نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . .
مجھے کیوں سکول میں محنت سے پڑھنا چاہیے؟
”جو کچھ ہم سکول میں سیکھتے ہیں اس میں سے بیشتر محض نظریہ ہے۔ اس کی کوئی عملی افادیت تو ہے نہیں۔“
”ہوم ورک سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ میں کھیلوں اور دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے جیسی چیزوں کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔“
”میں جانتا ہوں کہ میں نے کلوقتی خدمت کرنی ہے تو پھر سکول میں سخت محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟“
جب نوجوان سکول اور ہوم ورک کی بابت بات کرتے ہیں تو اکثر وہ اس قسم کے تبصرے کرتے ہیں۔ شاید آپ کے بھی ایسے ہی تاثرات ہوں۔
یہ سچ ہے کہ اگر نوجوانوں کو تعلیم اور تفریح میں انتخاب کرنے کو کہا جائے تو زیادہتر نوجوان تفریح ہی کا انتحاب کریں گے۔ کچھ کی تو شاید یہ خواہش ہو کہ کاش انہیں پڑھنا ہی نہ پڑتا۔ وہ تعلیم کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ اس سے ان کی زندگیوں میں کتنا فرق پڑے گا۔ دوسری طرف، شاید آپ ایسے نوجوان ہوں جو سکول میں کامیاب تو ہونا چاہتا ہے لیکن جس کا سکول کے کام کے لئے جوشوجذبہ کم ہے۔ آپ شاید یہ دلیل دیں کہ ”میں مطالعہ کرنے والے طالبعلموں جیسا نہیں ہوں۔“
آپ کے احساسات، دلچسپیاں، اور قابلیتیں، خواہ کچھ بھی ہوں، آپ سکول میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ کو ایسا کرنے کی تحریک پانی چاہئے۔ اور اس کے آئندہ کے فوائد کا جائزہ لیتے ہوئے اگر آپ محنت سے پڑھتے ہیں تو یہ شاید آپکے محرک کو حقیقی فروغ بخشے۔
دماغی ورزش
جو کچھ آپ سکول میں پڑھتے ہیں اس میں سے زیادہتر شاید آپ کو اپنی زندگی سے متعلق نہ لگے۔ جب تک کہ آپ ایک سائنسدان بننے کے پیشے کا منصوبہ نہیں بنا لیتے تو علمطبیعات کے وہ اصول جو آپ کے استاد آپکو یاد کرنے کو دیتے ہیں شاید آپکے مستقبل کیلئے ان کا استعمال کم ہی دکھائی دے۔ اس کے علاوہ، بطور ایک بالغ کے شاید آپکو روزمرہ زندگی میں فعلوں کی گردان یا (متساویالساقین) کے زاویوں کا شمار کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ آپ پوچھتے ہیں ”تو پھر یہ سب پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟“
ایک بات یہ ہے، سکول آپ کو مختلف مضامین کی بابت عام علم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جیسے کہ تاریخ، ادب، سائنس، جغرافیہ، اور ریاضی۔ علم کی یہ وسیع بنیاد آپ کو اردگرد کی دنیا کے بارے میں فہم سے مالامال کر دیگی اور ایسی بنیاد فراہم کریگی جس میں مزید مخصوص معلومات کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ امثال ۱۴:۶ کہتی ہے: ”صاحبفہم کو علم آسانی سے حاصل ہوتا ہے۔“
رابرٹ بوسکے اپنی کتاب سیوئیرایٹیوڈیئر (مطالعے کرنے کے طریقے کو جاننا) میں مزید بیان کرتے ہیں کہ سیکھنے کیلئے ذہن کی صلاحیت کو ”بتدریج دریافت کرکے کام میں لانا چاہیے۔“ وہ مزید اضافہ کرتا ہے: ”اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ ایک ماہر کھلاڑی لمبی مدت تک مشق کرنے کے بعد بہترین نتائج حاصل کر سکتا ہے جسکے دوران وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ کسطرح اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال کرے۔ . . . مطالعہ کرنے کے بارے میں جاننا بھی ایسا ہی ہے: کم سے کم وقت اور کوشش کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرکے بہترین نتائج حاصل کرنا۔“
لہذا ہومورک کو دماغی مشق بھی کہا جا سکتا ہے۔ ”دماغ . . . ایک وسیع باہم مربوط بچھا ہوا جال ہے،“ کتاب ہاؤ ٹو سٹڈی کہتی ہے ”اور جتنا زیادہ یہ پیچیدہ اور آپس میں بندھا ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ مستعدی سے کام کرتا ہے۔“ گھر کیلئے تفویضکردہ سکول کا کام پوری توجہ سے کرنے، دلائل پیش کرنے، سبق یاد کرنے، کسی مسئلے کا تجزیہ کرنے، اور منطقی نتائج نکالنے کی آپکی صلاحیتوں کو تیز کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
جذباتی اور روحانی نشوونما
سکول میں گذرنے والے سال آپکی جذباتی اور روحانی نشوونما کے ایام بھی ہوتے ہیں۔ آپ ایسی عادتوں اور رویوں کی نشوونما کر رہے ہوتے ہیں جو بڑی حد تک اس بات کا تعین کرینگے کہ آپ کس قسم کے بالغ بنیں گے۔ کیا آپ ایسے محنتی، فرضشناس، ضبط نفس رکھنے والے اور لائق شخص بنیں گے جسے کوئی آجر ملازم رکھنا پسند کریگا؟ ابھی سے پڑھنے اور کام کرنے کی اچھی عادات کی تربیت پانا عمر بھر کیلئے فائدہمند ہوگا۔ (مقابلہ کریں امثال ۲۲:۶۔) دوسری چیزوں کیساتھ ساتھ ، ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ آپکے معاشی حالات اور ملازمت کے بہتر امکانات پر گہرا اثر ڈالے۔ متعدد تجارتی اداروں میں کسی امیدوار کی علمی کامیابیوں کے ریکارڈ کو مستقبل میں اس کے کام کرنے کی اہلیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
آپکی مطالعہ کرنے کی عادات آپکی روحانی نشوونما پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ یسوع مسیح نے سکھایا کہ ایک شخص کو خدا کی پرستش اپنی ”پوری عقل“ سے کرنی چاہیے۔ (مرقس ۱۲:۳۰) اس کے معنی ہیں کہ خدا کے خادموں کو، خواہ جوان ہوں یا بوڑھے، اپنے ذہنوں کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس علم کو حاصل کریں جو یہوواہ ان کے لئے مہیا کرتا ہے اور یہ جانیں کہ کسطرح اس کا اطلاق اپنی زندگیوں پر کیا جائے۔ یوحنا ۱۷:۳، ۱-تیمتھیس ۴:۷۔
فرانس سے ایک نوجوان عورت سلوے تبصرہ کرتی ہے: ”میں اپنی عمر کے دوسرے نوجوانوں میں بھی یہ بات دیکھتی ہوں۔ مطالعہ کرنے کی وہ عادات جو انہیں سکول میں تھیں وہ آگے چل کر روحانی معاملات میں انکے مطالعہ کی عادات بن گئیں۔ وہ جنہوں نے سکول میں مطالعہ کو پسند کرنا نہیں سیکھا وہ ذاتی بائبل مطالعے میں بھی اتنی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔“ امثال ۱۰:۴ کہتی ہے: ”جو ڈھیلے ہاتھ سے کام کرتا ہے کنگال ہو جاتا ہے لیکن محنتی کا ہاتھ دولتمند بنا دیتا ہے۔“ یہ روحانی مفہوم میں سلوے کیلئے سچ ثابت ہوا۔ اسکی مطالعہ کرنے کی اچھی عادات نے اس کیلئے بائبل کی گہری سمجھ حاصل کرنا آسان بنا دیا۔ اس نے اسکو بطور کلوقتی مبشر اسکے پیشے کیلئے تیار کیا۔ مقابلہ کریں زبور ۱:۲، ۳۔
مطالعہ کرنا سیکھیں
لیکن کیا ہو اگر آپ محنت کرنے کی طرف مائل نہیں ہیں؟ یاد رکھیں کہ ایک اچھے اور ایک نکمے طالبعلم کے مابین اولین فرق محنت ہی کا ہے ذہانت کا نہیں۔ ”مجھ میں کئی دوسرے طالبعلموں کی طرح فطری قابلیت نہیں تھی،“ سلوے تسلیم کرتی ہے۔ ”سکول میں عمدہ کارکردگی کی خاطر، مجھے فقط تسلیبخش گریڈ حاصل کرنے کے لئے واقعی سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔“ اگرچہ پڑھائی اس کے لئے آسان نہ تھی، پھر بھی سلوے نے تندہی سے کوشش کی، اس نے نہ صرف پڑھنا بلکہ پڑھائی سے لطفاندوز ہونا بھی سیکھا۔ ”کیونکہ یہ ایک عادت بن گئی تھی،“ وہ کہتی ہے، ”اب پڑھنا یا کسی مضمون پر ریسرچ کرنا کوئی خاص بڑا کام نہیں تھا۔ میں نے اسے فطری طور پر کرنا سیکھ لیا تھا۔“
ہیری میڈوکس اپنی کتاب ہاؤ ٹو سٹڈی میں کہتے ہیں: ”محض لیاقت کا ہونا کافی نہیں ہے۔ بہتیرے انتہائی ذہین طالبعلم فیل ہو جاتے ہیں . . . کیونکہ وہ بہت کم محنت کرتے ہیں، یا پھر انہوں نے مؤثر طریقے سے پڑھنا کبھی سیکھا ہی نہیں ہوتا۔“ وہ مزید کہتے ہیں: ”مطالعے کے مؤثر طریقے سیکھنا نہ صرف آپکے فوری مطالعاتی مقاصد کیلئے کارآمد ہیں، بلکہ اس لئے بھی کہ کام کرنے کی عادات عمر بھر آپکے ساتھ رہیں گی۔“
عموماً لوگ وہ کام کرنا چاہتے ہیں جنہیں وہ بخوبی انجام دیتے ہیں اور جو کام وہ خراب طریقے سے کرتے ہیں ان سے اجتناب برتنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ شاید آپ سکول کے کام کو ناپسند کرتے ہیں، تو پھر، یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ نے پڑھنے کے ہنر کی پوری طرح سے نشوونما نہیں کی تاکہ آپکے کام کو پرلطف بنائے۔ اگر ایسا ہے تو کیوں نہ یہ سیکھنے پر پوری توجہ دیں کہ مطالعہ کیسے کیا جائے؟ کوسچنز ینگ پیپل آسک آنسرز دیٹ ورک نامی کتاب کے باب ۱۸ میں مفید معلومات درج ہیں۔ a
اپنے سکول کے بعد کے سالوں پر نظر کریں
بہتیرے طالبعلم اپنی تعلیم سے محض اس لئے غفلت برتتے ہیں کہ وہ غالباً کچھ اور کر رہے ہوتے ہیں جیسے کہ تفریح میں مشغول ہونا۔ لیکن امثال ۲۱:۱۷ خبردار کرتی ہے: ”جو [تفریح، NW] کا مشتاق ہے مالدار نہ ہوگا۔“ تفریح اور آرام کا اپنا ایک مقام ہے۔ (واعظ ۳:۱، ۴) تاہم، جب تک آپ سکول میں ہیں، پڑھائی آپکی اولیتوں میں سے ایک ہونی چاہیے۔ جو نتائج آپ حاصل کرتے ہیں وہ بڑی حد تک اس کا تعین کریں گے کہ آپ کتنی کوشش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ”ہر طرح کی محنت میں نفع ہے،“ امثال ۱۴:۲۳ کہتی ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر کلاس اور سکول کی جو بھی تفویضات آپ کو ملتی ہیں آپ لازماً انہیں پسند کرینگے۔ لیکن آپ اپنی تعلیم کو ایک مقصد حاصل کرنے کے مثبت ذریعے کے طور پر دیکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں یعنی ایسا علم اور ہنر حاصل کرنا جو آپ کی مدد کریگا کہ ایک مفید اور پھلدار زندگی بسر کریں۔ سچ ہے کہ ہر ملک کے معاشی حالات اور تعلیمی ضروریات دوسرے ملک سے بہت مختلف ہیں۔ پھر بھی، بہت سے نوجوان لوگ انتہائی بنیادی تعلیمی مہارت حاصل کئے بغیر ہی سکول چھوڑ دیتے ہیں، وہ خود کو زیادہتر ملازمتوں کیلئے غیرموزوں اور نااہل پاتے ہیں۔ اور کیوں؟ اس لئے کہ اسکول میں رہتے ہوئے انہوں نے محنت نہیں کی تھی۔
اس پھندے میں نہ پھنسیں! سکول کے بعد کے سالوں پر نظر رکھیں اور سکول چھوڑنے کے بعد خود اپنی کفالت کرنے کیلئے منصوبہسازی کریں۔ ممکن ہے ایک دن آپ کو خاندان کی کفالت کی ذمہداری اٹھانی پڑے۔ (۱-تیمتھیس ۵:۸، مقابلہ کریں امثال ۲۴:۲۷۔) یہوواہ کے گواہوں کے درمیان بہت سے نوجوانوں کی طرح، شاید آپ بھی بطور کلوقتی مبشر کے پیشے کے لئے منصوبہسازی کر رہے ہوں۔ تب بھی آپکو اپنی اور شاید خاندان کی بھی کفالت کرنی پڑے۔ پس آگے کا سوچیں۔ فارغالتحصیل ہونے سے بہت پہلے، جس جگہ آپ رہتے ہیں وہاں کا جائزہ لینے کی کوشش کریں کہ وہاں کس قسم کی جزوقتی ملازمتیں دستیاب ہیں۔ اپنے سکول کے کام میں محنت کرنا آپکو ضروری مہارتوں میں ترقی دیکر ملازمتوں کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
مستقبل کیلئے آپکے منصوبے خواہ کچھ بھی ہوں، عقلمندی اسی میں ہے کہ سکول میں محنت سے پڑھیں۔ نہیں، یہ ضروری نہیں کہ آپ جماعت میں اول درجہ حاصل کریں۔ لیکن آپ سیکھنے سے محبت کرنا تو سیکھ سکتے ہیں۔ تاہم اس سے بھی بڑھکر یہ ہے کہ آپ علم، ہنرمندی، اور ایسی عادات کی نشوونما کر سکتے ہیں جو عمر بھر آپ کیلئے فائدہمند ہونگی۔ (۱۷ ۴/۸ g۹۲)
[فٹنوٹ]
a شائع کردہ واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک ، انکارپوریٹڈ۔
[تصویر]
سیکھنے کی وہ مہارتیں جنکو آپ سکول میں رہ کر ترقی دیتے ہیں وہ آپ کیلئے تاحیات کارآمد ہونگی