یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو93 8/‏1
  • رحم ہمارا حیرت‌انگیز پہلا گھر

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • رحم ہمارا حیرت‌انگیز پہلا گھر
  • جاگو!‏—‏1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک پرتپاک خوش‌آمدید آپکی منتظر ہے
  • رد کئے جانے سے نپٹنا
  • غذا پہنچانا اور پرورش کرنا جاری رہتا ہے
  • اپنے گھر کو خیرباد کہنا
  • مَیں اپنے نازائیدہ بچے سے محروم ہو گئی
    جاگو!‏—‏2002ء
  • سیکھنا رحم ہی میں شروع ہوتا ہے
    جاگو!‏—‏1992ء
  • انسانی زندگی کا آغاز کب ہوتا ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2009ء
جاگو!‏—‏1993ء
جاگو93 8/‏1

رحم ہمارا حیرت‌انگیز پہلا گھر

آپکا پہلا گھر، کیا ہی شاندار جگہ! گرم اور آرام‌دہ۔ بہترین غذائیت سے مالا مال اور بے‌خطر اور محفوظ ۔‏

پھلتے پھولتے اور بڑھتے ہوئے، آپ نے وہاں مہینوں گذارے۔ تاہم، جلد ہی، ایسا لگتا تھا کہ آپ کا گھر تنگ ہوتا جا رہا تھا، یہاں تک کہ ایک دن آیا جب آپ بمشکل حرکت کر سکتے تھے۔ غالباً اس وقت آپ سر کے بل کھڑے تھے! تب اچانک ، آپ نے محسوس کیا کہ زورآور طاقتیں آپکو بھینچ رہی ہیں، اور آپ اپنے گھر کے دروازے سے بڑے زور سے نکل کر اس باہر کی دنیا کی ٹھنڈی، پرشور چمک دمک میں آ جاتے ہیں۔‏

آپکو تو شاید ایسا کوئی واقعہ یاد نہیں؟ بیشک نہیں۔ لیکن آپ کی زندگی اس شاندار جگہ کی مرہون‌منت ہے جس میں آپکو رکھا گیا تھا آپ کی ماں کا رحم۔ اسے آپکو ذہن میں رکھ کر کامل طریقے سے تیار کیا گیا تھا، وہ تمام غذا اور تحفظ مہیا کرتے ہوئے جس کی ایک نشوونما پانے والے بچے کو ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا کیوں نہ پیچھے کی طرف سفر کرتے ہوئے آپکے اس حیرت انگیز پہلے گھر رحم کا دورہ کریں؟‏

ایک پرتپاک خوش‌آمدید آپکی منتظر ہے

آپکی زندگی غالباً اس عمدہ گھر کی طرف سفر کے دوران شروع ہوئی۔ آپ کی ماں سے ایک تیار بیضہ، سرنگ نما فیلوپین ٹیوب تک آیا۔ اسی اثنا میں، باپ کے مادہَ تولید سے لاکھوں نطفے اسی راستے پر اس بیضہ سے ملنے کو تیار کھڑے تھے۔ ایک نطفہ اس بیضہ کی تخم‌ریزی کرنے میں کامیاب ہو گیا اور یوں آپ وجود میں آئے۔‏

اس وقت تک آپکی آمد کی تیاریاں پہلے ہی سے ہو رہی تھیں۔ رحم یا یوٹرس (‏لاطینی میں یوتر، ”‏تھیلی“‏ کیلئے)‏ کی دیواریں خود کو تیار کر رہی تھیں، اور یہ جگہ تمام‌تر طاقت‌بخش غذا سے بھرپور تھی۔ رحم کا استر، اسفنج نما تہہ کیساتھ ، اپنے معمول کے سائز سے دوگنا موٹا ہو گیا تھا۔‏

تین یا چار دن کے بعد، آپ نے اپنے گھر کی دہلیز پار کر لی۔ آپ کو پن کے سائز کے چند درجن خلیوں کا گچھا جسے بلا‌سٹوسسٹ کہا جاتا ہے شاید پھیلے ہوئے غار کی طرح لگے۔ تاہم، اندر کی جگہ کافی چھوٹی ہے۔ درحقیقت، رحم ایک کھوکھلا عضو ہے۔ ہموار گلابی رنگ کا، سائز اور ساخت میں تقریباً اوندھی ناشپاتی جیسا۔‏

یہ اگلے ۲۷۰ یا اس سے زائد دنوں کیلئے آپکا گھر ہوگا، اور آپکی ماں، اپنے جسم کی پرواہ کئے بغیر، آپکی پیدایش کے وقت تک وہ تمام غذائی اجزاء جنکی آپکو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کیلئے ضرورت ہے اپنے جسم سے فراہم کریگی۔ کئی ہفتوں کے گزر جانے کے بعد آپ کی ماں کو آپ کے وجود کا احساس ہوگا، اور اس کے تین سے چار مہینوں بعد اس کا پیٹ اتنا باہر نکل آئیگا کہ دوسرے بھی اس کی طرف متوجہ ہونگے۔‏

یوٹرین کیویٹی میں قلابازیوں کے بعد، آپ مزید تین دن تک تیرتے رہے۔ اور آخر کار یوٹرس میں داخل ہونے کے بعد ساتویں دن آپ نے خود کو یوٹرین وال سے پیوستہ کر لیا۔ بلا‌سٹوسسٹ کے انزائمز نے اس نرم تہہ کی سطح کے خلیوں کو جنہیں انڈومیٹریم کہا جاتا ہے ہضم کر لیا، اور آپ ان مخملی گہرائیوں میں غرق ہو کر بحفاظت آباد ہو گئے۔ اگر ایک بیضہ تخم‌ریزی کے ذریعے اس استر میں بویا نہ جاتا تو رحم آخرکار اسے بہا کر آپکی ماں کے اندر سے ماہواری حیض کی صورت میں خارج کر دیتا۔‏

رد کئے جانے سے نپٹنا

شاندار عمل یہ یقین کرنے کے لئے اپنا کام کر رہے تھے کہ آپکا قیام خوشگوار ہو۔ ایک بات تو یہ ہے کہ آپ کو اپنی ماں کے نظام‌تحفظ سے بچاؤ کی ضرورت ہے۔ سائنسدان ابھی تک اس الجھن میں گرفتار ہیں کہ آپکی ماں کے جسم نے کیوں آپکو بیرونی مداخلت کرنیوالا سمجھ کر آپ پر حملہ نہیں کیا۔ طبعی طور پر، رد کرنے والا پیچیدہ نظام کسی حملہ آور کی آمد کے اشارے پر ہی حرکت میں آ جاتا ہے۔ تاہم، آپ بطور بہت بڑے تناسب کی حامل اجنبی چیز کے بڑھتے رہتے ہیں، جس کا وزن کئی پاؤنڈ ہے۔ آپ پر حملہ کیوں نہ کیا گیا؟‏

یونیورسٹی آف برسٹل کے تحقیق‌دان ڈیوڈ بلنگٹن نے وضاحت کی:‏ ”‏ماں اور بچے کے درمیان لازماً ایک دیوار ہے۔ اور یہ دیوار ماں اور بچے کے درمیان کسی بھی آمدورفت کو خوب اچھی طرح سے روکتی ہے۔ وہ ٹشو کی ایک تہہ کا حوالہ دے رہا تھا جسے ٹروفوبلا‌سٹ کہا جاتا ہے اور جو بچے کے گرد لپٹی ہوتی ہے۔ یہ حدبندی آپکے اور آپکی ماں کے درمیان کسی بھی براہ‌راست تعلق کو روکتی ہے۔ اسی لئے ماں کے حفاظتی نظام کا ٹروفوبلا‌سٹ کو بطور اجنبی چیز کے چیلنج نہ کرنا ایک بھید ہے۔ اس سوال کا جواب ہمیں شاید یہ بھی بتا دے کہ کیوں کئی حمل انجام‌کار اسقاط ہو جاتے ہیں۔ صفحہ ۲۴ کے بکس کو دیکھیں۔‏

غذا پہنچانا اور پرورش کرنا جاری رہتا ہے

خصوصاً ان ابتدائی مراحل میں غذا کے لئے اپنی کبھی نہ ختم ہونے والی بھوک پر غور کریں۔ آپکی زندگی کے پہلے آٹھ ہفتوں میں، آپ لمبائی میں ۲۴۰ گنا بڑھ گئے اور آپکا وزن حمل کے وقت سے بڑھ کر کئی لاکھ گنا زیادہ ہو گیا۔ آخرکار پیدایش کے وقت یہ وزن اس سے ۴.‏۲ بلین گنا زیادہ ہوگا، آپکے حیرت‌انگیز گھر کے ساتھ جو غبارے کی طرح پھول رہا ہے تاکہ آپ کے لئے جگہ بنا ئے۔ تب یہ رحم غیرحمل‌شدہ رحم کے مقابلے میں تقریباً ۱۶ گنا زیادہ وزنی ہو جاتا ہے، لیکن وضع‌حمل کے چند ہی ہفتوں بعد، یہ سکڑ کر تقریباً اپنے اصلی سائز پر آ جاتا ہے۔ پہلے تین ماہ میں تمام اعضا اور اعصابی نظام کے ساتھ آپ کے جسم کا بنیادی ڈھانچہ بنتا ہے، جو مزید نشوونما کے مراحل طے کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔‏

اوائلی مراحل میں پانی کی تھیلی بن گئی۔ اس نے اگلے تین ماہ کے لئے آپکو قلابازیاں کھانے اور اچھلنے کودنے کیلئے گدےدار، مناسب حرارت والا کھیل کا کمرہ مہیا کیا۔ آپ ایسے پٹھوں کو مضبوط کر رہے تھے جن کی آپ کو اس پانی کی تھیلی کے باہر ضروررت پڑے گی۔ آپ نے منہ بھربھر کے اس سیال کو نگلا، شاید اپنی نشوونما کیلئے۔ ہر دو سے تین گھنٹے کے بعد، اس سیال کو آپکے لئے تبدیل کیا گیا تھا۔‏

بلا‌سٹوسسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹشو کی ایک انتہائی پیچیدہ تہہ بڑھنے لگی جسے پلاسنٹا کہتے ہیں۔ آئیے ان چند خدمات پر غور کریں جو اس نے آپکے لئے سرانجام دیں۔‏

آپ کے اور آپ کے ماں کے درمیان آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تبادلہ کرتے ہوئے اس نے بطور پھیپھڑے کے کام کیا۔ بطور جگر کام کرتے ہوئے اس نے آپکی ماں کے خون کے خلیوں کو کام میں لا کر ضروری اجزا، جیسے کہ فولاد وغیرہ آپکے استعمال کے لئے کھینچ نکالے۔ گردے کے طور پر اس کے کام نے یوریا کو آپکے خون سے فلٹر کرکے گردوں کے ذریعے خارج ہونے کے لئے آپکی ماں کی خون کی نالی میں سے گذار دیا۔ آنتوں کی طرح، پلاسنٹا خوراک کے سالموں کو ہضم کرتا ہے۔ یہ تمام کام ۵۵ سینٹی میٹر لمبی آنول کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔‏

پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ آنول (‏پلاسنٹا)‏ ایک ناقابل‌تسخیر حفاظتی نظام تھا، اور یہ کسی نقصان‌دہ چیز کو ماں سے بچے میں منتقل نہیں ہونے دے گا۔ لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اب ہم یہ جان گئے ہیں کہ متعدد امراض اس حفاظتی نظام کو توڑ کر داخل ہو جاتے ہیں، جیسے کہ غیرمعروف دوا تھالیڈومائیڈ کے اجزا۔ جرمن میزلز جیسے وبائی امراض بھی دوران حمل بعض مراحل پر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔‏

دماغ میں خون کی وہ حدبندی جو بالغوں میں موجود ہوتی ہے وہ ابھی تک نشوونما پانے والے نازائیدہ بچے کے دماغ میں قائم نہیں ہوئی، جو اسے خصوصاً سگریٹ کے دھوئیں، الکحل، منشیات اور دوسرے کیمیائی زہر جیسے حملہ آوروں کی زد میں غیرمحفوظ چھوڑ دیتی ہے۔ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ الکحل نازائیدہ بچے پر مضر اثرات ڈالتی ہے۔ کیا کیفین، جو پلاسنٹا سے ہو کر گزرتی ہے، بچے کی نشوونما پر اثرانداز ہوتی ہے؟ کیا وٹامن کی مقدار میں اضافے سے پرورش پانے والے بچے کو کسی طرح کا فائدہ پہنچتا ہے؟ ان سوالات کے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے۔‏

پس کسی بھی بچے کے حفاظتی نظام کی ابتدا ماں کی اپنی حفاظت سے ہونی چاہیے، کہ وہ ایسی تمام چیزوں سے پرہیز کرے جو بچے کیلئے نقصان‌دہ سمجھی جاتی ہیں۔ مثبت‌انداز سے درحقیقت ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق متوازن غذا اور ورزش ایک مدت تک بچے کی مجموعی صحت اور فلاح‌وبہبود کو ترقی دینے میں مدد کا باعث ہو سکتی ہے۔‏

اپنے گھر کو خیرباد کہنا

تیسری سہ ماہی کے آخیر میں، آپکی روانگی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ یوٹرین وال کے مضبوط پٹھوں نے بے‌قاعدہ طور پر سکٹرنے اور پھیلنے کی ورزش شروع کر دی جسے بعض اوقات مصنوعی دردیں کہا جاتا ہے۔ یوٹرس زیادہ نرم اور لچکدار ہو گیا۔‏

یہ کہنے کی بجائے کہ ”‏بچہ نیچے آگیا“‏ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ بمع بچے کے یوٹرس نیچے آ گیا۔ یہ ایسا ہی ہے کیونکہ یہ ایک سلنڈر کی طرح کھڑا ہو کر تھوڑا اور نیچے آ جاتا ہے یوں بچے کا سر اب پیڑو کے اندرونی حصے میں آ جاتا ہے۔‏

کوئی نہیں جانتا کہ کس چیز نے فیصلہ کیا کہ اب آپکے باہر نکلنے کا وقت ہے۔ ہو سکتا ہے یہ آپکے یعنی بچے کے، یا آپکی ماں کے ہارمون ہوں، جنہوں نے رحم کو اشارہ دیا ہو۔ پیغام:‏ ”‏دردزہ شروع!“‏

‏”‏دردزہ“‏ تین مراحل پر مشتمل اس عمل کو خوب بیان کرتا ہے جسکی ابتدا یوٹرس سے ہوئی۔ پہلے یوٹرس کے پٹھوں کی دیواریں سکڑیں جبکہ سروکس اور اندام نہانی آپکے نیچے آنے کی تیاری میں پھیل گئیں۔ پانی کی تھیلی غالباً اس موقع پر پھٹ گئی۔‏

دوسرا، ماں کا کام اس وقت واقعی شروع ہو گیا جب ماں نے بچے کے سر کو نیچے سروکس اور اندام نہانی کی طرف دھکیلنا شروع کیا۔ سکڑنے کا عمل جاری رہا، اور شدیدتر اور تیزتر ہوتا گیا۔ جب تک کہ آپ کا سر آخرکار پیدایش کی جگہ سے گزر نہ گیا۔ اس کے پیچھے پیچھے آپ کا باقی حصہ باآسانی باہر آ گیا۔ ”‏دردزہ“‏ کے آخری مرحلے میں، آپ کی پیدایش کے بعد، آپ کی ماں نے پلاسنٹا اور نال کا باقی حصہ بھی باہر خارج کر دیا۔‏

پس آپ حیران، یخ ، اور روتے ہوئے بیشک اپنے گذشتہ نو ماہ کے مسافرپرور گھر سے اخراج پر ماتم کرتے ہوئے وارد ہو گئے۔ لیکن آپ کس قدر خوش ہو سکتے ہیں کہ آپ کے پاس زندگی کا تحفہ ہے اور آپ اپنے شفیق خالق کی فکرمندی کی قدر کر سکتے ہیں جس نے اس بات کا خیال رکھا کہ آپ کو ابتدا ہی سے ایک اچھا گھر میسر ہو! (‏۱۳ ۴/۸ g۹۲)‏

‏[‏بکس]‏

اسقاط حمل المناک بے‌دخلی

حادثہ ایک انتہائی محتاط ماں کو بھی پیش آ سکتا ہے۔ اسقاط حمل کی وجوہات حیران‌کن ہیں اور مباحثے پرجوش ہیں۔ تحقیق‌دان کامیابی سے بارور ہونے کے بعد بیضوں کے خودبخود ضائع ہو جانے کے فیصد کی بابت متفق نہیں ہیں۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس کی عام عورتوں کی آبادی میں حمل کی بابت اندازے ۱۰ سے ۲۰ فیصد تک یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔‏

کیوں کبھی کبھار رحم جبراً اپنے اندر نئی زندگی کی باحفاظت پرورش کرنے کی بجائے اسے بے‌دخل کر دیتا ہے؟ ممکن ہے ماں کا حفاظتی نظام گردوپیش کے ٹروفوبلا‌سٹ کے خلاف مدافعانہ ردعمل میں، اسکی حفاظتی دیوار پر حملہ آور ہو کر اسقاط حمل کا سبب بنتا ہو۔ بعض شاید نام‌نہاد پیدایشی حادثات کے باعث، جس میں نامکمل بچہ کو اس قدر نقصان پہنچتا ہے کہ وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ یا پیدایش کے عمل۔ میں کسی خلاف‌معمول فعل کی وجہ سے بھی ایسا ہو سکتا ہے جس میں ایک بیضہ قبل‌ازوقت یوٹرس میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ اسکا استر اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا یا اسقدر دیر سے کہ رحم کا استر پہلے ہی اترنا شروع ہو چکا ہو۔ ممکن ہے کہ ماں کے یوٹرس میں کچھ خرابی اسے بچہ پیدا کرنے کے ناقابل بناتی ہو۔‏

برطانیہ میں تقریباً ۲۰۰ عورتوں کے ایک مطالعے (‏۱۹۹۰)‏ نے خیال ظاہر کیا کہ بانجھ پن اور اسقاط حمل کا تعلق ہارمونز کے غیرمتوازن ہونے سے ہو سکتا ہے۔ ایل‌ایچ (‏لیوٹینائزنگ ہارمون)‏ کی پچوٹری گلینڈ میں بننے والی مجموعی پیداوار، عموماً ماہواری کے تقریباً چودھویں دن بڑھ جاتی ہے اور تیار بیضے کو بیضہ‌دانی میں سے نکال باہر کرنے کا باعث بنتی ہے تاکہ وہ ممکنہ حمل کیلئے فیلوپین ٹیوب کی جانب اپنا سفر شروع کر دے۔ دی نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی ”‏برطانوی ٹیم نے جو کچھ معلوم کیا وہ نامناسب وقت پر ایل ایچ (‏لیوٹینائزنگ ہارمون)‏ کی بڑی تعداد تھی جو ماہواری کے آٹھویں دن اوویولیشن سے پہلے ہے۔“‏ ان معلومات کی تصدیق اور توضیع کیلئے مزید ٹیسٹوں کی ضرورت ہے۔‏

‏[‏تصویریں]‏

تین ماہ کا کچا بچہ

چھ ماہ کا کچا بچہ

نو ماہ کا کچا بچہ

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں