع کی جا سکتی تھی اس آزادی میں قربانیاں شامل تھیں۔ ایک بات تو یہ کہ میرے والد نے مجھے گھر سے باہر نکال دیا۔ تاہم، کانونٹ چھوڑنے سے پہلے، مجھے دیگر جوان راہباؤں کو سچائی سیکھنے میں مدد دینے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ میں یہ کہکر خوش ہوں کہ ہم میں سے بعض نے اپنی زندگیوں کو یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کے لئے مخصوص کیا ہے!
”جب میں کانونٹ سے نکل آئی تو میرے والد کیلئے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ میں نے اچھی خاصی تنخواہ مگر وقت کھا جانے والی ملازمتوں کو کیوں رد کر دیا۔ تاہم، میں خدا کی خدمت کے لئے زیادہ وقت چاہتی تھی۔ اب میں بطور ایک ریگولر پائنیر کے غیرپیچیدہ اور پھربھی بااجر زندگی کے ساتھ خدمت کرتی ہوں۔ اور مجھے بڑی خوشی ہے کہ میری والدہ اور بڑے بھائی یہوواہ کی خدمت میں میرے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔“
واقعی، بائبل سچائی کسی کو دنیا کے جھوٹے مذہبی نظام سے آزاد کرتی ہے اور یہ ابدی خوشی اور خوشحالی لاتی ہے ۔یوحنا ۸:۳۲۔ (۳۰ ۵/۱ w۹۲)