یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م26 فروری ص.‏ 26-‏29
  • ‏”‏اولاد یہوواہ کی طرف سے نعمت ہے“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏اولاد یہوواہ کی طرف سے نعمت ہے“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • وہ مشکلیں جن کا ماں باپ کو سامنا ہو سکتا ہے
  • یہوواہ ماں باپ سے کیا چاہتا ہے؟‏
  • یہوواہ آپ کی مدد کرنا چاہتا ہے
  • والدین!‏ اپنے بچوں کو یہوواہ سے محبت کرنا سکھائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • والدین!‏ اپنے بچوں کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • والدین!‏ اپنے خاندان کی خبرگیری کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • خاندان کو روحانی طور پر مضبوط بنانا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
م26 فروری ص.‏ 26-‏29
ایک ماں باپ نے بڑے پیار سے اپنی بیٹی کو اُٹھایا ہوا ہے۔‏

‏”‏اولاد یہوواہ کی طرف سے نعمت ہے“‏

جب آپ لفظ ”‏وراثت“‏ سنتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ شاید آپ اُس گھر، زمین یا جائیداد کے بارے میں سوچیں جو آپ کو اپنے خاندان سے ملی ہے۔ چاہے ہمیں ورثے میں کوئی بھی چیز ملی ہو، یہ ہماری نظر میں بہت قیمتی ہوتی ہے اور ہم اِس کا بہت اچھے سے خیال رکھتے ہیں۔‏

بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”‏اولاد یہوواہ کی طرف سے نعمت (‏یا ”‏وراثت،“‏ فٹ‌نوٹ)‏ ہے۔“‏ (‏زبور 127:‏3‏)‏ مسیحی ماں باپ اپنے بچوں کو بہت قیمتی تحفہ سمجھتے ہیں اور وہ اُن کی ضرورتیں پوری کرنے کی جی‌توڑ کوشش کرتے ہیں۔ وہ اُن کی صحت اور خوشیوں کا خیال رکھتے ہیں اور یہوواہ کے ساتھ پکی دوستی کرنے میں اُن کی مدد کرتے ہیں۔‏

لیکن افسوس کی بات ہے کچھ ماں باپ اپنے بچوں کو خدا کی طرف سے نعمت نہیں سمجھتے۔ (‏یسع 49:‏15؛‏ 2-‏تیم 3:‏1-‏3‏)‏ اور کچھ ماں باپ اپنے بچوں کا خیال تو رکھنا چاہتے ہیں لیکن اُن کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ تو ماں باپ کو کن مشکلوں کا سامنا ہو سکتا ہے؟ یہوواہ خدا اُن سے کیا چاہتا ہے؟ اور وہ اپنے بچوں کی اِس طرح سے پرورش کیسے کر سکتے ہیں تاکہ اُن کے بچے خوش رہیں اور اچھی زندگی گزاریں؟‏

وہ مشکلیں جن کا ماں باپ کو سامنا ہو سکتا ہے

  • رشتے‌داروں اور دوسرے لوگوں کی طرف سے دباؤ۔‏ کچھ ملکوں میں اُن ماں باپ کو بہت عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جن کے بہت سے بچے ہوتے ہیں۔ اِس لیے کئی میاں بیوی پر اُن کے گھر والے، دوست یا پڑوسی یہ دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ زیادہ بچے پیدا کریں، بھلے ہی اُن کے لیے اپنے بچوں کا خیال رکھنا مشکل ہی کیوں نہ ہو۔‏

  • مستقبل کے حوالے سے فکرمندی۔‏ کچھ ملکوں میں کھانے کی کمی اور علاج کی کم سہولتیں ہونے کی وجہ سے کئی بچے پیدا ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد مر جاتے ہیں۔ اِس لیے کچھ میاں بیوی بہت سے بچے پیدا کرتے ہیں تاکہ اُن کے کچھ بچے زندہ بچ جائیں۔ کچھ میاں بیوی اِس لیے بچے پیدا کرتے ہیں کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ اُن کے بچے بڑھاپے میں اُن کا سہارا بنیں گے۔ ایسی سوچ خاص طور پر اُن ملکوں میں عام ہوتی ہے جہاں بوڑھے لوگوں کو حکومت کی طرف سے کوئی اِمداد نہیں ملتی۔‏

  • حمل کو روکنے والے طریقوں کا اِستعمال اور سہولتیں۔‏ کچھ ملکوں میں میاں بیوی کے پاس حمل کو روکنے کے لیے زیادہ سہولتیں نہیں ہوتیں۔ اور کچھ لوگ حمل کو روکنے والی دوائیاں نہیں لیتے کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ اِس سے اُن کی صحت کو نقصان پہنچے گا۔ اِس کے علاوہ کچھ ملکوں میں ایسی سہولتیں بہت مہنگی ہوتی ہیں اور بہت سے لوگ اِنہیں چاہ کر بھی اِستعمال نہیں کر پاتے۔‏a

یہوواہ ماں باپ سے کیا چاہتا ہے؟‏

ایک ماں باپ اپنے بچوں کے ساتھ پارک میں ہیں۔ باپ بڑے دھیان سے اپنی بیٹی کی بات سُن رہا ہے اور ماں اپنے بیٹے کے ساتھ کھیل رہی ہے۔‏

اپنے ہر بچے کو وقت اور توجہ دیں۔‏

اپنے بچوں کی ضرورتوں کو پورا کریں۔‏ یہوواہ چاہتا ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے محنت کریں اور تب تک اُن کے کھانے پینے، کپڑوں اور رہنے کا بندوبست کریں جب تک اُن کے بچے بڑے نہیں ہو جاتے۔ یہوواہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو تعلیم دِلوائیں۔ مسیحی والدین اپنے بچوں کو کسی ایسے سکول میں نہیں ڈلواتے جس کے لیے بچوں کو اپنے گھر سے دُور رہنا پڑے۔ وہ اپنے بچوں کو اپنی نظروں کے سامنے رکھ کر اچھی تعلیم دِلواتے ہیں اور اُنہیں ایسے ہنر سکھاتے ہیں جو آگے چل کر بچوں کے کام آئیں۔ وہ اپنے ہر بچے کو اپنا وقت اور توجہ بھی دیتے ہیں جس سے بچوں کو محبت اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ بے‌شک یہوواہ چاہتا ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کا اچھے سے خیال رکھیں لیکن وہ اُن سے یہ توقع نہیں کرتا کہ اُن کے پاس بہت پیسہ ہو۔ یہوواہ نے تو اپنے بیٹے یسوع کے لیے بھی زمین پر ایسے ماں باپ چُنے تھے جو امیر نہیں تھے لیکن اُنہوں نے یسوع کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے محنت کی تھی۔—‏متی 13:‏55، 56؛‏ لُو 2:‏24‏۔‏

پاک کلام کا اصول:‏ ”‏بے‌شک اگر کوئی شخص اپنوں کی اور خاص طور پر اپنے گھر والوں کی ضرورتیں پوری نہیں کرتا تو وہ ایمان سے پھر گیا ہے اور غیرایمان شخص سے زیادہ بُرا ہے۔“‏—‏1-‏تیم 5:‏8‏۔‏

یہوواہ جانتا ہے کہ ماں باپ کو بڑھاپے میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو بچوں کے لیے اپنے ماں باپ کی عزت کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ اُن کے بڑھاپے میں اُن کا خیال رکھیں۔ (‏خر 20:‏12؛‏ 1-‏تیم 5:‏4‏)‏ لیکن جب یہوواہ یہ دیکھتا ہے کہ ماں باپ اِس بات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ‌بھال کیسے کریں گے نہ کہ اِس بات پر کہ اُن کے بچے اُن کی دیکھ‌بھال کیسے کریں گے تو اُسے بہت خوشی ہوتی ہے۔—‏2-‏کُر 12:‏14‏۔‏

اپنے بچوں کو یہوواہ کے بارے میں سکھائیں۔‏ یہوواہ نے ماں باپ کو یہ ذمے‌داری بھی دی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اُس کی عبادت کرنا سکھائیں اور اُن کے دل میں اُس کے لیے محبت پیدا کریں۔ یہوواہ کی نظر میں یہی وہ سب سے اہم بات ہے جو ماں باپ اپنے بچوں کو سکھا سکتے ہیں۔—‏اِست 6:‏6، 7۔‏

پاک کلام کا اصول:‏ ”‏یہوواہ کی طرف سے[‏اپنے بچوں]‏کی تربیت اور رہنمائی کرتے ہوئے اُن کی پرورش کریں۔“‏—‏اِفِس 6:‏4‏۔‏

یہوواہ آپ کی مدد کرنا چاہتا ہے

ایک میاں بیوی اپنے گھر میں بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ بات‌چیت کر رہے ہیں۔ اُن کی میز پر بائبل بھی کُھلی ہوئی ہے۔‏

پہلے سے اِس بارے میں بات کریں کہ آپ کتنے بچے پیدا کریں گے۔‏

سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔‏ اگر آپ بچے پیدا کرنے کا سوچ رہے ہیں تو اپنے حالات کا جائزہ لیں۔ مثال کے طور پر اِس بارے میں سوچیں کہ کیا آپ اپنے بچوں کے کھانے پینے، کپڑوں اور تعلیم کا خرچہ پورا کر سکیں گے اور کیا آپ کے پاس ایسا کرنے کے لیے وقت اور طاقت ہوگی؟ بے‌شک آپ یہ بھی چاہیں گے کہ آپ اپنے ہر بچے کا اُسی طرح سے خیال رکھیں جس طرح سے یہوواہ چاہتا ہے۔ تو اپنے جیون ساتھی کے ساتھ مل کر بات کریں کہ آپ دونوں کتنے بچے پیدا کریں گے۔ یہوواہ جانتا ہے کہ زندگی میں سب کچھ ویسے نہیں ہوتا جیسا ہم نے سوچا ہوتا ہے۔ (‏واعظ 9:‏11‏)‏ لیکن اگر آپ اچھے ماں باپ بننے کی پوری کوشش کریں گے تو وہ آپ کی مدد ضرور کرے گا۔‏

پاک کلام کے اصول:‏ ”‏محنتی شخص کے منصوبے ضرور کامیاب ہوتے ہیں لیکن جلدبازی سے کام لینے والے سب لوگ کنگال ہو جاتے ہیں۔“‏—‏اَمثا 21:‏5‏۔‏

‏”‏فرض کریں کہ آپ میں سے ایک آدمی ایک مینار بنانا چاہتا ہے۔ کیا وہ پہلے بیٹھ کر یہ اندازہ نہیں لگائے گا کہ اُس کے پاس اِسے مکمل کرنے کے لیے کافی پیسے ہیں یا نہیں؟“‏—‏لُو 14:‏28‏۔‏

یہوواہ کو سب سے زیادہ اہمیت دیں۔‏ اِس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ کے گھرانے کے لیے یہوواہ کی عبادت سب سے اہم ہو۔ اگر آپ کے بچے ہیں تو اُن میں سے ہر ایک کو یہوواہ سے محبت کرنا سکھائیں۔ اُن کی مدد کریں کہ وہ عبادت کے دوران دھیان سے سنیں اور سیکھی ہوئی باتوں پر عمل کریں۔ اُن کے ساتھ مل کر ہر ہفتے خاندانی عبادت کریں اور اُنہیں مُنادی کے دوران بات کرنا سکھائیں۔ یاد رکھیں کہ اپنے بچوں کی اِن معاملوں میں تربیت کرنا آپ کی ذمے‌داری ہے۔ اپنے بڑے بچوں سے یا کسی اَور رشتے‌دار سے یہ توقع نہ کریں کہ وہ آپ کے بچوں کی تربیت کریں۔ سچ ہے کہ یہوواہ کی مرضی کے مطابق بچوں کی تربیت کرنے میں بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ لیکن جب وہ بڑے ہو کر یہوواہ کی خدمت کریں گے تو یہ دیکھ کر آپ کو بہت خوشی ہوگی۔‏

پاک کلام کا اصول:‏ ”‏میرے لیے اِس سے بڑی کوئی خوشی نہیں کہ مَیں سنوں کہ میرے بچے سچائی کے مطابق چل رہے ہیں۔“‏—‏3-‏یوح 4‏۔‏b

یہوواہ پر بھروسا رکھیں۔‏ چاہے آپ بچے پیدا کرنے کا سوچ رہے ہوں یا آپ کے پہلے سے ہی بچے ہوں، اِس بات کا پکا یقین رکھیں کہ یہوواہ کے اصول آپ کی خاندانی اور مقامی روایتوں سے زیادہ اہم ہیں۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ ایک ماں باپ عبادت کے دوران اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اُن کے بیٹے نے جواب دینے کے لیے ہاتھ کھڑا کِیا ہوا ہے۔ 2.‏ ایک ماں باپ اپنے بچوں کے ساتھ مل کر مُنادی کر رہے ہیں۔ باپ اپنی نوجوان بیٹی کے ساتھ مُنادی کر رہا ہے اور ماں اپنے دو اَور چھوٹے بچوں کے ساتھ مُنادی کر رہی ہے۔‏

اپنے بچوں کو یہوواہ کے اصولوں کے بارے میں سکھانے میں وقت لگتا ہے اور بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔‏

اگر آپ بچے پیدا نہ کرنے کا یا پھر کم بچے پیدا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اِس بات پر بھروسا رکھیں کہ یہوواہ آپ کے بڑھاپے میں بھی آپ کی ضرورتیں پوری کرتا رہے گا۔ کبھی بھی دوسروں کے دباؤ میں آ کر یہ نہ سوچیں کہ آپ کو اِس لیے بچے پیدا کرنے چاہئیں تاکہ وہ آپ کو بڑھاپے میں سنبھالیں۔ یہ سوچ کر پریشان نہ ہوں کہ آگے چل کر آپ کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ یہوواہ نے خود آپ کا خیال رکھنے کا وعدہ کِیا ہے اور وہ اپنا وعدہ کبھی نہیں توڑتا۔—‏یشو 23:‏14۔‏

پاک کلام کے اصول:‏ ”‏اپنے سارے دل سے یہوواہ پر بھروسا کرو اور اپنی سمجھ پر اِعتبار نہ کرو۔ اپنی سب راہوں میں اُسے اپنے سامنے رکھو اور وہ آپ کے راستے سیدھے کرے گا۔“‏—‏اَمثا 3:‏5، 6‏۔‏

‏”‏ایک وقت تھا کہ مَیں جوان تھا اور اب مَیں بوڑھا ہو گیا ہوں لیکن مَیں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی نیک شخص کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہو یا اُس کے بچے روٹی کے لیے بھیک مانگ رہے ہوں۔“‏—‏زبور 37:‏25‏۔‏

‏”‏خدا کی بادشاہت اور اُس کے نیک معیاروں کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دیتے رہیں پھر باقی ساری چیزیں بھی آپ کو دی جائیں گی۔“‏—‏متی 6:‏33‏۔‏

بچے یہوواہ کی طرف سے ماں باپ کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہیں۔ جب ماں باپ اپنے بچوں سے محبت کرتے اور اُن کا خیال رکھتے ہیں تو یہوواہ کو یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ مسیحی ماں باپ کی نظر میں یہ بات زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ یہوواہ اُن سے کیا چاہتا ہے نہ کہ یہ کہ دوسرے اُن سے کیا چاہتے ہیں۔ اِسی وجہ سے وہ بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ کتنے بچے پیدا کریں گے۔ اِس کے علاوہ وہ اپنے ہر بچے کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں اور اُس کی خوش رہنے اور یہوواہ سے دوستی کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ یوں ماں باپ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو یہوواہ کی طرف سے بیش‌قیمت تحفہ سمجھتے ہیں۔‏

اُنہیں اپنے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں

ایک شوہر اپنی بیوی اور دو چھوٹے بچوں کے ساتھ خاندانی عبادت کر رہا ہے۔‏

کیا اُن ماں باپ کو زیادہ مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کم بچے پیدا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں؟ یہ سوال زیادہ‌تر اُن ملکوں میں رہنے والے ماں باپ کے ذہن میں آتا ہے جہاں پیسے کی تنگی ہے۔ آئیے کچھ ایسے ہی ملکوں میں رہنے والے والدوں کی بات پر غور کریں۔‏

کیا آپ کو زیادہ بچے پیدا کرنے کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا؟‏

‏”‏جی ہاں، یہاں تک کہ کلیسیا کے کچھ بہن بھائیوں کی طرف سے بھی۔ ایک میاں بیوی نے تو ہم سے یہ تک کہا:‏ ”‏آپ کا صرف ایک بیٹا کیوں ہے؟ یہاں افریقہ میں اگر کسی کا ایک بیٹا ہو تو یہ ایسے سمجھا جاتا ہے جیسے اُس کی کوئی اولاد ہی نہیں ہے۔ اور اگر اُس کے دو بچے ہوں تو یہ ایسے ہے جیسے اُس کا صرف ایک ہی بچہ ہے۔“‏ پھر جب ہماری بیٹی ہوئی تو اُس کے بعد بھی لوگ ہم پر دباؤ ڈالتے رہے کہ ہم اَور بچے پیدا کریں۔“‏—‏جیرمیاس۔‏

کیا آپ کو کم بچے پیدا کرنے کی وجہ سے مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے؟‏

‏”‏بالکل بھی نہیں۔ دراصل کم بچے پیدا کرنے کی وجہ سے ہم دونوں اپنے بچوں کی ضرورتوں کا زیادہ اچھے سے خیال رکھ پاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہوواہ کے قریب رہنے میں اُن کی مدد کر پاتے ہیں۔ اگر مَیں اپنے بچپن کی بات کروں تو میرے بہت سے بہن بھائی تھے۔ اور میرے امی ابو کے لیے ہم سب کی ضرورتیں پوری کرنا اور سکول میں ہمارا داخلہ کرانا بہت مشکل تھا۔“‏—‏جیرمیاس۔‏

آپ کے بچے آپ کے فیصلے کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟‏

‏”‏ہمارے بچے بہت خوش ہیں کیونکہ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ اُنہیں اُن مشکلوں کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا جن کا سامنا اُن بچوں کو کرنا پڑتا ہے جن کے بہت سے بہن بھائی ہیں۔ اُن کے ماں باپ اُن سب کی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتے۔“‏—‏فلپے۔‏

‏”‏ہم نے اپنے بچوں کو بہت محبت اور توجہ دی جس کی وجہ سے وہ بہت خوش رہتے تھے۔ ہم اکثر اپنے گھر پر اُن بہن بھائیوں کو بُلاتے تھے جو یہوواہ کی خدمت کرنے کے حوالے سے اچھی مثال قائم کر رہے تھے۔ یہ بہن بھائی ہمارا بھی حوصلہ بڑھاتے تھے کہ ہم یہوواہ کی اَور زیادہ خدمت کریں۔ آج ہمارے بچے اُن کی اچھی مثال پر عمل کر رہے ہیں۔“‏—‏کارلوس۔‏

آپ نے کم بچے پیدا کرنے کا جو فیصلہ کِیا ہے، کیا آپ کو اُس سے فائدہ ہوا ہے؟‏

‏”‏اِس فیصلے کی وجہ سے مَیں اور میری بیوی اپنے گھرانے کی ضرورتوں کو اچھی طرح سے پورا کر پائے ہیں۔ تین سال پہلے میری نوکری چُھوٹ گئی جس میں مجھے بہت اچھی تنخواہ مل رہی تھی۔ لیکن چونکہ ہمارا گھرانہ چھوٹا تھا اِس لیے ہمارے لیے کم پیسوں میں گزارہ کرنا مشکل نہیں ہوا۔“‏—‏جیرمیاس۔‏

‏”‏اِس فیصلے کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کی ضرورتوں کو اچھی طرح سے پورا کر پائے اور یہوواہ کے قریب رہنے میں اُن کی مدد کر پائے۔ ہم تو اُن علاقوں میں بھی یہوواہ کی خدمت کر پائے جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت تھی۔ چونکہ ہمارا گھرانہ چھوٹا تھا اِس لیے ہمارے لیے اپنے ہر بچے کو توجہ دینا اور اُس کے ساتھ وقت گزارنا آسان تھا۔ ابھی ہمارے سبھی بچے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں اور اُنہوں نے اُس کی خدمت کرنے کے لیے منصوبے بنائے ہیں۔“‏—‏لیناڈے۔‏

آپ دوسرے ماں باپ سے کیا کہنا چاہیں گے؟‏

‏”‏مَیں اِس بات کا گواہ ہوں کہ زبور 34:‏10 میں لکھی یہ بات بالکل سچی ہے:‏ ”‏جو یہوواہ کی رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اُنہیں کسی اچھی چیز کی کمی نہیں ہوگی۔“‏ یہوواہ نے مجھے اور میرے گھرانے کو وہ سب کچھ دیا ہے جس کی ہمیں ضرورت تھی۔“‏—‏رافائیل۔‏

a یہ ایک میاں بیوی کا ذاتی فیصلہ ہے کہ وہ حمل کو روکنے کے لیے کون سا طریقہ اپنائیں گے۔ لیکن اگر حمل ٹھہر جاتا ہے تو وہ کوئی بھی ایسی دوائی اِستعمال نہیں کریں گے جس کی وجہ سے حمل ضائع ہو جائے۔ اِس کے علاوہ یہ بھی میاں بیوی کا فیصلہ ہوتا ہے کہ وہ کب اور کتنے بچے پیدا کریں گے۔ کسی کو بھی اُن کے اِن ذاتی فیصلوں پر نکتہ‌چینی نہیں کرنی چاہیے۔ (‏روم 14:‏4،‏ 10-‏13‏)‏ جب میاں بیوی اِن معاملوں میں فیصلے لیتے ہیں تو اُنہیں 1-‏کُرنتھیوں 7:‏3-‏5 میں لکھی نصیحت کو یاد رکھنا چاہیے۔‏

b اِس آیت میں یوحنا رسول نے اُن مسیحیوں کو ”‏بچے“‏ کہا جن کی اُنہوں نے سچائی سیکھنے میں مدد کی تھی۔ لیکن ماں باپ بھی اپنے اُن بچوں کے بارے میں ایسا ہی محسوس کرتے ہیں جو یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں