یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م26 جنوری ص.‏ 14-‏19
  • ہمیں فدیے کی ضرورت کیوں ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہمیں فدیے کی ضرورت کیوں ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • فدیے کی وجہ سے ہمیں اپنے گُناہوں سے معافی ملتی ہے
  • فدیے کی وجہ سے ہمیں گُناہ سے پاک ہونے کی اُمید ملتی ہے
  • فدیے کی وجہ سے ہم پھر سے یہوواہ کے دوست بن سکتے ہیں
  • فدیے سے یہوواہ کی محبت اور رحم‌دلی ظاہر ہوتی ہے
  • فدیے کے ذریعے ہمیں کیا پتہ چلتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • آپ فدیے کے لیے قدر کیسے دِکھائیں گے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • ہمیں یہوواہ کی محبت سے کون سے فائدے ہوئے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ہم یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کی قدر کیوں کرتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
م26 جنوری ص.‏ 14-‏19

16-‏22 مارچ 2026ء

گیت نمبر 20 ایک بیش‌قیمت تحفہ

ہمیں فدیے کی ضرورت کیوں ہے؟‏

‏”‏مجھے اِس جسم سے کون بچائے گا جو اِس طرح مر رہا ہے؟“‏‏—‏روم 7:‏24‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

فدیے کی وجہ سے یہوواہ ہمارے گُناہوں کو کیسے معاف کرتا ہے، ہم اُس کے دوست کیسے بن سکتے ہیں اور ہمیں مستقبل میں گُناہ سے پاک ہونے کی اُمید کیسے ملتی ہے۔‏

1-‏2.‏ ہم کس بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اِس بوجھ سے آزاد ہونے کے لیے ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت کیوں ہے؟ (‏رومیوں 7:‏22-‏24‏)‏ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

فرض کریں کہ ایک عمارت گِر گئی ہے اور ایک آدمی اِس کے ملبے کے نیچے دبا ہوا ہے۔ وہ بالکل ہل جل نہیں سکتا اور کسی کی مدد کے بغیر وہاں سے نکل نہیں سکتا۔ اِس لیے وہ زور زور سے مدد کے لیے پکار رہا ہے تاکہ کوئی نہ کوئی اُس کی آواز سُن کر اُسے بچانے کے لیے آ جائے۔‏

2 ہم سب کی صورتحال بھی اِس آدمی جیسی ہے۔ وہ کیسے؟ جب آدم نے یہوواہ کی نافرمانی کی تو وہ گُناہ‌گار بن گئے۔ آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہم سب بھی گُناہ‌گار ہیں۔ ہم سبھی گُناہ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے مثال میں بتایا گیا آدمی ملبے کے نیچے دبا ہوا تھا۔ اُس آدمی کی طرح ہم بھی کسی کی مدد کے بغیر آزاد نہیں ہو سکتے۔ پولُس نے رومیوں کے خط میں صاف طور پر بتایا کہ گُناہ‌گار ہونے کی وجہ سے ہم کتنے بے‌بس ہیں۔ ‏(‏رومیوں 7:‏22-‏24 کو پڑھیں۔)‏ پھر اُنہوں نے آگے بہت مِنت بھرے انداز میں کہا:‏ ”‏مجھے .‏ .‏ .‏ کون بچائے گا؟“‏ پولُس گُناہ کے بوجھ تلے دبے تھے جو اُنہیں آدم سے ملا تھا اور جس کا انجام موت تھا۔ (‏روم 6:‏23‏)‏ ہم بھی اِسی مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہمیں کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ہمیں گُناہ اور موت سے بچا لے۔‏

ایک آدمی زخمی حالت میں عمارت کے ملبے کے نیچے دبا ہوا ہے اور وہ مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‏

جس طرح عمارت کے ملبے میں دبے ہوئے آدمی کو وہاں سے نکلنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ اُسی طرح ہم گُناہ کے بوجھ تلے دبے ہیں اور اِس سے آزاد ہونے کے لیے ہمیں بھی مدد کی ضرورت ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 1-‏2 کو دیکھیں۔)‏


3.‏ فدیے کی وجہ سے ہمارے لیے کیا ممکن ہوا؟‏

3 سچ ہے کہ پولُس نے بتایا کہ گُناہ کی وجہ سے ہم بڑی مشکل صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن اُنہوں نے یہوواہ کی طرف سے ملنے والی اُمید کے بارے میں بھی بتایا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں خدا کا شکر کرتا ہوں جس نے ہمارے مالک یسوع مسیح کے ذریعے مجھے بچایا ہے!‏“‏ (‏روم 7:‏25‏)‏ اِس آیت میں پولُس فدیے کے بارے میں بات کر رہے تھے۔‏a فدیے کی وجہ سے ہی ہمارے لیے (‏1)‏اپنے گُناہوں سے معافی حاصل کرنا، (‏2)‏گُناہ سے پاک ہو جانا اور (‏3)‏یہوواہ کے ساتھ دوستی کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔ اِس مضمون میں ہم اِن تینوں باتوں پر غور کریں گے۔ ایسا کرنے سے ہمارے دل میں یہوواہ کے لیے اَور زیادہ محبت بڑھے گی جس نے ہمیں ”‏اُمید“‏ دی ہے۔ (‏روم 15:‏13‏)‏ اِس کے علاوہ ہمارے دل میں یسوع کے لیے بھی اَور زیادہ قدر بڑھے گی جنہوں نے ”‏فدیہ دے کر ہمیں رِہائی یعنی گُناہوں کی معافی دِلائی[‏ہے]‏۔“‏—‏کُل 1:‏14‏۔‏

فدیے کی وجہ سے ہمیں اپنے گُناہوں سے معافی ملتی ہے

4-‏5.‏ ہم سبھی کو فدیے کی ضرورت کیوں ہے؟ (‏واعظ 7:‏20‏)‏

4 عیب‌دار ہونے کی وجہ سے ہم سبھی اپنی باتوں اور کاموں سے گُناہ کر بیٹھتے ہیں۔ اِس لیے ہم سب کو یہوواہ سے معافی پانے کے لیے فدیے کی ضرورت ہے۔ ‏(‏واعظ 7:‏20 کو پڑھیں۔)‏ کچھ گُناہ بہت بڑے ہوتے ہیں جیسے کہ زِناکاری اور قتل جیسے گُناہ۔ موسیٰ کی شریعت میں تو اِن گُناہوں کی سزا موت ہوتی تھی۔ (‏احبا 20:‏10؛ گن 35:‏30، 31)‏ لیکن بہت سے گُناہ اِتنے بڑے نہیں ہوتے۔ مگر بھلے ہی یہ گُناہ بڑے نہ ہوں لیکن یہ پھر بھی گُناہ ہی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ذرا داؤد کی بات پر غور کریں جنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں محتاط رہوں گا تاکہ اپنی زبان سے گُناہ نہ کروں۔“‏ (‏زبور 39:‏1‏)‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم سے باتوں ہی باتوں میں بھی گُناہ ہو سکتا ہے۔—‏یعقو 3:‏2‏۔‏

5 ذرا کچھ ایسی باتوں اور کاموں کے بارے میں سوچیں جو آپ نے ماضی میں کیے تھے۔ کیا آپ نے کبھی کوئی ایسی بات کہی جس کے بارے میں بعد میں آپ نے سوچا کہ کاش آپ نے وہ بات نہ کہی ہوتی؟ یا کیا کبھی آپ نے کوئی ایسا کام کِیا جس پر بعد میں آپ کو بہت پچھتاوا ہوا؟ یقیناً ہم سبھی مانیں گے کہ ہم سے کبھی نہ کبھی ایسا ہوا ہے۔ دراصل ”‏اگر ہم کہتے ہیں کہ ”‏ہم نے گُناہ نہیں کِیا“‏ تو ہم خود کو دھوکا دے رہے ہیں اور ہم میں سچائی نہیں ہے۔“‏—‏1-‏یوح 1:‏8‏۔‏

6-‏7.‏ یہوواہ کس بنیاد پر ہمارے گُناہ معاف کرتا ہے؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

6 یہوواہ فدیے کی بنیاد پر ہمارے گُناہوں کو معاف کرتا ہے۔ (‏اِفِس 1:‏7‏)‏ لیکن اِس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ ہمارے گُناہوں کو نظرانداز کر دیتا ہے یا اُسے اِن سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دراصل یہوواہ کو گُناہ سے سخت نفرت ہے۔ (‏یسع 59:‏2‏)‏ یہوواہ اِنصاف‌پسند خدا ہے اِس لیے اُس نے اپنے اِنصاف کے معیاروں کو ذہن میں رکھ کر فدیے کا بندوبست کِیا تاکہ وہ ہمارے گُناہوں کو معاف کر سکے۔‏

7 یہوواہ نے بنی‌اِسرائیل کو جو شریعت دی تھی، اُس میں اُس نے اُن سے کہا تھا کہ وہ اپنے گُناہوں کی معافی کے لیے جانوروں کی قربانیاں پیش کریں۔ (‏احبا 4:‏27-‏31؛ 17:‏11)‏ یہ قربانیاں اُس بڑی قربانی کی طرف اِشارہ کرتی تھیں جو یسوع نے اِنسانوں کے لیے دینی تھی اور جس کی وجہ سے اِنسانوں کو بہت فائدے ہونے تھے۔ یسوع کی قربانی کی بنیاد پر یہوواہ نے اِنسانوں کے گُناہوں کو معاف کرنا تھا۔ پولُس یسوع کی قربانی کی اہمیت کو اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔ اِسی لیے جب اُنہوں نے کُرنتھس کے مسیحیوں سے کہا کہ اُن لوگوں نے ماضی میں کون سے بُرے کام کیے تھے تو اِس کے بعد اُنہوں نے کہا:‏ ”‏خدا نے آپ کو مالک یسوع مسیح کے نام سے اور اپنی پاک روح سے پاک صاف اور مخصوص کِیا ہے اور نیک قرار دیا ہے۔“‏—‏1-‏کُر 6:‏9-‏11‏۔‏

ایک اِسرائیلی میاں بیوی اپنے بیٹے کے ساتھ ہیکل میں ہیں اور وہ کاہن کو قربانی کے لیے جانور دے رہے ہیں۔‏

بنی‌اِسرائیل اپنے گُناہوں کے کفارے کے لیے یہوواہ کے حضور جانوروں کی قربانیاں پیش کرتے تھے۔ اِن قربانیوں سے ظاہر ہوا کہ ہمیں یسوع کی قربانی کی ضرورت تھی تاکہ ہمارے گُناہ معاف ہو سکیں اور ہمیں برکتیں مل سکیں۔ (‏پیراگراف نمبر 6-‏7 کو دیکھیں۔)‏


8.‏ آپ اِس سال مسیح کی موت کی یادگاری تقریب سے پہلے والے ہفتوں میں کس بات پر غور کر سکتے ہیں؟‏

8 اِس سال مسیح کی موت کی یادگاری تقریب سے پہلے والے ہفتوں میں اِس بات پر غور کریں کہ یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی سے آپ کو ذاتی طور پر کیا فائدہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر فدیے کی وجہ سے آپ کو اپنے ماضی کے اُن گُناہوں کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے جن سے آپ نے توبہ کر لی ہے۔ لیکن کیا آپ کو ابھی بھی اِس بات کو تسلیم کرنا مشکل لگ رہا ہے کہ یہوواہ نے آپ کو معاف کر دیا ہے؟ شاید آپ نے خود سے کہا ہو:‏ ”‏یہوواہ تو مجھے معاف کر سکتا ہے لیکن مَیں خود کو کبھی معاف نہیں کر سکتا۔“‏ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو اِس بات کو یاد رکھیں:‏ معاف کرنا یہوواہ کا کام ہے اور اُس نے اپنے بیٹے کو یہ اِختیار دیا ہے کہ وہ ہمارا اِنصاف کرے۔ اُس نے نہ تو آپ کو اور نہ ہی کسی اَور اِنسان کو یہ فیصلہ کرنے کا اِختیار دیا ہے کہ کس کو یہوواہ کی طرف سے معافی ملنی چاہیے اور کس کو نہیں۔ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏اگر ہم روشنی میں چل رہے ہیں جس طرح[‏یہوواہ]‏روشنی میں ہے تو .‏ .‏ .‏ اُس کے بیٹے یسوع کا خون ہمیں سب گُناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔“‏ (‏1-‏یوح 1:‏6، 7‏)‏ یہ بائبل کی بہت اہم سچائی ہے اور اِس سچائی پر بھی ہم اُتنا ہی پکا بھروسا رکھ سکتے ہیں جتنا ہم بائبل کی دوسری سچائیوں پر رکھتے ہیں۔ فدیے کی بنیاد پر یہوواہ ہمارے لیے رحم دِکھاتا ہے اور ہمیں ”‏معاف کرنے کو تیار رہتا ہے۔“‏—‏زبور 86:‏5‏۔‏

فدیے کی وجہ سے ہمیں گُناہ سے پاک ہونے کی اُمید ملتی ہے

9.‏ بائبل میں لفظ ”‏گُناہ“‏ کن باتوں کی طرف اِشارہ کرتا ہے؟ (‏زبور 51:‏5‏)‏

9 بائبل میں لفظ ”‏گُناہ“‏ کا اِشارہ صرف غلط کاموں کی طرف ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ ہماری عیب‌دار حالت کی طرف بھی اِشارہ کرتا ہے۔ آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہم سبھی گُناہ کی حالت میں پیدا ہوتے ہیں۔ ‏(‏زبور 51:‏5 کو پڑھیں۔)‏ گُناہ‌گار ہونے کی وجہ سے ہم نہ صرف غلط کام کر بیٹھتے ہیں بلکہ اِس کی وجہ سے ہمارے جسم میں ایسے نقص بھی آ گئے ہیں جن کی وجہ سے ہم بیمار ہوتے، بوڑھے ہوتے اور مر جاتے ہیں۔ اِسی وجہ سے تو کچھ ننھے بچے بھی بیمار ہوتے اور مر جاتے ہیں حالانکہ اُنہوں نے کوئی غلط کام نہیں کِیا ہوتا۔ اِس کے علاوہ صرف غلط کام کرنے والے لوگوں پر ہی مصیبتیں اور موت نہیں آتی بلکہ اچھے لوگوں پر بھی آتی ہے۔‏

10.‏ گُناہ کرنے کے بعد آدم اور حوّا کیسا محسوس کرنے لگے؟‏

10 ذرا سوچیں کہ گُناہ کرنے کے بعد آدم اور حوّا کیسا محسوس کرنے لگے۔ گُناہ نے اُن کے احساسات پر بہت بُرا اثر ڈالا۔ یہوواہ سے بغاوت کرنے کے فوراً بعد اُن کا ضمیر اُنہیں کوسنے لگا۔ (‏روم 2:‏15‏)‏ پہلی دفعہ آدم اور حوّا میں مایوسی، شرمندگی، پریشانی اور ڈر جیسے احساسات پیدا ہوئے۔ اُنہیں اپنے کیے پر اِتنی شرمندگی ہوئی کہ وہ اپنے جسموں کو ڈھانکنے لگے اور مُجرموں کی طرح خود کو یہوواہ کی نظروں سے چھپانے لگے۔ (‏پید 3:‏7، 8‏)‏ اُنہیں اِن بُرے احساسات سے مرتے دم تک لڑنا پڑا۔—‏پید 3:‏16-‏19‏۔‏

11.‏ گُناہ‌گار ہونے کی وجہ سے ہم کیسا محسوس کرتے ہیں؟‏

11 گُناہ نے ہمارے احساسات پر بھی ویسا ہی اثر ڈالا ہے جیسا اِس نے آدم اور حوّا پر ڈالا تھا۔ اِسی لیے ہم میں بھی دُکھ، پریشانی اور مایوسی جیسے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ آدم اور حوّا کے گُناہ کی وجہ سے ہم ”‏فضول زندگی کے تابع“‏ ہو گئے ہیں۔ (‏روم 8:‏20‏)‏ اِسی لیے چاہے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور مشکلوں سے بچنے کی جتنی بھی کوشش کر لیں، ہمیں ہمیشہ ایسے مسئلوں کا سامنا رہے گا جنہیں ہم اپنی طاقت سے حل نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر آج بہت سی حکومتیں زمین کو صاف ستھرا رکھنے، ظلم اور جنگوں کو ختم کرنے اور لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ لیکن وہ پھر بھی اِن مسئلوں کو حل نہیں کر سکیں۔ مگر فدیے کی وجہ سے ہمیں پکی اُمید ملی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ کون سی اُمید ہے۔‏

12.‏ فدیے کی وجہ سے ہمیں کون سی اُمید ملی ہے؟‏

12 فدیے کی وجہ سے ہمیں یہ اُمید ملی ہے کہ ”‏[‏مخلوقات]‏تباہی کی غلامی سے آزاد“‏ ہو جائیں۔ (‏روم 8:‏21‏)‏ اِس کا مطلب ہے کہ جب نئی دُنیا میں اِنسان فدیے کی وجہ سے گُناہ سے پاک ہو جائیں گے تو پھر کوئی بھی شخص بیمار نہیں ہوگا۔ پھر کبھی بھی کسی کو مایوسی، شرمندگی، پریشانی اور ڈر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اِس کے علاوہ نئی دُنیا میں یسوع مسیح پوری زمین پر حکمرانی کریں گے جو کہ ’‏امن کے شہزادے‘‏ ہیں اور جنہوں نے ہمارے لیے فدیہ ادا کِیا ہے۔ وہ اُن مسئلوں کو حل کرنے میں اِنسانوں کی مدد کریں گے جو اِنسان اپنی طاقت سے حل نہیں کر سکتے۔—‏یسع 9:‏6، 7‏۔‏

13.‏ آپ اِس سال مسیح کی موت کی یادگاری تقریب سے پہلے والے ہفتوں میں اَور کس بات پر غور کر سکتے ہیں؟‏

13 ذرا سوچیں کہ نئی دُنیا میں جب آپ گُناہ سے پاک ہو جائیں گے تو آپ کی زندگی کیسی ہوگی۔ اُس وقت آپ بہت تندرست ہوں گے اور جب آپ ہر صبح اپنی آنکھیں کھولیں گے تو آپ بہت تازہ‌دم محسوس کریں گے۔ آپ کو اِس بات کی پریشانی نہیں ہوگی کہ آپ اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ کیسے بھریں گے۔ آپ کے دل میں یہ ڈر بھی نہیں رہے گا کہ کہیں آپ کے عزیز بیمار یا فوت نہ ہو جائیں۔ ہمیں تو ابھی بھی اپنی اِس شان‌دار اُمید پر سوچ بچار کرنے سے بہت سکون مل سکتا ہے۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ہماری اُمید ”‏ایک لنگر کی طرح ہے۔ یہ مضبوط اور قابلِ‌بھروسا ہے“‏ اور ہمیں اِسے مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے۔ (‏عبر 6:‏18، 19‏)‏ جس طرح ایک لنگر کشتی کو ڈگمگانے نہیں دیتا اُسی طرح ہماری اُمید ہمیں مشکلوں میں ڈگمگانے نہیں دیتی اور ہمارے ایمان کو مضبوط رکھنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ ہم اِس بات کا پورا یقین رکھ سکتے ہیں کہ اگر ہم لگن سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہیں گے تو وہ ہمیں اِس کا اجر ضرور دے گا۔ (‏عبر 11:‏6‏)‏ ہم یہوواہ کے بہت شکرگزار ہیں کہ اُس نے ہمارے لیے اپنے بیٹے کو قربان کِیا کیونکہ اُس کے بیٹے کے فدیے کی وجہ سے ہمیں ابھی بھی تسلی ملتی ہے اور مستقبل میں اچھی زندگی کی اُمید بھی ملتی ہے۔‏

فدیے کی وجہ سے ہم پھر سے یہوواہ کے دوست بن سکتے ہیں

14.‏ آدم اور حوّا کے گُناہ کرنے کے بعد یہوواہ کے ساتھ ہمارے رشتے پر کیا اثر پڑا اور کیوں؟‏

14 آدم اور حوّا کے گُناہ کرنے کے بعد اِنسان اپنے خالق سے دُور ہو گئے، یہاں تک کہ اُن کا اُس سے رشتہ ٹوٹ گیا۔ (‏روم 8:‏7، 8؛‏ کُل 1:‏21‏)‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ کی ’‏آنکھیں ایسی پاک ہیں کہ وہ بدی کو دیکھ نہیں سکتا۔‘‏ (‏حبق 1:‏13)‏ تو گُناہ نے ہمارے اور خدا کے بیچ ایک دیوار کھڑی کر دی تھی اور ہم میں سے کوئی بھی شخص اُس وقت تک خدا سے دوستی نہیں کر سکتا تھا جب تک یہ دیوار گِر نہ جاتی۔ یسوع کے فدیے کے ذریعے یہ دیوار گِر گئی جس کی وجہ سے ہماری پھر سے خدا کے ساتھ دوستی ہو گئی۔‏

15.‏ یسوع کی قربانی کے ذریعے اِنسان پھر سے یہوواہ کے دوست کیسے بن سکتے تھے؟‏

15 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یسوع مسیح ”‏ہمارے گُناہوں کے لیے کفارے کی قربانی“‏ ہیں۔ (‏1-‏یوح 2:‏2‏)‏ لیکن یسوع کی قربانی کے ذریعے اِنسان پھر سے یہوواہ کے دوست کیسے بن سکتے تھے؟ یسوع کی قربانی یہوواہ کے اِنصاف کے معیاروں پر پورا اُترتی تھی اور اِس قربانی کی بنیاد پر یہوواہ اِنسانوں کو پھر سے اپنے دوستوں کے طور پر قبول کر سکتا تھا۔ (‏روم 3:‏23-‏26‏)‏ یہوواہ کو پورا یقین تھا کہ اُس کا بیٹا اِنسانوں کے لیے اپنی جان فدیے کے طور پر دے گا۔ (‏یسع 46:‏10‏)‏ اِسی وجہ سے یہوواہ اُن لوگوں کو بھی نیک ”‏قرار“‏ دے سکتا تھا جو یسوع کی موت سے پہلے وفاداری سے اُس کی خدمت کر رہے تھے۔ (‏پید 15:‏1،‏ 6‏)‏ فدیے کی وجہ سے اِنسانوں کے لیے خدا سے صلح کرنا ممکن ہو گیا۔‏

16.‏ آپ مسیح کی موت کی یادگاری تقریب سے پہلے والے ہفتوں میں اَور کس بات پر غور کر سکتے ہیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

16 ذرا سوچیں کہ یہوواہ کے ساتھ صلح کرنے کی وجہ سے آپ کو کتنی برکتیں ملی ہیں۔ مثال کے طور پر اب آپ یہوواہ کو باپ کہہ کر بُلا سکتے ہیں جیسے کہ یسوع مسیح نے ہمیں سکھایا تھا۔ (‏متی 6:‏9‏)‏ اِس کے علاوہ یہوواہ آپ کا دوست بھی بن گیا ہے۔ لیکن جب ہم اپنے آسمانی باپ اور دوست یہوواہ سے بات کرتے ہیں تو ہمیں بڑے ہی احترام اور خاکساری سے اُس سے بات کرنی چاہیے۔ کیوں؟ کیونکہ گُناہ‌گار ہونے کی وجہ سے ہم تو یہوواہ سے دوستی کر ہی نہیں سکتے تھے۔ یہ تو یہوواہ کی مہربانی ہے کہ اُس نے ہم سے پھر سے دوستی کرنے کے لیے اپنے بیٹے کو قربان کر دیا۔ (‏کُل 1:‏19، 20‏)‏ صرف فدیے کی وجہ سے ہی ہم گُناہ‌گار ہونے کے باوجود یہوواہ سے دوستی کر پائے ہیں۔‏

کچھ رومی فوجی یسوع کو سُولی دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ دو فوجی یسوع کو سُولی کے پاس لے جا رہے ہیں جبکہ ایک اَور فوجی نے ہاتھ میں کیل اور ہتھوڑی پکڑی ہوئی ہے۔‏

صرف یسوع کی قربانی کی بنیاد پر ہی اِنسانوں کی یہوواہ کے ساتھ پھر سے دوستی ہو سکتی تھی۔ (‏پیراگراف نمبر 16 کو دیکھیں۔)‏


فدیے سے یہوواہ کی محبت اور رحم‌دلی ظاہر ہوتی ہے

17.‏ فدیے کے بندوبست سے کیسے ثابت ہوتا ہے کہ یہوواہ بہت ہی رحم‌دل ہے؟ (‏اِفِسیوں 2:‏4، 5‏)‏

17 جب آدم اور حوّا نے گُناہ کِیا تھا تو یقیناً شیطان نے سوچا ہوگا کہ اب یہوواہ زمین اور اِنسانوں کے لیے اپنے مقصد کو پورا نہیں کر پائے گا۔ لیکن یہ اُس کی بھول تھی۔ یہوواہ نے ہم پر رحم کرتے ہوئے ہمارے لیے فدیے کا بندوبست کِیا اور ہمیں زندہ کِیا ”‏حالانکہ ہم اپنی خطاؤں کی وجہ سے مُردہ تھے۔“‏ ‏(‏اِفِسیوں 2:‏4، 5 کو پڑھیں۔)‏ آج بہت سے لوگوں کی صورتحال بالکل ویسی ہی ہے جیسی اِس مضمون میں بتائے گئے اُس شخص کی تھی جو ملبے کے نیچے دب گیا تھا۔ جس طرح وہ شخص مدد کے لیے پکار رہا تھا اُسی طرح گُناہ کے بوجھ تلے دبے ہوئے بہت سے نیک دل لوگ مدد کے لیے یہوواہ کو پکار رہے ہیں۔ (‏اعما 13:‏48‏)‏ ہمارا رحم‌دل خدا اِن لوگوں کی مدد کرنے کے لیے بادشاہت کا پیغام اُن تک پہنچا رہا ہے تاکہ وہ اُسے اور اُس کے بیٹے یسوع کو جانیں۔—‏یوح 17:‏3‏۔‏

18.‏ فدیے کے بندوبست پر سوچ بچار کرتے وقت ہمیں کس اہم بات کو یاد رکھنا چاہیے؟‏

18 جب ہم اِس بارے میں سوچ بچار کرتے ہیں کہ فدیے کی وجہ سے ہمیں کتنے فائدے ہوئے ہیں تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہوواہ نے فدیے کا بندوبست صرف ہمیں نجات دِلانے کے لیے ہی نہیں کِیا تھا بلکہ اِس کے پیچھے ایک اَور بڑی وجہ تھی۔ یاد کریں کہ باغِ‌عدن میں شیطان نے یہوواہ پر جھوٹے اِلزام لگائے تھے۔ (‏پید 3:‏1-‏5،‏ 15‏)‏ تو فدیے کے ذریعے یہوواہ نے اپنے نام کو پاک ثابت کِیا اور یہ بھی ثابت کِیا کہ شیطان نے اُس پر جو بھی اِلزام لگائے ہیں، وہ جھوٹے ہیں۔ فدیے کے ذریعے یہوواہ نے ہمیں گُناہ اور موت سے نجات دِلائی جس سے ثابت ہوا کہ یہوواہ کتنا محبت کرنے والا خدا ہے۔ اپنی عظیم رحمت کی وجہ سے ہی یہوواہ نے ہم گُناہ‌گار اِنسانوں کو یہ موقع دیا ہے کہ ہم شیطان کے اُن اِلزامات کو جھوٹا ثابت کریں جو اُس نے یہوواہ پر لگائے ہیں۔ (‏اَمثا 27:‏11‏)‏ بے‌شک یہوواہ نے فدیے کا بندوبست کرنے سے ہمارے لیے بڑی محبت دِکھائی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم فدیے کے لیے شکرگزاری کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟ اِس سوال کا جواب ہمیں اگلے مضمون میں ملے گا۔‏

فدیے کی وجہ سے ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

  • ہمیں اپنے گُناہوں سے معافی کیسے ملتی ہے؟‏

  • ہمیں گُناہ سے پاک ہونے کی اُمید کیسے ملتی ہے؟‏

  • ہماری پھر سے یہوواہ کے ساتھ دوستی کیسے ہوئی؟‏

گیت نمبر 19 ایک مُقدس رات

a لفظ کی وضاحت:‏ ”‏فدیہ“‏ وہ قیمت ہوتی ہے جو کسی کو آزاد کرانے کے لیے دی جاتی ہے۔ یسوع نے اپنی جان قربان کر کے وہ فدیہ یا قیمت ادا کی جس کے ذریعے وفادار اِنسانوں کو گُناہ اور موت کی غلامی سے آزادی ملتی ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں