یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو93 8/‏1
  • آرتھرائٹس کے ساتھ گزر کرنا سیکھنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آرتھرائٹس کے ساتھ گزر کرنا سیکھنا
  • جاگو!‏—‏1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اگر آپ اس کا شکار ہیں
  • درد کیساتھ نپٹنا
  • ‏”‏استعمال کریں یا گنوا دیں!“‏
  • علاج نظر آتا ہے؟‏
  • جسطرح دوسرے مدد کر سکتے ہیں
  • ایک پرامید نظریے کو فروغ دیں
  • جوڑوں کا درد—‏معذور کر دینے والا مرض
    جاگو!‏—‏2001ء
  • جوڑوں کے درد میں مبتلا مریضوں کیلئے امید
    جاگو!‏—‏2001ء
  • جوڑوں کے درد کو سمجھنا
    جاگو!‏—‏2001ء
  • اِس شمارے میں
    جاگو!‏—‏2001ء
مزید
جاگو!‏—‏1993ء
جاگو93 8/‏1

آرتھرائٹس کے ساتھ گزر کرنا سیکھنا

برطانیہ میں اویک ! کے نمائندہ کی طرف سے

۷۲ سالہ ڈیوڈ، مشکل سے چلتا پھرتا ہے۔ بدنما کہنیاں اور کلائیاں ایک ایسی بیماری کے نقصان‌دہ اثرات کی عکاسی کرتی ہیں جو کہ بوڑھوں میں بہت عام ہے۔‏

۶۰ کے دہے کے اپنے آخری حصہ میں پیگی، بڑی مشکل کیساتھ چلتی ہے۔ وہ بھی اس میں مبتلا ہے، جیسا کہ اس کے بدشکل ہاتھ ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، وہ گھر کا تھوڑا بہت کام کرنے کے قابل ہوتی ہے اور کروشیا بننے سے لطف اٹھاتی ہے۔‏

آئزہ، جو کہ ۳۷ سال سے اپنی ویل چیئر میں محدود رہی تھی، اپنے لئے بمشکل ہی کچھ کر سکتی تھی۔ تاہم، دوسروں پر فوری اثر کرنے والی اس کی مسکراہٹ نمایاں قوت‌برداشت کی غمازی کرتی تھی۔‏

ڈیوڈ، پیگی، اور آئزہ ان چھ ملئن انگریزوں میں سے تین ہیں جو آرتھرائٹس [‏جوڑوں کا ورم اور درد]‏ کا شکار رہے ہیں۔ لندن کے دی ٹائمز کے مطابق، یہ بیماری ہر سال ”‏۸۸ ملین کام کے دنوں کے نقصان کا سبب بنتی ہے .‏ .‏ .‏ ، ہڑتالوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے کہیں زیادہ۔“‏ برطانیہ میں ”‏معذوری کی واحد سب سے بڑی وجہ“‏ آرتھرائٹس ہے۔‏

آپ جہاں کہیں بھی رہتے ہوں، آرتھرائٹس حملہ آور ہو سکتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی خطہ اس سے محفوظ نہیں۔ اس بیماری کی بابت میڈیکل ڈاکٹر ورنون کال مین لکھتا ہے:‏ ”‏چند بیماریاں ہیں جو اتنے زیادہ لوگوں پر اثرانداز ہوتی ہیں .‏ .‏ .‏ چند ہیں جو اس قدر درد اور معذوری کا باعث ہوتی ہیں، اور چند ہیں جو اتنی زیادہ فرضی داستانوں اور غلط فہمیوں کا موضوع بنتی ہیں۔“‏ صفحہ ۲۷ کے بکس کو دیکھیں۔‏

یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ڈیوڈ کی طرح کے بہتیرے آرتھرائٹس کے شکار، زندگی کو بڑا مایوس‌کن پاتے ہیں۔ اس کے دوسری جانب، پیگی، آئزہ، اور دیگر کئی اپنی معذوریوں کے ساتھ ، رجائیت‌پسندی سے زندہ رہنا سیکھ جاتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ کی بابت کیا ہے؟ اگر آپ آرتھرائٹس کا شکار ہیں، یا آپ سوچتے ہیں کہ آپ ہیں تو آپ کونسے اقدام اٹھائیں گے جو کہ آپ کو اس بیماری کیساتھ کامیابی سے نپٹنے میں مدد دے سکتے ہیں؟‏

اگر آپ اس کا شکار ہیں

سب سے پہلے تو یہ کہ جلدی تشخیص کروائیں۔ ”‏اس پر بہت زیادہ زور نہیں دیا جاسکتا،“‏ دی آرتھرائٹس بک کہتی ہے کہ، ”‏شروع ہی میں تشخیص بعد کے درد اور معذوری کو کم سے کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔“‏ جی‌ہاں، آرتھرائٹس کا علاج بلا‌شبہ ”‏وقت کیساتھ ایک جنگ ہے۔“‏ ڈاکٹر کال مین اتفاق کرتے ہیں:‏ ”‏اگر .‏ .‏ .‏ علاج جلد اور مستعدی کے ساتھ شروع کر دیا جاتا ہے تو علاج کا امکان بہت بہتر ہوتا ہے۔“‏

پس تاخیر نہ کریں۔ اپنی صحت کے مسئلے کی بابت تفصیلات معلوم کریں۔ پھر، اگر یہ آرتھرائٹس ہے تو بلا‌تاخیر علاج شروع کرنے کا بندوبست بنائیں۔‏

درد کیساتھ نپٹنا

آرتھرائٹس کے مریضوں کیلئے درد کو کم کرنا اشد ضروری ہے۔ پھر بھی، آسٹیوآرتھرائٹس کے بعض مریضوں کی بابت چند ڈاکٹر یہ مشورہ دیتے ہیں:‏ ”‏درد کو برداشت کرتے رہیں۔“‏ کیوں؟ کیونکہ درد کو ختم کرنے والی ادویات جسم کے خطرے سے آگاہ کرنے والے قدرتی عمل کو ختم کر دیتی ہیں۔ ان آگاہیوں کو نظرانداز کرنا شاید جوڑوں کے ناقابل‌تلافی نقصان کا باعث ہو۔‏

درد کو ختم کرنے والی ادویات کے ضمنی اثرات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ دی لانسٹ نے آگاہ کیا کہ [‏ہسپتال]‏ میں خون بہتے ہوئے پپٹک السر کے ساتھ داخل ہونے کا خطرہ .‏ .‏ .‏ بالخصوص نان اسپرین نان سٹیروڈل اینٹی انفلیمیڑی ڈرگز لینے والوں میں بہت زیادہ تھا۔“‏ لہذا، بہتیرے کم سے کم ادویات کا استعمال کرتے ہیں۔ بعض ایسی چیزوں پر توجہ دینے کو درد سے آرام کا باعث پاتے ہیں جو ان کی دلچسپی کی حامل ہیں۔ نرسنگ مرر بیان کرتا ہے:‏ ”‏توجہ کو ہٹا کر اور کسی درد سے غیرمتعلقہ چیز پر جماتے ہوئے انتشارخیال کو بطور ایک حسیاتی ڈھال کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔“‏

یہ کہنے سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ درد کو ختم کرنے والی کسی بھی چیز سے گریز کرنا دانشمندانہ ہے۔ بعض مریضوں میں درد کو کم کرنے میں ناکامی شاید درد والے جوڑوں کے استعمال کی بے‌حوصلگی کرتے ہوئے، انجام کار اکڑاؤ، ناکارہ ہونے، اور بالآخر جوڑ کی کارکردگی کو ختم کرنے کا باعث ہو سکتا ہے۔ نان اسپرین نان سٹیروڈل اینٹی انفلیمیڑی ڈرگز اور اسپرین درد سے آرام کے لئے بڑے وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔ یہ ورم اور سوجن کو کم کرنے کیلئے بھی تجویز کی جاتی ہیں۔ یہ دونوں ہی بہتیرے آرتھرائٹس کے مریضوں اور ان کے معالجوں کی نظر میں موثر ہیں۔‏

