سیکھنا رحم ہی میں شروع ہوتا ہے
ارسطو کی نظر میں پیدایش کے وقت بچے کا ذہن ایک ٹیبولا ریسا، ایک کوری سلیٹ تھا۔ اس کے کوئی دو ہزار سال بعد، بہتیرے اسے اس سے زیادہ کچھ خیال نہیں کرتے تھے۔ پنسلوانیہ کی یونیورسٹی کے ایک میڈیکل پروفیسر نے ۱۸۹۵ میں یہ لکھا: ”اپنی پیدایش کے فوراً بعد بچہ کسی ترکاری سے کچھ ہی زیادہ ذہین ہوتا ہے۔“ لوک کہانی اس سے متفق نہ ہوئی اور یہ دعویٰ کیا کہ ایک نازائیدہ رحم ہی میں سیکھتا ہے اور اس سے باہر کے واقعات سے باخبر ہوتا ہے۔ اب سائنس یہ کہتی ہے کہ ارسطو اور پروفیسر دونوں ہی غلط ہیں اور یہ کہ لوک کہانی کے معتقد درست ہیں۔
دماغ کی ابتدا بڑی مختصر سی ہوتی ہے، لیکن اپنے اختتام تک یہ کسقدر پرشکوہ ہوتا ہے! ایک پتلی تہہ کے طور پر جو کہ نیورل پلیٹ کہلاتی ہے اس کی نشوونما حمل کے تیسرے ہفتے دوران شروع ہوتی ہے۔ علمالاعصاب کا ماہر رچرڈ ایم۔ ریسٹاک ہمیں بتاتا ہے کہ حمل کے آخر تک یہ کیا بن جاتا ہے: ”لیکن اس غیراہم آغاز سے معلومشدہ کائنات کا سب سے شاندار عضو وجود میں آئیگا۔“ یہ عمل شاید کوئی ۱۲۵،۰۰۰ خلیوں کیساتھ شروع ہوتا ہے اور ایک منٹ میں ۲۵۰،۰۰۰ کی شرح سے بڑھتا ہے۔ ریسٹک مزید کہتا ہے: ”بالآخر وہ کوئی سینکڑوں بلین نیوران کی تعداد میں بڑھ جائیگا جو کہ دماغ کی تمامتر کارکردگی کی بنیاد ہیں۔“
جوں جوں دماغ بڑھتا ہے، اس کے نیورانز کے درمیان جوڑ لگتے جاتے ہیں۔ آٹھویں ہفتے تک ، یہ جوڑ ، جو کہ سائنپسس کہلاتے ہیں، بڑھتے رہتے ہیں اور جلد ہی لاکھوں کی تعداد کو پہنچ جاتے ہیں جبکہ یہ۔ نازائیدہ دماغ کی بیشمار کارکردگی اپنے ذمہ لے لیتے ہیں۔ عالمی طور پر تائید حاصل کرنے والی کتاب اے چائلڈ از بورن کے مطابق یہ بھی اسی وقت پر حمل کے دوسرے ماہ کے اختتام پر ہوتا ہے کہ ”پوری طور پر نشوونما پائے ہوئے انسان میں جو کچھ بھی ہونا ہوگا وہ . . . پہلے سے مقررشدہ ہوتا ہے،“ اس کے جسم کے تمام اعضا اپنی جگہوں پر موجود ہوتے ہیں، اور اب وہ آگے کو جنین نہیں ہوتا۔ نازائیدہ کے نشوونما پانے اور ہر طرح سے مکمل ہونے کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ پھر بھی اسقاط کرنے والے ہمیں یہ بتانے کی جرأت کرتے ہیں کہ یہ زندہ نہیں۔
نازائیدہ کی ابتدائی حرکات ساڑھے سات ہفتوں میں شروع ہو جاتی ہیں۔ ۱۳ ہفتوں تک چکھنے کی حس کا نظام کام کرنے لگتا ہے، اور اس کے بعد اگر بچے کی پانی کی تھیلی میں چینی ملا دی جائے تو نگلنے کی شرح دوگنی ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر نوزائیدہ کونین کو چکھتا ہے تو وہ بڑی تیزی سے نگلنا بند کر دیتا ہے اور اپنی ناپسندیدگی کے اظہار میں منہ بگاڑنے لگتا ہے۔ ۱۵ اور ۱۶ ہفتے تک ، سانس لینے، ہچکی لینے، چوسنے، نگلنے، جمائی لینے، آنکھوں کو حرکت دینے کا عمل اور اس کے بعد کے ہفتوں میں آرایایم نیند یہ سب کام واقع ہوتے ہیں۔ ریسٹک کہتا ہے کہ ”ایک محدود حد تک ، رحم کے اندر نازائیدہ کے سننے، دیکھنے، چکھنے، سونگھنے، اور محسوس کرنے کا کام شروع ہو جاتا ہے۔“ لیکن یہ پھر بھی ایک زندہ مخلوق نہیں، اسقاط حمل کرنے والے ہمیں یقین دہانی کراتے ہیں۔
نوزائیدہ ان تمام چیزوں کو یاد رکھنا ہے جن کا تجربہ اسے رحم میں ہوتا ہے مثال کے طور پر اس کی ماں کے دل کی دھڑکن۔ وہ اسی آواز کو سن کر سوتا اور اسی پر جاگتا، اسی کے ساتھ آرام کرتا، اسی کی متناسب دھڑکن کے ساتھ حرکت کرتا تھا۔ یہ اس کا مستقل ساتھی تھی، جو اسے تحفظ اور سکون کا احساس بخشتی تھی۔ تحقیق دانوں نے ایک بچہ وارڈ میں اس کی تسکین بخش قوت کو ثابت کیا ہے۔ وہ بچے جن کو انسانی دل کی دھڑکن سنائی گئی وہ کم روتے تھے اور ان سے بہتر پھلتے پھولتے تھے جو اس سے قاصر تھے۔ دلچسپی کی بات ہے کہ ”رحم کے اندر کی اور دیگر دوسری آوازیں (شور مچانے والے شیرخواروں کو) صرف اسی وقت سکون بخشتی ہیں جب وہ ان درجوں کی مطابقت میں ہوتی ہیں جو ماں کے رحم میں ہوتے ہیں۔“
نازائیدہ بچے کا ذہن نہ صرف رحم کے اندر کی کارکردگی ہی میں ملوث ہوتا ہے بلکہ یہ باہر ہونے والی چیزوں پر بھی غور کرتا اور انہیں یاد رکھتا ہے۔ ڈاکٹر تھامس ورنی کہتا ہے ”وائیوالڈی ابھی تک نازائیدہ بچوں کا پسندیدہ نغمہگر ہے، اور موزراٹ ایک دوسرا ہے۔ جب بھی ان کی خوبصورت نظم کو ریکارڈ پلیئر پر بجایا جاتا تھا تو ڈاکٹر کلیمنٹس رپورٹ پیش کرتا ہے کہ نازائیدہ بچے کے دل کی شرح غیرمتغیر طور پر یکساں رفتار ہو جاتی تھی اور اچھل کود تھم جاتی تھی۔ . . . اس کے برعکس، تمام طرح کے راک گیت نازائیدہ بچوں کی اکثریت کو گھبرا دیتے ہیں۔“
ڈاکٹر انتھونی ڈیکیسپر، نارتھ کیرولائنا کی ایک یونیورسٹی کے ایک ماہر نفسیات نے، ایک ایسی غیرغذائی چسنی بنائی جو کہ ایک بچے کے چوسنے کی شرح اور دباؤ کی نگہداشت کرتی ہے۔ اس کے چوسنے کے عمل کو بدلنے سے، ایک بچہ ان ریکارڈ شدہ آوازوں کو منتخب کرنا سیکھ جاتا ہے جنہیں وہ سننا پسند کرتا ہے مثال کے طور پر بعض آوازیں اور کہانیاں۔ صرف ایک یا دو گھنٹے کا نوزائیدہ بچہ اس قابل تھا کہ اپنے باپ کی آواز کو پہچان سکے، جو کہ اس وقت اس سے مختصر نرم الفاظ میں باتیں کرتا تھا جبکہ ابھی وہ ماں کے رحم میں ہی تھا۔ بچے نے نہ صرف اس آواز کو سننے کا انتخاب ہی کیا بلکہ اس نے اس کے لئے جذباتی ردعمل بھی دکھایا اور خود کو محفوظ محسوس کرتے ہوئے رونا بند کر دیا۔ اسی طرح سے، وہ اپنی ماں کی آواز اور اس کیساتھ ساتھ اسکے دل کی دھڑکن سننے کا بھی انتخاب کریگا، یعنی ان دونوں آوازوں کا جن کا وہ رحم کے اندر بھی عادی ہو گیا تھا۔
ایک دوسرے تجربے میں، ڈیکیسپر نے ۱۶ حاملہ عورتوں کو بچوں کی ایک کہانی بعنوان دی کیٹ ان دی ہیٹ کو باآواز بلند پڑھتے کیلئے کہا۔ انہوں نے اپنے حمل کے آخری ساڑھے چھے ہفتوں کے دوران ہر روز دو بار اسے پڑھا۔ بچوں کی پیدایش کے تھوڑے عرصہ بعد، انہیں آلے والی چوسنی پر لگا دیا گیا، اور دونوں کہانیوں دی کیٹ ان دی ہیٹ اور دی کنگ دی مائس اینڈ دی چیز کی ریکارڈنگ ان کے سامنے بجائی گئی۔ اپنے چوسنے کے عمل سے، ہر حالت میں بچوں نے دی کیٹ ان دی ہیٹ کو سننے کیلئے منتخب کیا، وہی کہانی جو انہوں نے رحم کے اندر بھی سنی تھی۔ انہوں نے دی کنگ ، دی مائس انیڈ دی چیز کی بجائے جسے انہوں نے رحم میں نہیں سنا تھا، اسی کا انتخاب کیا۔ ہر عمر کے بچے یہی کرتے ہیں، ہر بار نئی کہانی سننے کی بجائے، وہ ہمیشہ اپنی پسند کی کہانی کو بار بار سننا پسند کرتے ہیں۔
ڈیکیسپر نے یہ نتیجہ اخذ کیا: ”ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پیدایش کے بعد کے صوتی اثرات پیدایش سے پہلے جو کچھ سنا ہوتا ہے اس سے متاثر ہوتے ہیں۔“ ڈاکٹر ریسٹک ، جس نے ان تحقیقات پر رپورٹ دی، یوں کہتا ہے: ”بچہ رحم میں سیکھتا ہے، اپنی ماں کی آواز کو پہچانتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پڑھتے نے کے مخصوص لہجے اور جس کتاب سے وہ پڑھ رہی ہوتی ہے اسے بھی پہچانتا ہے۔“ اس کا فیصلہ: ”باالفاظ دیگر، نازائیدہ بچے، رحم ہی میں صوتی اور ادراکی تعلیموتربیت کے قابل ہوتے ہیں پیشتر اس کے کہ انہیں درحقیقت اس کی ضرورت ہو یا ان سے اسے استعمال کرنے کی توقع کی جا ئے۔“
بچے نے رحم ہی میں کافی کچھ سیکھ لیا ہوتا ہے۔ وہ سیکھنے کے لئے بالکل تیار ہوتا ہے۔ مذکورہبالا سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رحم ہی میں دماغ تعجبخیز ہوتا ہے۔ وہاں پر ہی، وہ نیورانز کی پوری تعداد حاصل کر لیتا ہے۔ علمالاعصاب کے ماہرین کے مطابق ”پیدایش کے وقت، ایک نوزائیدہ دماغ میں نیورانز کا اتنا بڑا جال بچھا ہوا ہوتا ہے جو کہ شاید ہی کبھی بعد میں ہو۔“ رحم میں اپنے آغاز سے لیکر یہ نئی زندگی آٹھ ماہ تک ان کروڑوں نیورانز کو بنانے اور ان کے درمیان کروڑوں جوڑوں کو ترتیب دینے میں بڑی مصروف رہی ہے، اور یوں چلنے پھرنے، سانس لینے، چوسنے، نگلنے، چکھنے، پیشاب کرنے، سننے، دیکھنے، سیکھنے، اور یاد رکھنے کو ممکن بناتی رہی ہے۔ کوئی ذیشعور شخص کیونکر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ مخلوق زندہ نہیں ہے؟
بہتیرے سائنسدان اور لاکھوں دوسرے منطقی طور پر یہ یقین رکھتے ہیں کہ رحم میں حمل قرار پانے کے وقت ہی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ اپنی کتاب دی مائنڈ میں، ڈاکٹر ریسٹک کہتے ہیں: ”ہماری زندگیوں کی اصلی ابتدا اور نازک واقعہ دراصل حمل قرار پانے کا لمحہ ہی ہے۔ اس وقت سے عمر کا حساب لگانے سے چینی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بچہ اپنی پیدایش کے وقت ایک سال کی عمر کا سمجھا جاتا ہے۔“
آجکل، بہتیرے یہ یقین رکھنا پسند کرتے ہیں کہ بچوں کو ان کی پیدایش سے پہلے ایک زندگی، ایک شخص، خیال نہیں کرنا چاہیے، لیکن خدا کا کلام اس سے متفق نہیں۔ اگر بچے کا جان بوجھ کر اسقاط کیا جاتا ہے تو اس کیلئے خدا کی شرع یہ ہے: ”جان کے بدلے جان۔“ خروج ۲۱:۲۲، ۲۳ میں اس پر یوں زور دیا گیا ہے: ”اگر لوگ آپس میں مارپیٹ کریں اور کسی حاملہ کو ایسی چوٹ پہنچائیں کہ اسے اسقاط ہو جائے پر اور کوئی نقصان نہ ہو تو اس سے جتنا جرمانہ اسکا شوہر تجویز کرے لیا جائے اور وہ جس طرح قاضی فیصلہ کریں جرمانہ بھر دے۔ لیکن اگر نقصان ہو جائے تو تو جان کے بدلے جان لے [یا، ”زندگی کے بدلے زندگی“ کنگ جیمز ورشن]۔“
جبکہ بچہ ابھی رحم ہی میں ہے، یہوواہ اسے ایک زندہ شخص کیطور پر خیال کرتا ہے۔ اسکا ایسا ہونا رحم کے اندر “کی اسکی تمام کارکردگی سے بالکل واضح ہے۔ سائنس بھی اب یہ جانتی ہے کہ اسکے تمام بدنی اعضا موجود ہوتے ہیں اور دوسرے مہینے کے آخر تک کام کرنا شروع کر دیتے ہیں، یعنی یہ محسوس کر رہا ہے، سیکھ رہا ہے، اور یاد رکھ رہا ہے۔ تو پھر یقیناً نوزائیدہ کا ذہن ایک ”کوری سلیٹ“ نہیں جیساکہ ارسطو نے کہا تھا، اور نہ ہی جیساکہ ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا تھا کہ بچہ ”ایک ترکاری سے زیادہ نہیں جانتا۔“ اسکے پاس وہ تمام نیوران ہیں جو کہ اس میں ہونے تھے، اور وہ اب اپنے اردگرد کے تمام نئے نظاروں اور آوازوں اور احساسات کا اندراج کرنے کیلئے بالکل تیار ہے۔ وہ کام کیلئے تیار ہے! یا کیا یہ ہے؟
ماں اپنے رحم میں موجود بچے کی بہتری کیلئے بہت کچھ کر سکتی ہے، یا پھر اسکو بہت نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسکی سوچ اس پر اچھا یا برا اثر ڈال سکتی ہے۔ ایسا تو نہیں کہ نازائیدہ بچہ ماں کی طرح سوچنے لگ جائیگا، لیکن جس چیز پر وہ سوچتی رہتی ہے وہ جذبات کو جنم دیتی ہے، اور نازائیدہ بچہ ان جذباتی حالتوں سے اثرپذیر ہوتا ہے جنکو یہ خیالات جنم دیتے ہیں، چاہے وہ تحفظ ، تسکین، اور سکون ہو یا پریشانی، خوف، اور غصہ ہو۔ سب سے بدتر تو یہ ہے کہ متعدی بیماریاں بھی آنول کے ذریعے ماں سے نازائیدہ بچے کو لگ سکتی ہیں۔ جنسی طور پر لگنے والی بیماریاں، یہاں تک کہ ایڈز بھی منتقل ہو سکتی ہے۔ مائیں جو حمل کے دوران تمباکو، میروآنا، الکحل، مارفین، کوکین، ہیروین، اور دوسری منشیات استعمال کرتی ہیں شاید وہ ایسے بچوں کو جنم دیں جو منشیات کے عادی، کندذہن، ضرررسیدہ دماغ، نقص والے جسموں، کیساتھ ہوں، جو کہ ضربوں، دوروں، اور دیگر ہولناک نتائج کے تحت ہوں۔
رحم میں بچہ باہر کی دنیا سے اسقدر ناآشنا نہیں ہوتا جتنا کہ کبھی سمجھا جاتا تھا۔ رحم ہی میں، اسکی پرورش یا تو پرمحبت طور پر کی جا سکتی ہے یا پھر وہ ظالمانہ طور پر انتقامی کارروائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ جب وہ ایک بار رحم کو چھوڑ کر باہر آتا ہے تو اس کیساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہیے؟ اسکا سیکھنا رحم کے اندر ہی شروع ہو گیا تھا، لیکن اسکا تجربہ اس وقت کیا ہوگا جب وہ اس دنیا میں وارد ہوتا ہے؟ امید ہے کہ شادیشدہ شفیق والدین ان تجربات کو خوشگوار بنائینگے۔ (14 2/22 g92)
[عبارت]
”معلومشدہ کائنات کا نہایت ہی شاندار عضو“
[عبارت]
آٹھ ہفتے، اور اس کے تمام حصے اپنی اپنی جگہ پر
[عبارت]
کوئی ذی شعور شخص کیونکر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ مخلوق زندہ نہیں ہے؟
[عبارت]
آٹھ ہفتوں میں، لمبائی چار سینٹیمیٹر اور اس کے تمام جسمانی اعضا اپنی اپنی جگہ پر
[تصویر]
بہتیرے سائنسدان یہ یقین رکھتے ہیں کہ زندگی حمل قرار پانے کے وقت شروع ہوتی ہے