3-9 اگست 2026ء
گیت نمبر 113 امن کو فروغ دیں
دوسروں کے فیصلوں کا احترام کریں
”اگر اُس کی رائے آپ سے فرق ہے تو اُس پر نکتہچینی نہ کریں۔“—روم 14:1۔
غور کریں کہ . . .
ہم اُس وقت اپنے ہمایمانوں کے لیے احترام کیسے دِکھا سکتے ہیں جب وہ کوئی ایسا فیصلہ کرتے ہیں جو شاید ہم اپنے لیے نہ کرتے۔
1-2. کبھی کبھار ہمارے فیصلے ہمارے ہمایمانوں کے فیصلوں سے فرق کیوں ہوتے ہیں؟
کیا کبھی کسی شخص نے آپ کے کسی فیصلے پر نکتہچینی کی؟ یا کیا کبھی آپ نے اپنے کسی ہمایمان کے فیصلے پر نکتہچینی کی؟ بےشک ہم میں سے زیادہتر اِن دونوں سوالوں کے جواب ہی ہاں میں دیں گے۔
2 کبھی کبھار ہمارے فیصلے ہمارے بہن بھائیوں کے فیصلوں سے فرق ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں اِس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں؟ اِس لیے کیونکہ ہم سب ایک دوسرے سے فرق ہیں۔ ہم سبھی مختلف باتوں کے بارے میں ایک دوسرے سے فرق سوچتے ہیں۔ ہماری سوچ پر ہماری ثقافت اور گھر کے ماحول کا اور جو کچھ ہمارے ساتھ زندگی میں ہوا ہے، اُس کا اثر ہوتا ہے۔ مگر بھلے ہی ہماری سوچ ایک دوسرے سے فرق ہو، ہمیں اِس کی وجہ سے کلیسیا کے امن اور اِتحاد کو کمزور نہیں پڑنے دینا چاہیے۔—اِفِس 4:3۔
3. اگر ہم اپنے کسی بھائی یا بہن کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں تو شاید ہم کیا کرنا چاہیں؟
3 اگر ہمارا کوئی ہمایمان ایک ایسا فیصلہ کرتا ہے جس سے ہم متفق نہیں ہوتے تو شاید ہم سوچیں کہ ہمیں اُسے یہ بتانا چاہیے کہ اُس نے غلط فیصلہ لیا ہے اور وہ اپنا فیصلہ بدل لے۔ بےشک ہم اُس سے یہ بات اِس لیے کہنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم اُس سے محبت کرتے ہیں اور اُس کا بھلا چاہتے ہیں۔ (اَمثا 17:17) ہم نہیں چاہتے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ لے جس پر بعد میں اُسے پچھتانا پڑے یا یہوواہ کے ساتھ اُس کی دوستی خراب ہو جائے۔
4-5. ہمیں اُس وقت کیا کرنا چاہیے جب ہمارا کوئی ہمایمان ایسا کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے جو شاید ہم نہ کرتے؟
4 اگر ہمارا کوئی ہمایمان اچھا فیصلہ نہیں لیتا تو کیا ہمیں اُسے اِس کے بارے میں بتانا چاہیے؟ کبھی کبھار ہاں اور کبھی کبھار نہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے جو یہوواہ کے حکموں کے خلاف ہے تو ہمیں محبت کی بِنا پر اُس کی سوچ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (اَمثا 27:5، 6) لیکن ہمیں اُس وقت کیا کرنا چاہیے جب کوئی بہن یا بھائی ایسا فیصلہ کرتا ہے جس سے یہوواہ کا کوئی حکم تو نہیں ٹوٹ رہا ہوتا لیکن بس ہم اِس سے متفق نہیں ہوتے؟ اِس سوال کا جواب ہمیں اِس مضمون کی مرکزی آیت میں ملتا ہے جس میں ہم سے کہا گیا ہے کہ اگر ہمارے کسی ہمایمان کی رائے ہم سے فرق ہوتی ہے تو ہمیں اُس پر نکتہچینی نہیں کرنی چاہیے۔—روم 14:1۔
5 لیکن یہ جاننے کے بعد بھی کبھی کبھار ہمیں دوسروں کے فیصلوں کا احترام کرنا مشکل لگ سکتا ہے۔ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہمیں دوسروں کے فیصلوں کا احترام کیوں کرنا چاہیے اور ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ لیکن آئیے سب سے پہلے کچھ ایسی صورتحال پر غور کرتے ہیں جن میں شاید ہم دوسروں کے فیصلوں پر نکتہچینی کرنے لگیں۔
کن فیصلوں کی وجہ سے شاید ہم دوسروں پر نکتہچینی کرنے لگیں؟
6-7. کچھ ایسی صورتحال کے بارے میں بتائیں جن میں شاید ہم دوسروں کے فیصلوں پر نکتہچینی کرنے لگیں۔
6 جیسے کہ ہم نے پہلے بات کی تھی، ہم جس ماحول میں پلے بڑھے ہوتے ہیں یا ہماری زندگی میں جو کچھ ہوا ہوتا ہے، ہم اُس کی بِنا پر ایک کام کو کرنے کا سوچتے ہیں۔ اور ہمیں لگتا ہے کہ دوسرے بھی ہماری طرح ہی سوچتے ہوں گے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔ اِس سلسلے میں ذرا اِن صورتحال پر غور کریں: پہلی صورتحال: ایک بھائی کی پرورش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی ہے جو یہوواہ کا گواہ نہیں تھا۔ وہ بھائی بچپن سے اپنے ابو کو بہت زیادہ شراب پیتے ہوئے دیکھتا آ رہا تھا۔ اب وہ ایک ایسی دعوت پر گیا ہے جہاں وہ بہن بھائیوں کو شراب پیتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اُسے اُنہیں دیکھ کر بہت مایوسی ہوتی ہے اور وہ اُن سے کہتا ہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، وہ غلط ہے۔ دوسری صورتحال: ایک بہن بہت سنگین بیماری سے لڑ رہی تھی لیکن اب وہ ٹھیک ہو گئی ہے۔ بعد میں اُسے پتہ چلتا ہے کہ ایک اَور بہن کو بھی وہی بیماری ہو گئی ہے جو پہلے اُسے تھی۔ اب وہ اُس بہن کی مدد کرنا چاہتی ہے۔ تو وہ اُس پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ بھی ویسا ہی علاج کرائے جیسا اُس نے کروایا تھا۔ شاید وہ اُسے کچھ خاص طرح کی دوائیاں لینے اور کھانے کھانے کو کہے۔تیسری صورتحال: ایک بھائی پہلے جھوٹے مذہب کا حصہ تھا۔ اب وہ اُس مذہب سے کسی طرح کا تعلق نہیں رکھتا۔ لیکن پھر اُسے پتہ چلتا ہے کہ اُس کا ایک ہمایمان جنازے کے لیے چرچ گیا تھا اور اُسے یہ سُن کر بہت غصہ آتا ہے۔a
7 ذرا کچھ اَور صورتحال پر بھی غور کریں۔ چوتھی صورتحال: زیادہتر لوگوں کی طرح ایک بھائی بھی شروع سے یہ سنتا آ رہا تھا کہ مسیحی آدمیوں کے لیے داڑھی رکھنا مناسب نہیں اور مسیحی عورتوں کو پینٹشرٹ نہیں پہننی چاہیے۔ حالانکہ یہ بھائی تنظیم کی طرف سے ملنے والی نئی ہدایت کو جانتا ہے لیکن وہ پھر بھی دوسروں سے یہ کہتا رہتا ہے کہ یہوواہ کی خدمت کرتے ہوئے مسیحی آدمیوں کو داڑھی نہیں رکھنی چاہیے اور مسیحی عورتوں کو پینٹشرٹ نہیں پہننی چاہیے۔ پانچویں صورتحال: ایک کلیسیا کے بزرگ نے دیکھا تھا کہ ایک بھائی نے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہوواہ کو چھوڑ دیا تھا۔ اب اُسے پتہ چلتا ہے کہ اُس کی کلیسیا کے ایک نوجوان بھائی نے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کِیا ہے۔ وہ اُس بھائی کے فیصلے کی وجہ سے تھوڑا فکرمند ہے اور یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اُس کو اور اُس کے ماں باپ کو اِس بات پر راضی کر لے کہ وہ اپنا فیصلہ بدل لیں۔
8. (الف)شاید ایک ماں باپ دوسرے ماں باپ پر نکتہچینی کیوں کرنے لگیں؟ (ب)اگر ہم اپنے بہن بھائیوں پر نکتہچینی کرتے ہیں تو اِس کا اثر کلیسیا کے دوسرے بہن بھائیوں پر کیسے پڑ سکتا ہے؟
8 اب ذرا ایک ایسی صورتحال پر غور کریں جس کا سامنا ماں باپ کو ہو سکتا ہے۔ چھٹی صورتحال: ایک ماں باپ کے طور پر آپ اپنے بچوں کی مدد کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ یہوواہ سے محبت کریں اور اُسے خوش کرنے والے کام کریں۔ (اِفِس 6:4) شاید آپ کو لگے کہ دوسرے مسیحی والدین نے اپنے بچوں کو کچھ زیادہ ہی چُھوٹ دے رکھی ہے۔ مثال کے طور پر شاید اُنہوں نے اپنے بچوں کو دیر تک گھر سے باہر رہنے اور بِنا تشدد والی ویڈیو گیمز کھیلنے کی اِجازت دی ہوئی ہے یا پھر اُنہیں چھوٹی عمر میں ہی موبائل فون دِلوا دیا ہے۔ اِس وجہ سے اب آپ کے بچے کو لگ رہا ہے کہ آپ نے اُس پر کچھ زیادہ ہی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں۔ شاید وہ آپ سے شکایت کرے کہ آپ اُس کے دوستوں کے امی ابو کی طرح نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ آپ دوسرے ماں باپ پر نکتہچینی کرنے لگیں۔ بےشک اگر کوئی بھی مسیحی ایسا فیصلہ لیتا ہے جس سے ہم متفق نہیں ہوتے تو شاید ہم غصے میں آ جائیں یا پھر اُس مسیحی پر نکتہچینی کرنے لگیں۔ مثال کے طور پر جس طرح سے وہ مسیحی اپنا پیسہ اِستعمال کرتا ہے یا جتنا زیادہ گھومنے پھرنے جاتا ہے یا جس طرح کی وہ تفریح کرتا ہے، شاید ہم اُس پر اِعتراض کرنے لگیں۔ لیکن ہمیں اپنے احساسات اور اپنی رائے کو اِتنا اہم نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم اپنے بہن بھائیوں پر نکتہچینی کرنے لگیں اور یوں کلیسیا کے اِتحاد کو برباد کر دیں۔
9. ہمیں کیا یاد رکھنا چاہیے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
9 ہو سکتا ہے کہ ایک مسیحی ایک معاملے کے بارے میں ایسا فیصلہ لے جو اُس کے کسی ہمایمان کے فیصلے سے فرق ہو۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اُن میں سے ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔ (روم 14:5) بےشک جب بات یہوواہ کے معیاروں کی آتی ہے تو ہمیں ”ہمخیال“ ہونا چاہیے۔ لیکن اِس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم ہر معاملے کے بارے میں بالکل ایک جیسا سوچیں۔ (2-کُر 13:11) ذاتی معاملوں کے بارے میں فیصلہ کرنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم کسی جگہ پہنچنے کے لیے راستے کا اِنتخاب کرتے ہیں۔ اکثر ایک منزل تک پہنچنے کے فرق فرق راستے ہوتے ہیں۔ ہم اُس راستے کو چُنتے ہیں جو ہمیں پسند ہوتا ہے اور جس کے بارے میں ہمیں لگتا ہے کہ وہاں سے جانا ٹھیک رہے گا۔ اِسی طرح ہم اور ہمارے ہمایمان ذاتی معاملوں کے حوالے سے فرق فرق فیصلے لیتے ہیں لیکن ہماری منزل یا ہمارا مقصد ایک ہی ہے یعنی یہوواہ کو خوش کرنا۔ تو دوسرے اپنے لیے جو بھی فیصلہ لیتے ہیں، ہمیں اُس پر اُنگلی نہیں اُٹھانی چاہیے۔—متی 7:1؛ 1-تھس 4:11۔
جس طرح مسافر اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے فرق راستوں کا اِنتخاب کر سکتے ہیں اُسی طرح یہوواہ کے بندے ذاتی معاملوں کے حوالے سے ایک دوسرے سے فرق فیصلے کر سکتے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 9 کو دیکھیں۔)
ہمیں دوسروں کے فیصلوں کا احترام کیوں کرنا چاہیے؟
10. یعقوب 4:12 کے مطابق ہمیں کیا کرنے کا حق نہیں ہے اور کیوں؟
10 بائبل میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہمیں دوسروں کے فیصلوں پر نکتہچینی کیوں نہیں کرنی چاہیے۔ ذرا اِس کی کچھ وجوہات پر غور کریں۔ ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ ہم دوسروں کو وہ کام کرنے کو کہیں جن کی یہوواہ توقع نہیں کرتا۔ (یعقوب 4:12 کو پڑھیں۔) صرف یہوواہ ہی حکم دینے والا اور اِنصاف کرنے والا ہے۔ صرف اُسی کو یہ بتانے کا حق ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ (روم 14:10) ہمیں یہ بالکل حق نہیں کہ ہم اپنی رائے یا اپنے معیاروں کی بِنا پر دوسروں کے فیصلوں پر نکتہچینی کریں۔b
11. ہم کلیسیا کے اِتحاد کو بڑھانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
11 یہوواہ یہ تو چاہتا ہے کہ اُس کے بندے آپس میں متحد ہوں لیکن وہ یہ نہیں چاہتا کہ وہ سب کے سب بالکل ایک جیسے بن جائیں۔ دراصل یہوواہ کو تو یہ بات بہت پسند ہے کہ ہم ایک دوسرے سے فرق ہیں! اِس بات کا ثبوت ہمیں اُس کی بنائی ہوئی چیزوں سے ملتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک درخت کے دو پتے بھی ایک جیسے سائز کے نہیں ہوتے۔ اور ذرا اِنسانوں کے بارے میں بھی سوچیں۔ زمین پر تقریباً آٹھ ارب اِنسان ہیں لیکن دو لوگ نہ تو ایک جیسے دِکھتے ہیں اور نہ ہی ایک جیسی شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ یہوواہ نے ہم سب کو ایک دوسرے سے فرق بنایا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ ہم ایک دوسرے کی کاربن کاپی بن جائیں۔ لیکن وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ ہم آپس میں متحد ہوں۔ تو فرق فرق رائے رکھنے کی وجہ سے ہمیں ایک دوسرے سے دُور ہونے کی بجائے امن اور صلح کو بڑھاوا دینا چاہیے۔ ہماری نظر میں اپنی رائے اور پسند ناپسند کی بجائے کلیسیا کا امن اور اِتحاد اہم ہونا چاہیے۔—روم 14:19۔
یہوواہ نے ہم سب کو ایک دوسرے سے فرق بنایا ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ ہم آپس میں متحد ہوں۔ (پیراگراف نمبر 11 کو دیکھیں۔)
ہم دوسروں کی رائے کا احترام کیسے کر سکتے ہیں؟
12-13. اگر ہمیں لگتا ہے کہ کسی نے کوئی ”غلط قدم“ اُٹھایا ہے تو ہمیں کس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے؟ (گلتیوں 6:1؛ بکس ”جب آپ دوسروں کے فیصلوں سے متفق نہ ہوں“ کو بھی دیکھیں۔)
12 جب دوسرے کسی ذاتی معاملے کے حوالے سے فیصلہ کرتے ہیں۔ خود سے پوچھیں: ”کیا وہ شخص واقعی کوئی ”غلط قدم“ اُٹھا رہا ہے یا بس وہ ایک ایسا قدم اُٹھا رہا ہے جو شاید مَیں نہ اُٹھاتا؟“ اور اگر اُس نے کوئی غلط قدم اُٹھایا ہے یعنی ایسا قدم جو بائبل کے حکموں کے خلاف ہے تو خود سے پوچھیں: ”کیا مَیں روحانی لحاظ سے اِتنا پُختہ ہوں کہ مَیں اُس شخص کی درستی کر سکوں اور کیا میرا اُس شخص سے بات کرنا ٹھیک رہے گا یا پھر کسی اَور کو اُس شخص سے بات کرنی چاہیے جیسے کہ کلیسیا کے بزرگ کو؟“ اگر آپ کا اُس سے بات کرنا ٹھیک رہے گا تو ایسا کرتے وقت پیار اور نرمی سے کام لیں۔ (گلتیوں 6:1 کو پڑھیں۔) زیادہتر صورتوں میں ایک شخص نے ایسا فیصلہ لیا ہوتا ہے جو ویسے تو غلط نہیں ہوتا لیکن بس ہماری سوچ کے مطابق نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں ہمیں اُس شخص کے فیصلے پر نہ تو اُنگلی اُٹھانی چاہیے اور نہ ہی اِس کے بارے میں کوئی غلط بات کرنی چاہیے۔ اِس کی بجائے ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اُسے خود اپنے لیے فیصلے لینے کا حق ہے اور ہمیں اُس کے فیصلوں کے لیے احترام دِکھانا چاہیے۔—روم 14:2-4۔
13 ذرا اِس مثال پر غور کریں۔ اگر آپ اپنے دوست کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے لیے جاتے ہیں تو کیا آپ اُسے اِس بات پر مجبور کریں گے کہ وہ بھی اپنے لیے وہی کھانا منگوائے جو آپ نے منگوایا ہے؟ بالکل نہیں۔ آپ اُسے اُس کی پسند کا کھانا چُننے دیں گے۔ اگر آپ کو وہ کھانا پسند نہیں ہے جو آپ کے دوست نے اپنے لیے منگوایا ہے تو آپ کو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ آپ خود وہ کھانا نہیں کھائیں گے۔ تو اب اگر آپ اپنی بات کریں تو آپ خود بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ آپ کا دوست آپ پر اپنی مرضی تھوپے کہ آپ کو کون سا کھانا منگوانا چاہیے۔ اِسی طرح ہمیں دوسروں کے ذاتی فیصلوں کے لیے احترام دِکھانا چاہیے اور اُنہیں اِس بات پر مجبور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ وہی کام کریں جو ہم چاہتے ہیں۔
14. آپ ذاتی فیصلے کرتے وقت اپنے ہمایمانوں کے ساتھ اپنے اِتحاد کو کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟ (1-کُرنتھیوں 8:12، 13)
14 جب آپ کسی ذاتی معاملے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم اپنی کلیسیا میں اِتحاد کو بڑھانے کے لیے اِس بات کی پوری کوشش کر سکتے ہیں کہ ہم اپنے ہمایمانوں کو ناراض نہ کریں۔ (1-کُرنتھیوں 8:12، 13 کو پڑھیں۔) کبھی کبھار ہم ایک ایسا فیصلہ لیتے ہیں جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ بالکل ”جائز“ ہے۔ لیکن ذرا سوچیں کہ اگر ہمارے اُس فیصلے سے ہمارے مسیحی بہن بھائیوں کو ٹھیس پہنچے گی تو کیا اِس سے اُنہیں فائدہ ہوگا؟c (1-کُر 10:23، 24) جب ایسی صورتحال کھڑی ہوتی ہے تو ہم اپنے حق پر زور دینے کی بجائے دوسروں کے احساسات کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ (روم 15:1) مگر کیا ابھی ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہمیں دوسروں کے اور دوسروں کو ہمارے ذاتی فیصلوں کے لیے احترام دِکھانا چاہیے؟ بالکل۔ بےشک دوسروں کو بھی ہمارے فیصلوں کے لیے ویسے ہی احترام دِکھانا چاہیے جیسے ہم اُن کے فیصلوں کے لیے احترام دِکھاتے ہیں۔ لیکن ہمیں رومیوں 12:18 میں لکھی نصیحت کو بھی اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے جہاں لکھا ہے: ”جہاں تک ممکن ہو، اپنی طرف سے سب کے ساتھ امن سے رہیں۔“ تو ہمیں دوسروں کے ساتھ صلح قائم رکھنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے اور اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہماری کسی بات سے اُنہیں تکلیف پہنچ سکتی ہے تو ہمیں اِسے کرنے سے باز رہنا چاہیے۔
15. بزرگ کلیسیا میں اِتحاد کو کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟ (1-کُرنتھیوں 4:6)
15 کلیسیا کے بزرگ دوسروں کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔ بزرگ کلیسیا کے اِتحاد کو کیسے قائم رکھتے ہیں؟ وہ ذاتی معاملوں کے بارے میں دوسروں کے لیے قانون نہیں بناتے اور ’لکھی ہوئی باتوں سے آگے نہیں بڑھتے۔‘ (1-کُرنتھیوں 4:6 کو پڑھیں۔) لکھی ہوئی باتوں سے آگے نہ بڑھنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ بزرگ اُن مشوروں اور نصیحتوں سے بڑھ کر کوئی بات نہ کریں جو ہماری تنظیم کی کتابوں میں لکھی ہیں۔ اِس کے علاوہ جب اُن کا کوئی ہمایمان اُن سے مدد مانگتا ہے تو وہ صرف اپنے تجربے یا رائے کی بِنا پر اُسے کوئی مشورہ نہ دیں۔ اِس کی بجائے وہ خدا کے کلام کو بنیاد بنا کر مشورے دیں۔—یسع 48:17، 18۔
16. ایک بزرگ، بزرگوں کی جماعت کے لیے ہوئے فیصلے کے لیے احترام کیسے دِکھا سکتا ہے؟
16 ایک بزرگ کو اُن فیصلوں کے لیے بھی احترام دِکھانا چاہیے جو اُس کی کلیسیا کے تمام بزرگ ایک جماعت کے طور پر لیتے ہیں۔ جب بزرگوں کی جماعت یہوواہ کی پاک روح کے لیے دُعا کرنے اور بڑے دھیان سے بائبل میں لکھی باتوں پر غور کرنے کے بعد ایک فیصلہ لیتی ہے تو ہر بزرگ کو ہی اُس فیصلے کی حمایت کرنی چاہیے، بھلے ہی وہ ایک فرق رائے رکھتا ہو۔ (اِفِس 5:17) اِس کے علاوہ بزرگ اِس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ وہ بائبل اور تنظیم کی کتابوں میں لکھی ہدایتوں کو پوری طرح سے سمجھنے کی کوشش کریں نہ کہ اِنہیں اِس طرح سے ڈھالنے کی کوشش کریں جو اُن کی رائے سے میل کھائے۔ مثال کے طور پر ایک بزرگ ہماری تنظیم کی کسی کتاب کے ایک جملے کے سیاقوسباق کو نظرانداز کر کے اِسے اپنی رائے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اِستعمال نہیں کرے گا۔
17. دوسروں کے فیصلوں کا احترام کرنے سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟
17 ہم نے سیکھ لیا ہے کہ ہم سبھی ایک دوسرے سے فرق ہیں اور ہماری رائے اور پسند ناپسند بھی ایک دوسرے سے فرق ہوتی ہے۔ لیکن یہ کوئی بُری نہیں بلکہ بہت اچھی بات ہے! چونکہ ہم سب فرق فرق جگہوں سے ہیں اور ہم سب میں فرق فرق خوبیاں ہیں اِس لیے ہم سبھی اپنی کلیسیا میں خوشی اور سکون محسوس کرتے ہیں۔ تو ایک دوسرے سے فرق ہونے کی وجہ سے ہمیں ایک دوسرے سے الگ ہونے کی بجائے آپس میں متحد ہونا چاہیے۔ ہمیں اِس بات کا پورا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کا دل نہ دُکھائیں۔ اِس کے علاوہ ہمیں دوسروں کے ذاتی فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اگر ہم ایسا کرنے کی پوری کوشش کریں گے تو یہوواہ ہمیں برکت دے گا اور ہم اپنی کلیسیا میں محبت، اِتحاد اور خوشی کو قائم رکھ پائیں گے۔—زبور 133:1؛ متی 5:9۔
گیت نمبر 89 یہوواہ کی بات سنیں
a ایک مسیحی کو چرچ میں ہونے والی شادی یا جنازے میں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے کئی باتوں کے بارے میں سوچ بچار کرنی چاہیے۔ اِس سلسلے میں 15 مئی 2002ء کے ”مینارِنگہبانی“ میں ”سوالات از قارئین“ کو دیکھیں۔
b جب ایک مسیحی کوئی ایسا کام کرتا ہے جس کے بارے میں بائبل میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ وہ کام غلط ہے تو بزرگوں کو فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ لیکن بزرگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ یہوواہ کے نیک معیاروں کی بنیاد پر فیصلے سنائیں نہ کہ اپنے معیاروں کی بنیاد پر۔—2-تواریخ 19:6 پر غور کریں۔
c مثال کے طور پر کتاب ”اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!“ کے سبق نمبر 35 کے نکتہ نمبر 5 کو دیکھیں۔