تاہم، ممکنہ خطرات کے پیش‌نظر، کسی بھی علاج کو شروع کرنے سے پہلے جہاں تک ممکن ہو اس کی بابت معلومات حاصل کریں۔ معلوم کریں کہ اس میں کیا خطرات ہیں۔ اپنے ڈاکٹر سے اس کی بابت گفتگو کریں۔‏

اگرچہ شدید سردی اور نمی آرتھرائٹس کا سبب نہیں بنتیں، لیکن مریضوں نے کسی حد تک موسمی اثرات کو درد پر اثرانداز ہوتے محسوس کیا ہے۔ لہذا، بعض کیلئے، گرم، خشک آب‌وہوا میں چلے جانا درد میں کمی کا باعث ہوا ہے۔ لیکن اگر اس طرح کی تبدیلی ناقابل عمل ہے تو اس کے کچھ نعم‌البدل بھی ہیں۔‏

ڈاکٹر فریڈرک میک ڈوفی، ریومیٹائیڈ آرتھرائٹس پر تحقیق کے ایک لیڈر، یہ بیان کرتے ہیں کہ براہ‌راست ”‏سردی اور گرمی کا استعمال بھی مفید ہو سکتا ہے۔“‏ ایک مطالعہ میں، مریضوں نے ریومیٹائیڈ آرتھرائٹس سے متاثرہ گھٹنوں کے جوڑوں پر ۲۰ منٹ کیلئے آئس پیک استعمال کیا۔ انہوں نے ‎“چار ہفتوں کیلئے دن میں تین بار ایسا کیا، اور انہوں نے درد سے آزاد حرکت اور پٹھوں میں اضافی قوت کا ذکر کیا۔ انہوں نے بہت زیادہ پھرتی دکھائی اور نیند بھر کر سوئے بھی۔ کیوں؟ میک ڈوفی وضاحت کرتے ہیں کہ ”‏سردی درد کی لہروں کی اعصابی منتقلی کو کم کرتی ہے۔“‏

بدقسمتی سے، ایک شخص کے لئے جو چیز فائدہ‌مند ہو سکتی ہے شاید دوسرے کیلئے غیرموثر ثابت ہو۔ آرتھرائٹس کے بہتیرے مریض ہلکی مالش کو مددگار پاتے ہیں۔ آئزہ نے بیان کیا:‏ ”‏جب میرا درد مجھے تنگ کرتا ہے تو میں اپنے شوہر کو اس جگہ کو زور سے مسلنے کے لئے کہتی ہوں۔ یہ تکلیف تو دیتا ہے، لیکن بعض‌اوقات یہ درد سے تسکین بخشتا ہے۔“‏

ہیٹ تھراپی (‏گرمائش سے علاج)‏ کو بھی مفید خیال کیا جاتا ہے۔ بعض ڈاکٹر درد سے چھٹکارے کیلئے گرم پانی کی بوتل یا ایک ہیٹنگ پیڈ کے استعمال کی سفارش کرتے ہیں۔ جوڑوں کے درد کے ماہر ڈاکٹر ایف۔ ڈیوڈلی ہارٹ بیان کرتے ہیں:‏ ”‏گرمی پٹھوں کو نرم کرتی ہے، سختی کو کم کرتی اور درد میں افاقہ کرتی ہے۔“‏

‏”‏استعمال کریں یا گنوا دیں!“‏

‏”‏آپ کے آرتھرائٹس میں مدد کیلئے .‏ .‏ .‏ ایک سب سے ضروری چیز .‏ .‏ .‏ ورزش ہے،“‏ دی آرتھرائٹس ہیلپ بک بیان کرتی ہے۔ آپ کہتے ہیں، ”‏یہ سب تو ٹھیک ہے،“‏ ”‏لیکن یہ بیحد تکلیف‌دہ ہے۔“‏ سچ ہے، مگر توازن کو اپنا نصب‌العین بنائیں۔‏

چلنا، تیرنا، اور سائیکل چلانا عام ورزش کی دلکش اقسام ہیں۔ تاہم، اس کیلئے کہ آپکی ورزش حقیقت میں موثر ہو، آپکو اپنے آرتھرائٹس کی قسم کے مطابق اپنے پروگرام کو ترتیب دینے کی ضرورت ہوگی۔ اس بات کا تعین کرنے کیلئے کہ کونسی حرکت آپ کیلئے بہترین مدد ہوگی اپنے ڈاکٹر یا فیزیوتھراپسٹ سے گفتگو کریں۔‏

جب آپکو ورزش کے اوقات کے دوران درد محسوس ہو تو تھوڑا سا آرام کر لیں۔ اگر آپکے متاثرہ جوڑ سرخ اور سوجے ہوئے ہیں تو اس وقت آپکو ورزش بند کر دینی چاہیے شاید یہ زیادہ زوردار ہو۔ یاد رکھیں، آپکا نصب‌العین قوت کی بجائے تحرک ہے۔ روزانہ کم‌ازکم دو بار جوڑوں کو ممکنہ حد تک پوری طرح سے حرکت دینا مسلسل بلا‌روک ٹوک حرکت میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔‏

علاج نظر آتا ہے؟‏

لیورپول کے ڈیلی پوسٹ نے پیچھے مئی ۲۸، ۱۹۸۰ میں یہ اعلان کیا کہ ”‏آرتھرائٹس کا علاج ”‏بہت قریب“‏ ہے۔“‏ تاہم، اس کے بعد کی رپورٹ نے یہ بیان کیا کہ ”‏اس کے لئے وقت کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔“‏

۱۲ برس گذر جانے کے بعد بھی، تحقیق جاری ہے۔ ریومیٹائیڈ آرتھرائٹس کی بابت، اب ایسی ادویات بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے جو ان ”‏نقص‌دار“‏ جینز کو ہی ختم کر دیں گی جو اس کا باعث سمجھی جاتی ہیں۔ آرتھرائٹس اور جوڑوں کے درد کی کونسل کے پروفیسر ریونڈر میانی یہ امید رکھتے ہیں کہ ”‏پانچ سے ۱۰ سالوں کے اندر“‏ یہ دستیاب ہونگی۔‏

اسی اثنا میں، تکلیف کو ختم کرنے اور حرکت کو بحال کرنے کے لئے، آرتھرائٹس کے بعض مریضوں نے جوڑوں کو تبدیل کروانے کیلئے جراحی کی طرف توجہ دی ہے۔ دوسروں نے یہ پایا ہے کہ مخصوص غذائیں مدد دیتی ہیں۔ آکیوپنکچر، ہومیوپیتھی، اور آسٹیوپیتھی، سب کے پاس اس میدان میں اپنے اپنے چیمپئن ہیں۔‏

موزوں علاج کی بابت آراء بہت مختلف ہیں۔ بعض اقسام پر میڈیکل کے پیشہ‌وروں نے ”‏عطائی“‏ کا لیبل لگایا ہے محض اس وجہ سے کہ ایسے معالجات غیرقدامت‌پسند خیال کئے جاتے ہیں، نہ کہ اس وجہ سے کہ وہ کم اثرپزیر ہیں۔ البتہ، بیشمار نام نہاد قابل‌اعتراض علاج آرتھرائٹس کے مریضوں کو پیش کیے جاتے ہیں۔‏

تاحال، طبی پیشہ اس مفلوج کرنے والی بیماری کا کوئی علاج تلاش نہیں کر سکا ہے۔ لہذا، یہ دانشمندی کی بات ہے کہ کسی مخصوص علاج کا انتخاب کرنے سے پہلے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح سے غور کر لیا جا ئے۔ ایسا کر لینے کے بعد، جو آپ کے لئے بہترین ثابت ہوا ہے اس کے پابند رہیں۔‏

جسطرح دوسرے مدد کر سکتے ہیں

اگر آپ کا کوئی رشتہ‌دار یا دوست آرتھرائٹس کا مریض ہے تو آپ اس شخص کو درپیش کمزوریوں کیساتھ نپٹنے میں مدد دینے کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ کیسے؟‏

تنہا رہنے کے باوجود، پیگی اپنے بچوں کو بہت مددگار پاتی ہے۔ وہ خط اور ٹیلی‌فون کے ذریعے قریبی رابطہ رکھتے ہیں۔ جب کبھی اسکی بیٹیاں جو ملک سے باہر رہتی ہیں، اس کے پاس آتی ہیں تو وہ بڑی خوشی سے گھر کی سجاوٹ اور دیگر کام کرنے میں مدد دیتی ہیں جنہیں وہ اب بہت مشکل پاتی ہے۔ اس کی نوجوان پوتی ہر ہفتے گھر کی صفائی سے متعلق بھاری کام کرنے کیلئے آتی ہے۔‏

ڈیوڈ کی بیوی اب اسکی دیکھ بھال کے سلسلے میں گہری دلچسپی لے رہی ہے۔ علاقے کی ایک نرس سے ہدایات پانے سے، اس نے یہ سیکھ لیا ہے کہ کیسے اسے ذاتی صفائی کے سلسلے میں مدد دے سکتی ہے۔ ڈیوڈ اب زیادہ خوشی محسوس کرتا ہے، اور وہ دونوں ملکر زیادہ کاموں کو انجام دینے کے قابل ہیں۔‏

آئزہ نے اپنی موت سے پہلے کہا:‏ ”‏زیادہ‌تر کام جو دوسرے لوگ میرے لئے کرتے ہیں، میں خود نہیں کر سکتی تھی۔“‏ تو پھر، اسکے شفیق شوہر کی فکرمندی کسقدر قابل‌ستائش ہے، جو اسکو نہلاتا، کپڑے پہناتا، اور یہاں تک کہ اسکے بال بھی بناتا تھا!‏

آرتھرائٹس کے مریض عموماً ہر اس آزادی کی قدر کرتے ہیں جسکی اجازت انکی بیماری ابھی تک دیتی ہے۔ رشتہ‌داروں اور دوستوں کو اسے کم اہم سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر ہارٹ کے مطابق جس چیز کی اشد ضرورت ہے، وہ ”‏عملی ہمدردی اور ہمت‌افزائی ہے۔“‏ تو پھر، مریض کیلئے وہ سب کچھ کریں، جو وہ خود اپنے لئے نہیں کر سکتا۔ مختصر ملاقاتیں، حوصلہ‌افزا الفاظ ، اور گھریلو کام کاج میں مدد اور سودا سلف لا کر دینا عظیم‌ترین قدردانی حاصل کرتے ہیں۔‏

ایک پرامید نظریے کو فروغ دیں

شاید آپ کہیں، ”‏کہ آرتھرائٹس جیسی بیماری کیساتھ ، کہنا کرنے سے آسان ہوتا ہے۔“‏ سچ ہے، لیکن زیادہ‌تر انحصار اس بات پر ہے کہ آپ، آپ کے رشتہ‌دار، اور آپکے دوست مستقبل کی بابت کیا سوچتے ہیں۔‏

پیگی اور آئزہ پر غور کریں۔ آئزہ نے کہا:‏ ”‏میں نے اپنی معذوری کی بابت فکر کرنا چھوڑ دی ہے۔“‏ اس کی بجائے اس نے اور پیگی نے دوسروں کی مدد کرنے کے مواقع کی تلاش کئے۔ پیگی اپنے پڑوسیوں کیساتھ حوصلہ‌افزا ملاقاتیں کرنے میں وقت صرف کرتی ہے۔ آئزہ نے اپنے بچوں اور انکے بچوں کیساتھ ، سارا وقت دوسروں کو ان وعدوں کی بابت بتانے میں حصہ لیا جنکی پیشینگوئی بائبل نے کی ہے۔ جیسے‌کہ آئزہ تھی، پیگی بھی یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک ہے۔‏

جی‌ہاں، پیگی اور آئزہ نے عنقریب پورے ہونے والے اس وعدہ سے کہ ”‏ہمارے ملک کے باشندوں میں سے کوئی پھر کبھی بیمار ہونے کی شکایت نہ کریگا“‏ بڑی تسلی پائی۔ (‏یسعیاہ ۳۳:‏۲۴‏، ٹوڈیز انگلش ورشن)‏ آرتھرائٹس سے متاثرہ کیلئے وہ کس قدر خوشی کا دن ہوگا! (‏۲ ۱۲ ۶/۸ g۹)‏

‏[‏بکس]‏

ریومیٹزم یا آرتھرائٹس؟‏

وقتاً فوقتاً ہم سب کو مسلسل درد اور تکلیف کا تجربہ ہوتا ہے۔ شاید ہم انہیں بطور ”‏رومیٹزم [‏جوڑوں کے درد]‏ کی لہر“‏ کے نظرانداز کر دیتے ہیں۔ طبی طور پر، رومیٹزم کوئی ۲۰۰ یا اس سے بھی زائد درد والی مختلف حالتوں کی ایک عام وضاحت ہے، اگرچہ ان میں سے تقریباً آدھی آرتھرائٹس کی قسم کے تحت آتی ہیں۔ آرتھرائٹس کی چار عام قسمیں:‏

آسٹیوآرتھرائٹس (‏آسٹیوآرتھروسس)‏ خاص طور پر بڑی عمر والے لوگوں میں ہوتا ہے اور اس کی پہچان جوڑ کی کری‌ہڈی کے خراب ہونے، جوڑ کے کناروں پر ہڈی کے بڑھ جانے، اور جوڑ کی سائنویل یا رطوبت پیدا کرنے والی جھلی میں تبدیلی سے ہوتی ہے۔ ”‏جب تک ہم ۶۵ سال کی عمر کو پہنچتے ہیں، ہم میں سے ۸۰ فیصد ایک یا اس سے زیادہ جوڑوں میں آسٹیوآرتھراٹک تبدیلیوں کو محسوس کر سکتے ہیں، ہم میں سے ۲۵ فیصد اس کی بدولت کسی حد تک درد اور معذوری میں مبتلا ہونگے۔“‏ نیو سائنٹسٹ۔‏

ریومیٹائیڈ آرتھرائٹس کی شناخت عام طور پر کئی جوڑوں اور انکی رطوبت پیدا کرنے والی جھلی پر سوجن اور ان کے سوکھنے، یا جوڑ کے اردگرد کی ہڈی اور پٹھوں کے ناکارہ ہونے سے ہوتا ہے۔ بعض‌اوقات، یہ ایک چوٹ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ”‏یہ کسی بھی عمر میں شروع ہو سکتا ہے لیکن یہ عورتوں کی نسبت آدمیوں میں ۳:‏۱ کے تناسب سے زیادہ عام ہوتا ہے۔“‏ نرسنگ مرر۔‏

انیکلوزنگ اسپونڈلائٹس (‏یا اسپائنل آرتھرائٹس)‏ ”‏بنیادی طور پر ریڑھ کی ہڈی پر اثرانداز ہوتا ہے اور کمر کو اکڑا ہوا یا سخت کر دیتا ہے۔ .‏ .‏ .‏ آدمیوں میں زیادہ عام ہوتا ہے۔“‏ ۱۰۱ کوسچنز اینڈ آنسرز اباؤٹ آرتھرائٹس۔‏

گاؤٹ (‏گنٹھیا)‏ یہ آرتھرائٹس کی موروثی قسم ہے جس کی شناخت خون میں یورک ایسڈ (‏ہائپریوریسیمیا)‏ کی زیادتی سے ہوتی ہے جو کہ شدید آرتھرائٹس کے حملوں پر منتج ہوتا ہے جس سے عام طور پر کوئی ایک جوڑ متاثر ہوتا ہے، جس کے بعد درد مکمل طور پر غائب ہو جاتا ہے۔ ”‏مرد عورتوں سے ۲۰ گنا زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔“‏ نرسنگ مرر۔‏

‏[‏بکس]‏

آرتھرائٹس کے لئے غذا؟‏

کتابوں اور اخباروں کی رپورٹوں کے مندرجہ‌ذیل اقتباسات ماہرین کے مابین اختلاف کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسلئے ذاتی تشخیص اور فیصلے ضروری ہیں۔‏

”‏سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کیا نہیں کھاتے۔ .‏ .‏ .‏ مت کھائیں:‏ کسی بھی طرح کا گوشت بشمول گوشت کے شوربے کے، کسی قسم کا پھل، ڈیری فارم کی بنی ہوئی چیزیں .‏ .‏ .‏ ، انڈے کی زردی، سرکہ، یا کوئی بھی دوسرے تیزاب، کالی مرچ .‏ .‏ .‏ کسی بھی قسم کی، گرم مسالے، چاکلیٹ، خشک بھنی ہوئی گریاں، الکحلی مشروبات، بالخصوص انگور کی شراب، غیرنشہ‌آور شربت، .‏.‏.‏ تمام مقویات، متحفظات، کیمیکلز، خاص طور پر مونوسوڈیم گلوٹمیٹ۔“‏ نیو ہوپ فار دی آرتھرائٹک ، ۱۹۷۶۔‏

”‏آرتھرائٹس کی حالت میں سب سے بہترین ممکنہ خوراک ایک ایسی بھرپور غذا ہے جس میں ضروری غذائیت حیاتیات، نشاستہ، روغن، وٹامنز، اور معدنیات شامل ہیں جو باقاعدگی سے، مناسب وقفے سے کھائی جائے۔ کچے پھل، پتوں والی سبزیاں، اور اگر آپ اس سے الرجی نہیں تو پورے اناج کو بھی اس میں شامل کریں۔“‏ آرتھرائٹس ریلیف بیانڈ ڈرگز، ۱۹۸۱۔‏

”‏اصلی الرجی والا آرتھرائٹس بہت کم ہے لیکن یہ کبھی کبھار گندم کے آٹے (‏گلوٹن)‏ یا دودھ کی مصنوعات (‏پنیر)‏ یا دیگر اشیا سے اثرپزیری کے باعث ہو جاتا ہے۔ شک کی حالت میں شاید خوراک کی بابت ایک ڈائری رکھنا مناسب ہو تاکہ یہ نوٹ کیا جا سکے کہ آرتھرائٹس کے نمودار ہونے اور زیادہ خراب ہونے کی صورت میں کیا کھایا گیا تھا۔“‏ ۱۰۱ کوسچنز اینڈ آنسرز اباؤٹ آرتھرائٹس، ۱۹۸۳۔‏

”‏آرتھرائٹس کیلئے خاص غذا۔ اسے بھول جائیں۔ ایسی کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ اسکی کوئی سائنسی شہادت نہیں کہ آرتھرائٹس کسی وٹامن، نمکیات، پروٹین، چکنائی، یا کاربوہائڈریٹ سے ٹھیک ہو سکتا ہے یا مزید بگڑ سکتا ہے۔ اگر مریض یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ وہ یوگرٹ، نامیاتی غذا، سبزی کا جوس، الکلی والی خوراک ، یا تیزابی خوراک ، کو شروع کریگا تو اغلب ہے کہ یہ انہیں نقصان نہیں پہنچائینگے۔“‏ دی آرتھرائٹس بک ، ۱۹۸۴۔‏

”‏ماہرین نے یہ تحقیق کی ہے کہ مچھلی اور بغیر چربی والا گوشت بمع مچھلی کے تیل کے اضافے کے، ریومیٹائیڈ آرتھرائٹس کے باعث جوڑوں میں ہونے والے درد اور اکڑاؤ کو کم کرتا ہے۔“‏ دی سنڈے ٹائمز، لندن، ۱۹۸۵۔‏

ایک معاملے میں ماہرین متفق ہیں:‏ وزن بڑھانے سے گریز کریں جو کہ جوڑوں بالخصوص کولھوں، گھٹنوں، اور ٹخنوں کے مسائل میں اضافہ کرتا ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں