یہوواہ ایک وفادار نوجوان کو اجر عطا کرتا ہے
وفادار نوجوان یہوواہ کی نظر میں بہت گراںبہا ہیں۔ ایک وفادار نوجوان آدمی کے مندرجہذیل تجربے کو دوسرے نوجوان اشخاص کی حوصلہافزائی کرنی چاہیے کہ یہوواہ کی خدمت کرتے وقت اپنی راستی کو قائم رکھیں۔
ارجنٹینا میں ایک ۱۱ برس کے لڑکے اور اسکے چھوٹے بھائی نے اپنی دادی کے ساتھ کتاب سچائی جو باعث ابدی زندگی ہے کا مطالعہ کیا۔ جلد ہی، ان لڑکوں کے والدین نے مخالفت کا اظہار کیا، اور انہوں نے لڑکوں کو کنگڈم ہال میں اجلاسوں پر جانے سے منع کر دیا۔ کچھ دیر تک اجلاسوں پر حاضر ہونے کیلئے لڑکے غسلخانے کی کھڑکی سے نظر بچا کر آنگن میں کود جاتے، اور پھر دیوار پھاند کر پڑوسیوں کے آنگن سے ہوتے ہوئے کنگڈم ہال کی راہ لیتے۔ پھر کسی نے ان کی ماں کو بتا دیا کہ وہ یہوواہ کے گواہوں کے اجلاسوں پر حاضر ہو رہے تھے۔ ماں نے انہیں مارنے پیٹنے کی دھمکی دی اور اس سے چھوٹا لڑکا خوفزدہ ہو گیا جس نے مطالعہ کرنا چھوڑ دیا۔ لیکن بڑے نے جاری رکھا۔ پانچ سال تک اپنے والدین کے علم میں لائے بغیر وہ اجلاس پر حاضر ہوتا رہا۔
جب وہ سولہ برس کا تھا تو اس نے ہائی سکول میں ایک کورس لینا چاہا جو اسکے شہر میں پیش نہیں کیا جاتا تھا۔ گھر سے دور رہ کر اسے سچائی کے حصول کی زیادہ آزادی ملیگی۔ اسکے والدین اسے بھیجنے کیلئے رضامند ہو گئے، اور کوئی تین مہینے تک سب معاملات اچھی طرح چلتے رہے۔ اسکے بعد سکول پرنسپل نے اسکے والدین کو اطلاع دی کہ ان کا بیٹا جھنڈے کو سلامی نہیں دیتا یا قومی ترانہ نہیں گاتا۔ وہ نوجوان آدمی پرنسپل، اپنے والدین، ایک سیکرٹری، ایک وکیل، اور دس پروفیسروں کے سامنے، شاندار گواہی دینے کے قابل ہوا تھا کہ وہ ضمیر کی پابندی کی وجہ سے یہ کام کیوں نہیں کر سکتا۔ (خروج ۲۰:۴، ۵) والدین طیش میں تھے۔ ماں نے دادی کو گولی مارنے کے ارادے سے ایک ریوالور حاصل کر لیا، جسے وہ اس سب کی ذمہدار سمجھتی تھی۔ لیکن وہ اس کو کبھی تنہا نہ پا سکی۔
بعدازاں، خاندان کے ایک دوست کے مشورے پر اور سکول پرنسپل کی اجازت سے، والدین نے اس نوجوان کو ذہنی بیماروں کے کلینک میں داخل کرانے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ نفسیاتی علاج اسے اپنے ایمان کا منکر بنا دیگا۔ کلینک کا عملہ اس لڑکے کو ایک کار میں ۱۰۰ کلومیٹر دور لے گیا اور اسے انسولین اور دوسری ادویات کی بھاری مقدار کے ٹیکے لگائے جبتک کہ وہ اپنے ہوشوحواس نہ کھو بیٹھا۔ جاگنے پر اسے معلوم نہ تھا کہ وہ کدھر ہے اور کسی کو جانتا تک نہیں تھا، اور جزوی طور پر یادداشت کھو چکا تھا۔ بہتیرے معائنوں کے بعد ڈاکٹر اس میں کوئی ذہنی بیماری کو نہ پا سکے۔ لیکن کلینک نے علاج جاری رکھا۔ ہوش کے وقت لڑکے نے یہوواہ سے مسلسل دعا کی کہ اسے نہ چھوڑے اور برداشت کرنے کیلئے اس سے قوت کی خاطر التجا کی۔ یہوواہ نے اسے محفوظ رکھا اور بالآخر اسے کلینک سے چھٹی دے دی گئی۔
ایک موقع پر سکول پرنسپل نے اس نوجوان آدمی سے کہا کہ آیا وہ توبہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ جب اس نے کہا نہیں تو پرنسپل نے والدین سے کہا کہ اسے واپس کلینک لے جائیں کیونکہ وہ پہلے سے زیادہ پاگل تھا۔ والدین اسے ایک بورڈنگ ہاؤس میں لے گئے اور مالکن سے کہا کہ وہ اس بات کا یقین کر لے کہ وہ یہوواہ کے گواہوں کے اجلاسوں پر نہ جائے۔ جب والدین چلے گئے تو لڑکے کو کیا ہی اچنبھا ہوا! اس بورڈنگ ہاؤس کے مالک یہوواہ کے گواہ تھے! آخرکار والدین نے اسے اس اعتماد کے ساتھ نفسیاتی علاج سے چھڑا لیا کہ ڈاکٹروں نے ان سے جھوٹ بولا تھا۔ اسی اثنا میں ارجنٹینا کے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ یہوواہ کے گواہوں کے بچوں کو جھنڈے کو سلامی نہ دینے کی وجہ سے سکول سے نکالا نہیں جا سکتا۔
کیا ان آزمائشوں نے اس وفادار نوجوان کو فائدہ پہنچایا؟ جیہاں۔ وہ بیان کرتا ہے: ”میں ڈاکٹروں، پروفیسروں، ہممکتبوں، والدین، اور رشتےداروں، حقیقت میں سارے شہر کو پوری گواہی دینے کے قابل تھا۔ میرے والدین کسی حد تک نرم پڑ گئے ہیں اور گواہوں کے لئے بہتر نظریہ رکھتے ہیں۔ اب میں جب اپنے بچپن پر غور کرتا ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا خدا اس شخص کی دیکھ بھال کرنے میں کتنا معجزنما اور شفیق ہے جو اس کے لئے وفادار رہتا ہے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے زبورنویس نے زبور ۲۷:۱۰ میں کہا: ”جب میرا باپ اور میری ماں مجھے چھوڑ دیں تو خداوند مجھے سنبھال لیگا۔“
یہ جوان آدمی اب ۲۳ برس کا ہے، شادیشدہ ہے، اور یہوواہ کی خدمت میں بہت سرگرم ہے۔ واقعی، یہوواہ کی سہارا دینے والی قوت لامحدود ہے۔ زبور ۵۵:۲۲۔ (۲۲ ۳/۱ w۹۲)