2-8 مارچ 2026ء
گیت نمبر 97 خدا کا زندگیبخش کلام
یہوواہ کی رہنمائی پر بھروسا کرتے رہیں
سن 2026ء کی سالانہ آیت: ”وہ لوگ خوش رہتے ہیں جن کو احساس ہے کہ اُنہیں خدا کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔“—متی 5:3۔
غور کریں کہ . . .
یہوواہ فرق فرق معاملوں میں ہماری رہنمائی کیسے کرتا ہے۔ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم یہوواہ کی رہنمائی سے فائدہ حاصل کرتے رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔
1. اِنسانوں کی کچھ بنیادی ضرورتیں کیا ہیں؟ (متی 5:3)
ہمارا باپ یہوواہ جانتا ہے کہ اِنسانوں کو زندہ رہنے کے لیے کون سی بنیادی چیزیں چاہئیں۔ مثال کے طور پر ہمیں خوراک، کپڑے اور چھت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہماری زندگی میں اِن میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو ہمارے لیے گزر بسر کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ ہم مر بھی سکتے ہیں۔ یہوواہ یہ بھی جانتا ہے کہ اِن چیزوں کے علاوہ ہماری ایک اَور بنیادی ضرورت بھی ہے۔ اُس نے ہمیں اِس طرح سے بنایا ہے کہ ہم اُس سے رہنمائی پانے کی ضرورت محسوس کریں۔ (متی 5:3 کو پڑھیں۔) تو سچی خوشی پانے کے لیے ہمیں اِس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ہمیں یہوواہ کی رہنمائی اور اُس پر بھروسا کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔
2. ہماری صورتحال کس لحاظ سے ایک بھکاری کی صورتحال جیسی ہے؟
2 جن یونانی الفاظ کا ترجمہ ”خدا کی رہنمائی کی ضرورت“ کِیا گیا ہے، وہ ایک ایسے بھکاری کا خیال پیش کرتے ہیں جسے مدد کی سخت ضرورت ہے۔ ذرا ایک ایسے بھکاری کا تصور کریں جس کی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔ اُس نے گندے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور اُس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ اُسے دن بھر تپتی دھوپ میں، یہاں تک کہ رات کو بھی باہر رہنا پڑتا ہے۔ لوگ اُس کی حالت کی وجہ سے اُس سے دُور بھاگتے ہیں۔ اُس بھکاری کو دیکھ کر صاف نظر آتا ہے کہ وہ اپنی زندگی سے کتنا تنگ آ گیا ہے۔ وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اُسے زندہ رہنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ اِسی طرح جن لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ اُنہیں خدا کی رہنمائی کی ضرورت ہے، وہ خدا سے مدد کی بھیک مانگتے ہیں اور اُس کی بات سنتے ہیں۔
3. اِس مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟
3 اِس مضمون میں ہم سب سے پہلے اُس فینیکی عورت کی مثال پر غور کریں گے جس نے یسوع سے مدد کے لیے بھیک مانگی تھی۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ اگر ہم یہوواہ سے رہنمائی حاصل کرتے رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اُس عورت کی طرح کون سی تین خوبیاں ظاہر کرنی چاہئیں۔ اِس کے بعد ہم پطرس رسول، پولُس رسول اور بادشاہ داؤد کی مثال پر غور کریں گے جنہوں نے اپنی پوری زندگی یہوواہ سے رہنمائی حاصل کی اور اُس کی مدد پر بھروسا کِیا۔
تین اہم خوبیاں
4. ایک فینیکی عورت یسوع سے کیا چاہتی تھی؟
4 ایک دن ایک فینیکی عورت یسوع کے پاس آئی۔ اُس عورت کی بیٹی پر ”ایک بُرے فرشتے کا سایہ“ تھا۔ (متی 15:21-28) وہ عورت اپنے گُھٹنوں کے بل بیٹھ کر یسوع سے مدد کی بھیک مانگنے لگی۔ آئیے دیکھیں کہ اُس عورت نے یسوع سے مدد مانگتے وقت کون سی خوبیاں ظاہر کیں اور ہم اُس کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔
5. فینیکی عورت نے کون سی خوبیاں ظاہر کیں اور یسوع نے اُس کے لیے کیا کِیا؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
5 وہ فینیکی عورت سچ میں خاکسار تھی۔ ہم ایسا اِس لیے کہہ سکتے ہیں کیونکہ یسوع نے اُسے جو جواب دیا، اُس کی وجہ سے وہ اُن سے ناراض نہیں ہوئی۔ یسوع نے اُس سے کہا: ”یہ مناسب نہیں کہ بچوں کی روٹی لے کر پِلّوں کے آگے ڈال دی جائے۔“ یسوع نے اُس عورت کا موازنہ ”پِلّوں“ سے کِیا جنہیں غیریہودی اپنے گھروں میں بڑے پیار سے پالتے تھے۔ ذرا سوچیں کہ اگر یسوع نے یہ بات کسی اَور شخص سے کہی ہوتی تو شاید وہ بہت بےعزتی محسوس کرتا اور یسوع سے ناراض ہو کر اُن سے مدد مانگنا چھوڑ دیتا۔ لیکن اُس فینیکی عورت نے ایسا نہیں کِیا۔ اُس نے نہ صرف خاکساری سے کام لیا بلکہ یسوع سے مدد مانگنے میں ہمت بھی نہیں ہاری۔ اُس نے ایسا کیوں کِیا؟ یسوع پر ایمان رکھنے کی وجہ سے۔ یسوع اُس کے مضبوط ایمان کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔ حالانکہ اُنہوں نے اُس عورت کو بتایا تھا کہ اُنہیں ”صرف اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس بھیجا“ گیا ہے لیکن اُنہوں نے پھر بھی اُس عورت کی بیٹی میں سے بُرے فرشتے کو نکال دیا۔
فینیکی عورت نے یسوع سے مدد مانگتے وقت خاکساری ظاہر کی، ہمت نہیں ہاری اور اِس بات پر مضبوط ایمان ظاہر کِیا کہ یسوع اُس کی مدد کر سکتے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)
6. ہم فینیکی عورت کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
6 اگر ہم یہوواہ کی رہنمائی سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی خود میں وہی خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں جو اُس فینیکی عورت میں تھیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں بھی خاکسار بننا چاہیے؛ یہوواہ سے مدد مانگنے میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور مضبوط ایمان کا مالک بننا چاہیے۔ اگر ہم خاکسار ہوں گے تو ہی ہم یہوواہ سے مدد مانگنے میں ہمت نہیں ہاریں گے۔ اِس کے علاوہ ہمیں یسوع مسیح پر بھی مضبوط ایمان رکھنا چاہیے اور اُن لوگوں پر بھروسا کرنا چاہیے جن کے ذریعے یسوع ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔ (متی 24:45-47) یہوواہ اور یسوع خوشی سے اُن لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں جو یہ خوبیاں ظاہر کرتے ہیں۔ (یعقوب 1:5-7 پر غور کریں۔) آئیے اب دیکھتے ہیں کہ یہوواہ کس طرح سے ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ ہم یہوواہ کی رہنمائی سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے پطرس رسول، پولُس رسول اور بادشاہ داؤد سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔
پطرس کی طرح خدا کے کلام کا مطالعہ کرتے رہیں
7. یسوع نے پطرس کو کیا کرنے کو کہا لیکن پطرس کو اَور بھی کون سا کام کرنے کی ضرورت تھی؟ (عبرانیوں 5:14–6:1)
7 ذرا پطرس رسول کی مثال پر غور کریں۔ وہ اُن یہودیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے سب سے پہلے یسوع کو مسیح کے طور پر پہچان لیا تھا۔ پطرس جانتے تھے کہ یہوواہ یسوع کے ذریعے لوگوں کو ”ہمیشہ کی زندگی کی باتیں“ سکھا رہا ہے۔ (یوح 6:66-68) پھر جب یسوع مسیح مُردوں میں سے زندہ ہو گئے تو آسمان پر جانے سے پہلے اُنہوں نے پطرس سے کہا کہ وہ اُن کی ”چھوٹی بھیڑوں کو چرائیں۔“ (یوح 21:17) پطرس نے بڑی اچھی طرح سے اپنی ذمےداری نبھائی اور کلیسیا کے بہن بھائیوں کو تعلیم دی۔ یہوواہ نے تو پطرس کو دو خط لکھنے کے لیے اپنی پاک روح بھی دی جو بائبل کا حصہ بنے۔ لیکن اِن ذمےداریوں کو نبھانے کے علاوہ پطرس کو اَور کون سا کام کرنے کی ضرورت تھی؟ اُنہیں خود بھی روحانی کھانا کھانے یعنی خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے کی ضرورت تھی۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے پولُس کے لکھے خطوں کا مطالعہ کِیا جو اُس وقت پاک صحیفوں کا حصہ بن چُکے تھے۔ پطرس جانتے تھے کہ اِن خطوں میں ”کچھ ایسی باتیں ہیں جنہیں سمجھنا مشکل ہے۔“ (2-پطر 3:15، 16) لیکن وہ پھر بھی اُن باتوں کا مطالعہ کرتے رہے کیونکہ اُنہیں یقین تھا کہ یہوواہ اِنہیں سمجھنے اور اِن پر عمل کرنے میں اُن کی مدد کرے گا۔—عبرانیوں 5:14–6:1 کو پڑھیں۔
8. جب پطرس کو یہوواہ کی طرف سے ایک نئی ہدایت ملی تو اُنہوں نے کیا کِیا؟
8 پطرس یہوواہ پر مضبوط ایمان رکھتے تھے اِسی لیے وہ اُس کی طرف سے ملنے والی ہدایتوں پر عمل کرتے تھے۔ مثال کے طور پر ایک دفعہ جب پطرس شہر یافا میں تھے تو یہوواہ نے اُنہیں ایک رُویا دِکھائی جس میں اُس کے فرشتے نے پطرس کو کچھ ایسے جانور ذبح کرنے اور کھانے کا حکم دیا جو موسیٰ کی شریعت کے مطابق ناپاک تھے۔ یہ ہدایت سُن کر کوئی بھی یہودی چونک جاتا۔ اِسی لیے پطرس نے شروع میں کہا: ”مالک، مَیں یہ ہرگز نہیں کر سکتا! مَیں نے کبھی کوئی ناپاک اور حرام چیز نہیں کھائی۔“ اِس پر فرشتے نے اُن سے کہا کہ وہ ”اُن چیزوں کو ناپاک نہ کہیں جن کو خدا نے پاک کر دیا ہے۔“ (اعما 10:9-15) پطرس نے یہوواہ کی ہدایت پر عمل کِیا اور اپنی سوچ بدل لی۔ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ پطرس کے رُویا دیکھنے کے کچھ ہی وقت بعد تین آدمی اُن سے ملنے آئے جنہیں کُرنیلیُس نے بھیجا تھا۔ کُرنیلیُس غیرقوم سے تعلق رکھتے تھے۔ پطرس پہلے کبھی کسی غیریہودی شخص کے گھر نہیں گئے تھے کیونکہ یہودی غیرقوم کے لوگوں کو ناپاک سمجھتے تھے۔ (اعما 10:28، 29) لیکن جب یہوواہ نے پطرس پر یہ بات واضح کر دی کہ وہ چاہتا ہے کہ سب قوموں کے لوگ خوشخبری سنیں تو پطرس نے فوراً اپنی سوچ بدل لی اور یہوواہ کا کہنا مانا۔ (اَمثا 4:18) پطرس نے کُرنیلیُس اور اُن کے گھر میں موجود ہر شخص کو خوشخبری سنائی۔ اِس پر وہ سب یسوع پر ایمان لائے، اُنہیں یہوواہ کی طرف سے پاک روح ملی اور اُن سب نے بپتسمہ لے لیا۔ ذرا سوچیں کہ پطرس کو یہ دیکھ کر کتنی خوشی ہوئی ہوگی!—اعما 10:44-48۔
9. جب ہم اُن باتوں کا مطالعہ کرتے ہیں جنہیں سمجھنا ہمیں مشکل لگتا ہے تو ہمیں کن دو طریقوں سے فائدہ ہوتا ہے؟
9 پطرس کی طرح ہمیں بھی باقاعدگی سے خدا کے کلام کی بنیادی سچائیوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ لیکن ہمیں ٹھوس غذا کے لیے بھی اپنی بھوک بڑھانی چاہیے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں پاک کلام کی اُن سچائیوں کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے جنہیں سمجھنا ہمیں مشکل لگتا ہے۔ ہمیں خدا کے کلام کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے اور محنت کرنی چاہیے۔ کیوں؟ کیونکہ ایسا کرنے سے ہمیں کم از کم دو طریقوں سے فائدہ ہوگا۔ ایک فائدہ تو یہ کہ ہم یہوواہ کے بارے میں ایسی باتیں سیکھ جائیں گے جن سے ہمارے دل میں اُس کے لیے محبت اور احترام بڑھے گا۔ اور دوسرا فائدہ یہ کہ جب ہم اپنے آسمانی باپ کے بارے میں کوئی ایسی بات سیکھیں گے جو ہمیں پہلے نہیں پتہ تھی تو ہمارے دل میں اِسے دوسروں کو بتانے کی اَور زیادہ خواہش بڑھے گی۔ (روم 11:33؛ مُکا 4:11) لیکن پطرس کی مثال سے ہم ایک اَور بات بھی سیکھتے ہیں۔ جب ہمیں خدا کے کلام کی کسی آیت کے حوالے سے نئی وضاحت پتہ چلتی ہے تو ہمیں فوراً اپنی سوچ اور کاموں کو اُس کے مطابق ڈھال لینا چاہیے۔ تبھی یہوواہ آئندہ بھی ہماری رہنمائی کرتا رہے گا اور ہم اُس کے کام آ سکیں گے۔
پولُس کی طرح نئی شخصیت کو پہنتے رہیں
10. یہوواہ کو خوش کرنے کے لیے ہمیں کُلسّیوں 3:8-10 کے مطابق کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
10 اگر ہم یہوواہ کو خوش کرنا اور اُس سے رہنمائی پانا چاہتے ہیں تو ہمیں ’پُرانی شخصیت کو اُتار پھینکنے‘ اور ”نئی شخصیت“ کو پہننے کی ضرورت ہے۔ (کُلسّیوں 3:8-10 کو پڑھیں۔) ایسا کرنے کے لیے بہت وقت لگ سکتا ہے اور ہمیں بہت محنت کرنی پڑ سکتی ہے۔ اِس سلسلے میں پولُس کی مثال پر غور کریں۔ وہ چھوٹی عمر سے ہی یہوواہ کو خوش کرنے کے لیے بہت سخت محنت کر رہے تھے۔ (گل 1:14؛ فِل 3:4، 5) لیکن وہ خدا کے مقصد کے بارے میں صحیح علم نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی یہ سمجھتے تھے کہ یہوواہ کی عبادت کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ پولُس یسوع کے بارے میں سچائی نہیں جانتے تھے اور بہت مغرور بھی تھے جس کی وجہ سے اُن کی شخصیت میں کچھ ایسی باتیں تھیں جو یہوواہ کو پسند نہیں تھیں۔ پولُس نے تو خود اپنے بارے میں کہا کہ ایک وقت تھا جب وہ ”بدتمیز“ تھے۔—1-تیم 1:13۔
11. پولُس کو اپنی کس خامی سے لڑنے کے لیے سخت محنت کرنی پڑی؟
11 مسیحی بننے سے پہلے پولُس بہت جلدی غصے میں آ جاتے تھے۔ مثال کے طور پر اعمال کی کتاب میں بتایا گیا ہے کہ پولُس کو یسوع کے شاگردوں پر اِتنا غصہ تھا کہ وہ ”اُنہیں قتل کرنے کے درپے تھے۔“ (اعما 9:1) لیکن جب پولُس یسوع کے شاگرد بن گئے تو اُنہوں نے اپنے غصے کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت محنت کی اور وہ بہت ہی مہربان اور صبر کرنے والے شخص بن گئے۔ (اِفِس 4:22، 31) لیکن اِس کے بعد بھی پولُس سے کبھی کبھار غلطیاں ہو گئیں۔ مثال کے طور پر جب پولُس اور برنباس میں ایک بات کو لے کر اِختلاف ہو گیا تو پولُس غصے سے ”بھڑک اُٹھے۔“ (اعما 15:37-39) حالانکہ اُس موقعے پر پولُس نے وہ خوبیاں ظاہر نہیں کیں جو یہوواہ کو پسند ہیں لیکن اُنہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ یہوواہ کو خوش کرنے کے لیے اپنی خامیوں سے لڑتے رہے۔—1-کُر 9:27۔
12. کس چیز نے پولُس کی مدد کی تاکہ وہ اپنی پُرانی شخصیت کو اُتار پھینکیں؟
12 پولُس اِسی لیے پُرانی شخصیت کو اُتارنے اور نئی شخصیت کو پہننے کے قابل ہوئے کیونکہ وہ خاکسار تھے اور اپنی طاقت پر بھروسا نہیں کرتے تھے۔ (فِل 4:13) پطرس کی طرح پولُس نے بھی یہوواہ کی طاقت کے سہارے خود کو بدلا۔ (1-پطر 4:11) لیکن اِس کے بعد بھی کبھی کبھار پولُس سے غلطیاں ہو جاتی تھیں جس کی وجہ سے وہ بےحوصلہ ہو جاتے تھے۔ لیکن وہ جب بھی بےحوصلہ ہوتے تھے تو وہ اُن اچھی باتوں کے بارے میں سوچتے تھے جو اُن کے آسمانی باپ نے اُن کے لیے کی تھیں۔ اِس سے اُن کا یہ عزم مضبوط ہوتا تھا کہ وہ آئندہ بھی یہوواہ کو خوش کرنے کے لیے خود کو بدلتے رہیں گے۔—روم 7:21-25۔
13. ہم پولُس کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
13 ہمیں پولُس کی مثال پر عمل کرنا چاہیے۔ چاہے ہمیں یہوواہ کی خدمت کرتے ہوئے کتنے ہی سال ہو گئے ہوں، ہمیں پھر بھی اپنی پُرانی شخصیت کو اُتارتے رہنے اور نئی شخصیت کو پہنتے رہنے کے لیے سخت محنت کرنی چاہیے۔ لیکن اِس کے بعد بھی ہم سے غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر شاید ہمیں غصہ آ جائے یا ہم کسی سے دل دُکھانے والی بات کہہ جائیں۔ مگر جب بھی ایسا ہوتا ہے تو ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم کبھی بھی یہوواہ کو خوش نہیں کر پائیں گے۔ اِس کی بجائے ہمیں اپنی سوچ اور رویے کو بدلتے رہنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ (روم 12:1، 2؛ اِفِس 4:24) مگر ایسا کرتے وقت ہمیں یہ اہم بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہمیں خود میں بہتری لانے کے لیے یہوواہ سے رہنمائی حاصل کرنی ہوگی اور اُسے اچھی طرح سے جاننا ہوگا۔
داؤد کی طرح یہوواہ کی پناہ میں رہیں
14-15. یہوواہ کن طریقوں سے اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے؟ (زبور 27:5) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
14 خوش رہنے کے لیے ہمیں یہوواہ کے تحفظ کی بھی ضرورت ہے۔ لیکن یہوواہ کن طریقوں سے ہماری حفاظت کرتا ہے اور ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہمیں یہوواہ کا تحفظ ملے؟
15 بادشاہ داؤد کو اِس بات کا پکا یقین تھا کہ یہوواہ مشکل وقت میں اُن کی حفاظت کرے گا۔ (زبور 27:5 کو پڑھیں۔) لیکن یہوواہ آج اپنے بندوں کی حفاظت کیسے کرتا ہے؟ وہ اپنے بندوں کو ہر اُس شخص اور ہر اُس چیز سے محفوظ رکھتا ہے جو اُن کے ایمان کو تباہ کر سکتی ہے۔ یہوواہ نے اپنے بندوں سے وعدہ کِیا ہے کہ اُن کے خلاف بنایا جانے والا کوئی بھی ہتھیار کامیاب نہیں ہوگا۔ (زبور 34:7؛ یسع 54:17) بھلے ہی شیطان، بُرے فرشتے اور ہمیں اذیت دینے والے لوگ بہت طاقتور ہیں لیکن وہ ہمیں کبھی بھی ابدی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہ لوگ تو اگر ہماری جان بھی لے لیں گے تو یہوواہ ہمیں دوبارہ زندہ کر دے گا۔ (1-کُر 15:55-57؛ مُکا 21:3، 4) یہوواہ اُس وقت بھی ہماری مدد کرتا ہے جب ہم اپنی پریشانیوں سے لڑ رہے ہوتے ہیں تاکہ ہم ہمت ہار کر اُس سے دُور نہ ہو جائیں۔ (اَمثا 12:25؛ متی 6:27-29) ہمارے آسمانی باپ نے ہماری مدد کرنے کے لیے ہمیں مسیحی بہن بھائی دیے ہیں جو ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ اُس نے ہمیں کلیسیا میں بزرگ بھی دیے ہیں جو ہمارے ایمان کو مضبوط رکھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ (یسع 32:1، 2) جب ہم عبادت میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو ہم اَور بھی ایسے طریقوں کے بارے میں جان جاتے ہیں جن کے ذریعے یہوواہ ہماری مدد کرتا اور ہماری حفاظت کرتا ہے۔—عبر 10:24، 25۔
ایک بہن یہوواہ سے تحفظ پانے کے لیے اپنے ہمایمانوں کے ساتھ مل کر عبادتگاہ میں یہوواہ کی عبادت کر رہی ہے۔ (پیراگراف نمبر 14-15 کو دیکھیں۔)
16. یہوواہ نے کس طرح سے داؤد کی حفاظت کی؟
16 آئیے دیکھیں کہ یہوواہ نے داؤد کی حفاظت کیسے کی۔ جب داؤد نے یہوواہ کا کہنا مانا تو یہوواہ نے اچھے فیصلے لینے میں اُن کی مدد کی۔ اِس طرح داؤد اُن بُرے نتیجوں کا سامنا کرنے سے بچ گئے جو گُناہ کرنے والے لوگوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ (اَمثال 5:1، 2 پر غور کریں۔) لیکن جب داؤد نے یہوواہ کے اصولوں کو نظرانداز کر کے بُرے فیصلے لیے تو اِس کا انجام بُرا ہوا اور یہوواہ نے اُنہیں اِس سے نہیں بچایا۔ (2-سمو 12:9، 10) مگر جب داؤد کو اپنی غلطیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے بُرے سلوک کی وجہ سے تکلیف اُٹھانی پڑی تو پھر اُنہوں نے کیا کِیا؟ اُنہوں نے کُھل کر دُعا میں یہوواہ کو اپنی ساری پریشانیاں بتائیں۔ اِس پر یہوواہ نے داؤد کو تسلی دیتے ہوئے اُنہیں یقین دِلایا کہ وہ اُن سے محبت کرتا ہے اور اُن کا خیال رکھے گا۔—زبور 23:1-6۔
17. ہم داؤد کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
17 داؤد کی طرح ہم بھی اچھے فیصلے کرنے کے لیے یہوواہ سے دُعا میں رہنمائی مانگ سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم یہوواہ کے اصولوں پر نہیں چلیں گے تو وہ ہمیں اُن بُرے نتیجوں سے نہیں بچائے گا جو بُرا فیصلہ کرنے کی وجہ سے نکلیں گے۔ (گل 6:7، 8) لیکن کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں کسی اَور وجہ سے تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے حالانکہ ہم نے یہوواہ کا کوئی حکم نہیں توڑا ہوتا۔ تو اُس مشکل وقت میں ہم یہوواہ کو اپنی ساری پریشانیاں بتا سکتے ہیں اور دُعا میں اُس سے مدد مانگ سکتے ہیں۔ پھر یہوواہ ہمیں اپنی محبت کا احساس دِلائے گا اور ہمیں ایسا اِطمینان دے گا جو ہمارے دل اور سوچ کو محفوظ رکھے گا۔—فِل 4:6، 7۔
یہوواہ کی رہنمائی پر بھروسا کرتے رہیں
18. (الف)آج دُنیا میں بہت سے لوگ خدا سے رہنمائی حاصل کرنے کو کیسا خیال کرتے ہیں؟ (ب)ہم خدا سے رہنمائی حاصل کرتے رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
18 سن 2026ء کی سالانہ آیت ہے: ”وہ لوگ خوش رہتے ہیں جن کو احساس ہے کہ اُنہیں خدا کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔“ آج ہمیں یسوع کی اِس بات پر پہلے سے بھی زیادہ عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ آج ہم ایسے لوگوں کے بیچ رہ رہے ہیں جو خوش نہیں ہیں۔ یہ لوگ اِس لیے خوش نہیں ہیں کیونکہ اِن میں سے بہت سے اِس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ اُنہیں اپنی زندگی میں خدا اور اُس کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اِس کے علاوہ کئی لوگ خدا کے وجود کو تو مانتے ہیں لیکن وہ اپنے طریقے سے اُس کی عبادت کرنا چاہتے ہیں۔ اور کئی لوگ تو ایسے ہیں جو اِنسانوں کی رہنمائی پر بھروسا کرتے ہیں۔ ہمیں اِن لوگوں کے بُرے اثر سے بچنا چاہیے۔ ایسا کرنے کے لیے ہمیں یہوواہ کے کلام کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے، نئی شخصیت کو پہنتے رہنا چاہیے اور یہوواہ کے حکم ماننے سے اُس کے تحفظ میں رہنا چاہیے۔
ہمیں یہوواہ سے رہنمائی حاصل کرتے رہنے کے لیے اُس کے بارے میں سیکھتے رہنا چاہیے، اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں جو اُسے پسند ہیں اور اُس کے تحفظ میں رہنا چاہیے۔ (پیراگراف نمبر 18 کو دیکھیں۔)a
گیت نمبر 162 مجھے خدا کی ضرورت ہے
a تصویر کی وضاحت: وہی بہن جو پہلے صفحے پر دی گئی تصویر میں دِکھائی گئی ہے، یہوواہ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے یہ کام کر رہی ہے: وہ ”مینارِنگہبانی“ کا مطالعہ کر رہی ہے، دوسروں کے لیے مہربانی دِکھا رہی ہے جو کہ نئی شخصیت میں پائی جانے والی ایک خوبی ہے اور وہ کلیسیا کے بزرگوں سے مدد لے رہی ہے جو بائبل سے اُس کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