یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏10/‏00 ص.‏ 15-‏19
  • طوفانوں کے بعد فرانس میں امدادی کام

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • طوفانوں کے بعد فرانس میں امدادی کام
  • جاگو!‏—‏2000ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بڑی تباہی ابھی آنی تھی
  • مابعدی اثرات
  • ضروری مدد بہم پہنچانا
  • ‏”‏محبت کی پناہ“‏
  • فرانس میں گواہ سب لوگوں کے پاس جاتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
جاگو!‏—‏2000ء
جاگو 8/‏10/‏00 ص.‏ 15-‏19

طوفانوں کے بعد فرانس میں امدادی کام

فرانس سے جاگو!‏ کا مراسلہ‌نگار

فرانسواز نے آتشدان کیلئے کچھ لکڑیاں چننے کیلئے دروازہ کھولا۔ وہ یاد کرتی ہے:‏ ”‏مجھے تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ پانی دہلیز تک آیا ہوا تھا اور باغیچے کے گیٹ کی طرف سے ایک بہت بڑی لہر آ رہی تھی۔“‏ اس کا شوہر ٹائری گردن تک پانی میں سے گزر کر گیراج سے سیڑھی نکال کر لایا۔ خاندان بالائی منزل والے کمرے تک پہنچا، جہاں اس نے چھت میں سوراخ کِیا۔ پانی میں شرابور اور سراسیمہ جوڑے کو اپنے تین بچوں کیساتھ بچاؤ کیلئے چار گھنٹے تک چھت پر طویل انتظار کرنا پڑا۔ آخرکار، فرانسیسی پولیس کے ایک ہیلی‌کاپٹر نے انہیں ڈھونڈ لیا اور اُٹھا کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔‏

سیلابی بارش سے دریا حفاظتی بند اور پُل توڑ کر کناروں سے باہر بہنے لگے۔ گدلے پانی کی ۳۰ فٹ اونچی لہریں اپنی راہ میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے گئیں۔ اس طوفان میں ۳۰ سے زیادہ لوگ اپنی کاروں میں پھنس جانے یا نیند کی حالت میں ڈوب جانے سے ہلاک ہو گئے۔ طوفان سے بچ جانے والی ایک خاتون نے نومبر کی ہولناک رات کو ”‏خاتمے کے وقت“‏ سے تشبِیہ دی۔ جنوب‌مغربی فرانس کا سارا علاقہ—‏۳۲۹ قصبے اور دیہات—‏آفت‌زدہ علاقہ قرار دیدیا گیا۔‏

بڑی تباہی ابھی آنی تھی

جنوب‌مغربی علاقہ ابھی سنبھل ہی رہا تھا کہ تباہی پھر آ گئی۔ بحرِاوقیانوس پر ہوا کے دباؤ میں غیرمعمولی کمی طوفانِ‌بادوباراں کا سبب بنی۔ پہلی آندھی نے دسمبر ۲۶، ۱۹۹۹ کو شمالی فرانس میں تباہی مچا دی جبکہ دوسری نے اگلی رات جنوبی خطے کو اُجاڑ کر رکھ دیا۔ ہوا کی رفتار ۲۰۰ کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، فرانس میں کم‌ازکم ۱۷ویں صدی کے بعد سے ایسا طوفان کبھی نہیں آیا تھا۔‏

جب طوفان آیا تو ایلین آٹھ ماہ کے حمل سے تھی۔ ”‏مَیں انتہائی ڈر گئی،“‏ وہ یاد کرتی ہے۔ ”‏میرا شوہر موٹر سائیکل پر گھر واپس آ رہا تھا اور مَیں باہر ہر جگہ درختوں کی شاخوں کو اُڑتے ہوئے دیکھ سکتی تھی۔ مَیں باربار سوچ رہی تھی کہ وہ اپنے بچے کو کبھی نہیں دیکھ پائیگا۔ ابھی میرا شوہر گھر پہنچا ہی تھا کہ ہمارے گھر میں پانی چڑھنا شروع ہو گیا۔ ہمیں کھڑکی سے باہر کودنا پڑا۔“‏

فرانس میں، تقریباً ۹۰ لوگ ہلاک ہوئے۔ وہ ڈوبنے یا چھتوں سے ٹائلوں، چمنیوں یا درختوں کے گرنے سے موت کے مُنہ میں چلے گئے تھے۔ اِسکے علاوہ سینکڑوں اشخاص شدید زخمی ہوئے جن میں شہریوں اور امداد فراہم کرنے والے فوجیوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ آندھیوں نے پڑوسی ممالک کو بھی متاثر کِیا اور برطانیہ، جرمنی، سپین اور سوئٹزرلینڈ میں ۴۰ سے زیادہ لوگوں کی ہلاکت کا باعث بنیں۔‏

مابعدی اثرات

میٹروپولیٹن فرانس کے ۹۶ انتظامی اضلاع میں سے ۶۹ کو سرکاری طور پر ”‏آفت‌زدہ علاقے“‏ قرار دیا گیا۔ نقصان کا اندازہ تقریباً ۷۰ بلین فرانکس (‏۱۱ بلین یو.‏ایس.‏ ڈالر)‏ لگایا گیا ہے۔ بعض قصبے، دیہات اور بندرگاہیں تو گھمسان کی جنگ کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ سڑکیں اور ریل کی پٹڑیاں درختوں یا بجلی کے کھمبوں کے گرنے کی وجہ سے بند ہو گئیں۔ عمارتوں کی چھتیں اُڑ گئیں، کنسٹرکشن کرینز اُلٹ گئیں اور کشتیاں پُشتوں پر جا گریں۔ نرسریوں اور باغات کی تباہ‌کاریوں سے ہزاروں مزدور بیروزگار ہو گئے۔‏

چند ہی گھنٹوں میں، آندھی نے فرانس کے لاکھوں ایکڑ کے جنگلات اور پارک تباہ‌وبرباد کر دئے۔ فرنچ نیشنل فارسٹ آفس کے اندازے کے مطابق ۳۰۰ ملین درخت تباہ ہو گئے۔ صدیوں پُرانے عالیشان درخت جڑ سے اُکھڑ کر دیاسلائی کی طرح ٹوٹ گئے۔ آندھی نے آکواٹین اور لورین میں درختوں کے بہت سے جھنڈ اُکھاڑ دئے۔‏

ایک یہوواہ کے گواہ اور فارسٹ رینجر، برنارڈ نے بیان کِیا:‏ ”‏طوفان کے اگلے دن، جب مَیں جنگل میں گیا تو مَیں ہکابکا رہ گیا۔ ایسے منظر کو دیکھکر آپ حواس‌باختہ ہو سکتے ہیں!‏ یہاں میری کلیسیا کے ۸۰ فیصد لوگوں کا روزگار جنگل کی بدولت چلتا ہے۔ یہاں کے لوگوں، بالخصوص عمررسیدہ اشخاص کو بہت بڑا صدمہ پہنچا تھا۔“‏ پیلس آف ورسائی کے باغات میں سے ۱۰،۰۰۰ درخت زمین‌بوس ہو گئے۔ باغبانوں کے ایک سربراہ نے بڑے افسوس سے کہا کہ ”‏اِس باغ کو اپنی اصلی حالت میں آنے کیلئے دو صدیاں لگیں گی۔“‏

بجلی کے تاروں کے ٹوٹنے سے فرانس کی آبادی کا چھٹا حصہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ رفاعی اِداروں کی انتہائی کوششوں کے باوجود، لاکھوں اشخاص طوفان کے بعد دو ہفتوں تک بجلی یا ٹیلیفون کی سہولت سے محروم رہے۔ بعض چھوٹے دیہاتوں کا رابطہ تو بالکل منقطع ہو گیا تھا۔ خاندانوں کو مجبوراً کنوؤں سے پانی بھرنا اور موم‌بتیاں استعمال کرنا پڑیں۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ ۲۱ویں صدی کی دہلیز کی بجائے سو سال پہلے کے زمانے میں رہ رہے تھے۔‏

طوفان نے سرکاری عمارتوں اور گرجاگھروں کو بھی نہ چھوڑا۔ یہوواہ کے گواہوں کے ۱۵ کنگڈم ہالز سمیت کئی مذہبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ بعض مقامات پر موم‌بتی یا مٹی کے تیل کے لیمپ جلا کر اجلاس منعقد کئے گئے۔‏

یہوواہ کے گواہوں کے تقریباً ۲،۰۰۰ خاندانوں نے طوفان کی وجہ سے درخت گِرنے، چھتوں کے ٹوٹنے یا سیلاب کے باعث پورے کے پورے گھر تباہ ہو جانے کی صورت میں بہت زیادہ نقصان اُٹھایا۔ بعض گواہ زخمی بھی ہوئے۔ افسوس کی بات ہے کہ شرانت کے علاقے میں ایک ۷۷ سالہ گواہ اپنی بے‌بس بیوی کے سامنے ڈوب گیا۔ دیگر موت سے بال‌بال بچے۔ ”‏میرا نہ مرنا ایک معجزہ ہے،“‏ ۷۰سالہ گلبرٹ یاد کرتا ہے۔ ”‏دروازہ تیزی سے کھلا اور پانی بڑی قوت کیساتھ اندر داخل ہوا۔ پانی فوراً ہی پانچ فٹ تک پہنچ گیا۔ مَیں اپنی کپڑوں کی الماری کو پکڑے رہنے سے بچ گیا۔“‏

ضروری مدد بہم پہنچانا

اس طوفان نے فرانس اور سارے یورپ میں غیرمعمولی اتحاد پیدا کر دیا۔ اخبار لی میدی لبری نے بیان کِیا:‏ ”‏بعض‌اوقات دوستی یا ضمیر کی بِنا پر دوسروں کی فلاح‌وبہبود کے لئے بے‌ساختہ کام کرنا ہم پر فرض ہو جاتا ہے۔“‏

طوفان کے فوراً بعد، مقامی کلیسیا کے ارکان اور دیگر متاثرہ لوگوں کی مدد کرنے کے لئے یہوواہ کے گواہوں کی امدادی کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ عام طور پر کنگڈم‌ہال کی تعمیر کرنے کیلئے استعمال ہونے والی ریجنل بلڈنگ کمیٹیز نے رضاکاروں کی ٹیمیں منظم کیں۔ نومبر میں جنوب‌مغربی علاقے میں آنے والے طوفان کے بعد، ۳،۰۰۰ گواہوں نے امدادی اور صفائی کے کام میں حصہ لیا اور گھروں کے اندر سے کیچڑ اور پانی نکالنے میں متاثرین کی مدد کی۔ بعض دیہاتوں میں گواہ رضاکار سب سے پہلے پہنچے۔ گواہوں نے سکول، ڈاکخانے، ٹاؤن ہالز، دارالمعمران جیسی سرکاری عمارتوں کے علاوہ قبرستان بھی صاف کئے۔ بیشتر صورتوں میں تو انہوں نے رفاعی اِداروں کیساتھ ملکر کام کِیا۔‏

مذہبی اعتقادات سے قطع‌نظر سب کی مدد کی گئی۔ ”‏ہم نے گاؤں کے پادری کی مدد کی۔ ہم نے اس کے گھر کے تہہ‌خانے کو صاف کِیا،“‏ ایک گواہ نے بیان کِیا۔ گواہوں سے مدد حاصل کرنے والے دیگر اشخاص کے متعلق اس نے مزید کہا:‏ ”‏لوگوں نے ایسے محسوس کِیا جیسے ہم آسمان سے ان کی مدد کرنے کیلئے آئے ہیں۔“‏ ایک افسر نے کہا:‏ ”‏یہ بات عیاں تھی کہ وہ پیغامِ‌انجیل سے تحریک پاکر اپنے پڑوسیوں کی مدد کر رہے تھے۔ میرے خیال میں مدد کرنے کیلئے آنے والے اِن لوگوں نے انجیل اور اپنے مذہب کو جلا بخشی تھی۔“‏ ایک گواہ رضاکار نے تبصرہ کِیا:‏ ”‏آپ کا دل آپ کو اس طرح مدد کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ اپنے پڑوسیوں کیلئے کچھ کرنے کے قابل ہونا حقیقی خوشی بخشتا ہے۔“‏

دسمبر میں آنے والے دوسرے طوفان کے بعد، درجنوں گواہ خاندانوں کا کئی دنوں تک اپنے مسیحی بھائیوں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ سفری نگہبانوں اور مقامی بزرگوں کی نگرانی میں امدادی کام منظم کِیا گیا۔ بند سڑکوں اور ناکارہ فون لائنوں نے چند کلومیٹر کے فاصلے پر رہنے والے دوستوں تک پہنچنا بھی مشکل بنا دیا تھا۔ جن لوگوں کا کلیسیا سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا اُنکی مدد کرنے کیلئے، بعض گواہوں نے درختوں کے گِرنے کے حقیقی خطرے کے باوجود، تباہ‌شُدہ جنگلات پیدل یا سائیکل پر پار کئے۔ ایک مرتبہ پھر، رضاکاروں نے سکولوں، لائبریریوں، کیمپ لگانے کی جگہوں اور پڑوسیوں کے گھروں کی صفائی کرنے اور جنگلاتی راستے سے رکاوٹوں کو دُور کرنے کیلئے سخت محنت کی۔‏

‏”‏محبت کی پناہ“‏

ان تباہ‌کاریوں سے متاثر ہونے والے بہتیرے اشخاص، بالخصوص بچوں اور عمررسیدہ اشخاص کو اس سے بہت زیادہ صدمہ اور نقصان پہنچا۔ اپنے گھروں یا عزیزوں کو کھونے والوں کو اپنی زندگیاں دوبارہ معمول پر لانے کیلئے کافی وقت، خاندان اور دوستوں کی طرف سے حوصلہ‌افزائی کی ضرورت ہوگی۔ اوڈ کے خطے میں سیلاب آنے کے بعد، ایک نفسیاتی طبّی ایمرجنسی کمیٹی کے ایک ڈاکٹر گبرئیل کوٹین نے بیان کِیا:‏ ”‏متاثرین کی مذہبی جماعت کے لوگوں کی طرف سے کسی بھی طرح کی مدد کافی حد تک مفید ثابت ہوتی ہے۔“‏

یہوواہ کے گواہ ایسی امداد فراہم کرنے کو ایک اخلاقی اور صحیفائی فریضہ سمجھتے ہیں۔ پولس رسول نے بیان کِیا:‏ ”‏بدن [‏حقیقی مسیحی برادری]‏ میں تفرقہ نہ پڑے۔ بلکہ اعضا ایک دوسرے کی برابر فکر رکھیں۔ پس اگر ایک عضو دُکھ پاتا ہے تو سب اعضا اُسکے ساتھ دُکھ پاتے ہیں۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۲:‏۲۵، ۲۶‏۔‏

‏”‏طوفان کے چند گھنٹوں بعد، بہتیرے مسیحی بہن‌بھائی ہمارے گھر کی صفائی کرنے کیلئے پہنچ گئے،“‏ متذکرہ‌بالا ایلین بیان کرتی ہے، جو اس وقت ایک صحتمند بچی کی ماں ہے۔ ”‏طوفان سے متاثرہ گواہ بھی ہماری مدد کو آئے۔ وہ مدد کتنی شاندار—‏بے‌ساختہ اور دل سے تھی!‏“‏

اوڈت نے، جس کا گھر طوفان سے تباہ ہو گیا تھا ساتھی گواہوں کی بابت کہا:‏ ”‏انہوں نے مجھے بڑی تسلی دی۔ آپ اپنے احساسات کا اظہار نہیں کر سکتے۔ جو کچھ میرے لئے کِیا گیا مَیں اس سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔“‏ قدردانی سے معمور ایک اَور گواہ کا یہ بیان دیگر بہتیرے لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے:‏ ”‏ہم واقعی محبت کی پناہ میں ہیں!‏“‏

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

La Marine Nationale, France ©

‏[‏صفحہ ۱۵ پر تصویر]‏

یہاں سے کوازہاک ڈوڈ کی طرح سینکڑوں اشخاص کو ہیلی‌کاپٹر کے ذریعے بچا لیا گیا

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

‏.B.I.M

‏[‏صفحہ ۱۵ پر تصویر]‏

تباہ‌شُدہ تاکستان کے وسط میں، ایک ٹیڑھی ریلوے لائین اب کہیں نہیں جاتی

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

‏.B.I.M

‏[‏صفحہ ۱۵ پر تصویر]‏

سینکڑوں تباہ‌شُدہ کاریں اِدھراُدھر بکھری ہوئی دکھائی دے رہی ہیں

‏[‏صفحہ ۱۶ پر تصویر]‏

ویلڈن میں یہ آدمی سات گھنٹے تک پھنسا رہا

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

J.-M Colombier

‏[‏صفحہ ۱۶، ۱۷ پر تصویر]‏

ضلع کروز میں صنوبر کے یہ درخت دیاسلائی کی طرح ٹوٹ گئے

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Chareyton/La Montagne/MAXPPP ©

‏[‏صفحہ ۱۶، ۱۷ پر تصویر]‏

صرف پیلس آف ورسائی کے باغات میں، ۱۰،۰۰۰ درخت گِر گئے

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Charles Platiau/Reuters/MAXPPP ©

‏[‏صفحہ ۱۷ پر تصویر]‏

سینٹ پائیر-‏سور-‏ڈائیوِز، نارمنڈے میں طوفان کے بعد کی صبح کا منظر

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

M. Daniau/AFP ©

‏[‏صفحہ ۱۸ پر تصویریں]‏

یہوواہ کے گواہوں کی ٹیمیں لا ریڈورٹ میں ایک دارالمعمران (‏اُوپر)‏ اور رساک ڈوڈ کے ٹاؤن ہال (‏بائیں)‏ کو صاف کر رہی ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں