یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ی‌م‌ر باب 19 ص.‏ 48-‏51
  • سامری عورت سے بات‌چیت

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سامری عورت سے بات‌چیت
  • یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بہت سے سامری ایمان لے آئے
  • کنوئیں پر ایک عورت
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • زندگی کا پانی
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
ی‌م‌ر باب 19 ص.‏ 48-‏51
یسوع مسیح کنوئیں پر سامری عورت سے بات کر رہے ہیں۔‏

باب 19

سامری عورت سے بات‌چیت

یوحنا 4:‏3-‏43

  • یسوع مسیح نے سامری عورت اور اُس کے شہر والوں کو تعلیم دی

  • خدا کس طرح کی عبادت کو پسند کرتا ہے؟‏

یہودیہ سے گلیل کا سفر کرتے وقت یسوع مسیح اور اُن کے شاگرد سامریہ کے علاقے سے گزرے۔ دوپہر کے 12 بجے وہ شہر سُوخار کے نزدیک یعقوب کے کنوئیں کے پاس رُکے کیونکہ وہ تھک گئے تھے۔ صدیوں پہلے یہ کنواں یعقوب نے یا تو خود کھودا تھا یا پھر اِسے کھدوایا تھا۔ یہ کنواں آج بھی موجود ہے اور جدید شہر نابلس کے نزدیک پایا جاتا ہے۔‏

یسوع مسیح کنوئیں کے پاس آرام کرنے کے لیے بیٹھ گئے اور اُن کے شاگرد کھانا لینے کے لیے شہر سُوخار چلے گئے۔ اِس دوران ایک سامری عورت پانی بھرنے کے لیے کنوئیں پر آئی۔ اُسے دیکھ کر یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏ذرا مجھے پانی پلا دیں۔“‏—‏یوحنا 4:‏7‏۔‏

یسوع مسیح کنوئیں پر آرام کر رہے ہیں، اُن کے شاگرد کھانا لینے کے لیے جا رہے ہیں اور ایک سامری عورت مٹکا اُٹھائے پانی بھرنے کے لیے آ رہی ہے۔‏

یہودی اور سامری تعصب کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے۔ اِس لیے جب یسوع مسیح نے اُس عورت سے پانی مانگا تو وہ بہت حیران ہوئی اور کہنے لگی:‏ ”‏آپ تو یہودی ہیں۔ پھر آپ مجھ سے پانی کیوں مانگ رہے ہیں جبکہ مَیں ایک سامری عورت ہوں؟“‏ اِس پر یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏اگر آپ خدا کی نعمت کے بارے میں جانتیں اور یہ بھی جانتیں کہ کون آپ سے پانی مانگ رہا ہے تو آپ اُس سے مانگتیں اور وہ آپ کو زندگی کا پانی دیتا۔“‏ یہ سُن کر عورت نے کہا:‏ ”‏جناب، یہ کنواں گہرا ہے اور آپ کے پاس پانی بھرنے کے لیے بالٹی بھی نہیں۔ تو پھر آپ کو زندگی کا یہ پانی کہاں سے ملا؟ آپ ہمارے باپ‌دادا یعقوب سے تو بڑے نہیں ہیں جنہوں نے ہمیں یہ کنواں دیا اور جنہوں نے اپنے بیٹوں اور مویشیوں کے ساتھ اِس کا پانی پیا۔“‏—‏یوحنا 4:‏9-‏12‏۔‏

یسوع نے اُسے جواب دیا:‏ ”‏جو اِس کنوئیں کا پانی پیتا ہے، اُسے دوبارہ پیاس لگے گی۔ لیکن جو شخص وہ پانی پیئے گا جو مَیں اُسے دوں گا، اُسے کبھی پیاس نہیں لگے گی بلکہ یہ پانی اُس میں ایک چشمہ بن جائے گا جس سے ہمیشہ کی زندگی کا پانی پھوٹے گا۔“‏ (‏یوحنا 4:‏13، 14‏)‏ ذرا سوچیں، یسوع مسیح اِتنے تھکے ہوئے تھے لیکن پھر بھی اُنہوں نے سامری عورت کو زندگی‌بخش سچائی کی تعلیم دی۔‏

