یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 نومبر ص.‏ 10-‏15
  • کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کرتے وقت اپنی خوشی برقرار رکھیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کرتے وقت اپنی خوشی برقرار رکھیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اپنی خوشی کو برقرار رکھنا مشکل کیوں ہو سکتا ہے؟‏
  • آپ اپنی خوشی کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟‏
  • دوسرے مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏
  • بڑھاپے میں بھی اپنی خوشی برقرار رکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • آپ عمررسیدہ اشخاص کی اچھی دیکھ‌بھال کیسے کر سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • یہوواہ سے ہمیں ”‏بے‌اِنتہا خوشی“‏ ملتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • دیکھیں کہ اِن سوالوں کے کیا جواب ہیں۔‏
    2025ء-‏2026ء حلقے کا اِجتماع حلقے کے نگہبان کے ساتھ
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 نومبر ص.‏ 10-‏15

مطالعے کا مضمون نمبر 45

گیت نمبر 111‏:‏ ہماری خوشی کی وجوہات

کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کرتے وقت اپنی خوشی برقرار رکھیں

‏”‏ جو آنسو بہاتے ہوئے بیج بوتے ہیں،‏ وہ خوشی سے للکارتے ہوئے کٹائی کریں گے۔“‏‏—‏زبور 126:‏5‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

آپ اِس مضمون میں دیے گئے مشوروں پر عمل کرنے سے اُس وقت بھی اپنی خوشی کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں جب آپ اپنے کسی بیمار یا بوڑھے دوست یا رشتے‌دار کی دیکھ‌بھال کرتے ہیں۔‏

1-‏2.‏ اگر آپ اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں تو یہوواہ آپ کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہے؟ (‏اَمثال 19:‏17‏)‏ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

ذرا کوریا میں رہنے والے ایک بھائی کی بات پر غور کریں جن کا نام جین‌یول ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏میری شادی کو 32 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے اور پچھلے پانچ سالوں سے میری بیوی اِتنی زیادہ بیمار ہیں کہ وہ میری مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔ اُنہیں ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے اُن کے لیے ہلنا جلنا بہت مشکل ہے۔ مَیں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں اور مجھے اُن کا خیال رکھ کر خوشی ملتی ہے۔ ہم نے اپنے گھر میں ہسپتالوں میں اِستعمال ہونے والا ایک بستر لگوایا ہے جس پر میری بیوی ہر رات سوتی ہیں۔ مَیں اُن کے بستر کے قریب ہی سوتا ہوں اور ہم ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر سوتے ہیں۔“‏

2 کیا آپ اپنے گھر کے کسی فرد یا اپنے کسی دوست کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں جو بیمار یا بوڑھا ہو چُکا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یقیناً آپ دل سے اُس کی مدد کرتے ہیں کیونکہ آپ اُس سے محبت کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ اِس لیے بھی اُس کی دیکھ‌بھال کرتے ہیں کیونکہ اِس طرح آپ یہوواہ کے لیے اپنی بندگی اور محبت ظاہر کرتے ہیں۔ (‏1-‏تیم 5:‏4،‏ 8؛‏ یعقو 1:‏27‏)‏ لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ کبھی کبھار تو ہمیں ایسی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے بارے میں دوسروں کو پتہ تک نہیں ہوتا اور ہمیں لگتا ہے کہ کوئی بھی ہماری صورتحال کو نہیں سمجھ سکتا۔ شاید دوسروں کے سامنے آپ کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے لیکن جب آپ اکیلے ہوتے ہیں تو آپ اپنے آنسوؤں کو نہیں روک پاتے۔ (‏زبور 6:‏6‏)‏ بھلے ہی دوسرے آپ کے درد کو نہ جانتے ہوں لیکن یہوواہ اِسے اچھی طرح سے جانتا ہے۔ (‏خروج 3:‏7 پر غور کریں۔)‏ وہ آپ کے آنسوؤں اور قربانیوں کی بہت قدر کرتا ہے۔ (‏زبور 56:‏8؛‏ 126:‏5‏)‏ اور آپ اپنے عزیزوں کی دیکھ‌بھال کرنے کے لیے جو کچھ بھی کرتے ہیں، اِس کے لیے وہ خود کو آپ کا قرض‌دار سمجھتا ہے۔ اُس نے یہ وعدہ کِیا ہے کہ وہ آپ کو اِس کا اجر ضرور دے گا۔‏‏—‏اَمثال 19:‏17 کو پڑھیں۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ وہ بہن بھائی جو مختلف طریقوں سے اپنے عزیزوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ 1.‏ ایک بہن اپنی بوڑھی اور معذور ماں کو پانی پلا رہی ہے۔ 2.‏ ایک بہن اپنے شوہر کو جُوتے پہنا رہی ہے جو ویل‌چیئر پر بیٹھا ہے۔ 3.‏ ایک ماں اپنے بیٹے کو ہیلمٹ پہنا رہی ہے جو اپنے ابو کے ساتھ فٹ‌بال کھیلنے والا ہے۔ 4.‏ ایک بھائی ایک بوڑھے بھائی کے گھر اُس سے ملنے گیا ہے اور اُس کے ساتھ مل کر دُعا کر رہا ہے۔‏

کیا آپ اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں؟ (‏پیراگراف نمبر 2 کو دیکھیں۔)‏


3.‏ اَبراہام اور سارہ کو تارح کی دیکھ‌بھال کرتے ہوئے کن مشکلوں کا سامنا ہوا ہوگا؟‏

3 بائبل میں ایسے بہت سے لوگوں کا ذکر کِیا گیا ہے جنہوں نے اپنے کسی بیمار یا بوڑھے عزیز کی دیکھ‌بھال کی تھی۔ ذرا اَبراہام اور سارہ کی مثال پر غور کریں۔جب وہ لوگ شہر اُور سے نکلے تو اُن کے ابو تارح تقریباً 200 سال کے تھے۔ حالانکہ تارح بہت بوڑھے تھے لیکن وہ پھر بھی اَبراہام اور سارہ کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے۔ اُنہوں نے تقریباً 960 کلومیٹر (‏600 میل)‏ دُور حاران تک سفر کِیا۔ (‏پید 11:‏31، 32‏)‏ بے‌شک اَبراہام اور سارہ کو تارح سے بہت محبت تھی۔ لیکن ذرا سوچیں کہ اُنہیں تارح کا خیال رکھتے ہوئے کتنی مشکلوں کا سامنا ہوا ہوگا، خاص طور پر سفر کے دوران۔ وہ شاید اُونٹوں یا گدھوں پر سفر کر رہے تھے جو کہ تارح جیسے بوڑھے شخص کے لیے کافی مشکل رہا ہوگا۔ یقیناً کبھی کبھار اَبراہام اور سارہ تھک کر نڈھال ہو جاتے ہوں گے۔ لیکن چاہے اُنہوں نے جیسا بھی محسوس کِیا ہو، یہوواہ نے یقیناً اُنہیں ہمت اور طاقت دی ہوگی۔ جس طرح یہوواہ نے اَبراہام اور سارہ کو سنبھالا، وہ آپ کو بھی سنبھالے گا اور طاقت دے گا۔—‏زبور 55:‏22‏۔‏

4.‏ اِس مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟‏

4 اگر آپ اپنی خوشی کو برقرار رکھیں گے تو آپ کے لیے اپنے عزیز کی دیکھ‌بھال کرنا آسان ہو جائے گا۔ (‏اَمثا 15:‏13‏)‏ یاد رکھیں کہ آپ مشکلوں کے باوجود بھی خوش رہ سکتے ہیں۔ (‏یعقو 1:‏2، 3‏)‏ لیکن آپ خوش رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ خوش رہنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ دُعا میں یہوواہ پر بھروسا ظاہر کریں اور اُس سے مدد مانگیں کہ وہ آپ کا دھیان ایسی باتوں پر دِلائے جن سے آپ کو خوشی مل سکتی ہے۔ لیکن اَور بھی کئی ایسی باتیں ہیں جو آپ خوش رہنے کے لیے کر سکتے ہیں اور اِس مضمون میں اِنہی میں سے کچھ باتوں پر غور کِیا جائے گا۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ دوسرے اُن بہن بھائیوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جو اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں۔ لیکن آئیے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اپنے عزیز کی دیکھ‌بھال کرتے وقت آپ کو خوش کیوں رہنا چاہیے اور ایسا کرنا کبھی کبھار مشکل کیوں ہو سکتا ہے۔‏

اپنی خوشی کو برقرار رکھنا مشکل کیوں ہو سکتا ہے؟‏

5.‏ کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کرتے وقت آپ کے لیے اپنی خوشی کو برقرار رکھنا ضروری کیوں ہے؟‏

5 اگر ہم اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کرتے وقت اپنی خوشی کھو بیٹھیں گے تو ہم بڑی آسانی سے تھک کر چُور ہو جائیں گے۔ (‏اَمثا 24:‏10‏)‏ جب ہم تھک جاتے ہیں تو ہمارے لیے چاہ کر بھی دوسروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا یا اُن کی مدد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن کون سی باتیں اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کر تے وقت ہم سے ہماری خوشی چھین سکتی ہیں؟‏

6.‏ دوسروں کی دیکھ‌بھال کرنے والے کچھ لوگ تھک کر نڈھال کیوں ہو جاتے ہیں؟‏

6 شاید آپ شدید تھکاوٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔‏ لِیاہ نام کی بہن نے کہا:‏ ”‏کسی کی دیکھ‌بھال کرنا آسان کام نہیں۔ اگر کسی دن آپ کو یہ لگتا بھی ہے کہ آج آپ کے اندر کام کرنے کی طاقت ہے تو بھی دن کے آخر پر آپ کو محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کی ساری طاقت نچوڑ لی گئی ہے اور اب آپ میں کچھ بھی کرنے کی ہمت نہیں بچی۔ کبھی کبھار تو مَیں اِتنا تھک جاتی ہوں کہ مجھ میں میسج کا جواب دینے تک کی طاقت نہیں ہوتی۔“‏ کچھ بہن بھائیوں نے تو یہ بھی دیکھا ہے کہ اُنہیں آرام کرنے، یہاں تک کہ ایک پَل کے لیے بیٹھنے تک کی فرصت نہیں ملتی۔ نیتاa نام کی بہن نے کہا:‏ ”‏مَیں صحیح سے سو نہیں پاتی۔ مجھے اکثر رات کو ہر دو گھنٹے بعد اپنی ساس کا خیال رکھنے کے لیے اُٹھنا پڑتا ہے۔ مجھے اور میرے شوہر کو چھٹیوں پر گئے صدیاں ہو گئی ہیں۔“‏ کچھ بہن بھائیوں کو تو اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے یا یہوواہ کی خدمت میں کچھ کاموں کو کرنے کے لیے منع کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ 24 گھنٹے اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کرتے ہیں۔ اِس وجہ سے وہ خود کو بہت اکیلا اور حالات کے آگے بے‌بس محسوس کرتے ہیں۔‏

7.‏ کسی کی دیکھ‌بھال کرنے والے شخص کے دل میں شرمندگی یا مایوسی کا احساس کیوں پیدا ہو سکتا ہے؟‏

7 شاید آپ شرمندگی یا مایوسی کے بوجھ تلے دبا محسوس کر رہے ہیں۔‏ جیسیکا نام کی بہن نے کہا:‏ ”‏اگر مَیں دو پَل کے لیے بھی آرام کرنا چاہوں تو مجھے بہت بُرا لگنے لگتا ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے جیسے مَیں بہت خودغرض ہوں اور اپنے ابو کا اچھے سے خیال نہیں رکھ رہی۔“‏ کچھ بہن بھائیوں کو اُس وقت بہت بُرا لگتا ہے جب کبھی کبھار اُن کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اب اُن میں اپنے عزیز کی دیکھ‌بھال کرنے کی اَور ہمت باقی نہیں رہی۔ کچھ کو یہ پریشانی ستاتی ہے کہ وہ اپنے عزیز کے لیے اُتنا نہیں کر رہے جتنا اُنہیں کرنا چاہیے۔ اور جب کچھ بہن بھائی تھکاوٹ یا پریشانی کی وجہ سے اپنے بیمار یا بوڑھے عزیز سے سختی سے بات کر جاتے ہیں تو بعد میں اُنہیں بہت شرمندگی ہوتی ہے۔ (‏یعقو 3:‏2‏)‏ کچھ بہن بھائی یہ دیکھ کر بہت دُکھی ہو جاتے ہیں کہ اُن کا جو عزیز پہلے اِتنا تندرست‌وتوانا تھا، اب دن‌بہ‌دن اُس کی صحت گِرتی جا رہی ہے۔ اِس حوالے سے بابرا نام کی بہن نے کہا:‏ ”‏جب مَیں دیکھتی ہوں کہ میری دوست کی حالت دن‌بہ‌دن بگڑتی جا رہی ہے تو میرا کلیجہ پھٹنے لگتا ہے۔“‏

8.‏ بتائیں کہ کچھ لوگوں کو اُس وقت کیسا لگا جب دوسروں نے اُن کی مدد کے لیے اُن کا شکریہ ادا کِیا۔‏

8 شاید آپ کو لگتا ہے کہ دوسرے آپ کی مدد کی قدر نہیں کرتے۔‏ آپ کو ایسا کیوں لگ سکتا ہے؟ کیونکہ شاید کچھ لوگ آپ کی محنت اور قربانیوں کے لیے آپ کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔ لیکن جب کوئی آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے صرف دو بول ہی بول دیتا ہے تو آپ کی ہمت بندھ جاتی ہے۔ (‏کُل 3:‏15‏)‏ ملیسا نام کی بہن نے کہا:‏ ”‏کبھی کبھار مَیں اِتنی بے‌حوصلہ ہو جاتی ہوں کہ مَیں رونے لگتی ہوں۔ لیکن جب وہ لوگ جن کی مَیں دیکھ‌بھال کرتی ہوں، مجھ سے کہتے ہیں کہ وہ میری محبت اور مدد کے لیے بہت شکرگزار ہیں تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ اِس سے میرے دل میں آئندہ بھی ہر دن اُن کا خیال رکھنے کی خواہش بڑھتی ہے۔“‏ اور ذرا آمادو نام کے بھائی کی بات پر بھی غور کریں۔ وہ اور اُن کی بیوی اپنی ایک بھانجی کی دیکھ‌بھال کرتے ہیں جو اُن ہی کے ساتھ رہتی ہے۔ اُسے مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔ بھائی نے کہا:‏ ”‏حالانکہ ہماری بھانجی یہ بات پوری طرح سے نہیں سمجھتی کہ اُس کی دیکھ‌بھال کرنے کے لیے ہمیں کتنی قربانیاں دینی پڑ رہی ہیں لیکن جب بھی وہ ہمارا شکریہ ادا کرتی ہے یا ہمیں یہ لکھ کر دیتی ہے کہ وہ ہم سے پیار کرتی ہے تو ہمارا دل خوشی سے کِھل اُٹھتا ہے۔“‏

آپ اپنی خوشی کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟‏

9.‏ اپنے عزیز کی دیکھ‌بھال کرنے والا شخص خاکساری سے کام کیسے لے سکتا ہے؟‏

9 خاکساری سے کام لیں۔‏ (‏اَمثا 11:‏2‏)‏ کوئی بھی شخص وہ سب کام نہیں کر سکتا جو وہ کرنا چاہتا ہے۔ تو آپ کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کون سے کام آپ کے بس میں ہیں اور کون سے نہیں۔ کبھی کبھار آپ کچھ کاموں کو کرنے سے اِنکار بھی کر سکتے ہیں جس میں کوئی بُرائی نہیں۔ دراصل اِس طرح آپ ظاہر کریں گے کہ آپ ایک خاکسار شخص ہیں۔ اِس کے علاوہ اگر کوئی آپ کی مدد کرنا چاہتا ہے تو خوشی سے اِسے قبول کریں۔ انتھونی نام کے بھائی نے کہا:‏ ”‏ہم ایک وقت میں اُتنے ہی کام کر سکتے ہیں جتنے کرنے کی ہم میں طاقت ہے۔ اگر ہم اپنی طاقت کو ذہن میں رکھ کر کام کریں گے تو ہم اپنی خوشی کو برقرار رکھ پائیں گے۔“‏

10.‏ جو شخص اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کر رہا ہے، اُس کے لیے سمجھ‌داری سے کام لینا کیوں ضروری ہے؟ (‏اَمثال 19:‏11‏)‏

10 سمجھ‌داری سے کام لیں۔‏ (‏اَمثال 19:‏11 کو پڑھیں۔)‏ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ اُس وقت بھی پُرسکون رہیں گے جب آپ کا عزیز اپنی بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے آپ سے دل دُکھانے والی بات کہہ دے گا۔ ایک سمجھ‌دار شخص یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ فلاں شخص نے ایک بات یا ایک کام کیوں کِیا ہے۔ کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہے جن میں ایک شخص کچھ ایسا کر بیٹھتا ہے جو وہ عام طور پر نہیں کرتا تھا۔ (‏واعظ 7:‏7‏)‏ مثال کے طور پر جو شخص پہلے بڑے پیار اور نرمی سے دوسروں سے بات کِیا کرتا تھا، شاید اب وہ اپنی بیماری کی وجہ سے بات بات پر بحث کرنے یا لڑنے لگتا ہے یا شاید اب وہ ہر بات پر شکایت کرتا یا جلدی غصے میں آ جاتا ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں جسے کوئی سنگین بیماری ہے تو آپ کو اُس کی بیماری کے بارے میں معلومات جاننے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ جتنا زیادہ آپ اُس کی بیماری کو سمجھیں گے اُتنا ہی بہتر طور پر آپ اُس کے رویے کو سمجھ پائیں گے اور یہ یاد رکھ پائیں گے کہ کچھ باتیں وہ صرف اپنی بیماری کی وجہ سے کہہ گیا ہے۔—‏اَمثا 14:‏29‏۔‏

11.‏ دوسروں کی دیکھ‌بھال کرنے والے شخص کو ہر دن کن اہم کاموں کو کرنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے؟ (‏زبور 132:‏4، 5‏)‏

11 یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرنے کے لیے وقت نکالیں۔‏ ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار ہمیں ”‏زیادہ اہم“‏ کاموں کو کرنے کے لیے دوسرے کاموں کو کم وقت دینا پڑے۔ (‏فِل 1:‏10‏)‏ اِن اہم کاموں میں سے ایک یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرنا ہے۔ بادشاہ داؤد بہت مصروف رہتے تھے لیکن اُنہوں نے یہوواہ کی عبادت کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دی۔ ‏(‏زبور 132:‏4، 5 کو پڑھیں۔)‏ آپ کو بھی مصروفیت کے باوجود ہر دن بائبل پڑھنے اور دُعا کرنے کے لیے وقت ضرور نکالنا چاہیے۔ الیزے نام کی بہن نے کہا:‏ ”‏دُعا کرنے، زبوروں کو پڑھنے اور اِن میں لکھی تسلی‌بخش باتوں پر سوچ بچار کرنے سے مجھے بہت سکون ملتا ہے۔ یہوواہ سے دُعا کرنے سے تو مجھے سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ مَیں دن کے دوران کئی بار یہوواہ سے پُرسکون رہنے کے لیے دُعا کرتی ہوں۔“‏

12.‏ دوسروں کی دیکھ‌بھال کرنے والے شخص کے لیے یہ کیوں ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھنے کے لیے بھی وقت نکالے؟‏

12 اپنی صحت کا خیال رکھنے کی پوری کوشش کریں۔‏ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے عزیز کی دیکھ‌بھال کرنے میں اِتنے مصروف ہو جائیں کہ آپ کے پاس اپنے لیے تازہ پھل یا سبزیاں خریدنے اور صحت‌بخش کھانا پکانے کے لیے وقت ہی نہ بچے۔ لیکن یاد رکھیں کہ اچھی خوراک لینا اور باقاعدگی سے ورزش کرنا آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ تو بھلے ہی آپ کے پاس زیادہ وقت نہ ہو تو بھی اِن کاموں کو کرنے کے لیے وقت ضرور نکالیں۔ (‏اِفِس 5:‏15، 16‏)‏ اِس کے علاوہ اچھی نیند لینے کی کوشش کریں۔ (‏واعظ 4:‏6‏)‏ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اچھی نیند لینے سے ہمارے دماغ سے نقصان‌دہ کیمیکل خارج ہو جاتے ہیں۔ ایک طبّی مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اچھی نیند لینے سے ایک شخص کم پریشان ہوتا ہے اور مشکل صورتحال سے اچھی طرح سے نمٹ سکتا ہے۔ اچھی نیند لینے کے ساتھ ساتھ آپ کو تھوڑی بہت تفریح بھی کرنی چاہیے۔ (‏واعظ 8:‏15‏)‏ اِس حوالے سے ایک بہن نے کہا:‏ ”‏جب موسم اچھا ہوتا ہے تو مَیں باہر جا کر اِس کا مزہ لینے کی کوشش کرتی ہوں۔ مَیں مہینے میں کم سے کم ایک بار اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر وہ کام کرنے کا پروگرام بناتی ہوں جنہیں کرنے کا مجھے شوق ہے۔“‏

13.‏ ہنسنا صحت کے لیے اچھا کیوں ہے؟ (‏اَمثال 17:‏22‏)‏

13 ہنسنا نہ بھولیں۔‏ (‏اَمثال 17:‏22 کو پڑھیں؛‏ واعظ 3:‏1،‏ 4‏)‏ ہنسنا آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بہت اچھا ہے۔ جب آپ اپنے عزیز کی دیکھ‌بھال کرتے ہیں تو کبھی کبھار چیزیں اُس طرح سے نہیں ہو پاتیں جیسی آپ نے سوچی ہوتی ہیں۔ لیکن اگر آپ ایسی مشکل صورتحال کو ہنس کر نظرانداز کریں گے تو آپ کم پریشان اور بیزار ہوں گے۔ اور اگر آپ اُس شخص کے ساتھ مل کر ہنسیں گے جس کی آپ دیکھ‌بھال کر رہے ہیں تو آپ دونوں کا رشتہ اَور مضبوط ہو جائے گا۔‏

14.‏ آپ کو اپنے کسی اچھے دوست سے بات کرنے سے کیا فائدہ ہوگا؟‏

14 کسی بھروسے‌مند دوست کو اپنے دل کی بات بتائیں۔‏ بھلے ہی آپ اپنی خوشی کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں مگر پھر بھی آپ کبھی نہ کبھی مایوس ہو جائیں گے۔ ایسے وقت میں اچھا ہوگا کہ آپ اپنے کسی ایسے دوست کو اپنے احساسات بتائیں جو آپ کی بات سُن کر نہ تو غصے میں آئے اور نہ ہی آپ کے بارے میں رائے قائم کرے۔ (‏اَمثا 17:‏17‏)‏ اِس کی بجائے وہ دھیان سے آپ کی بات سنے اور اپنی باتوں سے آپ کا حوصلہ بڑھائے۔ اِس طرح آپ پھر سے خوش رہ پائیں گے۔—‏اَمثا 12:‏25‏۔‏

15.‏ مستقبل کے حوالے سے اپنی اُمید کے بارے میں بات کرنے سے آپ کو خوشی کیسے ملے گی؟‏

15 خود کو اور اپنے اُس عزیز کو فردوس میں تصور کریں جس کی آپ دیکھ‌بھال کر رہے ہیں۔‏ یاد رکھیں کہ آپ ابھی دیکھ‌بھال کرنے کا جو کام کر رہے ہیں، وہ بس وقتی ہے۔ یہوواہ نے اِنسانوں کو کبھی بھی یہ کام کرنے کے لیے نہیں بنایا تھا۔ (‏2-‏کُر 4:‏16-‏18‏)‏ جب مستقبل میں ہمیں ”‏حقیقی زندگی“‏ ملے گی تو ہم اُس طرح سے جئیں گے جیسے یہوواہ چاہتا تھا۔ (‏1-‏تیم 6:‏19‏)‏ تو جب آپ اپنے عزیز سے اِس بارے میں بات کریں گے کہ آپ دونوں فردوس میں مل کر کون سے کام کریں گے تو آپ دونوں کی ہی خوشی بڑھے گی۔ (‏یسع 33:‏24؛‏ 65:‏21‏)‏ جولیا نام کی بہن نے کہا:‏ ”‏مَیں اپنے جن عزیزوں کی دیکھ‌بھال کرتی ہوں، اُن سے مَیں اکثر اِس بارے میں بات کرتی ہوں کہ مستقبل میں ہم مل کر کپڑے سیئیں گے، دوڑ لگائیں گے اور سائیکل چلائیں گے۔ ہم اپنے اُن عزیزوں کے لیے مزے مزے کے کھانے بھی بنائیں گے جو مُردوں میں سے زندہ ہو جائیں گے۔ اِس کے بعد ہم مل کر اپنی اِس اُمید کے لیے یہوواہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔“‏

دوسرے مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏

16.‏ ہم اپنی کلیسیا میں اُن بہن بھائیوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جو اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

16 دیکھ‌بھال کرنے والے بہن بھائیوں کی مدد کریں تاکہ وہ تھوڑا آرام کر سکیں۔‏ کلیسیا کے بہن بھائی اِن بہن بھائیوں کے عزیزوں کے ساتھ وقت گزارنے سے اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔ اِس طرح دیکھ‌بھال کرنے والے بہن بھائیوں کو تھوڑا آرام کرنے اور اپنے ضروری کاموں کو نمٹانے کا موقع ملے گا۔ (‏گل 6:‏2‏)‏ کچھ مبشروں نے اپنے پاس یہ شیڈول لکھ کر رکھا ہوا ہے کہ ہر ہفتے کون سے بہن بھائی مدد کریں گے۔ ذرا بہن ناٹالیا کی بات پر غور کریں جن کے شوہر کو فالج ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہماری کلیسیا کا ایک بھائی ہفتے میں ایک یا دو بار میرے شوہر کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے ہمارے گھر آتا ہے۔ اِس دوران وہ دونوں مل کر مُنادی کرتے ہیں، بات‌چیت کرتے ہیں اور کبھی کبھار فلم بھی دیکھتے ہیں۔ میرے شوہر کو اپنے اِس دوست کے ساتھ وقت گزار کر بہت اچھا لگتا ہے اور اِس دوران مجھے بھی تھوڑا آرام کرنے اور اپنی پسند کے کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے جیسے کہ باہر جا کر واک کرنے کا۔“‏ کچھ بہن بھائی دیکھ‌بھال کرنے والے بہن یا بھائی کے گھر رات بھی رُک سکتے ہیں تاکہ وہ اُس کے عزیز کا خیال رکھ سکیں اور اُس بہن یا بھائی کو اچھی نیند لینے کا موقع مل سکے۔‏

دو بہنیں ایک بوڑھی بہن سے ملنے اُس کے گھر گئی ہیں۔ وہ اُس بہن کو خدا حافظ کہہ رہی ہیں جو باہر کسی کام سے جا رہی ہے اور عام طور پر اُس بوڑھی بہن کی دیکھ‌بھال کرتی ہے۔‏

آپ اپنی کلیسیا میں اُس بہن یا بھائی کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جو اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کر رہا ہے؟ (‏پیراگراف نمبر 16 کو دیکھیں۔)‏b


17.‏ ہم اِجلاس کے دوران اُس بہن یا بھائی کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جو اپنے عزیز کی دیکھ‌بھال کرتا ہے؟‏

17 دیکھ‌بھال کرنے والے بہن بھائیوں کی اِجلاس کے دوران مدد کریں۔‏ اِن میں سے کچھ بہن بھائی اِجلاسوں اور اِجتماعوں پر کی جانے والی تقریروں کو دھیان سے نہیں سُن پاتے کیونکہ وہ اپنے عزیز کی دیکھ‌بھال کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ تو کلیسیا کے بہن بھائی بیمار یا بوڑھے بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تاکہ اُن کی دیکھ‌بھال کرنے والا شخص اِجلاس کے کچھ حصوں کو دھیان سے سُن سکے۔ اگر بیمار یا بوڑھے بہن بھائی اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے تو آپ اُن کے گھر جا کر اُن کے ساتھ مل کر آن‌لائن اِجلاس سُن سکتے ہیں تاکہ اُن کی دیکھ‌بھال کرنے والا بھائی یا بہن عبادت‌گاہ میں جا کر اِجلاس سُن سکے۔‏

18.‏ ہم اُن بہن بھائیوں کے لیے اَور کیا کر سکتے ہیں جو اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں؟‏

18 دیکھ‌بھال کرنے والے بہن بھائیوں کی تعریف کریں اور اُن کے لیے دُعا کریں۔‏ کلیسیا کے بزرگوں کو باقاعدگی سے اُن بہن بھائیوں کے لیے وقت نکالنا چاہیے جو اپنے عزیزوں کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں۔ (‏اَمثا 27:‏23‏)‏ چاہے ہمارے حالات جیسے بھی ہوں، ہمیں اُن بہن بھائیوں کو اپنی محبت کا احساس دِلاتے رہنا چاہیے جو اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں۔ ہمیں اُن کی محنت کے لیے اُن کی تعریف کرنی چاہیے اور اُن کے لیے یہوواہ سے دُعا بھی کرنی چاہیے۔ ہم یہوواہ سے درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ اُنہیں ہمت اور طاقت دے اور اُن کی مدد کرے تاکہ وہ اپنی خوشی برقرار رکھ سکیں۔—‏2-‏کُر 1:‏11‏۔‏

19.‏ ہم کس وقت کو دیکھنے کے منتظر ہیں؟‏

19 بہت جلد یہوواہ تکلیفیں اور مصیبتیں ختم کرنے سے سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالے گا۔ تب بیماری اور موت نہیں رہے گی۔ (‏مُکا 21:‏3، 4‏)‏ اور ”‏لنگڑے ہِرن کی طرح چھلانگیں ماریں گے۔“‏ (‏یسع 35:‏5، 6‏)‏ اُس وقت بڑھاپا اور اِس سے آنے والی تکلیفیں ختم ہو جائیں گی اور ہمیں وہ درد ’‏یاد نہیں آئے گا‘‏ جو ابھی ہمیں اپنے عزیزوں کو تکلیف میں دیکھ کر ہوتا ہے۔ (‏یسع 65:‏17‏)‏ لیکن جب تک یہوواہ کے یہ وعدے پورے نہیں ہو جاتے، ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ مشکل وقت میں ہماری مدد کرتا رہے گا۔ اگر ہم یہوواہ کی طاقت پر بھروسا کرتے رہیں گے تو وہ ”‏ہر صورت میں صبر اور خوشی سے ثابت‌قدم“‏ رہنے میں ہماری مدد کرے گا۔—‏کُل 1:‏11‏۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • اگر آپ اپنے گھر کے کسی بیمار یا بوڑھے فرد کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں تو آپ کے لیے اپنی خوشی کو برقرار رکھنا مشکل کیوں ہو سکتا ہے؟‏

  • اپنے عزیزوں کی دیکھ‌بھال کرنے والے بہن بھائی اپنی خوشی کو کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟‏

  • آپ اپنی کلیسیا کے اُن بہن بھائیوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جو اپنے کسی عزیز کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں؟‏

گیت نمبر 155‏:‏ ابدی خوشی

a کچھ نام فرضی ہیں۔‏

b تصویر کی وضاحت‏:‏ دو جوان بہنیں ایک بوڑھی بہن کا خیال رکھنے کے لیے آئی ہیں تاکہ وہ بہن جو اُس بوڑھی بہن کی دیکھ‌بھال کرتی ہے، تھوڑی دیر چہل‌قدمی کے لیے باہر جا سکے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں