پابندی کے تحت یہوواہ نے ہماری خبرگیری کی
یہ مارچ ۱۴، ۱۹۹۰ کا دن تھا۔ اس نہایت ہی اہم دن پر، میں ان حاضرین میں شامل تھا جب ایک اعلی سرکاری افسر نے مشرقی برلن میں مذہبی امور کی وزارت میں قانونی حیثیت عطا کرنے والی دستاویز کو یہوواہ کے گواہوں کے سپرد کیا تھا، جسے اس وقت جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک یا مشرقی جرمنی کہا جاتا تھا۔ اس دن کی کارروائیوں کے دوران میں نے پیچھے اسوقت کی بابت سوچا جب میں گواہ بنا تھا اور ان مشکل اوقات کو یاد کیا جنکا ہم تجربہ کر چکے تھے۔
۱۹۵۰ کے دہے کے وسط میں، جب ایک ساتھی کارکن مارگریٹا نے جو کہ ایک گواہ تھی، پہلی مرتبہ میرے ساتھ بائبل پر مبنی اپنے عقائد کی بابت بات کی تھی تو مشرقی جرمنی میں یہوواہ کے گواہوں کی ایذارسانی زوروں پر تھی۔ اس کے تھوڑا ہی بعد اس نے کسی اور جگہ کام کرنے کی خاطر ملازمت چھوڑی دی اور میں نے کسی دوسرے گواہ کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ میں نے ۱۹۵۶ میں بپتسمہ لیا اور اسی سال مارگریٹا اور میری شادی ہو گئی۔ ہم برلن میں لکٹنبرگ کلیسیا کے ساتھ رفاقت رکھتے تھے۔ اس میں منادی کے کام میں حصہ لینے والے کوئی ۶۰ پبلشر تھے۔
میرے بپتسمے کے دو سال بعد، سرکاری اہلکار اس شخص کے گھر آئے جو ہماری کلیسیا میں پیشوائی کر رہا تھا۔ وہ اسے گرفتار کرنا چاہتے تھے لیکن وہ مغربی برلن میں کام پر تھا۔ اسکا خاندان اسے مطلع کرنے کے قابل تھا کہ وہیں رہے اور کچھ مہینوں کے بعد وہ بھی مغربی برلن میں اسکے پاس چلے گئے۔ اگرچہ میں صرف ۲۴ سال کا تھا مجھے اس وقت کلیسیا میں بھاری ذمہداریاں دے دی گئی تھیں۔ میں شکرگزار ہوں کہ یہوواہ ایسے فرائض کو پورا کرنے کے لئے ضروری حکمت اور قوت عطا کرتا ہے۔ ۲-کرنتھیوں ۴:۷۔
روحانی خوراک بہم پہنچانا
جب اگست ۱۹۶۱ میں دیواربرلن کھڑی کی گئی تھی تو مشرق میں یہوواہ کے گواہ مغرب میں اپنے بھائیوں سے اچانک ہی الگ ہوگئے۔ یوں ایک ایسے دور کا آغاز ہوا جب ہم نے اپنے لٹریچیر کی کاپیاں بنائیں، پہلے ٹائپرائٹر سے، بعد میں نقلیں تیار کرنے والی مشینوں کے سلسلوں سے۔ ۱۹۶۳ سے شروع کرکے میں نے چھاپنے کے اس کام کو کرنے کیلئے اپنے گھر میں پوشیدہ کمرے کی تعمیر کرنے میں دو سال صرف کئے۔ سارا دن اوزارسازی کرنے کے بعد، میں دو ایک بھائیوں کی مدد سے مینارنگہبانی کی کاپیاں تیار کرنے میں کئی راتیں صرف کیا کرتا تھا۔ حکام ہماری چھاپنے کی تنظیم کو تلاش کرنے پر تلے ہوئے تھے لیکن یہوواہ نے ہماری مدد کی کہ ہماری خوراک ، جیسے کہ ہم اسے کہتے تھے، وقت پر ملی۔
اپنے رسالوں کی کافی تعداد میں کاپیاں تیار کرنے کے لئے بڑی مقدار میں کاغذ درکار تھا اور اتنی مقدار میں کاغذ حاصل کرنا آسان نہ تھا۔ اگر ہم نے باقاعدگی سے زیادہ مقدار سے کاغذ خریدا ہوتا تو یہ حکام کی توجہ کا باعث ہوتا۔ اسلئے ہم فرداًفرداً گواہوں سے تھوڑی مقدار میں کاغذ خرید کراتے اور وہ اسے ہمارے بائبل مطالعے کے گروپ میں لاتے۔ وہاں سے اسے اس جگہ لے جایا جاتا جہاں پر ہم رسالے چھاپتے تھے۔ پھر دوسرے گواہ تیارشدہ رسالوں کو تقسیم کرتے تھے۔
چونکہ سرکاری اہلکاروں کو شک تھا کہ میں لٹریچر چھاپنے میں ملوث تھا اسلئے انہوں نے مجھ پر کڑی نگاہ رکھی۔ ۱۹۶۵ کے آخر میں، میں نے انہیں معمول سے زیادہ اپنا پیچھا کرتے دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ کچھ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ اچانک ایک صبح انہوں نے ہلہ بول دیا۔
بمشکل بچاؤ
اس موسم سرما کی صبح کو میں اپنے کام پر جا رہا تھا۔ طلوعسحر سے پہلے کا وقت تھا، اور میں نے خود کو سخت سردی کیلئے تیار کر لیا تھا۔ چلتے چلتے میں نے باڑ کے اوپر سے چار سر دیکھے۔ وہ آدمی کونے سے مڑے اور میری طرف آنے لگے۔ میں انہیں سرکاری اہلکاروں کے طور پر پہچاننے سے دہشتزدہ ہوگیا۔ مجھے کیا کرنا تھا؟
ایک تنگ گزرگاہ چھوڑنے کے لئے برف کی موٹی تہہ کو ایک طرف ہٹا دیا گیا تھا۔ میں چلتا رہا۔ اپنا سر نیچے جھکائے ہوئے میں زمین پر نگاہیں جمائے چلتا رہا۔ میں نے دل ہی دل میں جلدی سے دعا کی۔ آدمی نزدیک سے نزدیک تر آتے گئے۔ کیا وہ مجھے پہچان چکے تھے؟ جب ہم تنگ راستے پر قریب سے ایک دوسرے کے پاس گزرے تو میں بمشکل یقین کر سکا کہ کیا واقع ہو رہا تھا۔ میں تیز سے تیزتر چلتا رہا۔ ”اوہ،“ ان میں سے ایک چیخا، ”یہ وہی ہے۔ ٹھہرو!“
ممکنہ طور پر میں جتنا تیز بھاگ سکتا تھا بھاگا۔ کونے کے گرد رفتار تیز کرتے ہوئے میں ایک پڑوسی کے جنگلے سے کود کر اپنے پچھلےصحن میں آ پڑا۔ گھر کے اندر زور سے آ پڑنے پر میں نے تالا لگا کر چٹخنی لگا دی۔ ”ہر کوئی بستر سے نکل آیا!“ میں چیخا۔ ”وہ مجھے پکڑنے کیلئے یہاں آگئے ہیں۔“
مارگریٹا بڑی تیزی سے نچلی منزل پر آ گئی تھی اور اس نے دروازے پر پوزیشن سنبھال لی۔ تھوڑی دیر میں ہی، میں تہہخانے میں انگیٹھی کے اندر کوئلہ ڈال رہا تھا۔ میرے پاس کلیسیا کی جو دستاویزیں موجود تھیں میں نے انہیں پکڑ کر شعلوں کی نذر کر دیا۔
”کھولو!“ وہ آدمی گرجے۔ ”درازہ کھولو! یہ سرکاری وکیل ہے۔“
مارگریٹا انکی بات ماننے کو تیار نہ تھی، جبکہ میں نے ہر چیز کو ناقابلشناخت حد تک جلا دیا۔ اسکے بعد میں مارگریٹا کے پاس آ گیا اور دروازہ کھولنے کیلئے اسے اشارہ کیا۔ آدمی اندر آ گئے۔
”تم بھاگے کیوں تھے؟“ انہوں نے پوچھا۔
تھوڑی دیر میں اور سرکاری اہلکار آ گئے اور پورے گھر کی تلاشی لی گئی۔ میری بڑی فکر پوشیدہ کمرے کیلئے تھی جہاں ہماری چھاپنے کی مشین اور ۴۰،۰۰۰ کاغذ کے تختے پڑے تھے۔ لیکن خفیہ راستے کا سراغ نہ مل سکا۔ اگرچہ تفتیش گھنٹوں تک جاری رہی تو بھی یہوواہ نے پرسکون رہنے میں میری مدد کی۔ اس تجربے نے ہمیں پرمحبت آسمانی باپ کے مزید نزدیک کر دیا اور برداشت کرنے کیلئے تقویت دی۔
قید میں مگر آزاد
۱۹۶۰ کے دہے کے آخر پر مجھے ملٹری ڈیوٹی کیلئے حاضر ہونے کی اطلاع بھیجی گئی۔ چونکہ میں ضمیر کی پابندی کی وجہ سے خدمت نہیں کر سکتا تھا اسلئے مجھے سات مہینوں تک زبردستی زیرحراست اور لیبر کیمپ میں رکھا گیا۔ وہاں برلن کے جنوب مشرق میں، کوٹبس کے کیمپ میں ۱۵ گواہ تھے۔ ہم سب اپنی مسیحی غیرجانبداری کی وجہ سے وہاں موجود تھے۔ (یسعیاہ ۲:۲-۴، یوحنا ۱۷:۱۶) ہمارے کام کے اوقات طویل تھے اور مشقت سخت تھی۔ ہم صبح ۱۵:۴ بجے جاگتے اور ہمیں کیمپ کے باہر ریلوے کی پٹڑی پر کام کرنے کیلئے لے جایا جاتا تھا۔ تاہم، حالانکہ ہم قید تھے تو بھی ہمارے پاس یہوواہ کی بادشاہت کی بابت دوسروں کو بتانے کے مواقع تھے۔
مثال کے طور پر کوٹبس میں ہمارے ساتھ دو نجومی تھے۔ ایک دن مجھے معلوم ہوا کہ ان میں سے چھوٹا مجھ سے مایوسی کی حالت میں باتچیت کرنا چاہتا تھا۔ وہ کیا چاہتا تھا؟ اس نے اپنا دل کھول کے رکھ دیا۔ اسکی نانی نجومی رہ چکی تھی اور اس نے اسکی کتابوں کو پڑھنے کے بعد ویسی قوتیں پیدا کر لی تھیں۔ اگرچہ وہ آدمی ان قوتوں سے آزاد ہونا چاہتا تھا جنکا اس پر قابو تھا لیکن وہ انتقامی کارروائیوں سے خوفزدہ تھا۔ وہ روتا ہی رہا۔ لیکن اس سب کا مجھ سے کیا تعلق تھا؟
ہماری گفتگو کے دوران اس نے وضاحت کی کہ جب وہ یہوواہ کے گواہوں کی صحبت میں تھا تو اس کی مستقبل کا حال بتانے کی لیاقت کمزور پڑ گئی۔ میں نے اسے بتایا کہ بری روحیں، یا بدروحیں، اور اچھی روحیں، یا راستباز فرشتے دونوں ہی موجود ہیں۔ قدیم افسس میں جو مسیحی بنے تھے انکی مثال کو استعمال کرتے ہوئے، میں نے علمنجوم یا کسی بھی دوسرے ارواحپرستی کے کاموں سے واسطہ رکھنے والی چیزوں کو تلف کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ (اعمال ۱۹:۱۷-۲۰) ”اسکے بعد گواہوں سے رابطہ قائم کرنا،“ میں نے اسے بتایا۔ ”گواہ ہر جگہ رہتے ہیں۔“
چند دنوں کے بعد وہ جوان آدمی کیمپ سے چلا گیا، اور میں نے اسکی بابت مزید کچھ نہ سنا۔ لیکن آزادی کے آرزومند اس دہشتزدہ اور ناقابلتشفی آدمی کیساتھ تجربے نے یہوواہ کیلئے میری محبت کو اور زیادہ گہرا کر دیا تھا۔ ہم ۱۵ گواہ اپنے ایمان کی وجہ سے کیمپ میں تھے لیکن روحانی لحاظ سے ہم آزاد تھے۔ وہ جوان آدمی جیل سے تو رہا ہو چکا تھا لیکن وہ ایک ایسے ”خدا“ کی غلامی میں تھا جس نے اسے دہشتزدہ کر رکھا تھا۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۴) ہم گواہوں کو اپنی روحانی آزادی کو کسقدر عزیز رکھنا چاہیے!
ہمارے بچے آزمائے گئے
نہ صرف بالغوں کو بائبل پر مبنی اپنے اعتقادات کیلئے ثابتقدم رہنا تھا بلکہ نوجوان لوگوں کو بھی ایسا ہی کرنا پڑا۔ ان پر سکول اور کام دونوں جگہ پر مصالحت کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ ہمارے چاروں بچوں میں سے ہر ایک کو اپنے اعتقادات کیلئے ثابت قدم رہنا پڑا تھا۔
سکول میں ہر سوموار کو جھنڈے کی سلامی کی رسم ادا کی جاتی تھی۔ بچے میدان میں قطاردرقطار جاتے، ایک ترانہ گاتے، اور جب جھنڈے کو لہرایا جاتا تھا تو نام نہاد ٹیلمین سلامی دیتے۔ ارنسٹ ٹیلمین ایک جرمن کمیونسٹ تھا جسے نازی ایس ایس نے ۱۹۴۴ میں قتل کر دیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، ٹیلمین مشرقی جرمنی میں ایک ہیرو بن گیا۔ بائبل پر مبنی اپنے اس اعتقاد کی وجہ سے میری بیوی اور میں نے اپنے بچوں کو ہدایت کی کہ پاک پرستش صرف یہوواہ خدا کی ہی کی جانی چاہیے، جبکہ وہ ایسی تقریبات میں حصہ لئے بغیر احترام کیساتھ کھڑے رہیں۔
سکول کے بچوں کو بھی کمیونسٹ ترانے سکھائے جاتے تھے۔ میں اور مارگریٹا بچوں کے سکول گئے اور وضاحت کی کہ وہ کیوں اسطرح کے سیاسی ترانے نہیں گائینگے۔ ہم نے کہا اگرچہ وہ ایک اور قسم کے گیت سیکھنے کیلئے رضامند ہونگے۔ یوں اوائل عمری ہی میں ہمارے بچوں نے ثابتقدم رہنا اور اپنے ساتھیوں سے فرق رہنا سیکھ لیا۔
۱۹۷۰ کے دہے کے آخر کے قریب، ہماری بڑی بیٹی ایک دفتر میں کارآموزی کرنا چاہتی تھی۔ تاہم، سب سے پہلے ہر نوآموز سے ۱۴ دن کی ابتدائی ملٹری ٹریننگ حاصل کرنے کا تقاضا کیا جاتا تھا۔ چونکہ ریناٹا کا ضمیر اسے اس میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتا تھا اسلئے اس نے دلیرانہ موقف اختیار کیا اور آخرکار اسے ایسی ٹریننگ حاصل کرنے کی ذمہداری سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔
اپنی کارآموزی میں، ریناٹا ایک جماعت میں گئی جہاں اس سے گولی چلانے کی مشق کیلئے حاضر ہونے کا تقاضا کیا گیا تھا۔ ”ریناٹا، آپ بھی گولی چلانے کی مشق کیلئے آئیں گی،“ استاد نے کہا۔ وہ اسکے اعتراضات کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا۔ ”آپکو گولی چلانے کی ضرورت نہیں،“ اس نے وعدہ کیا۔ ”آپ خوردونوش کی چیزوں کی نگہداشت کر سکتی ہیں۔“
اس شام ہم نے بطور خاندان معاملات پر باتچیت کی۔ ہم نے محسوس کیا کہ اگرچہ اسے بلاواسطہ اس میں حصہ نہیں لینا تھا تو بھی “گولی چلانے کی مشق کیلئے ریناٹا کا حاضر ہونا غلط تھا۔ ہمارے ساتھ باتچیت اور دعا کے ذریعے تقویت پانے سے اس نے خود کو خوفزدہ نہ ہونے دیا۔ اپنی نوجوان بیٹی کو راست اصولوں کیلئے ڈٹ جاتے دیکھنا ہمارے لئے کتنی حوصلہافزا بات تھی!
اپنی اعلانیہ منادی کی سرگرمیوں کو بڑھانا
جب ۱۹۷۰ کے دہے کے آخر میں ہمارے کام کی مخالفت میں تھوڑی کمی واقع ہوئی تو ہماری مسیحی اشاعات کی بڑی رسد مغرب سے آنا شروع ہوگئی۔ اگرچہ یہ خطرناک کام تھا تو بھی دلیر بھائیوں نے ایسا کرنے کیلئے رضاکارانہ پیشکش کی۔ ہم نے لٹریچر کی اس اضافی رسد، اور ان لوگوں کی کوششوں کی بڑی قدر کی جنہوں نے یہ ممکن بنایا۔ پابندی کے ابتدائی سالوں میں جب ایذارسانی شدید تھی تو گھر با گھر کی منادی کی کارگزاری ایک حقیقی چیلنج تھا۔ درحقیقت، حکام کی طرف سے سزا کا خوف بعض کیلئے اس سے کنارہ کشی کا سبب بنا۔ لیکن وقت آنے پر ہماری اعلانیہ منادی کے کام میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا۔ ۱۹۶۰ کے دہے میں صرف ۲۵ فیصد بادشاہتی پبلشر باقاعدگی سے گھر با گھر کی خدمت میں حصہ لے رہے تھے۔ تاہم، ۱۹۸۰ کے دہے کے آخر تک خدمتگزاری کے اس حلقے میں باقاعدگی سے حصہ لینے والوں کی تعداد ۶۶ فیصد کو پہنچ چکی تھی! اس وقت تک حکام ہماری اعلانیہ منادی کی کارگزاری پر کم توجہ دیتے تھے۔
ایک موقع پر جس بھائی کیساتھ میں خدمتگزاری میں کام کر رہا تھا وہ اپنی نوجوان بیٹی کو ساتھ لایا۔ لڑکی کی موجودگی سے پیار میں آ کر ایک عمررسیدہ خاتون نے ہمیں اپنے گھر کے اندر بلایا، جس کیساتھ ہم نے باتچیت کی تھی۔ اس نے ہماری صحیفائی پیشکش کی قدر کی اور متفق ہوئی کہ ہم کو دوبارہ آنا چاہیے۔ میں نے بعد میں اس ملاقات کو اپنی بیوی کے حوالے کر دیا، جس نے بلاتاخیر اس عورت کیساتھ گھریلو بائبل مطالعہ شروع کر دیا۔ بڑی عمر اور کمزور صحت کے باوجود وہ خاتون ہماری بہن بن گئی اور یہوواہ کی خدمت میں ابھی تک سرگرم ہے۔
تبدیلیاں جب آزادی قریب آئی
یہوواہ نے ہمیں اس وقت کیلئے تیار کیا جب ہم مزید آزادی سے لطف اٹھائینگے۔ اسے مثال دیکر سمجھانے کیلئے: پابندی اٹھائے جانے سے تھوڑا پہلے ہمیں ہدایت کی گئی تھی کہ جس طریقے سے ہم اجلاسوں پر ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے تھے اس میں تبدیلی لائیں۔ حفاظتی وجوہات کی بنا پر، ہم ایکدوسرے کو پہلے نام سے پکارتے تھے۔ بہتیرے جو ایکددوسرے کو سالوں سے جانتے تھے کسی ساتھی ایماندار کے آخری نام سے واقف نہ تھے۔ تاہم، مزید بہتیرے دلچسپی رکھنے والوں کو اپنے اجلاس پر خوشآمدید کہنے کی تیاری میں ہماری حوصلہافزائی کی گئی کہ ایکدوسرے کو ان کے خاندانی ناموں سے بلائیں۔ بعض کو یہ رسمی دکھائی دیا، مگر جب بعد میں ہمیں آزادی حاصل ہوئی تو اس نصیحت پر عمل کرنے والوں نے زیادہ آسانی سے تطابقت پیدا کر لی۔
ہمیں اپنے اجلاس کو گیت کے ساتھ شروع کرنے کی حوصلہافزائی بھی دی گئی۔ اس طرح سے ہم اس طریقکار کے عادی بن گئے جس سے دوسری جگہوں پر کلیسیائیں چلتی تھیں۔ ایک اور تبدیلی ہمارے مطالعے کے گروپوں کے سائز میں تھی۔ انہیں ۱۹۵۰ کے دہے میں چار اشخاص سے بتدریج بڑھا کر آٹھ کر دیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں ۱۰ تک اور آخرکار ۱۲ تک بڑھا دیا گیا۔ علاوہازیں، یہ یقین کرنے کے لئے حالات کا جائزہ لیا گیا کہ ہر کلیسیا میں اجلاس کی جگہ گواہوں کی اکثریت کے لئے مرکزی طور پر واقع تھی۔
بعض اوقات ہم مجوزہ تبدیلی کی حکمت کو اس تبدیلی کے کر دئے جانے کے بعد ہی دیکھنے کے قابل ہوتے تھے۔ یہوواہ نے کتنی مرتبہ خود کو ایک دانشمند اور بامروت باپ ظاہر کیا! وہ ہمیں بتدریج باقی زمینی تنظیم کی مطابقت میں لے آیا، اور ہم نے خود کو مزید اس کے لوگوں کی عالمگیر برادری کا حصہ محسوس کیا۔ یقینی طور پر، یہوواہ نے تقریباً ان چالیس سالوں کے دوران اپنے لوگوں کو پرمحبت طریقے سے بچائے رکھا تھا جب انہوں نے مشرقی جرمنی میں پابندی کے “تحت کام کیا۔ اب ہم قانونی طور پر جائز حیثیت پاکر کتنے خوش ہیں!
آجکل وہاں پر ۲۲،۰۰۰ یا زیادہ گواہ ہیں جو سابقہ طور پر مشرقی جرمنی تھا۔ وہ یہوواہ خدا کی پرمحبت فکرمندی اور دانشمندانہ راہنمائی کی ایک شہادت پیش کرتے ہیں۔ ان سالوں کے دوران جب ہم پابندی کے تحت تھے تو اس کی حمایت ظاہر کرتی ہے کہ وہ کسی بھی حالت پر قابو پا سکتا ہے۔ اسکے لوگوں کے خلاف خواہ کوئی بھی ہتھیار بنایا جائے وہ کامیاب نہ ہوگا۔ یہوواہ ہمیشہ انکی خوب فکر کرتا ہے جو اس پر توکل کرتے ہیں۔ (یسعیاہ ۵۴:۱۷، یرمیاہ ۱۷:۷، ۸) جیسے ہارسٹ شلوسنر نے بتایا۔ (۲۸ ۵/۱۵ w۹۲)
[تصویر]
ہارسٹ اور مارگریٹا شلوسنر مشرقی برلن میں سوسائٹی کی عمارات میں