9-15 مارچ 2026ء
گیت نمبر 45 میرے دل کی سوچ بچار
یہوواہ مایوسی سے نمٹنے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے
”مَیں کتنا بےبس ہوں!“—روم 7:24۔
غور کریں کہ . . .
ہم اُس وقت کیا کر سکتے ہیں جب ہم مایوس یا بےحوصلہ ہو جاتے ہیں۔
1-2. پولُس رسول کبھی کبھار کیسا محسوس کرتے تھے اور ہماری صورتحال کس لحاظ سے پولُس کی صورتحال جیسی ہے؟ (رومیوں 7:21-24)
جب آپ پولُس رسول کا نام سنتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ شاید آپ کے ذہن میں فوراً یہ خیال آئے کہ اُنہوں نے بڑی دلیری سے فرق فرق علاقوں میں مُنادی کی تھی؛ وہ ایک بڑے ہی زبردست اُستاد تھے اور اُنہوں نے بائبل کی بہت سی کتابیں لکھی تھیں۔ بےشک پولُس کے بارے میں یہ ساری باتیں سچ ہیں۔ لیکن کبھی کبھار پولُس بھی ہماری طرح پریشان اور بےحوصلہ ہو جاتے تھے۔
2 رومیوں 7:21-24 کو پڑھیں۔ پولُس نے روم کے مسیحیوں کے نام جو خط لکھا، اُس میں اُنہوں نے کُھل کر اپنے احساسات بتائے جنہیں ہم میں سے زیادہتر بہن بھائی سمجھ سکتے ہیں۔ پولُس بڑی وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہے تھے اور وہ دل سے اُس کے فرمانبردار رہنا چاہتے تھے۔ لیکن عیبدار ہونے کی وجہ سے اُن کے لیے ہمیشہ صحیح کام کرنا آسان نہیں ہوتا تھا۔ اِس کے علاوہ جب پولُس یہ یاد کرتے تھے کہ اُنہوں نے مسیحی بننے سے پہلے کتنی غلطیاں کی تھیں تو اُنہیں بہت پچھتاوا ہوتا تھا۔ کبھی کبھار تو وہ اپنی زندگی میں چلنے والے اُن مسئلوں کی وجہ سے بھی بہت پریشان اور مایوس ہو جاتے تھے جو ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
3. اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟ (فٹنوٹ کو بھی دیکھیں۔)
3 حالانکہ کبھی کبھار پولُس بےحوصلہ ہو جاتے تھے لیکن وہ پوری کوشش کرتے تھے کہ وہ اُن باتوں کے بارے میں نہ سوچتے رہیں جن سے اُنہیں مایوسی ہوتی ہے۔a تو اِس مضمون میں ہم پولُس کی مثال پر غور کرتے وقت اِن سوالوں پر بات کریں گے: پولُس رسول کن باتوں کی وجہ سے بےحوصلہ ہو جاتے تھے؟ کس چیز نے پولُس کی مدد کی تاکہ وہ اُن باتوں کے بارے میں حد سے زیادہ نہ سوچیں جن کی وجہ سے وہ دُکھی ہو جاتے تھے؟ اور ہم اُس وقت کیا کر سکتے ہیں جب ہم مایوس اور بےحوصلہ ہو جاتے ہیں؟
پولُس کن باتوں کی وجہ سے بےحوصلہ ہو جاتے تھے؟
4. پولُس کس بات کی وجہ سے بےحوصلہ ہو جاتے تھے؟
4 وہ غلطیاں جو پولُس سے ماضی میں ہوئیں۔ پولُس پہلے ساؤل کے نام سے مشہور تھے۔ مسیحی بننے سے پہلے اُنہوں نے بہت سی ایسی غلطیاں کیں جن پر بعد میں اُنہیں بہت پچھتاوا ہوا۔ مثال کے طور پر جب یہوواہ کے بندے ستفنُس کو قتل کِیا جا رہا تھا تو پولُس بھی وہیں موجود تھے اور اُنہیں لگ رہا تھا کہ ستفنُس کے ساتھ جو کچھ کِیا جا رہا ہے، وہ بالکل صحیح ہے۔ (اعما 7:58؛ 8:1) اِس کے علاوہ پولُس نے بہت سے مسیحیوں کو اذیت دی تھی اور اُن پر بہت ظلم ڈھایا تھا۔—اعما 8:3؛ 26:9-11۔
5. پولُس کو اپنی ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے کیسا لگتا تھا؟
5 جب پولُس مسیحی بن گئے تو کبھی کبھار وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کے بارے میں سوچ کر بہت پریشان ہو جاتے تھے۔ اُنہیں تو شاید وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی غلطیوں پر پہلے سے بھی زیادہ پچھتاوا محسوس ہوتا ہوگا۔ مثال کے طور پر جب اُنہوں نے تقریباً 55ء میں کُرنتھس کے مسیحیوں کو پہلا خط لکھا تو اُنہوں نے کہا: ”مَیں اِس لائق نہیں کہ مجھے رسول کہا جائے کیونکہ مَیں خدا کی کلیسیا کو اذیت پہنچاتا تھا۔“ (1-کُر 15:9) پھر اِس کے تقریباً پانچ سال بعد جب اُنہوں نے اِفسس کے مسیحیوں کو خط لکھا تو اُنہوں نے اپنے بارے میں کہا کہ وہ ”تمام مُقدسوں میں سب سے کمتر“ ہیں۔ (اِفِس 3:8) اور جب اُنہوں نے تیمُتھیُس کو خط لکھا تو اُنہوں نے کہا کہ وہ ’پہلے کفر بکتے تھے، لوگوں کو اذیت پہنچاتے تھے اور بہت بدتمیز تھے۔‘ (1-تیم 1:13) ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ پولُس کو اُس وقت کتنا دُکھ اور پچھتاوا ہوتا ہوگا جب وہ کلیسیاؤں کا حوصلہ بڑھانے جاتے ہوں گے اور وہاں اُن کی ملاقات ایسے بہن بھائیوں سے ہوتی ہوگی جنہیں اُنہوں نے پہلے اذیت دی تھی یا جن کے رشتےداروں کو اُنہوں نے اذیت دی تھی۔
6. پولُس اَور کس بات کی وجہ سے بےحوصلہ یا پریشان ہو جاتے تھے؟ (فٹنوٹ کو بھی دیکھیں۔)
6 وہ مسئلہ جس کی وجہ سے پولُس بہت تکلیف میں رہتے تھے۔ پولُس نے کہا کہ یہ مسئلہ ’ایک کانٹے کی طرح اُن کے جسم میں چبھتا رہتا ہے۔‘ (2-کُر 12:7) پولُس نے یہ تو نہیں بتایا کہ اُنہیں کس مسئلے کا سامنا تھا۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ صحت کا کوئی مسئلہ ہو یا پھر کوئی ایسا مسئلہ جس کی وجہ سے پولُس بہت پریشان رہتے تھے۔b
7. کبھی کبھار پولُس کے لیے صحیح کام کرنا مشکل کیوں ہوتا تھا؟ (رومیوں 7:18، 19)
7 پولُس کی خامیاں۔ پولُس نے اپنی شخصیت میں بہتری لانے کے لیے بہت کوشش کی تھی۔ لیکن اِس کے بعد بھی اُن سے غلطیاں ہو جاتی تھیں۔ (رومیوں 7:18، 19 کو پڑھیں۔) پولُس نے بتایا کہ کبھی کبھار وہ ایسے کام کر بیٹھتے تھے جو وہ نہیں کرنا چاہتے تھے اور کبھی کبھار اُن کے لیے صحیح کام کرنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ اُنہوں نے تسلیم کِیا کہ اُنہیں اپنی غلط خواہشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل جنگ لڑنی پڑتی تھی۔ لیکن اِتنی کوششوں کے بعد بھی وہ غلطیاں کر بیٹھتے تھے۔ (1-کُر 9:27) ہم سمجھ سکتے ہیں کہ پولُس اُس وقت کتنے بےحوصلہ ہو جاتے ہوں گے جب وہ کوئی ایسی غلطی کر بیٹھتے ہوں گے جس پر قابو پانے کے لیے اُنہوں نے اِتنی سخت کوشش کی تھی۔
کس چیز نے پولُس کی مدد کی؟
8. پولُس نے اپنی خامیوں سے لڑنے کے لیے کیا کِیا؟
8 پولُس نے اِس بات پر بہت سوچا کہ یہوواہ کی پاک روح کس طرح سے مسیحیوں کی شخصیت کو بہتر بنانے اور غلط خواہشوں سے لڑنے میں اُن کی مدد کر سکتی ہے۔ یہ بات ہمیں پولُس کے خطوں سے صاف پتہ چلتی ہے۔ (روم 8:13؛ گل 5:16، 17) پولُس نے اکثر اِس بات کا ذکر کِیا کہ کس طرح کی خواہشیں اور کام یہوواہ کو پسند نہیں ہیں۔ (گل 5:19-21، 26) اِس سے پتہ چلتا ہے کہ پولُس اِس بات پر سوچ بچار کرتے تھے کہ اُن میں کون سی خامیاں ہیں اور پھر وہ پاک صحیفوں کا مطالعہ کر کے یہ دیکھتے تھے کہ اُنہیں کہاں بہتری لانے کی ضرورت ہے اور وہ یہ کیسے کر سکتے ہیں۔ ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ پولُس نے خود بھی اُن باتوں پر عمل کِیا جو وہ دوسروں کو سکھاتے تھے۔
9-10. جب پولُس بےحوصلہ ہو جاتے تھے تو کن باتوں کی وجہ سے اُن کا حوصلہ بڑھتا تھا؟ (اِفِسیوں 1:7) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
9 حالانکہ کبھی کبھار پولُس بےحوصلہ ہو جاتے تھے لیکن ایسی بہت سی باتیں تھیں جن کی وجہ سے پولُس کو خوشی ملتی تھی۔ مثال کے طور پر جب وہ دُوردراز کلیسیاؤں کے بارے میں اچھی خبریں سنتے تھے تو وہ بہت خوش ہو جاتے تھے۔ (2-کُر 7:6، 7) اُن کی خوشی کی ایک اَور وجہ یہ تھی کہ اُن کی اپنے ہمایمانوں سے بہت اچھی دوستی تھی۔ (2-تیم 1:4) اِس کے علاوہ پولُس کو اِس بات سے بھی بہت خوشی ملتی تھی کہ اُن کی یہوواہ کے ساتھ پکی دوستی ہے اور یہوواہ اُن سے خوش ہے۔ (2-تیم 1:3) جب پولُس روم میں قید تھے تو اُنہوں نے اپنے ہمایمانوں کا بھی حوصلہ بڑھایا کہ وہ ”مالک کے ساتھ . . . خوش ہوں۔“ (فِل 4:4) ظاہری بات ہے کہ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو خود بھی ہر وقت اپنی مشکلوں اور خامیوں کے بارے میں سوچتا نہ ہو۔ تو پولُس کے خطوں کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ جب بھی اُن کے ذہن میں کوئی ایسی بات آتی تھی جس کی وجہ سے وہ بےحوصلہ ہونے لگتے تھے تو وہ فوراً اپنا دھیان اُن باتوں پر لگاتے تھے جن سے اُنہیں خوشی ملتی تھی۔
10 ایک اَور چیز جس نے پولُس کی خوش رہنے میں بہت مدد کی، وہ یسوع کی قربانی تھی۔ پولُس فدیے کو ایک ایسا تحفہ سمجھتے تھے جو یہوواہ نے خاص اُنہیں دیا تھا۔ (گل 2:20؛ اِفِسیوں 1:7 کو پڑھیں۔) اِسی لیے وہ اِس بات پر مضبوط ایمان رکھتے تھے کہ یہوواہ نے یسوع کی قربانی کی وجہ سے اُن کے گُناہ معاف کر دیے ہیں اور وہ آگے بھی ایسا کرتا رہے گا۔ (روم 7:24، 25) اِن سبھی باتوں کی وجہ سے پولُس اپنی خامیوں اور ماضی کی غلطیوں کے باوجود خوشی سے ”زندہ خدا کی عبادت“ کرتے رہے۔—عبر 9:12-14۔
حالانکہ پولُس کو اپنی ماضی کی غلطیوں پر بہت پچھتاوا ہوتا تھا لیکن جب وہ فدیے پر سوچ بچار کرتے تھے تو اُن کے دل سے بوجھ اُتر جاتا تھا۔ (پیراگراف نمبر 9-10 کو دیکھیں۔)
11. پولُس کی مثال سے ہمارا حوصلہ کیوں بڑھتا ہے؟
11 پولُس کی طرح شاید کبھی کبھار ہمیں بھی ایسی باتوں، سوچ اور کاموں سے دُور رہنا مشکل لگے جو یہوواہ کو پسند نہیں ہیں۔ شاید ہم بھی پولُس کی طرح اِس وجہ سے بےحوصلہ ہو جائیں کہ ہم ہر بار یہوواہ کو خوش نہیں کر پاتے۔ اِس سلسلے میں ذرا ایک جوان بہن کی مثال پر غور کریں جن کا نام الیزے ہے۔c اُنہوں نے کہا: ”مجھے پولُس کی مثال پر غور کرنے سے بہت حوصلہ ملتا ہے۔ مجھے یہ جان کر بہت تسلی ملتی ہے کہ صرف مجھے ہی خود کو بدلنا نہیں پڑ رہا۔ پولُس نے بھی خود کو بہت بدلا تھا۔ اِس طرح مَیں یہ یاد رکھ پاتی ہوں کہ یہوواہ جانتا ہے کہ اُس کے بندے کن مشکلوں سے گزر رہے ہیں۔“ ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ پولُس کی طرح ہم بھی اُس وقت یہوواہ کو خوش کریں اور خود بھی خوش رہیں جب کبھی کبھار ہم بےحوصلہ ہو جاتے ہیں؟
ہم مایوسی کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟
12. ہمیں خوش رہنے کے لیے کون سے کام کرتے رہنے چاہئیں؟
12 ہمیں اُن کاموں کو کرتے رہنے کی ضرورت ہے جن سے ہم یہوواہ کے اَور قریب ہو جائیں۔ ذرا اِس بارے میں سوچیں: جب ہم روزانہ ورزش کرتے ہیں، اچھی نیند لیتے ہیں اور ایسا کھانا کھاتے ہیں جس سے ہماری صحت اچھی رہے تو ہم بہت بہتر محسوس کرتے ہیں۔ اِسی طرح جب ہم روزانہ خدا کا کلام پڑھتے ہیں، مُنادی کرتے ہیں، عبادت میں جاتے ہیں، اِس میں پیش کیے جانے والے حصوں کی پہلے سے تیاری کرتے ہیں اور جواب دیتے ہیں تو ہمیں بہت اچھا لگتا ہے۔ اِن کاموں کو کرتے رہنے سے ہمارا دھیان بےحوصلہ کرنے والی باتوں سے ہٹ کر اچھی باتوں پر رہتا ہے اور اِس طرح ہم زیادہ خوش رہ پاتے ہیں۔—روم 12:11، 12۔
13-14. کچھ بہن بھائیوں کو اُس وقت کیسا لگا جب وہ بےحوصلہ ہونے کے باوجود اُن کاموں کو کرتے رہے جن سے وہ یہوواہ کے قریب رہ سکیں؟
13 آئیے جان نام کے بھائی کی مثال پر غور کریں۔ جب وہ 39 سال کے تھے تو اُنہیں پتہ چلا کہ اُنہیں کینسر ہے۔ شروع شروع میں وہ اِس وجہ سے بہت پریشان ہو گئے۔ اُنہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ اِس عمر میں اُنہیں اِتنی بڑی بیماری لگ گئی ہے۔ اُس وقت تو اُن کے بیٹے کی عمر بھی صرف تین سال تھی۔ کس چیز نے بھائی جان کی مدد کی تاکہ وہ ہر وقت اُداس رہنے کی بجائے خوش رہیں؟ اُنہوں نے کہا: ”حالانکہ مَیں بہت تھکا ہوا محسوس کرتا تھا لیکن مَیں اِس بات کا پورا خیال رکھتا تھا کہ ہمارا گھرانہ ہر عبادت میں جائے اور ہر ہفتے مُنادی اور خاندانی عبادت کرے۔ ہم اُس وقت بھی یہ سب کام کرتے رہے جب ہمیں ایسا کرنا بہت مشکل لگتا تھا۔“ ماضی کو یاد کرتے ہوئے بھائی جان نے کہا: ”جب ہم پر مشکل وقت آتا ہے تو شاید شروع شروع میں ہم بہت پریشان ہو جائیں۔ لیکن مَیں نے دیکھا ہے کہ ایسے وقت میں یہوواہ ہمیں فوراً طاقت دیتا ہے اور اپنی محبت کا احساس دِلاتا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہوواہ آپ کی بھی ویسے ہی مدد کرے گا جیسے اُس نے میری مدد کی ہے۔“
14 اور ذرا بہن الیزے کی بات پر بھی غور کریں جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”جب مَیں عبادتوں میں جاتی ہوں اور ذاتی مطالعہ کرتی ہوں تو ہر بار مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہوواہ میری دُعائیں سنتا ہے اور مجھ سے بہت محبت کرتا ہے۔ اِس سے مجھے بہت خوشی ملتی ہے۔“ اب ذرا افریقہ کے ایک حلقے کے نگہبان کی بات پر بھی غور کریں جنہوں نے بتایا کہ وہ اور اُن کی بیوی اُس وقت کیا کرتے ہیں جب وہ بےحوصلہ ہو جاتے ہیں۔ بھائی کا نام نولن ہے اور اُن کی بیوی کا نام ڈییان ہے۔ بھائی نولن نے کہا: ”ہم اُس وقت بھی یہوواہ سے دُعا کرنا، اُس کے کلام کا مطالعہ کرنا، عبادتوں میں جانا اور مُنادی کرنا نہیں چھوڑتے جب ہماری ہمت ٹوٹنے لگتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب ہم اِن کاموں کو کرتے رہتے ہیں تو یہوواہ ہمیشہ خوش رہنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اِس کے علاوہ جب ہم بےحوصلہ ہو جاتے ہیں تو ہم یہ یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہوواہ ہمیں ہماری کوششوں کے لیے برکت دے گا۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ وہ ہمیں کیسے برکت دے گا لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ ہمیں برکت ضرور کرے گا۔“
15. جب ہم بےحوصلہ ہو جاتے ہیں تو ہم اَور کیا کر سکتے ہیں؟ مثال دیں۔
15 اگر آپ کی اُداسی یا مایوسی ختم نہیں ہوتی تو آپ کچھ اَور کام بھی کر سکتے ہیں۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے ذرا اِس مثال پر غور کریں۔ فرض کریں کہ آپ کی کمر میں اکثر درد رہتا ہے اور آپ اپنے گھر کے ایک فرد سے کہتے ہیں کہ وہ آپ کو مالش کرے۔ لیکن اگر آپ اپنے درد سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو صرف مالش کروانا ہی کافی نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آپ کو درد کس وجہ سے ہو رہا ہے۔ اِس کے لیے آپ کو تحقیق کرنی ہوگی اور پھر ڈاکٹر سے بھی بات کرنی ہوگی۔ اِسی طرح جب ہمیں مایوسی ہوتی ہے تو ہمیں بائبل اور ہماری تنظیم کی کتابوں سے تحقیق کرنی چاہیے اور کسی پُختہ مسیحی سے بھی بات کرنی چاہیے تاکہ ہم اپنی اُداسی یا مایوسی سے چھٹکارا پا سکیں۔ آئیے کچھ اَور طریقوں پر بھی غور کرتے ہیں جن کے ذریعے ہم مایوسی سے نمٹ سکتے ہیں۔
16. آپ یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ آپ کی پریشانی کی وجہ کیا ہے؟ (زبور 139:1-4، 23، 24)
16 یہوواہ سے دُعا کریں کہ وہ آپ کی یہ سمجھنے میں مدد کرے کہ آپ کو پریشانی کیوں ہو رہی ہے۔ بادشاہ داؤد کو پتہ تھا کہ یہوواہ اُنہیں اچھی طرح سے جانتا ہے۔ اِسی لیے داؤد نے یہوواہ سے دُعا کی کہ وہ اُن باتوں کو سمجھنے میں اُن کی مدد کرے جن کی وجہ سے اُنہیں پریشانی ہو رہی ہے۔ (زبور 139:1-4، 23، 24 کو پڑھیں۔) ہم بھی یہوواہ سے یہ دُعا کر سکتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرے تاکہ ہم اپنی پریشانی کو سمجھ سکیں اور پُرسکون رہ سکیں۔ اِس کے علاوہ ہم خود سے کچھ ایسے سوال بھی پوچھ سکتے ہیں: ”اصل میں مَیں کس بات کی وجہ سے پریشان ہوں؟ کون سی باتیں میرے اندر مایوسی اور اُداسی جیسے احساسات پیدا کرتی ہیں؟ جب مَیں بےحوصلہ ہونے لگتا ہوں تو کیا مَیں اپنا دھیان اُن باتوں پر رکھنے کی کوشش کرتا ہوں جن سے مجھے خوشی ملے؟“
17. ہم کن موضوعات کا مطالعہ کر سکتے ہیں تاکہ ہم اچھی باتوں کے بارے میں سوچیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
17 بائبل کا مطالعہ کرتے وقت ایک ایسا موضوع چُنیں جو آپ کے کام آ سکتا ہے۔ یہوواہ کی کسی خوبی کا مطالعہ کرنے سے ہمیں بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پولُس کو فدیے پر اور یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی پر سوچ بچار کرنے سے بہت فائدہ ہوا۔ آپ بھی پولُس کی مثال پر عمل کرتے ہوئے اپنی ضرورت کے مطابق کسی موضوع پر سوچ بچار کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے آپ اپنی زبان میں ہماری تنظیم کی کتابوں کو اِستعمال کر سکتے ہیں جیسے کہ کتاب ”یہوواہ کے گواہوں کے لئے مطالعے کے حوالے“ کو یا پھر آپ ہماری ویبسائٹ پر مضامین پڑھ سکتے ہیں۔ آپ اِن کتابوں یا مضامین کے ذریعے یہوواہ کی مختلف خوبیوں پر تحقیق کر سکتے ہیں جیسے کہ اُس کے رحم، اُس کی طرف سے ملنے والی معافی اور اُس کی اٹوٹ محبت پر۔ جب آپ کو ایسے مضمون مل جاتے ہیں جو آپ کے کام آ سکتے ہیں تو اِنہیں ایک کاغذ پر لکھ لیں اور اِنہیں ایک ایسی جگہ پر لگائیں جہاں آپ اِنہیں آسانی سے دیکھ سکیں۔ پھر جب جب آپ مایوس ہوتے ہیں تو اِن مضامین کو پڑھیں اور اِن میں بتائی گئی باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔—فِل 4:8۔
ایسے موضوعات کا مطالعہ کریں جن سے آپ اچھی باتوں پر اپنا دھیان رکھ سکیں۔ (پیراگراف نمبر 17 کو دیکھیں۔)
18. کچھ مسیحیوں کو کن موضوعات کا مطالعہ کرنے سے بہت فائدہ ہوا؟
18 آئیے پھر سے بہن الیزے کی مثال پر غور کرتے ہیں۔ اُنہوں نے بائبل کا مطالعہ کرتے وقت ایوب کی زندگی پر غور کِیا۔ اُنہوں نے کہا: ”میری اور ایوب کی صورتحال بہت ملتی جلتی ہے۔ مجھے بھی اُن کی طرح ایک کے بعد ایک مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ مشکلوں کا سامنا کرتے وقت ایوب بےحوصلہ ہو گئے تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ اُن پر مشکلیں کیوں آ رہی ہیں لیکن وہ پھر بھی مدد کے لیے یہوواہ پر بھروسا کرتے رہے۔“ (ایو 42:1-6) اور بہن ڈییان جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے، اُنہوں نے کہا: ”مَیں اور میرے شوہر ہماری تنظیم کی کتابوں میں یہوواہ کی خوبیوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ہم یہوواہ کے بہت شکرگزار ہیں کہ وہ ایک کُمہار کی طرح ہمیں ڈھال رہا ہے۔ جب ہم اپنی غلطیوں کی وجہ سے بےحوصلہ ہو جاتے ہیں تو ہم اپنا دھیان اپنی غلطیوں پر نہیں رکھتے۔ اِس کی بجائے ہم یہ یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہوواہ ہماری مدد کر رہا ہے تاکہ ہم اچھے اِنسان بنیں۔ اِس بات پر سوچ بچار کرنے سے ہم اُس کے اَور قریب ہو جاتے ہیں۔“—یسع 64:8۔
یہوواہ ہماری مدد کرے گا اور ہمیں برکت دے گا
19. کبھی کبھار ہمیں کیسا لگ سکتا ہے لیکن ہم کس بات کا پورا یقین رکھ سکتے ہیں؟
19 بھلے ہی ہم اِس مضمون میں دیے گئے سب مشوروں پر عمل کریں لیکن ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ ہم پھر کبھی مایوس یا اُداس نہیں ہوں گے۔ کبھی کبھار تو شاید ہم بہت ہی بےحوصلہ ہو جائیں گے۔ لیکن یہوواہ کی مدد سے ہم اپنی مایوسی سے نمٹ سکیں گے اور پُرسکون رہ سکیں گے۔ ہم اِس بات کا پورا یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہم ابھی اپنی زندگی میں زیادہتر وقت خوش رہیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ ہمارا پکا دوست ہے اور وہ ہمارے اُن کاموں سے خوش ہے جو ہم اُس کے لیے کر رہے ہیں۔
20. آپ کیا کرنے کی پوری کوشش کریں گے؟
20 آئیے اپنی طرف سے پوری کوشش کریں کہ آپ اپنے ماضی کی غلطیوں کو، اپنی خامیوں کو اور اپنی مشکلوں کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ اُس وقت پُرسکون رہنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے جب ہم پریشان یا بےحوصلہ ہو جاتے ہیں۔ (زبور 143:10) اِس کے علاوہ اُس وقت کے منتظر رہیں جب ہمیں اپنا دھیان اچھی باتوں پر رکھنے کے لیے محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ اُس وقت ہماری زندگی میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اِس کی بجائے جب ہم ہر صبح اپنی آنکھیں کھولیں گے تو ہم خوشی سے اپنے پیارے آسمانی باپ یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
گیت نمبر 34 مَیں راستی کی راہ پر چلوں گا
a اِس مضمون میں اُن لوگوں کی بات کی جا رہی ہے جو کبھی کبھار مایوس یا پریشان ہو جاتے ہیں۔ اِس میں ایسے لوگوں کی بات نہیں کی جا رہی جو کافی لمبے عرصے سے شدید پریشانی کا شکار ہیں اور جنہیں ڈاکٹر سے مدد لینے کی ضرورت ہے۔
b شاید پولُس اچھی طرح سے دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اگر ایسا تھا تو اُن کے لیے کلیسیاؤں کو خط لکھنا اور مختلف علاقوں میں سفر اور مُنادی کرنا بہت مشکل رہا ہوگا۔ (گل 4:15؛ 6:11) یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پولُس اُن باتوں کی وجہ سے پریشان تھے جو کچھ جھوٹے اُستاد اُن کے بارے میں کر رہے تھے۔ (2-کُر 10:10؛ 11:5، 13) ہم ٹھیک سے تو نہیں جانتے کہ پولُس کس مسئلے کی بات کر رہے تھے لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ اِس کی وجہ سے وہ کبھی کبھار پریشان اور دُکھی ہو جاتے تھے۔
c کچھ نام فرضی ہیں۔