کہانی نمبر ۹۵
سب سے اچھے اُستاد
ایک دن یسوع مسیح نے یہودیوں کے ایک مذہبی اُستاد سے کہا: ”اپنے پڑوسی سے محبت رکھیں۔“ اِس آدمی نے یسوع مسیح سے پوچھا: ”میرا پڑوسی کون ہے؟“ یسوع مسیح کو پتہ تھا کہ آدمی نے یہ سوال کیوں پوچھا ہے۔ اُس آدمی کو لگتا تھا کہ اُس کی قوم اور مذہب کے لوگ ہی اُس کے پڑوسی ہیں۔ لیکن یہ سوچ غلط تھی۔
اِس لئے یسوع مسیح نے اُس آدمی کو ایک کہانی سنائی۔ وہ کبھیکبھی لوگوں کو ایک بات سمجھانے کے لئے کہانی سناتے تھے۔ اِس بار اُنہوں نے ایک یہودی اور ایک سامری کی کہانی سنائی۔ یاد ہے، ہم نے پڑھا تھا کہ زیادہتر یہودی، سامریوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ یسوع مسیح نے یہ کہانی سنائی:
ایک دن ایک یہودی شہر یریحو کی طرف جا رہا تھا۔ لیکن راستے میں کچھ ڈاکوؤں نے اُس پر حملہ کر دیا۔ اُنہوں نے اُس آدمی کے پیسے چھین لئے اور اُس کو اِتنا مارا کہ وہ بےہوش ہو گیا۔ پھر وہ اُس کو وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔
کچھ دیر بعد ایک یہودی وہاں سے گزرا۔ وہ کاہن تھا۔ لیکن اُس نے کیا کِیا؟ اُس نے زخمی آدمی کی مدد نہیں کی اور وہاں سے چلا گیا۔ پھر ایک اَور یہودی وہاں سے گزرا۔ وہ لاوی تھا اور ہیکل میں خدمت کرتا تھا۔ کیا اُس نے زخمی آدمی کی مدد کی؟ نہیں۔ وہ بھی وہاں سے چلا گیا۔ کیا آپ کو تصویر میں کاہن اور لاوی نظر آ رہے ہیں؟
لیکن تصویر میں زخمی آدمی کے پاس کون ہے؟ یہ ایک سامری ہے۔ وہ اِس یہودی کی مدد کر رہا ہے۔ دیکھیں، وہ اُس کے زخموں پر پٹی باندھ رہا ہے۔ اِس کے بعد وہ اِس زخمی آدمی کو ایک ایسی جگہ لے گیا جہاں وہ آرام کر سکے اور جلدی سے ٹھیک ہو جائے۔
کہانی سنانے کے بعد یسوع مسیح نے مذہبی اُستاد سے پوچھا: ”آپ کے خیال میں کس نے زخمی آدمی کے ساتھ پڑوسی جیسا سلوک کِیا: کاہن نے، لاوی نے یا سامری نے؟“
مذہبی اُستاد نے جواب دیا: ”سامری نے کیونکہ اُس کو ترس آیا تھا اور اُس نے زخمی آدمی کی مدد کی۔“
یسوع مسیح نے کہا: ”بالکل ٹھیک۔ آپ بھی سب کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں۔“
یسوع مسیح بہت اچھے اُستاد تھے، ہےنا؟ پاک کلام میں یسوع مسیح کی بہت سے باتیں لکھی ہیں۔ اگر ہم اِن کو پڑھیں گے تو ہم بہت اچھی اچھی باتیں سیکھیں گے۔