بوڑھے بھائیو اور بہنو! آپ کلیسیا کے بہت کام آ سکتے ہیں
”مَیں اپنی جوانی میں بہت کام کِیا کرتی تھی۔ لیکن اب بڑھاپے کی وجہ سے مجھ سے زیادہ کام نہیں ہوتے۔“—کونی، عمر 83 سال۔
شاید آپ بھی اپنے بڑھاپے کی وجہ سے ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ بھلے ہی آپ جانتے ہیں کہ آپ کئی سالوں سے وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں لیکن پھر بھی ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار آپ یہ سوچ کر بےحوصلہ ہو جائیں کہ اب آپ پہلے کی طرح یہوواہ کی خدمت نہیں کر پا رہے۔ ایسی صورت میں کیا چیز خوش رہنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے؟
یہوواہ آپ سے کیا چاہتا ہے؟
ذرا اِستثنا 6:5 میں لکھے اِن تسلی بھرے الفاظ پر غور کریں: ”تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے[یہوواہ]اپنے خدا سے محبت رکھ۔“ تو خود سے پوچھیں: ”یہوواہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟“
اِس آیت کے مطابق یہوواہ آپ سے یہ چاہتا ہے کہ آپ اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور طاقت سے اُس کی خدمت کریں۔ اگر آپ اِس بات کو ذہن میں رکھیں گے تو آپ اپنا موازنہ دوسروں سے کرنے سے بچ جائیں گے۔ آپ تو یہ موازنہ بھی نہیں کریں گے کہ آپ پہلے کیا کِیا کرتے تھے اور اب آپ کیا نہیں کر سکتے۔
اِس بات پر غور کریں: جب آپ جوان تھے تو اُس وقت آپ اپنے حالات کے مطابق یہوواہ کے لیے وہ سب کچھ کر رہے تھے جو آپ کر سکتے تھے۔ لیکن اب آپ کی صورتحال بدل گئی ہے اور آپ ابھی بھی اپنے حالات کے مطابق یہوواہ کے لیے جتنا کر سکتے ہیں، آپ وہ کر رہے ہیں۔ تو اگر آپ اپنی صورتحال کو اِس نظر سے دیکھیں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ جتنے جی جان سے آپ ماضی میں یہوواہ کی خدمت کر رہے تھے اُتنے ہی جی جان سے آپ ابھی بھی کر رہے ہیں۔
جب آپ جوان تھے تو آپ نے پورے جی جان سے یہوواہ کی خدمت کی تھی اور آپ ابھی بھی اپنے بڑھاپے میں پورے جی جان سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔
آپ دوسروں کی بہت مدد کر سکتے ہیں!
اب ذرا اِس بات پر بھی غور کریں: صرف یہ سوچنے کی بجائے کہ اب آپ بڑھاپے کی وجہ سے کیا نہیں کر سکتے، یہ سوچیں کہ اِس وجہ سے آپ کو دوسروں کی مدد کرنے کے کتنے موقعے ملے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اب آپ کچھ ایسے کام کر سکتے ہیں جو شاید آپ اپنی جوانی میں نہیں کر سکتے تھے۔ مثال کے طور پر اب آپ کو یہ کام کرنے کا موقع ملا ہے:
آپ دوسروں کو اپنی زندگی کے تجربے بتا سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ذرا بائبل کی اِن آیتوں پر غور کریں:
بادشاہ داؤد: ”ایک وقت تھا کہ مَیں جوان تھا اور اب مَیں بوڑھا ہو گیا ہوں لیکن مَیں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی نیک شخص کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہو یا اُس کے بچے روٹی کے لیے بھیک مانگ رہے ہوں۔“—زبور 37:25۔
یشوع: ”دیکھو مَیں آج اُسی راستے جانے والا ہوں جو سارے جہان کا ہے اور تُم خوب جانتے ہو کہ اُن سب اچھی باتوں میں سے جو[یہوواہ]تمہارے خدا نے تمہارے حق میں کہیں ایک بات بھی نہ چُھوٹی۔ سب تمہارے حق میں پوری ہوئیں اور ایک بھی اُن میں سے رہ نہ گئی۔“—یشو 23:14۔
شاید آپ نے اپنی جوانی میں بھی دوسروں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اِسی طرح کی باتیں کی تھیں۔ لیکن داؤد اور یشوع نے جو باتیں کہیں، وہ اُنہوں نے اپنی زندگی کے کئی سالوں کے دوران دیکھی، سنی اور سیکھی تھیں۔ اِس لیے اُن کی باتوں میں بہت اثر تھا۔
اگر آپ بھی کافی لمبے عرصے سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں تو آپ بھی اپنے تجربے سے دوسروں کو بتا سکتے ہیں کہ ایسا کرنے سے کتنی برکتیں ملتی ہیں۔ کیا آپ کو کوئی ایسا وقت یاد ہے جب آپ نے دیکھا کہ یہوواہ نے بڑے خاص طریقے سے اپنے بندوں کی مدد کی؟ کیوں نہ دوسروں کو اِس کے بارے میں بتائیں؟ آپ کے تجربے سُن کر دوسروں کو بھی اُتنی ہی خوشی اور تازگی ملے گی جتنی آپ کو ملی تھی۔ جب بہن بھائی سنیں گے کہ آپ کو یہوواہ کی خدمت کرتے ہوئے کن کن باتوں کا تجربہ ہوا تو اُن کا حوصلہ بڑھے گا۔—روم 1:11، 12۔
لیکن آپ ایک اَور طریقے سے بھی اپنے بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھا سکتے ہیں۔ آپ سے جہاں تک ہو سکتا ہے، آپ عبادتگاہ میں جا کر اِجلاس سُن سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے آپ کے ہمایمانوں کو اور خود آپ کو بھی بہت فائدہ ہوگا۔ بہن کونی نے جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے، کہا: ”عبادتگاہ میں جا کر اِجلاس سننے سے مَیں بےحوصلہ ہونے سے بچ جاتی ہوں۔ مجھے عبادتگاہ میں بہن بھائیوں کا اِتنا پیار ملتا ہے کہ مَیں بےحوصلہ ہو ہی نہیں سکتی۔ مَیں اپنے بہن بھائیوں کی محبت کی بہت قدر کرتی ہوں۔ اِس لیے مَیں اُن کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اُنہیں چھوٹے موٹے تحفے دیتی ہوں۔ مَیں پوری کوشش کرتی ہوں کہ مَیں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر یہوواہ کی خدمت کرتی رہوں۔“
یہوواہ آپ کی محنت کی بہت قدر کرتا ہے
یہوواہ کے کلام میں ایسے بہت سے لوگوں کی مثالیں ہیں جو چاہ کر بھی اُس کے لیے اُتنا نہیں کر پائے جتنا وہ کرنا چاہتے تھے لیکن یہوواہ پھر بھی اُن سے محبت کرتا تھا۔ ذرا خدا کے بوڑھے بندے شمعون کی مثال پر غور کریں جو یسوع کی پیدائش کے وقت زندہ تھے۔ جب شمعون ہیکل میں جایا کرتے تھے تو یقیناً وہ بہت سے ایسے جوان آدمیوں کو دیکھتے ہوں گے جو ہیکل میں بہت سی اہم ذمےداریاں نبھا رہے تھے۔ شاید اُنہیں دیکھ کر شمعون یہ سوچتے ہوں کہ اب وہ یہوواہ کے کام کے نہیں رہے کیونکہ وہ اُن جوان آدمیوں کی طرح یہوواہ کی خدمت نہیں کر سکتے۔ لیکن یہوواہ شمعون کے بارے میں ایسا نہیں سوچتا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ شمعون بہت ”نیک اور خداپرست“ ہیں۔ اُس نے شمعون کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ یسوع کو دیکھیں جو کچھ ہی دن پہلے پیدا ہوئے تھے۔ یہوواہ نے تو شمعون کے ذریعے یہ پیش گوئی بھی کروائی کہ یسوع بڑے ہو کر مسیح بنیں گے۔ (لُو 2:25-35) واقعی یہوواہ نے اپنے بندے شمعون کے بارے یہ نہیں دیکھا کہ وہ بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو گئے ہیں بلکہ اُس نے یہ دیکھا کہ اُن کا ایمان بہت مضبوط ہے اور ’اُن پر پاک روح ہے۔‘
یہوواہ نے شمعون کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ یسوع کو دیکھیں جو کچھ ہی دن پہلے پیدا ہوئے تھے اور اُن کے بارے میں یہ پیشگوئی کریں کہ وہ بڑے ہو کر مسیح بنیں گے۔
اگر اب آپ یہوواہ کے لیے اُتنا نہیں کر پا رہے جتنا آپ کرنا چاہتے ہیں تو بھی آپ اِس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ آپ سے بہت محبت کرتا ہے۔ یہوواہ کو وہ چیز زیادہ اچھی لگتی ہے جو اُسے ”خوشی سے دی جاتی ہے۔“ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اُسے وہ دیں جو ہمارے پاس ہے نہ کہ وہ جو ہمارے پاس نہیں ہے۔—2-کُر 8:12۔
تو اِسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا دھیان اُن کاموں پر رکھیں جو آپ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اِس بارے میں سوچیں کہ آپ کے لیے کس طرح سے مُنادی کرنا آسان ہوگا پھر چاہے آپ تھوڑی دیر کے لیے ہی مُنادی کریں۔ اِس کے علاوہ آپ کسی بہن یا بھائی کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اُسے فون کر سکتے یا پھر کارڈ لکھ کر دے سکتے ہیں۔ اگر آپ اِن چھوٹے موٹے طریقوں سے اپنے ہمایمانوں کے لیے محبت دِکھائیں گے تو اِس کا اُن پر بہت گہرا اثر ہوگا، خاص طور پر اُس وقت جب وہ دیکھیں گے کہ یہ محبت آپ جیسے شخص نے دِکھائی ہے جو کافی لمبے عرصے سے یہوواہ کی خدمت کر رہا ہے۔
بوڑھے بھائیو اور بہنو! بھلے ہی اب آپ کی صحت پہلے جیسی نہیں رہی لیکن آپ اب بھی یہوواہ کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں بکس ”اُس عورت کی جان بچ گئی“ کو دیکھیں جس میں مشرقی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کا تجربہ بتایا گیا ہے۔
یاد رکھیں کہ آپ نے ایمان اور وفاداری کی جو مثال قائم کی ہے اور کر رہے ہیں، اُس سے آپ کے ہمایمانوں کا بہت حوصلہ بڑھ سکتا ہے۔ آپ دوسروں کے لیے ثابتقدمی کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ آپ اِس بات کا پورا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ ”خدا بےاِنصاف نہیں ہے۔ وہ اُس محنت اور محبت کو نہیں بھولے گا جو آپ نے مُقدسوں کی خدمت کر کے اُس کے نام کے لیے ظاہر کی ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔“—عبر 6:10۔
دوسروں کی مدد کرنے میں مصروف رہیں
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جو بوڑھے آدمی اور عورتیں دوسروں کی مدد کرنے میں مصروف رہتے ہیں، اُن کی صحت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اچھی رہتی ہے اور وہ لمبی عمر جیتے ہیں۔
سچ ہے کہ اچھے کام کرنے سے بڑھاپے کے اثرات ختم نہیں ہو جاتے۔ صرف خدا کی بادشاہت ہی بڑھاپے اور موت کی اصل جڑ کو یعنی گُناہ کو ختم کر سکتی ہے۔—روم 5:12۔
تو اگر آپ بڑھاپے میں بھی یہوواہ کی خدمت کرتے رہیں گے جس میں دوسروں کو اُس کے بارے میں سکھانا بھی شامل ہے تو آپ اپنی اُمید کو مضبوط رکھ پائیں گے اور اِس سے آپ کی صحت پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔ بوڑھے بھائیو اور بہنو! اِس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہوواہ اُن سب کاموں کے لیے آپ کی بہت قدر کرتا ہے جو آپ اُس کے لیے کرتے ہیں اور کلیسیا بھی آپ کے ایمان کی وجہ سے آپ کی بہت عزت اور قدر کرتی ہے۔