روزانہ اسپرین—مفید یا مُضر؟
ذیل میں ایک ڈاکٹر کا بیانکردہ حقیقی واقعہ درج ہے جو ایک عام مسئلے پر روشنی ڈالتا ہے۔
سارا خاندان پریشان تھا۔ اب تو ڈاکٹر بھی پریشان ہو گیا تھا۔ ”اگر اِسکا خون جلدی بند نہ ہوا،“ ڈاکٹر نے کہا ”تو ہمیں انتقالِخون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔“
کئی ہفتوں سے اِس آدمی کی انتڑیوں سے خون رس رہا تھا جسکی وجہ معدے کی سوزش یا گیسٹرائٹس بتائی گئی تھی۔ تذبذب میں مبتلا ڈاکٹر نے پوچھا، ”کیا آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کوئی دوا استعمال نہیں کر رہے ہیں؟“
اُس شخص نے جواب دیا، ”جینہیں۔ صرف جوڑوں کی سوزش کیلئے نسخے کے بغیر یہ دوا لے رہا ہوں۔“
ڈاکٹر کے کان کھڑے ہو گئے۔ ”ذرا مجھے دکھائیں۔“ اُس پر لگے لیبل کو پڑھتے ہی اُسکا تجسّس ختم ہوگیا۔ ایسیٹائلسیلیسلکایسڈ! مسئلہ حل ہو گیا۔ جب مریض نے اسپرین پر مشتمل دوا لینا چھوڑ کر خون پیدا کرنے والی غذائیں اور معدے کے فعل کو ٹھیک کرنے والی چند ادویات استعمال کرنا شروع کیں تو خون آنا نہ صرف بند ہو گیا بلکہ اِسکا تناسب بھی آہستہآہستہ نارمل ہو گیا۔
ادویات کے باعث جریانِخون
ادویات کی وجہ سے معدے اور آنتوں سے خون رِسنا آجکل ایک سنگین طبّی مسئلہ ہے۔ اگرچہ کئی ادویات اس زمرے میں آتی ہیں توبھی جوڑوں کی سوزش اور مختلف اقسام کی درد کے لئے استعمال کی جانے والی ادویات اِسکا خاص سبب ہیں۔ ان میں ایسی ادویات شامل ہیں جنہیں نانسٹیرائڈل اینٹیاِنفلامیٹری ڈرگز یا NSAIDS کہا جاتا ہے۔ اِن کے نام ہر مُلک میں مختلف ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹری نسخے کے بغیر بکنے والی بہت سی ادویات میں اسپرین ہوتی ہے اور حالیہ برسوں کے دوران بیشتر ممالک میں روزانہ اسپرین استعمال کرنے والے لوگوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کیوں؟
اسپرین سے خاص لگاؤ
سن ۱۹۹۵ میں ہاورڈ ہیلتھ لیٹر نے بیان کِیا کہ ”اسپرین کا باقاعدہ استعمال زندگیاں بچاتا ہے۔“ اُس وقت سے عالمی پیمانے پر اِس سلسلے میں بارہا تحقیق کی گئی ہے جسکی روشنی میں ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کِیا: ”ایسے تمام لوگوں کو جنہیں کبھی دل کا دَورہ پڑا ہو، انجائنا کا مرض لاحق ہو یاپھر جو کارونری آرٹری کا بائیپاس کروا چکے ہوں روزانہ اسپرین کی آدھی یا پوری گولی لینی چاہئے بشرطیکہ وہ ان کیلئے موافق ہو۔“a
دیگر ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ۵۰ سال سے زیادہ عمر کے مردوزن کیلئے جنہیں دل کے دَورے کا خطرہ لاحق ہے روزانہ اسپرین لینا نہایت مفید ہے۔ مزیدبرآں، کچھ تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسپرین کا روزانہ استعمال بڑی آنت کے کینسر کے خطرے کو بھی کم کر دیتا ہے اور اگر ذیابیطس کے مریض کافی عرصے تک اِسے بھاری مقدار میں استعمال کریں تو اُن میں شکر کی سطح کم ہو سکتی ہے۔
اسپرین یہ مبیّنہ فوائد کیسے پہنچاتی ہے؟ اگرچہ اس کے بارے میں تمام باتیں تو معلوم نہیں ہیں توبھی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اسپرین خون کے پلیٹلیٹس کو آپس میں چپک کر گاڑھا نہیں ہونے دیتی اور یوں خون میں چکتے بننے کے عمل کو روکنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اسطرح دل اور دماغ کو جانے والی چھوٹی شریانوں میں کوئی رُکاوٹ پیدا نہیں ہوتی جس سے جسم کے اہم اعضا کسی بھی نقصان سے محفوظ رہتے ہیں۔
اسپرین کے اِن تمام فوائد کے پیشِنظر سب لوگ اسے استعمال کیوں نہیں کرتے؟ ایک بات تو یہ ہے کہ ابھی تک بہت سے حقائق دریافت نہیں ہوئے۔ اسکی معقول مقدار بھی واضح نہیں۔ اس سلسلے میں سفارشات مختلف ہیں جن کے مطابق ایک گولی دن میں دو بار یا پھر ہر دوسرے دن ایک بےبی اسپرین (۸۱ ملیگرام) کی ایک گولی لینی چاہئے۔ کیا خواتین کیلئے اسکی مقدار آدمیوں کی نسبت فرق ہونی چاہئے؟ ڈاکٹر اسکی بابت وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ انٹریک کوٹڈ اسپرین کو تو کسی حد تک مفید خیال کِیا جا سکتا ہے مگر بفرڈ اسپرین کے فوائد پر ابھی تک بحث ہو رہی ہے۔
احتیاط کی وجوہات
اگرچہ تکنیکی اعتبار سے اسپرین ایک قدرتی شے ہے—امریکن انڈینز نے بید کے درخت کی چھال سے اسپرین کے اجزا حاصل کئے تھے—توبھی اسکے بہت سے مُضر اثرات بھی ہیں۔ بیشتر لوگوں میں جریانِخون کا سبب بننے کے علاوہ اسپرین اَور بھی بہت سی پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے جن میں اسپرین کیلئے حساس لوگوں میں الرجی بھی شامل ہے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ ہر شخص روزانہ اسپرین استعمال نہیں کر سکتا۔
تاہم، دل کے دَورے یا ایسی ہی کسی اَور بیماری میں مبتلا شخص اسپرین کے روزانہ استعمال کے فوائدونقصانات کی بابت اپنے ڈاکٹر سے رجوع کر سکتا ہے۔ یقیناً مریض یہ اطمینان کرنا چاہے گا کہ اُسے کسی بھی طرح سے جریانِخون، اسپرین سے حساسیت، معدے یا انتڑیوں کے مسائل کا سامنا تو نہیں کرنا پڑیگا۔ علاج شروع کرنے سے پہلے دیگر امکانی مسائل یا ادویات کے باہمی عمل کی بابت ڈاکٹر سے بات کر لینا اچھا ہوگا۔
جیساکہ پہلے بھی بیان کِیا گیا، اسپرین اور اسپرین جیسی دیگر ادویات بڑی حد تک جریانِخون کا باعث بن سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ جریانِخون کا عمل فوراً ظاہر نہ ہو مگر وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ دیگر ادویات بالخصوص سوزش کم کرنے والی ادویات کے سلسلے میں بھی خوب احتیاط برتی جانی چاہئے۔ اگر آپ اِن ادویات میں سے کوئی استعمال کر رہے ہیں تو اپنے ڈاکٹر کو اس سے ضرور آگاہ کریں۔ بیشتر صورتوں میں سرجری سے پہلے اِن ادویات کو بند کر دینا دانشمندی ہوگی۔ اسکے علاوہ خون کے باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی مفید ثابت ہونگے۔
اگر ہم مستقبل میں پیش آنے والے مسائل سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس بائبل مثل پر دھیان دینا چاہئے: ”ہوشیار بلا کو دیکھ کر چھپ جاتا ہے لیکن نادان بڑھے چلے جاتے اور نقصان اُٹھاتے ہیں۔“ (امثال ۲۲:۳) دُعا ہے کہ اس طبّی معاملے میں ہم ہوشیار بنیں تاکہ ہمیں اپنی صحت کے سلسلے میں کسی قسم کا نقصان نہ اُٹھانا پڑے۔
[فٹنوٹ]
a جاگو! کسی بھی مخصوص طبّی علاج کی سفارش نہیں کرتا۔
[صفحہ ۲۰، ۲۱ پر بکس/تصویر]
کون روزانہ اسپرین استعمال کر سکتے ہیں
● دل کی شریانوں میں خون کے انجماد اور شاہرگ یعنی گردن میں پائی جانے والی خون کی بڑی نالیوں کے سکڑاؤ کے مریض۔
● لختۂخون یا خون کی عارضی کمی کی وجہ سے دَورے کے تجربے سے گزرنے والے لوگ۔
● امراضِقلب کا باعث بننے والے مندرجہذیل خطرات میں سے کسی ایک یا زیادہ سے دوچار ۵۰ سال کی عمر والے مرد: سگریٹنوشی، بلند فشارِخون، ذیابیطس، کولیسٹرول کی وافر مقدار، کولیسٹرول کی کم مقدار، بہت زیادہ موٹاپا، الکحل کا زیادہ استعمال، خاندان میں مختلف لوگوں کا چھوٹی عمر میں (۵۵ سال سے پہلے) دل کے دَورے کا شکار ہونا اور ہر وقت بیٹھے رہنا۔
● ۵۰ سال سے زیادہ عمر کی خواتین مندرجہبالا خطرات میں سے ایک یا دو کا شکار ہیں۔
اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اچھا ہوگا۔
[تصویر کا حوالہ]
Consumer Reports on Health :Source