سوالی بکس
▪ اگر ایک جوڑا اپنی شادی کے لئے کنگڈم ہال استعمال کرنا چاہتا ہے تو اُنہیں بزرگوں سے کن معاملات پر باتچیت کرنی چاہئے؟
بائبل اُصولوں کے مطابق کی جانے والی شادیاں یہوواہ خدا کو جلال دیتی ہیں۔ یہ بات خاص طور پر کنگڈم ہال میں ہو نے والی شادیوں کے بارے میں سچ ہے۔ کیونکہ یہاں منعقد کئے جانے والے پروگراموں کے بارے میں لوگ یہی سوچتے ہیں کہ یہ تنظیم کی ہدایت کے مطابق انجام پاتے ہیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ”سب باتیں شایستگی اور قرینہ کے ساتھ عمل میں آئیں“ تو یہ مناسب ہوگا کہ کنگڈم ہال میں شادی کرتے وقت تمام معاملات پر مقامی بزرگوں کے ساتھ باتچیت کریں۔—۱-کر ۱۴:۴۰۔
کنگڈم ہال میں شادی کے خواہشمند جوڑے کو کلیسیا کی خدمتی کمیٹی کو کافی پہلے درخواست دے دینی چاہئے۔اِس میں تاریخ اور وقت کے بارے میں ضرور لکھیں۔ یہ یاد رکھیں کہ شادی کی اجازت دینے کے لئے بزرگ اجلاس کے اوقات میں تبدیلی نہیں کریں گے۔ علاوہازیں، دُلہے اور دُلہن کو کلیسیا میں نیکنام ہونا چاہئے۔اُن کے لئے بائبل اُصولوں اور یہوواہ خدا کے راست معیاروں کے مطابق زندگی گزارنا بھی بہت ضروری ہے۔
اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ اُن کی شادی خدا کے لئے جلال کا باعث بنے، لڑکی اور لڑکے کو شادی کے انتظامات کو حتمی شکل دینے سے پہلے خدمتی کمیٹی سے بات کر لینی چاہئے۔ اگرچہ بزرگ جوڑے پر اپنی ذاتی رائے مسلّط کرنے کی کوشش نہیں کریں گے توبھی جوڑے کو بزرگوں کی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے۔ صرف وہی موسیقی بجائی جا سکتی ہے جو ہمارے گیتوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ کنگڈم ہال کو سجانے اور کُرسیوں کو مختلف طریقے سے رکھنے کے سلسلے میں بھی پہلے اجازت لینا بہت ضروری ہے۔شادی کے اِس سنجیدہ موقع پر اگر تصویریں یا ویڈیو بنائی جاتی ہیں تو اِس بات کا خاص خیال رکھا جانا چاہئے کہ پروگرام میں خلل نہ پڑے۔ جس وقت کلیسیا کا کوئی اجلاس نہیں ہو رہا تو بزرگ کنگڈم ہال میں شادی کے پروگرام کی ریہرسل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ کنگڈم ہال کے نوٹس بورڈ پر شادی کے دعوت نامے نہیں لگانے چاہئیں۔ تاہم، کلیسیا کو کنگڈم ہال میں انجام پانے والی شادی سے آگاہ کرنے کے لئے بزرگ خدمتی اجلاس کے دوران مختصر سا اعلان کر سکتے ہیں۔
اگرچہ اِس بات کا تقاضا نہیں کِیا جاتا کہ شادی میں شریک تمام مہمان بپتسمہیافتہ ہوں توبھی اچھا ہوگا کہ ایسے اشخاص کو شادی میں مدعو کرنے سے گریز کِیا جائے جن کا طرزِزندگی بائبل اُصولوں کے برعکس ہے یا جن کے چالچلن پر وہاں موجود لوگ سوال اُٹھا سکتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے مقررکردہ بزرگ کو شادی کے قانونی تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔ چونکہ بزرگ خدا کے کلام کے اچھے اُستاد ہوتے ہیں اس لئے وہ اِس اہم موقع کی مناسبت سے پاک کلام سے مشورت پیش کرنے کے قابل بھی ہوتے ہیں۔—۱-تیم ۳:۲۔
اِس تقریب پر تمام کام انجام دینے والے بزرگ کو پہلے ہی سے شادی کے سلسلے میں کئے جانے والے انتظامات سے بخوبی آگاہ کِیا جانا چاہئے۔ یہ بزرگ اِس تقریب سے پہلے لڑکی اور لڑکے سے کورٹشپ کے دوران اُن کے اخلاقی طور پر پاکصاف رہنے کے بارے میں سوالات کرے گا۔ پس اُن دونوں کو اُس کے سوالات کا جواب دیتے وقت دیانتداری سے کام لینا چاہئے۔ اگر اُن دونوں میں سے کسی کی پہلے شادی ہوئی تھی تو اُسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اب صحیفائی اور قانونی طور پر دوبارہ شادی کرنے کے لئے آزاد ہے۔ (متی ۱۹:۹) اِس سلسلے میں اُسے بزرگ کو اپنی طلاق کی کاپی بھی دکھانی ہوگی۔
جب شادی کرنے والا جوڑا بزرگوں کے ساتھ اچھا رابطہ رکھتا اور ہر لحاظ سے تعاون کرتا ہے تو یقیناً اُن کی شادی سب کے لئے خوشی کا باعث ہوگی۔—امثا ۱۵:۲۲؛ عبر ۱۳:۱۷۔