پھر عورت نے کہا:‏ ”‏جناب، مجھے یہ پانی دیں تاکہ مجھے نہ تو پیاس لگے اور نہ ہی بار بار پانی بھرنے کے لیے یہاں آنا پڑے۔“‏ یسوع مسیح نے موضوع کو بدلتے ہوئے اُس سے کہا:‏ ”‏جائیں، اپنے شوہر کو بلا کر لائیں۔“‏ عورت نے جواب دیا:‏ ”‏میرا تو کوئی شوہر نہیں ہے۔“‏ اِس پر یسوع نے جو جواب دیا، اِسے سُن کر وہ بالکل دنگ رہ گئی کیونکہ یسوع نے کہا:‏ ”‏آپ نے بالکل صحیح کہا کہ ”‏میرا کوئی شوہر نہیں ہے۔“‏ کیونکہ آپ پانچ شوہر کر چکی ہیں اور جس آدمی کے ساتھ آپ ابھی رہ رہی ہیں، وہ آپ کا شوہر نہیں ہے۔ لہٰذا آپ نے سچ بولا ہے۔“‏—‏یوحنا 4:‏15-‏18‏۔‏

یہ سُن کر عورت جان گئی کہ یسوع مسیح کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں۔ اِس لیے اُس نے حیران ہو کر کہا:‏ ”‏جناب، مَیں دیکھ سکتی ہوں کہ آپ ایک نبی ہیں۔“‏ عورت کی اگلی بات سے ظاہر ہوا کہ وہ مذہبی باتوں میں دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ اُس نے کہا:‏ ”‏ہمارے باپ‌دادا اِس پہاڑ پر [‏یعنی کوہِ‌گرزیم پر جو کہ قریب ہی واقع تھا]‏ عبادت کرتے تھے لیکن آپ لوگ کہتے ہیں کہ عبادت یروشلیم میں کرنی چاہیے۔“‏—‏یوحنا 4:‏19، 20‏۔‏

یسوع مسیح عورت کو سمجھانا چاہتے تھے کہ عبادت کے حوالے سے جگہوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏وہ وقت آ رہا ہے جب آپ لوگ نہ تو اِس پہاڑ پر اور نہ ہی یروشلیم میں آسمانی باپ کی عبادت کریں گے۔“‏ پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏لیکن وہ وقت آ رہا ہے بلکہ اب ہے جب باپ کے سچے خادم روح اور سچائی سے اُس کی عبادت کریں گے کیونکہ باپ چاہتا ہے کہ ایسے ہی لوگ اُس کی عبادت کریں۔“‏—‏یوحنا 4:‏21،‏ 23، 24‏۔‏

دراصل ہمارے آسمانی باپ کے نزدیک یہ اہم نہیں کہ اُس کے خادم کہاں عبادت کرتے ہیں بلکہ یہ اہم ہے کہ وہ کیسے اُس کی عبادت کرتے ہیں۔ سامری عورت یسوع مسیح کی بات سے بہت متاثر ہوئی اِس لیے اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں جانتی ہوں کہ وہ شخص آنے والا ہے جسے مسیح کہتے ہیں۔ جب وہ آئے گا تو وہ ہمیں ساری باتیں صاف صاف بتائے گا۔“‏—‏یوحنا 4:‏25‏۔‏

اِس پر یسوع مسیح نے عورت کو بتایا:‏ ”‏مَیں ہی وہ شخص ہوں۔“‏ (‏یوحنا 4:‏26‏)‏ ذرا سوچیں کہ یسوع نے اِس سامری عورت کو وہ اہم حقیقت بتائی جو اُنہوں نے ابھی تک کسی کو نہیں بتائی تھی یعنی یہ کہ وہ ہی مسیح ہیں!‏

بہت سے سامری ایمان لے آئے

جب یسوع مسیح کے شاگرد شہر سُوخار سے کھانا لے کر واپس آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ یسوع کنوئیں پر بیٹھے ایک سامری عورت سے بات کر رہے ہیں۔ شاگردوں کے وہاں آتے ہی وہ عورت اپنا مٹکا وہیں چھوڑ کر شہر چلی گئی۔‏

یسوع مسیح کے شاگرد کنوئیں پر واپس لوٹ رہے ہیں اور سامری عورت جا رہی ہے۔‏

شہر پہنچ کر اُس عورت نے لوگوں کو وہ ساری باتیں بتائیں جو یسوع مسیح نے اُس سے کہی تھیں۔ اُس نے لوگوں سے کہا:‏ ”‏آؤ، ایک آدمی کو دیکھو جس نے مجھے وہ سب کچھ بتایا جو مَیں نے کِیا ہے۔“‏ پھر اُس عورت نے لوگوں میں تجسّس پیدا کرنے کے لیے کہا:‏ ”‏کہیں وہ مسیح تو نہیں؟“‏ (‏یوحنا 4:‏29‏)‏ یوں اُس نے ایک ایسے موضوع کو چھیڑا جس میں لوگ موسیٰ کے زمانے سے دلچسپی لیتے آ رہے تھے۔ (‏اِستثنا 18:‏18)‏ عورت کی بات سُن کر لوگ خود یسوع مسیح سے ملنے کے لیے گئے۔‏

سامری عورت شہر سُوخار میں لوگوں کو یسوع مسیح کے بارے میں بتا رہی ہے۔‏

اِس دوران شاگردوں نے یسوع مسیح کو کھانا کھانے کو کہا۔ لیکن یسوع نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏میرے پاس جو کھانا ہے، اُس کے بارے میں آپ نہیں جانتے۔“‏ شاگردوں نے حیران ہو کر ایک دوسرے سے پوچھا:‏ ”‏کیا کوئی اُن کو کھانا دے چُکا ہے؟“‏ یسوع مسیح نے اپنی بات سمجھانے کے لیے کہا:‏ ”‏میرا کھانا یہ ہے کہ مَیں اُس کی مرضی پر چلوں جس نے مجھے بھیجا ہے اور اُس کا کام پورا کروں۔“‏—‏یوحنا 4:‏32-‏34‏۔‏

پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اپنی نظریں اُٹھا کر دیکھیں کہ کھیت سنہرے ہیں اور فصل کٹائی کے لیے تیار ہے۔ کاٹنے والے کو ابھی سے ہی اجر مل رہا ہے اور وہ ہمیشہ کی زندگی کا پھل جمع کر رہا ہے تاکہ بونے والا اور کاٹنے والا مل کر خوشی منائیں۔“‏ (‏یوحنا 4:‏35، 36‏)‏ یسوع مسیح اصلی فصل کی کٹائی کی بات نہیں کر رہے تھے جو چار مہینے بعد ہونی تھی بلکہ وہ شاگرد بنانے کے کام کی بات کر رہے تھے۔‏

شاید یسوع مسیح کو معلوم تھا کہ سامری عورت سے بات‌چیت کرنے کے کیا نتائج نکلیں گے۔ شہر سُوخار کے بہت سے لوگ اُس عورت کی باتوں کو سُن کر ہی یسوع مسیح پر ایمان لا رہے تھے کیونکہ وہ عورت اُن سے کہہ رہی تھی کہ ”‏اُس شخص نے مجھے وہ ساری باتیں بتائی ہیں جو مَیں نے کی ہیں۔“‏ (‏یوحنا 4:‏39‏)‏ لہٰذا جب شہر کے لوگ یعقوب کے کنوئیں کے پاس پہنچے تو اُنہوں نے یسوع سے درخواست کی کہ وہ اُن کے پاس ٹھہریں اور اُنہیں اَور بھی باتیں سکھائیں۔ یسوع مسیح نے اُن کی دعوت کو قبول کر لیا اور دو دن سامریہ میں رُک گئے۔‏

یسوع مسیح کی تعلیمات کو سُن کر بہت سے سامری اُن پر ایمان لے آئے۔ اِن لوگوں نے عورت سے کہا:‏ ”‏اب ہم صرف تمہاری باتوں کی وجہ سے ایمان نہیں رکھتے۔ ہم نے خود اِس آدمی کی باتیں سنی ہیں اور ہم جان گئے ہیں کہ یہ واقعی دُنیا کا نجات‌دہندہ ہے۔“‏ (‏یوحنا 4:‏42‏)‏ اِس سامری عورت نے مسیح کے بارے میں گواہی دینے کے سلسلے میں بہت اچھی مثال قائم کی۔ ہم بھی گواہی دیتے وقت بڑی مہارت سے لوگوں کے دل میں تجسّس پیدا کر سکتے ہیں تاکہ اُن میں مزید معلومات جاننے کی خواہش جاگ اُٹھے۔‏

جیسا کہ ہم دیکھ چُکے ہیں، فصل کی کٹائی میں ابھی چار مہینے باقی تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ جَو کی فصل کی کٹائی تھی جو کہ عموماً بہار کے موسم میں ہوتی تھی۔ لہٰذا اب نومبر یا دسمبر کا مہینہ چل رہا تھا۔ اِس سے ہم نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ 30ء کی عیدِفسح کے بعد یسوع مسیح اور اُن کے شاگرد تقریباً آٹھ مہینے یہودیہ کے علاقے میں رہے جہاں اُنہوں نے لوگوں کو تعلیم دی اور بپتسمہ دیا۔ اب وہ لوگ اپنے آبائی علاقے گلیل کو روانہ ہوئے۔ آئیں، دیکھیں کہ وہاں کیا کچھ ہوا۔‏

سامری لوگ کون تھے؟‏

سامریہ کا علاقہ یہودیہ اور گلیل کے علاقوں کے بیچ واقع تھا۔ بادشاہ سلیمان کی موت کے بعد بنی‌اِسرائیل کے دس قبیلے یہودیہ اور بنیمین کے قبیلوں سے الگ ہو گئے۔‏

اِن دس قبیلوں کے علاقے کو سامریہ کہا جانے لگا۔ اِن قبیلوں کے لوگوں نے بچھڑے کے بُت بنائے اور اُن کی پوجا کرنے لگے۔ اِس وجہ سے یہوواہ نے 740 قبل‌ازمسیح میں سامریہ کو اسوریوں کے قبضے میں کر دیا۔ اسوریوں نے سامریہ کے زیادہ‌تر لوگوں کو اسیر کر لیا اور اُن کی جگہ اپنی سلطنت کی دوسری قوموں کو آباد کر دیا۔ اِن بُت‌پرست لوگوں نے اُن اِسرائیلیوں سے شادی بیاہ کر لیا جو ملک میں باقی رہ گئے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِس علاقے کے لوگوں نے عبادت کا ایسا طریقہ اپنا لیا جس میں خدا کی شریعت کے کچھ عقیدے اور رسمیں بھی شامل تھیں، جیسا کہ ختنے کی رسم۔ لیکن یہ لوگ سچی عبادت نہیں کرتے تھے۔—‏2-‏سلاطین 17:‏9-‏33؛‏ یسعیاہ 9:‏9‏۔‏

یسوع مسیح کے زمانے میں سامری لوگ توریت کو تو مانتے تھے لیکن یروشلیم کی ہیکل میں عبادت نہیں کرتے تھے۔ بڑے عرصے تک وہ شہر سُوخار کے قریب کوہِ‌گرزیم پر ایک ہیکل میں عبادت کرتے تھے۔ اور جب یہ ہیکل تباہ ہو گئی تو اِس کے بعد بھی وہ کوہِ‌گرزیم پر عبادت کرتے رہے۔ یسوع کے زمانے میں سامری اور یہودی قوموں میں سخت دُشمنی تھی۔—‏یوحنا 8:‏48‏۔‏

  • سامری عورت اِس بات پر کیوں حیران ہوئی کہ یسوع مسیح نے اُس سے بات کی؟‏

  • یسوع مسیح نے سامری عورت کو زندگی کے پانی اور عبادت کی جگہ کے بارے میں کیا سکھایا؟‏

  • یسوع مسیح نے سامری عورت کو اپنے بارے میں کون سی اہم حقیقت بتائی؟ اور اُنہوں نے کس طرح سے عبادت کرنے کی حوصلہ‌افزائی کی؟‏

  • سامری عورت نے یسوع مسیح کے بارے میں کیا نتیجہ اخذ کِیا؟ اور بعد میں اُس نے کیا کِیا؟‏

  • سن 30ء کی عیدِفسح کے بعد یسوع مسیح اور اُن کے شاگردوں نے کیا کِیا؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں