27 اپریل–3 مئی 2026ء
گیت نمبر 99 یاہ کے لاکھوں گواہ
کیا آپ بپتسمے کے بعد آنے والی مشکلوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں؟
”میری مدد کر کہ مَیں تیری راہوں پر چلتا رہوں۔“—زبور 17:5۔
غور کریں کہ . . .
جن مسیحیوں نے حال ہی میں بپتسمہ لیا ہے، اُنہیں آگے چل کر کن مشکلوں کا سامنا ہو سکتا ہے اور وہ خود کو اِن مشکلوں کے لیے کیسے تیار کر سکتے ہیں۔
1-2. کیا چیز مشکلوں میں بھی یہوواہ کے قریب رہنے میں ہماری مدد کرے گی؟ مثال دیں۔
ہم جانتے ہیں کہ جب تک شیطان کی دُنیا ختم نہیں ہو جاتی، ہمیں مشکلوں کا سامنا رہے گا۔ اِسی لیے یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو آگاہ کِیا تھا کہ اُنہیں ’ٹھوکریں ضرور لگیں گی۔‘ (متی 18:7، نیو اُردو بائبل ورشن) یسوع کی بات سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں ایسے مسئلوں کا سامنا ہو سکتا ہے جن سے ہمارا ایمان کمزور پڑ سکتا ہے۔ کبھی کبھار تو ہمیں اپنے مسیحی بہن بھائیوں کی طرف سے بھی کسی مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم اِن مسئلوں سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار کیسے کر سکتے ہیں اور مشکل وقت میں بھی یہوواہ کے قریب کیسے رہ سکتے ہیں۔
2 اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں: ہمیں اکثر اپنی کلیسیا میں یہ یاد دِلایا جاتا ہے کہ اگر ہمارے علاقے میں طوفان، سیلاب یا زلزلہ آ جاتا ہے تو ہم اِن آفتوں کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کیسے کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے علاقے میں کون سی قدرتی آفت آ سکتی ہے۔ پھر یہ بات جان لینے کے بعد ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم اِس سے بچنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں اور کن چیزوں کا پہلے سے اِنتظام کر سکتے ہیں جن کی ہمیں آفت کے دوران ضرورت پڑ سکتی ہے۔ (اَمثا 21:5) اِسی طرح اب بپتسمہ لینے کے بعد ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں آگے چل کر کس طرح کی مشکلوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اِن مشکلوں کو جان جائیں گے تو پھر ہمیں پہلے سے پتہ ہوگا کہ اِن مشکلوں کے آنے پر ہمیں کیا کرنا ہے۔ اِس طرح ہم اُن مشکلوں کا مقابلہ کر پائیں گے اور یہوواہ کے قریب رہ پائیں گے۔ (زبور 17:5) اِس مضمون میں ہم تین ایسی مشکلوں کے بارے میں بات کریں گے جن کا سامنا ہمیں بپتسمہ لینے کے بعد ہو سکتا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ ہم اِن مشکلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کیسے کر سکتے ہیں۔a
جب آپ کا کوئی ہمایمان آپ کا دل دُکھاتا ہے
3. ہمیں کلیسیا میں کس مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے؟
3 شاید آپ کو وہ وقت یاد ہوگا جب آپ پہلی بار یہوواہ کے گواہوں کی عبادت میں گئے تھے۔ جس بات نے شاید آپ کے دل پر سب سے زیادہ اثر کِیا تھا، وہ یہوواہ کے بندوں کے بیچ پائی جانے والی محبت تھی اور اِس محبت کو دیکھ کر آپ کو یقین ہو گیا تھا کہ آپ کو سچا مذہب مل گیا ہے۔ (یوح 13:35؛ کُل 3:12) بیانکا نام کی بہن کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔b لیکن جب اُنہوں نے بپتسمہ لیا تو اِس کے تھوڑے عرصے بعد اُنہیں ایک ایسے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا جس کی اُنہوں نے توقع بھی نہیں کی تھی۔ بہن بیانکا نے کہا: ”ایک بہن میرے ساتھ بہت بُری طرح سے پیش آئی۔ مَیں نے یہ بھی دیکھا کہ وہ کلیسیا کے بہن بھائیوں کے بارے میں بہت بُری باتیں کرتی تھی۔ مَیں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ یہوواہ کے بندے بھی ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ بائبل کورس کرتے وقت اور عبادتوں کے دوران مَیں نے سیکھا تھا کہ یہوواہ کے گواہ ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور صلح سے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔“ یہ سچ ہے کہ ہمارے بہن بھائی اپنے اندر یہوواہ جیسی خوبیاں پیدا کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن وہ بھی عیبدار ہیں۔ (اِفِس 4:23، 24؛ 1-یوح 1:8) اِس لیے کبھی نہ کبھی وہ ہم سے ایسی بات کہہ جائیں گے جس سے ہمارا دل دُکھ سکتا ہے۔ (یعقو 3:8) لیکن افسوس کی بات ہے کہ کچھ بہن بھائی اپنے کسی ہمایمان کی بات کا اِتنا بُرا مان جاتے ہیں کہ وہ یہوواہ کی عبادت کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
4. ہم اپنے بہن بھائیوں کی غلطیوں کو معاف کرنے کے لیے خود کو پہلے سے تیار کیسے کر سکتے ہیں؟ (اِفِسیوں 4:32)
4 ہو سکتا ہے کہ آگے چل کر کوئی بہن یا بھائی آپ کا دل دُکھائے۔ تو آپ ابھی سے خود کو اِس طرح کی صورتحال کے لیے کیسے تیار کر سکتے ہیں؟ آپ اِفِسیوں 4:32 میں دی گئی نصیحت پر غور کر سکتے ہیں اور اِس میں بتائی گئی خوبیوں کو اپنے اندر پیدا کر سکتے ہیں۔ (اِس آیت کو پڑھیں۔) اگر آپ دوسروں کے ساتھ مہربانی اور ہمدردی سے پیش آنے کی کوشش کریں گے تو آپ بہت سے مسئلوں سے بچ جائیں گے۔ اِس کے علاوہ آپ ابھی سے اِس بات کا پکا اِرادہ کر سکتے ہیں کہ جب دوسرے آپ کا دل دُکھائیں گے تو آپ اُنہیں دل سے معاف کر دیں گے۔ ذرا سوچیں کہ آپ کتنی بار یہوواہ سے اپنی غلطیوں کے لیے معافی مانگتے ہیں اور وہ دل کھول کر آپ کو معاف کر دیتا ہے۔ (متی 6:12) تو اگر آپ اِس بات کو ذہن میں رکھیں گے تو آپ کے لیے دوسروں کو معاف کرنا آسان ہوگا۔
5. جب کوئی بہن یا بھائی ہمارا دل دُکھاتا ہے تو بائبل کی کون سی آیت ہمارے کام آ سکتی ہے؟ (اَمثال 19:11) (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
5 اَمثال 19:11 کو پڑھیں۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ جب ہمیں غصہ آتا ہے تو گہری سمجھc اِس غصے کو ٹھنڈا کر سکتی ہے۔ ریما نام کی بہن کو اِس اصول پر عمل کرنے سے بہت فائدہ ہوا۔ اُنہیں بپتسمہ لیے ہوئے کچھ ہی سال ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”جب کوئی بہن یا بھائی کوئی ایسی بات کہہ جاتا ہے جو مجھے بُری لگتی ہے یا جس سے میرا دل دُکھتا ہے تو مَیں فوراً اَمثال 19:11 کو یاد کرتی ہوں۔ مَیں اپنے بہن بھائیوں کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں اور اِس بات پر غور کرتی ہوں کہ اُنہوں نے وہ بات یا کام کیوں کِیا ہوگا۔ اِس کے علاوہ مَیں اُن کے ساتھ مُنادی کرنے کی بھی کوشش کرتی ہوں کیونکہ اِس طرح مَیں اُنہیں اور اُن کی صورتحال کو اَور اچھے سے جان پاتی ہوں۔“ یہ بات ہمارے بھی بہت کام آ سکتی ہے۔ ہم ابھی سے اپنے بہن بھائیوں کو اچھی طرح سے جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں کیونکہ جتنا زیادہ ہم اُنہیں جانیں گے اُتنا ہی زیادہ ہمارے لیے اُن کی غلطیوں کو معاف کرنا آسان ہو جائے گا۔
اگر آپ کی کلیسیا میں کسی بہن یا بھائی نے آپ کا دل دُکھایا ہے تو اُس کے ساتھ مل کر مُنادی کرنے کی کوشش کریں۔ (پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)
6. اپنے بہن بھائیوں سے دوستی کرنے میں کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے؟
6 آپ اپنے بہن بھائیوں سے دوستی کرنے کے لیے ایک اَور کام بھی کر سکتے ہیں۔ جب آپ اُنہیں اچھی طرح سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو اُن کی خوبیوں پر دھیان دیں۔ (اَمثال 10:12 پر غور کریں؛ روم 12:10؛ فِل 2:2، 3) غور کریں کہ ایسا کرنے سے مارک نام کے بھائی کو کیسے فائدہ ہوا جنہوں نے حال ہی میں بپتسمہ لیا ہے۔ جب بھائی مارک اپنی کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزارنے لگے تو اُنہیں اِن بہن بھائیوں میں کچھ خامیاں نظر آئیں۔ لیکن بھائی مارک نے بتایا کہ کس چیز نے اُن کی یہوواہ اور اپنے بہن بھائیوں کے قریب رہنے میں مدد کی۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے سوچا کہ دُنیا میں لوگ اِتنے زیادہ بُرے کام اور گُناہ کر رہے ہیں۔ اُن کے مقابلے میں میرے بہن بھائیوں کی غلطیاں تو کچھ بھی نہیں ہیں۔ مَیں نے فیصلہ کِیا کہ مَیں اپنے بہن بھائیوں کی خامیوں پر دھیان نہیں دوں گا بلکہ اُن میں اچھائی ڈھونڈوں گا اور اِسی پر دھیان دوں گا۔“ اگر آپ بھی اپنے بہن بھائیوں کی خوبیوں پر دھیان دیں گے تو آپ اُن کے اَور قریب ہو جائیں گے اور اُن سے پکی دوستی کر پائیں گے۔
جب آپ کو وہ چیزیں یاد آتی ہیں جو آپ پیچھے چھوڑ آئے ہیں
7. ہم کس وجہ سے اُن چیزوں کی خواہش کرنے لگ سکتے ہیں جنہیں ہم نے یہوواہ کا گواہ بننے کے لیے قربان کر دیا تھا؟
7 جب آپ یہوواہ کے گواہ بنے تھے تو بےشک آپ اِس بات سے بہت خوش تھے کہ اب آپ شیطان کی دُنیا کا حصہ نہیں ہیں۔ آپ تو شاید یہ بھی سوچتے تھے کہ آپ واپس اُس دُنیا میں جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن پھر جب آپ کی زندگی میں مشکل وقت آیا تو شاید آپ کو وہ چیزیں یاد آنے لگیں جو یہوواہ کی خدمت کرنے سے پہلے آپ کے پاس ہوا کرتی تھیں۔ شاید آپ پھر سے اُن چیزوں کو پانے کی خواہش بھی کرنے لگے۔ (گنتی 11:4-6 پر غور کریں۔) مثال کے طور پر کچھ بہن بھائیوں نے یہوواہ کی خدمت کرنے کی خاطر شاید موٹی تنخواہ والی نوکری چھوڑ دی جس میں اُن کا بہت وقت لگ جاتا تھا۔ اور شاید کچھ بہن بھائیوں نے اپنے قریبی دوستوں کو کھو دیا جو اُن کے بائبل کورس کرنے کی وجہ سے اُن سے دُور ہو گئے۔ اور کچھ بہن بھائیوں نے ایسی بُری عادتوں کو چھوڑا جن سے یہوواہ نفرت کرتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ یہوواہ کو اُس وقت کتنا دُکھ ہوگا اگر ایک مسیحی پھر سے وہ کام کرنے لگے گا جسے اُس نے یہوواہ سے دوستی کرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ بےشک آپ یہ نہیں چاہتے کہ آپ کے ساتھ ایسا ہو۔ تو پھر آپ ابھی کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ اُن چیزوں کی پھر سے خواہش نہ کرنے لگیں جنہیں آپ پیچھے چھوڑ آئے تھے؟
8. ہم اَبراہام اور سارہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
8 بائبل میں ہم یہوواہ کے بہت سے ایسے بندوں کے بارے میں پڑھتے ہیں جو اُن چیزوں کی خواہش کر سکتے تھے جنہیں اُنہوں نے یہوواہ کے لیے قربان کر دیا تھا۔ اَبراہام اور سارہ کی مثال لیں۔ اُنہوں نے یہوواہ کا حکم مانتے ہوئے شہر اُور کو چھوڑ دیا جو بہت ہی خوبصورت اور محفوظ شہر تھا۔ وہ اِس شہر کی آرامدہ زندگی کو چھوڑ کر خیموں میں رہنے لگے۔ (عبر 11:8، 9) اگر اَبراہام اور سارہ اُن آسائشوں کے بارے میں سوچتے رہتے جو اُور میں اُن کے پاس تھیں تو اُن کے دل میں اِنہیں پانے کی خواہش اِتنی بڑھ سکتی تھی کہ وہ واپس اُور جانے کا فیصلہ کر سکتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کِیا۔ اُنہوں نے پیچھے مُڑ کر دیکھنے کی بجائے اپنا دھیان اُن برکتوں پر رکھا جو یہوواہ اُنہیں مستقبل میں دینے والا تھا۔—عبر 11:15، 16۔
9. پولُس اُن چیزوں کو کیسا سمجھتے تھے جنہیں اُنہوں نے یسوع کا شاگرد بننے کے لیے چھوڑ دیا تھا؟ (فِلپّیوں 3:7، 8، 13)
9 اب ذرا پولُس رسول کی مثال پر بھی غور کریں۔ اُنہوں نے صحیح طریقے سے یہوواہ کی عبادت کرنے کے لیے بہت کچھ قربان کِیا۔ مثال کے طور پر پولُس نے مسیحی بننے سے پہلے گملیایل نام کے ایک جانے مانے اُستاد سے یہودی شریعت کی تعلیم حاصل کی تھی۔ (اعما 22:3) پولُس ایک یہودی مذہبی رہنما بن کر بہت نام اور عزت کما سکتے تھے۔ (گل 1:13، 14) لیکن جب پولُس نے مسیح کے بارے میں خوشخبری سنی تو اُنہوں نے سب چیزوں کو چھوڑ دیا۔ کیا مسیحی بننے کے بعد اُن کی زندگی آسان ہو گئی؟ نہیں۔ اُنہیں مارا پیٹا گیا، قید میں ڈالا گیا اور اُنہیں لوگوں کی نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ (2-کُر 11:23-26) ذرا سوچیں کہ اگر پولُس ہر وقت یہ سوچتے رہتے کہ مسیحی بننے سے پہلے اُن کی زندگی کتنی آسان تھی تو وہ یہ سوچ سکتے تھے کہ اُنہوں نے یسوع کی پیروی کر کے غلطی کی ہے۔ لیکن پولُس نے ایسا بالکل نہیں سوچا۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے اپنا دھیان اِس بات پر رکھا کہ اُن کے لیے یسوع کا شاگرد بننا کتنی عزت کی بات ہے اور مستقبل میں اُنہیں کتنا شاندار اِنعام ملے گا۔ پولُس کو اِس بات کا پکا یقین تھا کہ اُنہوں نے جو قربانیاں دی ہیں، وہ اُن برکتوں کے آگے کچھ بھی نہیں ہیں جو اُنہیں مسیحی بننے سے ملی ہیں۔—فِلپّیوں 3:7، 8، 13 کو پڑھیں۔
10. ہمیں کس بات کے بارے میں سوچتے رہنا چاہیے؟ (مرقس 10:29، 30) (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
10 آپ پولُس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ اگر کبھی آپ اُن چیزوں کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں جو آپ نے یہوواہ کا گواہ بننے کے لیے قربان کی تھیں تو اِس بارے میں بھی سوچیں کہ آپ نے وہ چیزیں کیوں قربان کی تھیں۔ (واعظ 7:10) اِس کے علاوہ اِن قربانیوں کا موازنہ اُن برکتوں سے کریں جو آپ کو ابھی مل رہی ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کی کائنات کے حاکم یہوواہ کے ساتھ پکی دوستی ہے۔ (اَمثا 3:32) آپ کو ایک ایسے خاندان کا حصہ بننے کا موقع ملا ہے جو آپ سے بہت پیار کرتا ہے۔ (مرقس 10:29، 30 کو پڑھیں۔) اور آپ کو ایک شاندار مستقبل کی اُمید ملی ہے۔ (یسع 65:21-23) اگر آپ اپنا دھیان اُن برکتوں پر رکھیں گے جو آپ کو یہوواہ کی خدمت کرنے سے مل رہی ہیں تو آپ کم ہی اُن چیزوں کو یاد کریں گے جو آپ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔
اُن چیزوں کی خواہش نہ کریں جنہیں آپ پیچھے چھوڑ آئے ہیں بلکہ خوشی سے اُس کام کو کریں جو یہوواہ نے آپ کو دیا ہے۔ (پیراگراف نمبر 10 کو دیکھیں۔)e
11. آپ نے بہن روزمیری سے کیا سیکھا ہے؟
11 آئیے دیکھیں کہ کس چیز نے ایک بہن کی مدد کی تاکہ وہ اُن چیزوں کی خواہش نہ کرے جنہیں اُس نے یہوواہ کی خدمت کرنے کی خاطر قربان کر دیا تھا۔ اِس بہن کا نام روزمیری ہے اور اُنہوں نے تقریباً 50 سال کی عمر میں بپتسمہ لیا تھا۔ بہن روزمیری نے کہا: ”یہوواہ کی گواہ بننے سے پہلے مَیں ہر کرسمس اپنے گھر والوں کے ساتھ مناتی تھی اور اُن کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارتی تھی۔ اِس لیے گواہ بننے کے بعد شروع شروع میں جب بھی کرسمس آتا تھا تو مجھے بہت مایوسی ہوتی تھی۔ مجھے کرسمس کے موقعے پر اپنے بچوں اور اُن کے بچوں کو تحفے دینا اور اِن تحفوں کو کھولتے وقت اُن کے چہروں پر خوشی دیکھنا بڑا اچھا لگتا تھا۔“ کس چیز نے بہن روزمیری کی مدد کی تاکہ وہ اپنی مایوسی کو خوشی میں بدل سکیں؟ بہن نے کہا: ”مَیں نے سوچا کہ مَیں دوسرے موقعوں پر اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کا پروگرام بناؤں گی۔ تو ہر سال میں مختلف موقعوں پر اپنے گھر والوں کی دعوت کرتی تھی، اُنہیں تحفے دیتی تھی اور اُنہیں یہ بتاتی تھی کہ مَیں اُن سے کتنا پیار کرتی ہوں۔“ لیکن بہن روزمیری کو ایک اَور مسئلے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اُنہوں نے کہا: ”جب مَیں یہوواہ کی گواہ بنی تو میرے کچھ دوستوں نے اِس وجہ سے میرے ساتھ دوستی توڑ دی۔ کبھی کبھار مَیں بہت دُکھی ہو جاتی تھی کیونکہ وہ مجھے بہت یاد آتے تھے اور مجھے بہت اکیلاپن محسوس ہوتا تھا۔“d کس چیز نے اِس حوالے سے بہن روزمیری کی مدد کی؟ اُنہوں نے فرق فرق بہنوں کے ساتھ مل کر مُنادی کرنے کا بندوبست کِیا۔ اُنہوں نے کہا: ”اپنی بہنوں کے ساتھ مل کر مُنادی کرنے سے مَیں اُنہیں اچھی طرح سے جان پائی۔ اب میرے بہت سے نئے دوست ہیں جو مجھے بہت عزیز ہیں۔“ آپ بہن روزمیری سے ایک بہت اہم بات سیکھ سکتے ہیں۔ بھلے ہی اب آپ کچھ ایسے کام نہیں کر سکتے جو آپ یہوواہ کا گواہ بننے سے پہلے کرتے تھے اور جن سے آپ کو خوشی ملتی تھی لیکن یاد رکھیں کہ اب آپ اِن کاموں کی جگہ اِن سے زیادہ اچھے کام کر سکتے ہیں اور اِن سے آپ کو سچی خوشی مل سکتی ہے۔ (فِل 4:8، 9) اور یہ بات بھی کبھی نہ بھولیں کہ یہوواہ آپ کو اُن چیزوں سے بڑھ کر دے سکتا ہے جو آپ نے اُس کے لیے قربان کی ہیں۔
جب آپ کا کوئی ہمایمان یہوواہ کی عبادت کرنا چھوڑ دیتا ہے
12. کلیسیا میں خاص طور پر کس مسئلے کا سامنا کرنا مشکل ہو سکتا ہے؟
12 جب آپ یہوواہ کے گواہ بنے تھے تو یقیناً آپ اِس بات سے بہت خوش تھے کہ اب آپ شیطان کی دُنیا کا حصہ نہیں رہے بلکہ ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے ہیں جو سچائی کی تعلیم دیتے ہیں اور صحیح کام کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ (یسع 65:14) لیکن کبھی کبھار ہو سکتا ہے کہ کلیسیا میں کوئی شخص سنگین گُناہ کرے۔ اور کبھی کبھار تو اُن لوگوں کو کلیسیا سے نکال بھی دیا جاتا ہے جو اپنے گُناہ سے توبہ نہیں کرتے۔ (1-کُر 5:13) غور کریں کہ جب سمر نام کی بہن نے اپنی کلیسیا میں ایسا ہوتے ہوئے دیکھا تو اُنہیں کیسا لگا۔ اُنہوں نے کہا: ”جب مَیں نے بپتسمہ لیا تو اِس کے کچھ ہی عرصے بعد ہماری کلیسیا میں ایک بزرگ نے سنگین گُناہ کِیا اور اُنہیں کلیسیا سے نکال دیا گیا۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ایک بزرگ یہوواہ اور کلیسیا کے خلاف گُناہ کر سکتا ہے۔“ بےشک ہمیں ہمیشہ اِس بات کا یقین رکھنا چاہیے کہ ہمارے بہن بھائی یہوواہ سے محبت کرتے ہیں اور اُس کے وفادار رہنا چاہتے ہیں۔ (1-کُر 13:4، 7) لیکن ہمیں اِس سچائی سے بھی نظر نہیں چرانی چاہیے کہ ہر سال کچھ لوگوں کو کلیسیا سے نکال دیا جاتا ہے۔ بےشک آپ کو اُس وقت بہت تکلیف پہنچ سکتی ہے جب کوئی ایسا شخص یہوواہ کو چھوڑ دیتا ہے جو آپ کے بہت قریب تھا یا جس کی آپ بہت عزت کرتے تھے۔
13. ہم ابھی کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہمارا ایمان اُس وقت کمزور نہ پڑے جب ہمارا کوئی دوست یا رشتےدار یہوواہ کی عبادت کرنا چھوڑ دیتا ہے؟
13 تو آپ ابھی کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ اُس وقت بھی یہوواہ کے وفادار رہیں جب آپ کا کوئی دوست یا رشتےدار یہوواہ کی عبادت کرنا چھوڑ دیتا ہے؟ یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو اَور مضبوط کرتے رہیں۔ (یعقو 4:8) یاد رکھیں کہ ہر شخص کا یہوواہ کے ساتھ اپنا ایک رشتہ ہوتا ہے۔ تو بھلے ہی ہم اپنے گھر والوں اور کلیسیا کے ساتھ مل کر یہوواہ کی عبادت کرتے ہیں لیکن ہمیں خود بھی روزانہ یہوواہ سے دُعا کرنے اور اُس کے کلام کا مطالعہ کرنے سے اُس کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کرنا چاہیے۔—زبور 1:2؛ 62:8۔
14. ہم پطرس رسول سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (یوحنا 6:66-68)
14 آپ پطرس رسول کی مثال پر غور کرنے سے بھی اپنے ایمان کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ ذرا اُس واقعے کو یاد کریں جب یسوع نے ایک ایسی بات کہی تھی جس کی وجہ سے اُن کے بہت سے شاگردوں نے اُن کی پیروی کرنا چھوڑ دی تھی۔ پطرس کو بھی یسوع کی وہ بات سمجھ نہیں آئی تھی لیکن غور کریں کہ اُنہوں نے یوحنا 6:66-68 میں کیا کہا۔ (اِن آیتوں کو پڑھیں۔) پطرس نے اِس بارے میں زیادہ نہیں سوچا کہ دوسروں نے کیا کِیا ہے۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے اُن سچائیوں پر دھیان دیا جو اُنہوں نے یسوع سے سیکھی تھیں۔ اِس طرح پطرس اپنے ایمان کو مضبوط رکھ پائے اور یسوع کی پیروی کرتے رہے۔ اِسی طرح جب آج یہوواہ کی تنظیم میں کوئی شخص اُس کی عبادت کرنا چھوڑ دیتا ہے تو آپ یاد رکھ سکتے ہیں کہ یہ وہی تنظیم ہے جس کے ذریعے آپ نے یہوواہ کے بارے میں سچائیاں سیکھی تھیں۔ تو اِن شاندار سچائیوں سے لپٹے رہیں اور یہوواہ کے وفادار رہیں۔ بہن سمر جن کا پہلے بھی ذکر ہوا تھا، اُنہوں نے کہا: ”مَیں ہمیشہ یہ یاد رکھنے کی کوشش کرتی ہوں کہ اگر کلیسیا میں کوئی مسیحی غلط کام کرتا ہے تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ کلیسیا کے سبھی بہن بھائی وہ غلط کام کریں گے یا تنظیم ہمیں جو کچھ سکھا رہی ہے، وہ غلط ہے یا پھر اِس میں یہوواہ کا قصور ہے۔“
15. آپ نے بہن ماریہ سے کیا سیکھا ہے؟
15 ذرا ماریہ نام کی بہن کے تجربے پر غور کریں۔ اُنہیں بپتسمہ لیے ہوئے ایک ہی ہفتہ ہوا تھا کہ اُن کی امی کو کلیسیا سے نکال دیا گیا اور پھر وہ گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔ بہن ماریہ نے کہا: ”مَیں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میری امی یہوواہ سے مُنہ موڑ سکتی ہیں۔ مَیں نے اِس سے پہلے اپنی زندگی میں کبھی اِتنی بڑی مشکل کا سامنا نہیں کِیا تھا۔ مجھے اپنی امی بہت یاد آتی ہیں۔“ کس چیز نے بہن ماریہ کی اِس مشکل وقت میں مدد کی ہے؟ اُنہوں نے کہا: ”میرے ابو مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں اور وہ میرا بہت اچھے سے خیال رکھ رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ کلیسیا کے بہن بھائی بالکل میرے گھر والوں کی طرح ہیں۔ ہر مسیحی کو ہی کسی نہ کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اِس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے بہن بھائیوں کے قریب رہیں اور ایک دوسرے کے لیے محبت دِکھاتے رہیں۔“ (1-پطر 5:9) سچ ہے کہ جب ہماری زندگی میں مشکل وقت آتا ہے تو ہمارے بہن بھائی ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور اِس طرح ہم اُن کے اَور قریب ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنے بہن بھائیوں سے دوستی کرنے کے لیے کسی مشکل وقت کا اِنتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں ابھی سے ہی اُن کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اِس طرح جب ہمیں کسی مسئلے کا سامنا ہوگا تو ہم خود کو اکیلا محسوس نہیں کریں گے۔
16. ہمیں کیا یاد رکھنا چاہیے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
16 یہ بھی یاد رکھیں کہ یہوواہ اُنہی لوگوں کی اِصلاح کرتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ (عبر 12:6) وہ دل سے چاہتا ہے کہ وہ لوگ اُس کے پاس لوٹ آئیں جنہیں کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے۔ (2-پطر 3:9) تو اگر آپ کے کسی عزیز کو کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے تو آپ اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ کلیسیا کے بزرگ اپنی طرف سے اُس شخص کی مدد کرنے کی پوری کوشش کریں گے تاکہ وہ یہوواہ کے پاس لوٹ آئے۔—2-تیم 2:24، 25۔
اگر آپ کے کسی دوست یا رشتےدار کو کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے تو یاد رکھیں کہ کلیسیا کے بزرگ اُس کی مدد کریں گے کہ وہ یہوواہ کی طرف لوٹ آئے۔ (پیراگراف نمبر 16 کو دیکھیں۔)f
17. ہم کس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں؟
17 اِس مضمون میں ہم نے صرف کچھ ہی مسئلوں پر بات کی ہے جن کا سامنا شاید آپ کو بپتسمہ لینے کے بعد ہو سکتا ہے۔ سچ ہے کہ شاید آپ کو کچھ مسئلے بہت بڑے لگیں لیکن آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اِن مسئلوں کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر سکتے ہیں۔ کبھی نہ بھولیں کہ کائنات کی سب سے طاقتور ہستی یعنی یہوواہ آپ کی مدد کرنے کے لیے آپ کے ساتھ ہے۔ اُس نے آپ کی پہلے بھی بہت مدد کی ہے اور وہ ہمیشہ ایسا کرتا رہے گا! (1-پطر 5:10) وہ آپ کو ہر طرح کی مشکل کا سامنا کرنے کے لیے طاقت دے سکتا ہے تاکہ آپ اُس کے وفادار رہیں۔ اگر آپ اُس کی مدد کو قبول کرتے رہیں گے تو پھر زندگی کی کوئی بھی مشکل آپ کو اُس سے دُور نہیں کر سکے گی۔—زبور 119:165؛ روم 8:38، 39۔
گیت نمبر 154 محبت کا لازوال بندھن
a حالانکہ اِس مضمون میں اُن بہن بھائیوں کی بات کی جا رہی ہے جنہیں بپتسمہ لیے ہوئے کچھ ہی وقت ہوا ہے لیکن کلیسیا کے سبھی بہن بھائیوں کو اِس مضمون میں بتائے گئے مشوروں پر عمل کرنے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔
b کچھ نام فرضی ہیں۔
c اگر ہم میں گہری سمجھ ہوگی تو ہم اُس وقت فوراً غصے میں نہیں آئیں گے جب کوئی بہن یا بھائی ہمارا دل دُکھائے گا۔ اِس کی بجائے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ اُس بہن یا بھائی نے فلاں بات یا کام کیوں کِیا ہوگا۔ اِس طرح ہم اُس کے ساتھ صبر سے پیش آئیں گے اور اُسے معاف کر دیں گے۔
d کلیسیا میں سبھی بہن بھائیوں کو اُن لوگوں کو اپنی محبت کا احساس دِلانا چاہیے جو بائبل کورس کر رہے ہیں یا جنہوں نے حال ہی میں بپتسمہ لیا ہے۔ اِس سلسلے میں مارچ 2021ء کے ”مینارِنگہبانی“ میں مضمون ”مل کر طالبِعلموں کی بپتسمہ پانے کے لائق بننے میں مدد کریں“ کے پیراگراف نمبر 15 اور 16 کو دیکھیں۔
e تصویر کی وضاحت: ایک بہن مُنادی کے دوران کچھ عورتوں کو پارک میں فٹبال کھیلتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ وہ بہن مسیحی بننے سے پہلے خود بھی ایک فٹبال ٹیم کا حصہ تھی۔ بعد میں وہ بہن ایک عورت کو گواہی دے رہی ہے جو شاید پہلے اُس کی ٹیم میں ہوا کرتی تھی۔
f تصویر کی وضاحت: کلیسیا کے دو بزرگ اُس شخص سے ملنے گئے ہیں جسے کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے۔ وہ بزرگ اُس شخص کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں کہ وہ یہوواہ کی طرف لوٹ آئے۔