آپبیتی
سابق سسٹریں—اب یہوواہ کی گواہ
کئی سال پہلے کی بات ہے کہ ایک دن میری چھوٹی بہن آراسیلی غصے میں مجھ پر چلّانے لگی: ”تُم تو مجھ سے بات ہی نہ کرو۔ مَیں تمہارے مذہب کے بارے میں کچھ نہیں سننا چاہتی۔ مَیں تمہاری باتیں سُن سُن کر تنگ آ گئی ہوں۔ مجھے تُم سے نفرت ہو گئی ہے۔“ اب میری عمر 91 سال ہے لیکن مجھے اُس کی باتیں ابھی تک یاد ہیں۔ اُس کی باتوں سے مجھے بہت دُکھ ہوا تھا۔ مگر ہمارے معاملے میں وہ بات بالکل صحیح ہے جو واعظ 7:8 میں لکھی ہے کہ ”کسی بات کا انجام اُس کے آغاز سے بہتر ہے“۔—فےلیسا۔
فےلیسا: میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ ہمارے خاندان کے 13 لوگ یا تو پادری تھے یا کیتھولک چرچ کے لیے کام کرتے تھے۔ یہاں تک کہ میری امی کے خالہزاد بھائی کو پوپ جان پال دوم نے اُن کی وفات کے بعد ایک مُقدس شخص قرار دیا۔ وہ ایک پادری تھے اور کیتھولک سکول میں پڑھاتے تھے۔ ہم لوگ زیادہ امیر نہیں تھے۔ میرے ابو لوہار تھے اور میری امی کھیتوں میں کام کرتی تھیں۔ ہم آٹھ بہن بھائی تھے اور مَیں سب سے بڑی تھی۔
جب مَیں 12 سال کی تھی تو سپین میں خانہجنگی شروع ہو گئی۔ جنگ کے بعد میرے ابو کو قید میں ڈال دیا گیا کیونکہ حکومت اُن کے سیاسی نظریات سے خوش نہیں تھی۔ میری امی کے لیے ہمارا پیٹ پالنا مشکل ہو گیا۔ پھر امی کی ایک سہیلی نے اُنہیں مشورہ دیا کہ وہ میری تین چھوٹی بہنوں یعنی آراسیلی، لاؤری اور رامونی کو شہر بِلباؤ کے کانونٹ میں بھیج دیں۔ اِس طرح کم از کم اُنہیں تو کھانا ملے گا۔
آراسیلی: اُس وقت میری عمر 14 سال، لاؤری کی 12 سال اور رامونی کی 10 سال تھی۔ ہمارے لیے گھر سے دُور جانا بہت مشکل تھا۔ کانونٹ میں ہمیں صفائی کا کام دیا گیا۔ دو سال بعد وہاں کی سسٹروں نے ہمیں شہر ساراگوسا کے کانونٹ میں بھیج دیا۔ وہ کانونٹ کافی بڑا تھا اور وہاں بوڑھے لوگوں کی دیکھبھال کی جاتی تھی۔ وہاں ہمیں باورچیخانے کی صفائی کا کام دیا گیا جس کی وجہ سے ہم تینوں بہت تھک جاتی تھیں۔
فےلیسا: جب میری بہنیں ساراگوسا کے کانونٹ میں گئیں تو میری امی اور ماموں نے جو کہ مقامی پادری بھی تھے، فیصلہ کِیا کہ مجھے بھی کام کرنے کے لیے وہاں بھیج دیا جائے۔ دراصل بات یہ تھی کہ ہمارے محلے کا ایک لڑکا مجھے بہت پسند کرتا تھا اور میری امی اور ماموں مجھے اُس سے دُور رکھنا چاہتے تھے۔ مَیں کافی مذہبی تھی اِس لیے مَیں خوشی خوشی کانونٹ چلی گئی۔ وہاں مَیں ہر روز ماس پر جاتی تھی۔ میرے دل میں یہ خواہش بھی پیدا ہو گئی کہ مَیں اپنے اُس خالہزاد بھائی کی طرح مشنری بنوں جو افریقہ میں کام کر رہا تھا۔
بائبل کا ترجمہ، ناکارکولونگا (دائیں طرف) سپین کے شہر ساراگوسا کا کانونٹ (بائیں طرف)
لیکن مجھے لگنے لگا کہ کانونٹ میں رہ کر مَیں مشنری نہیں بن پاؤں گی کیونکہ وہاں کی سسٹروں نے اِس سلسلے میں میری کوئی مدد نہیں کی۔ اِس وجہ سے مَیں کانونٹ کی زندگی سے اُکتا گئی۔ ایک سال بعد مَیں گھر واپس آ گئی تاکہ مَیں اپنے ماموں کی دیکھبھال کر سکوں۔ مَیں اُن کے گھر کا کامکاج کرتی تھی اور ہر شام کو اُن کے ساتھ روزری بھی پڑھتی تھی۔ مجھے چرچ میں پھولوں کی سجاوٹ کرنا اور مریم اور دوسرے مُقدسین کے مجسّموں کو سنوارنا بہت اچھا لگتا تھا۔
آراسیلی: آہستہ آہستہ ہماری زندگی میں تبدیلی آنے لگی۔ جب مَیں نے سسٹر بننے کے لیے اِبتدائی وعدے کیے تو کانونٹ کی سسٹروں نے فیصلہ کِیا کہ ہم تینوں بہنیں فرق فرق کانونٹ میں کام کریں گی۔ رامونی کو ساراگوسا میں ہی رکھا گیا، لاؤری کو شہر ویلنسیا بھیج دیا گیا اور مجھے شہر میڈریڈ بھیج دیا گیا جہاں مَیں نے سسٹر بننے کے لیے دوسری بار وعدے کیے۔ میڈریڈ کے کانونٹ میں طالبِعلم، بوڑھے لوگ اور دوسرے مہمان آ کر رہتے تھے اِس لیے وہاں بہت کام ہوتا تھا۔ مَیں کانونٹ کی ڈسپینسری میں کام کرتی تھی۔
مَیں سوچتی تھی کہ سسٹر بن کر میری زندگی زیادہ اچھی ہو جائے گی اور مجھے بائبل کو پڑھنے اور اِسے سمجھنے کا موقع ملے گا۔ لیکن وہاں کوئی بھی خدا یا یسوع مسیح کے بارے میں بات نہیں کرتا تھا اور نہ ہی بائبل کو اِستعمال کرتا تھا۔ مَیں نے وہاں بس تھوڑی بہت لاطینی زبان سیکھی، مُقدسین کی زندگیوں کے بارے میں پڑھا اور مریم کی عبادت کی۔ باقی وقت میں ہم صرف کام ہی کرتے رہتے تھے۔
مَیں کافی پریشان رہنے لگی۔ وجہ یہ تھی کہ کانونٹ میں مَیں دوسروں کی جیبیں بھرنے کے لیے سخت محنت کر رہی تھی جبکہ میرے اپنے گھر والے مالی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ اِس لیے مَیں سوچ رہی تھی کہ مجھے کانونٹ میں کام کرنے کی بجائے اپنے گھر والوں کے لیے پیسہ کمانا چاہیے۔ جب مَیں نے اِس بارے میں وہاں کی مدر کے ساتھ بات کی تو اُنہوں نے مجھے ایک کوٹھڑی میں بند کر دیا۔ اُن کا خیال تھا کہ اِس طرح میری سوچ بدل جائے گی اور وہ مجھے جانے سے روک پائیں گی۔
تین مرتبہ سسٹروں نے مجھے کوٹھڑی سے باہر نکالا تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ مَیں نے اپنا اِرادہ بدلا ہے یا نہیں۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ مَیں ابھی تک اپنے فیصلے پر قائم ہوں تو اُنہوں نے کہا: ”جانے سے پہلے یہاں یہ لکھ کر جاؤ کہ ”مَیں اِس لیے جا رہی ہوں کیونکہ مَیں خدا کی بجائے شیطان کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔““ یہ سُن کر مَیں دنگ رہ گئی۔ اگرچہ مَیں ہر حال میں کانونٹ سے جانا چاہتی تھی لیکن مَیں یہ الفاظ کبھی نہیں لکھ سکتی تھی۔ مَیں نے اُن سے کہا کہ مَیں کسی فادر سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ جب وہ فادر آئے تو مَیں نے اُنہیں ساری کہانی سنائی۔ اُنہوں نے بشپ سے اِجازت لے کر مجھے ساراگوسا کے کانونٹ میں واپس بھیج دیا۔ اِس کے کچھ مہینوں بعد مجھے کانونٹ چھوڑنے کی اِجازت مل گئی۔ جلد ہی لاؤری اور رامونی بھی کانونٹ چھوڑ کر واپس آ گئیں۔
ایک کتاب جس سے دُوریاں پیدا ہو گئیں
فےلیسا
فےلیسا: کچھ عرصے بعد میری شادی ہو گئی اور مَیں صوبہ کانتابریا میں منتقل ہو گئی۔ وہاں بھی مَیں باقاعدگی سے ماس پر جاتی تھی۔ ایک اِتوار کو پادری نے بڑے غصے سے چرچ میں یہ اِعلان کِیا: ”اِس کتاب کو غور سے دیکھو! اگر کسی نے تمہیں یہ کتاب دی ہے تو اِسے مجھے دے دو یا پھر کچرے میں پھینک دو۔“ اُس وقت اُس کے ہاتھ میں جو کتاب تھی، اُس کا نام تھا: سچائی جو باعثِابدی زندگی ہے۔
میرے پاس یہ کتاب نہیں تھی لیکن مَیں اِسے پڑھنا چاہتی تھی۔ پھر کچھ دن بعد اچانک یہوواہ کی دو گواہوں نے میرے دروازے پر دستک دی۔ اُنہوں نے مجھے وہی کتاب دی جسے پڑھنے سے پادری نے منع کِیا تھا۔ مَیں نے وہ کتاب اُسی رات پڑھ لی اور جب وہ عورتیں مجھ سے دوبارہ ملنے آئیں تو مَیں نے اُن کے ساتھ بائبل کورس کرنے کی حامی بھر لی۔
سچائی کی کتاب
بائبل کی سچائیوں نے میرے دل کو چُھو لیا۔ مجھے مذہب سے لگاؤ تو شروع سے ہی تھا لیکن اب میرے دل میں یہوواہ خدا کے لیے گہری محبت پیدا ہو گئی تھی۔ اِس لیے مَیں مُنادی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہتی تھی۔ مَیں نے 1973ء میں بپتسمہ لے لیا۔ جب بھی مجھے موقع ملتا تھا، مَیں اپنے گھر والوں کو بائبل کی سچائیوں کے بارے میں بتاتی تھی۔ لیکن وہ سب میری بہت مخالفت کرتے تھے اور جیسا کہ مَیں نے شروع میں بتایا، آراسیلی اِس میں پیش پیش تھی۔
آراسیلی: کانونٹ میں میرے ساتھ جو کچھ ہوا تھا، اُس کی وجہ سے مَیں اپنے مذہب سے بدظن ہو گئی تھی۔ لیکن پھر بھی مَیں ہر اِتوار کو ماس پر جاتی تھی اور روزانہ روزری پڑھتی تھی۔ میری ابھی بھی یہ خواہش تھی کہ مَیں بائبل کی تعلیمات کو سمجھوں۔ مَیں اِس بارے میں خدا سے دُعا بھی کرتی تھی۔ لیکن جب فےلیسا نے بڑے جوش سے مجھے اپنے نئے عقیدوں کے بارے میں بتایا تو مَیں نے سوچا کہ وہ پاگل ہو گئی ہے۔ مَیں اُس کی باتوں سے بالکل متفق نہیں تھی۔
آراسیلی
کچھ سال بعد مَیں کام کرنے کے لیے میڈریڈ واپس آ گئی جہاں میری شادی ہو گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مذہب سے میرا دل اُٹھ گیا۔ مَیں نے دیکھا تھا کہ جو لوگ باقاعدگی سے ماس پر جاتے تھے، وہ یسوع مسیح کی تعلیمات پر بالکل عمل نہیں کرتے تھے۔ اِس لیے مَیں نے چرچ جانا چھوڑ دیا۔ مَیں نے مُقدسین کو ماننا اور اِعتراف اور دوزخ جیسے عقیدوں پر ایمان رکھنا چھوڑ دیا، یہاں تک کہ مَیں نے اپنے گھر سے مورتیاں اور مذہبی تصویریں بھی ہٹا دیں۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ جو کچھ مَیں کر رہی ہوں، وہ صحیح ہے یا غلط۔ مَیں بہت مایوس ہو گئی تھی لیکن پھر بھی مَیں خدا سے یہ دُعا کرتی تھی: ”اَے خدا، مَیں تجھے جاننا چاہتی ہوں۔ میری مدد کر!“ مجھے یاد ہے کہ یہوواہ کے گواہ کئی بار میرے گھر آئے لیکن مَیں نے کبھی اُن کے لیے دروازہ نہیں کھولا۔ مجھے کسی مذہب پر بھروسا نہیں رہا تھا۔
1980ء کے دہے کے شروع میں لاؤری اور رامونی نے بھی یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کورس شروع کر دیا۔ اُس وقت لاؤری فرانس میں رہ رہی تھی اور رامونی سپین میں۔ مجھے لگتا تھا کہ فےلیسا کی طرح وہ دونوں بھی گمراہ ہو گئی ہیں۔ کچھ عرصے بعد مَیں ایک عورت سے ملی جس کا نام اینخلےنس تھا۔ وہ میری پڑوسن تھی اور اُس کے ساتھ میری بہت اچھی دوستی ہو گئی۔ وہ یہوواہ کی گواہ تھی۔ وہ اور اُس کا شوہر وقتاًفوقتاً مجھے بائبل کورس کرنے کی پیشکش کرتے تھے۔ اُنہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ مَیں بظاہر تو مذہب سے بدظن ہوں لیکن اصل میں میرے دل میں بائبل کا علم حاصل کرنے کی شدید خواہش ہے۔ آخرکار مَیں نے اُن سے کہا: ”ٹھیک ہے، مَیں آپ لوگوں سے بائبل کورس کروں گی۔ لیکن مَیں صرف اور صرف اپنی بائبل اِستعمال کروں گی۔“ مَیں بائبل کا جو ترجمہ اِستعمال کرتی تھی، اُس کا نام ناکارکولونگا تھا۔
بائبل کے ذریعے دُوریاں ختم ہو گئیں
فےلیسا: 1973ء میں جب مَیں نے بپتسمہ لیا تھا تو کانتابریا کے شہر سانتاندیئر میں تقریباً 70 یہوواہ کے گواہ تھے۔ ہمیں بہت بڑے علاقے میں مُنادی کا کام کرنا تھا۔ اُس پورے صوبے میں سینکڑوں گاؤں تھے اور ہم لوگوں کو بائبل کا پیغام سنانے کے لیے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جاتے تھے۔ پہلے تو ہم بس پر جاتے تھے لیکن بعد میں ہم نے گاڑی لے لی۔
اب تک مَیں نے بہت سے لوگوں کو بائبل کورس کرایا ہے اور اُن میں سے 11 بپتسمہ لے کر یہوواہ کے گواہ بن گئے ہیں۔ اُن میں سے زیادہتر پہلے کیتھولک تھے۔ چونکہ یہوواہ کی گواہ بننے سے پہلے مَیں بھی کیتھولک تھی اِس لیے مَیں جانتی تھی کہ مجھے صبر اور سمجھداری سے کام لینا ہوگا۔ مَیں یہ بھی سمجھتی تھی کہ اُنہیں اپنے پُرانے عقیدوں کو چھوڑنے میں کچھ وقت لگے گا اور وہ اُسی صورت میں سچائی کو پہچان پائیں گے جب پاک روح اُن کے دل پر اثر کرے گی۔ (عبر 4:12) میرے شوہر کا نام بینونیدو تھا۔ وہ پہلے پولیس میں تھے لیکن پھر اُنہوں نے 1979ء میں بپتسمہ لے لیا۔ میری امی نے بھی اپنی وفات سے تھوڑا عرصہ پہلے بائبل کورس کرنا شروع کر دیا تھا۔
آراسیلی: جب مَیں نے یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کورس کرنا شروع کِیا تو مجھے کسی مذہب پر بھروسا نہیں تھا۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، میری سوچ بدلتی گئی۔ یہوواہ کے گواہوں کی اِس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کِیا کہ وہ لوگوں کو جو تعلیم دیتے تھے، خود بھی اُس پر عمل کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ یہوواہ خدا اور بائبل پر میرا بھروسا مضبوط ہونے لگا اور مَیں خوش رہنے لگی۔ میری کچھ پڑوسنوں نے بھی مجھ سے کہا: ”آراسیلی، جو راستہ تُم نے چُنا ہے، اُس پر چلتی رہو۔“
مجھے یاد ہے کہ مَیں یہوواہ خدا سے دُعا کرتی تھی کہ ”یہوواہ خدا، تیرا بہت شکریہ کہ تُو نے مجھے چھوڑا نہیں اور مجھے بائبل کا صحیح علم حاصل کرنے کے اِتنے زیادہ موقعے دیے۔“ مَیں نے فےلیسا سے بھی معافی مانگی کیونکہ مَیں نے اپنی باتوں سے اُس کا دل دُکھایا تھا۔ اِس کے بعد سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ بحث کرنے کی بجائے بائبل کے بارے میں باتچیت کرنے لگے۔ مَیں نے 1989ء میں 61 سال کی عمر میں بپتسمہ لے لیا۔
فےلیسا: اب میری عمر 91 سال ہے۔ میرے شوہر فوت ہو چُکے ہیں۔ میرے اندر ویسی طاقت نہیں رہی جیسی ایک زمانے میں ہوتی تھی۔ لیکن پھر بھی مَیں ہر روز بائبل پڑھتی ہوں اور جہاں تک ممکن ہو، اِجلاسوں پر اور مُنادی کے کام میں جاتی ہوں۔
آراسیلی: مَیں پہلے ایک سسٹر تھی شاید اِس لیے مجھے اُن پادریوں اور سسٹروں کو گواہی دینا اچھا لگتا ہے جن سے مَیں مُنادی کے کام کے دوران ملتی ہوں۔ میری کئی پادریوں اور سسٹروں کے ساتھ بائبل کے بارے میں کافی دلچسپ باتچیت ہوئی ہے اور مَیں اُنہیں بہت سی کتابیں اور رسالے بھی دے چکی ہوں۔ مجھے ایک پادری خاص طور پر یاد ہے جس سے میری کئی بار بائبل کے بارے میں باتچیت ہوئی۔ اُس نے مجھ سے کہا: ”آراسیلی، مَیں آپ کی ساری باتوں سے اِتفاق کرتا ہوں۔ لیکن اِس عمر میں مَیں کہاں جاؤں گا؟ میرے چرچ کے لوگ اور میرا خاندان کیا کہے گا؟“ مَیں نے اُس سے کہا: ”کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ خدا کیا کہے گا؟“ اُسے اندازہ تھا کہ مَیں صحیح کہہ رہی ہوں اِس لیے اُس نے افسردگی سے سر ہلایا۔ لیکن ایسا لگتا تھا کہ اُس کے اندر سچائی کو قبول کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔
مجھے اپنی زندگی کا وہ لمحہ بہت اچھی طرح یاد ہے جب میرے شوہر نے پہلی بار مجھ سے کہا کہ وہ میرے ساتھ اِجلاس پر جانا چاہتے ہیں۔ اُس وقت وہ 80 سال کے تھے۔ اُس کے بعد سے وہ ہر اِجلاس پر جاتے تھے۔ اُنہوں نے بائبل کورس کِیا اور غیربپتسمہیافتہ مبشر بن گئے۔ میرے دل میں آج بھی وہ یادیں تازہ ہیں جب ہم دونوں مل کر مُنادی کا کام کِیا کرتے تھے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ وہ اپنے بپتسمے سے صرف دو مہینے پہلے فوت ہو گئے۔
فےلیسا: مجھے اِس بات کی بہت خوشی ہے کہ میری تین بہنوں نے سچائی کو قبول کر لیا حالانکہ شروع میں اُنہوں نے میری مخالفت کی تھی۔ مَیں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ ہمیں کتنا اچھا لگتا ہے جب ہم مل کر وقت گزارتی ہیں اور یہوواہ خدا اور اُس کے کلام کے بارے میں باتچیت کرتی ہیں۔ آخرکار مَیں اور میری بہنیں مل کر یہوواہ خدا کی خدمت کر رہی ہیں۔a
a اِس وقت آراسیلی 87 سال کی، رامونی 83 سال کی اور فےلیسا 91 سال کی ہیں۔ وہ تینوں بڑے جوش سے یہوواہ خدا کی خدمت کر رہی ہیں جبکہ لاؤری 1990ء میں اپنی وفات تک یہوواہ خدا کی وفادار رہیں۔