یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 اکتوبر ص.‏ 24-‏29
  • دوسروں کے لیے دُعا کرنا نہ بھولیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دوسروں کے لیے دُعا کرنا نہ بھولیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہمیں دوسروں کے لیے دُعا کیوں کرنی چاہیے؟‏
  • اُنہیں ہماری دُعاؤں کی ضرورت ہے
  • جب ہم ایک شخص کو ذہن میں رکھ کر اُس کے لیے دُعا کرتے ہیں
  • دُعا کے بارے میں صحیح سوچ اپنائیں
  • دُعا کے ذریعے خدا کے قریب جائیں
    اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!‏—‏ایک فائدہ‌مند بائبل کورس
  • دُعا—‏ایک بہت بڑا اعزاز
    پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں
  • ہم اپنی دُعاؤں کو اَور بہتر کیسے بنا سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • دُعا کے ذریعے خدا کے نزدیک جائیں
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 اکتوبر ص.‏ 24-‏29

مطالعے کا مضمون نمبر 43

گیت نمبر 41‏:‏ سُن میری دُعا

دوسروں کے لیے دُعا کرنا نہ بھولیں

‏”‏ ایک دوسرے کے لیے دُعا کریں۔‏ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ نیک شخص کی اِلتجا کا اثر بہت زبردست ہوتا ہے۔“‏‏—‏یعقو 5:‏16‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

دوسروں کے لیے دُعا کرنا ضروری کیوں ہے اور کون سی باتیں ایسا کرنے میں ہمارے کام آ سکتی ہیں۔‏

1.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ ہماری دُعاؤں کو بہت اہم خیال کرتا ہے؟‏

دُعا یہوواہ کی طرف سے ایک شان‌دار نعمت ہے۔ ذرا سوچیں کہ یہوواہ نے اپنے فرشتوں کو بہت سے کام کرنے کے لیے دیے ہیں۔ (‏زبور 91:‏11‏)‏ اُس نے اپنے بیٹے کو بھی بہت سی خاص ذمے‌داریاں نبھانے کے لیے دی ہیں۔ (‏متی 28:‏18‏)‏ لیکن اُس نے ہماری دُعائیں سننے کی ذمے‌داری کس کو دی ہے؟ کسی کو بھی نہیں۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو وہ خود کرنا چاہتا ہے۔ بائبل میں یہوواہ کو ’‏دُعا کا سننے والا‘‏ کہا گیا ہے کیونکہ وہ خود ہماری دُعاؤں کو سنتا ہے۔—‏زبور 65:‏2‏۔‏

2.‏ پولُس رسول نے دوسروں کے لیے دُعا کرنے کے حوالے سے کیسی مثال قائم کی؟‏

2 بے‌شک ہم کُھل کر یہوواہ سے اُن معاملوں کے بارے میں بات کر سکتے ہیں جو ہمارے لیے اہم ہیں لیکن ہمیں دوسروں کے لیے بھی دُعا کرنا نہیں بھولنا چاہیے۔ پولُس رسول نے ایسا ہی کِیا تھا۔ مثال کے طور پر اِفسس کی کلیسیا کے نام خط میں اُنہوں نے وہاں کے بہن بھائیوں سے کہا:‏ ”‏مَیں ہمیشہ اپنی دُعاؤں میں آپ کا ذکر کرتا ہوں۔“‏ (‏اِفِس 1:‏16‏)‏ پولُس نے کچھ لوگوں کا نام لے کر بھی اُن کے لیے دُعا کی۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے تیمُتھیُس سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ کو دن رات اپنی دُعاؤں میں یاد رکھتا ہوں۔“‏ (‏2-‏تیم 1:‏3‏)‏ پولُس کی اپنی زندگی میں بہت سے مسئلے چل رہے تھے جن کے لیے وہ یہوواہ سے دُعا کرتے تھے۔ (‏2-‏کُر 11:‏23؛‏ 12:‏7، 8‏)‏ لیکن وہ دوسروں کے لیے بھی دُعا کرنے کے لیے وقت نکالتے تھے۔‏

3.‏ کبھی کبھار ہم دوسروں کے لیے دُعا کرنا کیوں بھول جاتے ہیں؟‏

3 شاید کبھی کبھار ہم دوسروں کے لیے دُعا کرنا بھول جائیں۔ ایسا کیوں ہو سکتا ہے؟ اِس کی ایک وجہ سبریناa نام کی بہن نے بتائی۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏زندگی میں ایک کے بعد ایک نئی مشکل کھڑی ہو جاتی ہے۔ ہم اپنی پریشانیوں میں اِتنا کھو جاتے ہیں کہ ہم صرف اِنہی کے بارے میں دُعا کرتے ہیں۔“‏ کیا کبھی کبھار آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا؟ اگر ہاں تو اِس مضمون کے ذریعے آپ کو بہت فائدہ ہوگا۔ اِس میں پہلے تو یہ بتایا جائے گا کہ دوسروں کے لیے دُعا کرنا اِتنا ضروری کیوں ہے۔ پھر اِس میں کچھ ایسے مشورے دیے جائیں گے جن کے ذریعے ہم دیکھیں گے کہ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔‏

ہمیں دوسروں کے لیے دُعا کیوں کرنی چاہیے؟‏

4-‏5.‏ ہم دوسروں کے لیے جو دُعائیں کرتے ہیں، اُن کا ’‏اثر زبردست‘‏ کیسے ہو سکتا ہے؟ (‏یعقوب 5:‏16‏)‏

4 جب ہم دوسروں کے لیے دُعا کرتے ہیں تو اِس کا ‏”‏اثر بہت زبردست“‏ ہو سکتا ہے۔‏ (‏یعقوب 5:‏16 کو پڑھیں۔)‏ لیکن کیا دوسروں کے لیے دُعا کرنے سے اُن کی صورتحال واقعی بدل سکتی ہے؟ جی، ایسا ہو سکتا ہے۔ یسوع مسیح یہ بات جانتے تھے۔ اِسی لیے جب اُنہوں نے پطرس رسول کو بتایا کہ جلد ہی پطرس اُنہیں جاننے سے اِنکار کر دیں گے تو اُنہوں نے آگے پطرس سے کہا:‏ ”‏مَیں نے خدا سے اِلتجا کی ہے کہ آپ کا ایمان کمزور نہ پڑے۔“‏ (‏لُو 22:‏32‏)‏ پولُس رسول بھی جانتے تھے کہ جب ہم دوسروں کے لیے دُعا کرتے ہیں یا دوسرے ہمارے لیے دُعا کرتے ہیں تو اِس سے بہت فرق پڑ سکتا ہے۔ جب وہ روم میں قید تھے تو اُنہوں نے فِلیمون کو لکھا:‏ ”‏مجھے اُمید ہے کہ آپ کی دُعاؤں کی وجہ سے مَیں بہت جلد آپ کے پاس آؤں گا۔“‏ (‏فِلیمون 22‏)‏ اور ایسا ہی ہوا۔ جلد ہی پولُس قید سے رِہا ہو گئے اور پھر سے مُنادی کرنے لگے۔‏

5 لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ دُعا کرنے سے ہم یہوواہ پر کوئی کام کرنے کا دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہوواہ ہمیشہ وہی کام کرے جس کے لیے ہم دُعا کرتے ہیں۔ مگر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہوواہ اِس بات کو کبھی نظرانداز نہیں کرتا کہ اُس کے بندے جن باتوں کے لیے اُس سے دُعا کر رہے ہیں، وہ اُن کی نظر میں کتنی اہم ہیں اور کبھی کبھار وہ اُن کی درخواستوں کو پورا کرنے کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے سے ہم ایک معاملے کے بارے میں شدت سے یہوواہ سے دُعا کر سکیں گے اور پھر پورے اِعتماد سے معاملے کو اُس کے ہاتھ میں چھوڑ دیں گے۔—‏زبور 37:‏5؛‏ 2-‏کُر 1:‏11‏۔‏

6.‏ جب ہم دوسروں کے لیے دُعا کرتے ہیں تو اِس کا ہمارے احساسات پر کیا اثر پڑتا ہے؟ (‏1-‏پطرس 3:‏8‏)‏

6 دوسروں کے لیے دُعا کرنے سے ہم میں ‏”‏ہمدردی“‏ کی خوبی پیدا ہوتی ہے۔‏ (‏1-‏پطرس 3:‏8 کو پڑھیں۔)‏ ہمدردی کی خوبی نہ صرف دوسروں کی تکلیفوں کو سمجھنے بلکہ اُن کے لیے کچھ کرنے کا بھی نام ہے۔ (‏مر 1:‏40، 41‏)‏ اِس سلسلے میں ذرا ایک کلیسیا کے بزرگ کی بات پر غور کریں جن کا نام مائیکل ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب مَیں دوسروں کے لیے دُعا کرتا ہوں تو مَیں اُن مشکلوں کو اَور اچھی طرح سے سمجھ پاتا ہوں جن کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ اِس طرح میرے دل میں اُن کے لیے محبت بڑھتی ہے اور مَیں اُن کی اَور زیادہ قدر کرنے لگتا ہوں۔ یہ ایسی بات ہے جس کا شاید دوسروں کو پتہ بھی نہیں ہوتا۔“‏ ذرا رچرڈ نام کے ایک بزرگ کی بات پر بھی غور کریں جنہوں نے دوسروں کے لیے دُعا کرنے کا ایک اَور فائدہ بتایا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب ہم کسی کے لیے دُعا کرتے ہیں تو ہمارے دل میں اُس کی مدد کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اور پھر جب ہم اُس شخص کے لیے کچھ کرتے ہیں تو ایک طرح سے ہم یہوواہ کی مدد کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے ذریعے ہماری اُس دُعا کا جواب دے جو ہم نے اُس شخص کے لیے مانگی ہے۔“‏

7.‏ دوسروں کے لیے دُعا کرنے سے ہم اپنی مشکلوں کے بارے میں مناسب سوچ کیسے رکھ پاتے ہیں؟ (‏فِلپّیوں 2:‏3، 4‏)‏ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

7 دوسروں کے لیے دُعا کرنے سے ہم اپنا دھیان اپنی مشکلوں سے ہٹا پاتے ہیں اور اِنہیں فرق نظر سے دیکھ پاتے ہیں۔‏ (‏فِلپّیوں 2:‏3، 4 کو پڑھیں۔)‏ یہ دُنیا شیطان کے قبضے میں ہے اِس لیے ہم سبھی کسی نہ کسی طرح کی مشکل سے لڑ رہے ہیں۔ (‏1-‏یوح 5:‏19؛‏ مُکا 12:‏12‏)‏ جب ہم دوسروں کے لیے دُعا کرتے ہیں تو ہم خود کو یہ یاد دِلا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے ”‏ہم‌ایمان[‏اُسی]‏طرح کی مصیبتوں کا سامنا کر رہے ہیں“‏ جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔ (‏1-‏پطر 5:‏9‏)‏ اِس حوالے سے کیتھرین نام کی پہل‌کار نے کہا:‏ ”‏دوسروں کے لیے دُعا کرنے سے مَیں یہ یاد رکھ پاتی ہوں کہ میری طرح وہ بھی مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اِس طرح مَیں اپنی مشکلوں پر حد سے زیادہ دھیان نہیں دیتی۔“‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ کچھ ایسے بہن بھائی جو دوسروں کے لیے دُعا کر رہے ہیں حالانکہ وہ خود بھی مشکل سے گزر رہے ہیں۔ 1.‏ ایک چھوٹی لڑکی اپنے بستر پر بیٹھے ہوئے دُعا کر رہی ہے؛ چھوٹی تصویر میں ایک گھرانے کو دِکھایا گیا ہے جو کشتی میں بیٹھا ہوا ہے کیونکہ اُن کا گھر سیلاب میں ڈوب گیا ہے۔ 2.‏ وہی گھرانہ مل کر دُعا کر رہا ہے؛ چھوٹی تصویر میں ایک بھائی کو دِکھایا گیا ہے جو جیل میں قید ہے۔ 3.‏ جیل میں قید وہی بھائی دُعا کر رہا ہے؛ چھوٹی تصویر میں ایک بوڑھی بہن کو دِکھایا گیا ہے جو ہسپتال میں بستر پر ہے۔ 4.‏ وہ بوڑھی بہن ویل‌چیئر پر بیٹھے ہوئی دُعا کر رہی ہے؛ چھوٹی تصویر میں اُس چھوٹی لڑکی کو دِکھایا گیا ہے جو پہلے صفحے میں تھی۔ وہ اپنی کلاس میں اکیلی ایک جگہ پر بیٹھی ہوئی ہے جبکہ اُس کی کلاس کے دوسرے بچے سالگرہ منا رہے ہیں۔‏

دوسروں کے لیے دُعا کرنے سے ہم اپنا دھیان اپنی مشکلوں سے ہٹا پاتے ہیں اور اِنہیں فرق نظر سے دیکھ پاتے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 7 کو دیکھیں۔)‏d


اُنہیں ہماری دُعاؤں کی ضرورت ہے

8.‏ کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں بتائیں جن کے لیے ہم دُعا کر سکتے ہیں۔‏

8 ہم کن کے لیے دُعا کر سکتے ہیں؟ ہم اُن بہن بھائیوں کے لیے دُعا کر سکتے ہیں جو صحت کے مسئلوں سے لڑ رہے ہیں۔ ہم اُن بچوں اور نوجوانوں کے لیے دُعا کر سکتے ہیں جن کے سکول میں پڑھنے والے بچے اُن کا مذاق اُڑاتے اور اُن پر غلط کام کرنے کا دباؤ ڈالتے ہیں۔ ہم اُن بہن بھائیوں کے لیے بھی دُعا کر سکتے ہیں جو بڑھاپے کی وجہ سے مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمارے بہت سے ہم‌ایمان اپنے رشتے‌داروں یا پھر حکومت کی طرف سے مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں۔ (‏متی 10:‏18،‏ 36؛‏ اعما 12:‏5‏)‏ ہم اُن بہن بھائیوں کو بھی اپنی دُعاؤں میں یاد رکھ سکتے ہیں جنہیں اپنے علاقے میں ہونے والے دنگے فسادوں کی وجہ سے بے‌گھر ہونا پڑا یا قدرتی آفت کا سامنا کرنا پڑا۔ سچ ہے کہ ہم اپنے اِن بہن بھائیوں کو ذاتی طور پر نہیں جانتے۔ لیکن جب ہم اُن کے لیے دُعا کرتے ہیں تو ہم ثابت کرتے ہیں کہ ہم یسوع کے اِس حکم پر عمل کر رہے ہیں:‏ ”‏ایک دوسرے سے محبت کریں۔“‏—‏یوح 13:‏34‏۔‏

9.‏ ہمیں اُن بھائیوں کے لیے دُعا کیوں کرنی چاہیے جو یہوواہ کی تنظیم میں ہماری پیشوائی کر رہے ہیں اور ہمیں اُن کی بیویوں کو بھی اپنی دُعاؤں میں کیوں یاد رکھنا چاہیے؟‏

9 ہم اُن بھائیوں کے لیے بھی دُعا کر سکتے ہیں جو یہوواہ کی تنظیم میں ہماری پیشوائی کر رہے ہیں۔ اِن میں گورننگ باڈی کے بھائی؛ اُن کے مددگار؛ برانچ کی کمیٹی کے بھائی، برانچ کے دفتروں میں نگہبان کے طور پر خدمت کرنے والے بھائی، حلقے کے نگہبان، کلیسیا کے بزرگ اور خادم شامل ہیں۔ اِن میں سے بہت سے بھائیوں کو اپنی زندگی میں کئی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن وہ پھر بھی ہماری مدد کرنے کے لیے اِتنی محنت کرتے ہیں۔ (‏2-‏کُر 12:‏15‏)‏ مثال کے طور پر مارک نام کے ایک حلقے کے نگہبان نے کہا:‏ ”‏میرے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مَیں اپنے امی ابو سے بہت دُور ہوں۔ اُن دونوں کی ہی صحت اچھی نہیں ہے۔ حالانکہ میری بہن اور اُس کا شوہر امی ابو کا اچھے سے خیال رکھ رہے ہیں لیکن پھر بھی مجھے یہ سوچ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ مَیں امی ابو کے لیے کچھ زیادہ نہیں کر پا رہا۔“‏ چاہے ہم اپنے اِن محنتی بھائیوں کی پریشانیوں کو جانتے ہوں یا نہیں، ہمیں اُنہیں اپنی دُعاؤں میں ضرور یاد رکھنا چاہیے۔ (‏1-‏تھس 5:‏12، 13‏)‏ ہم اِن بھائیوں کی بیویوں کے لیے بھی دُعا کر سکتے ہیں کیونکہ اُن کے ساتھ کی وجہ سے ہی یہ بھائی کلیسیا میں اپنی ذمے‌داریوں کو نبھاتے رہتے ہیں۔‏

10-‏11.‏ کیا یہوواہ ایسی دُعاؤں سے خوش ہوتا ہے جن میں ہم اپنے سبھی بہن بھائیوں کے لیے دُعا کرتے ہیں؟ وضاحت کریں۔‏

10 جیسا کہ ہم نے دیکھا، ہم فرق فرق بہن بھائیوں کے لیے دُعا کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم اُن سب بہن بھائیوں کے لیے یہوواہ سے دُعا کر سکتے ہیں جو قید میں ہیں یا جنہیں اپنے عزیز کی موت کی وجہ سے تسلی کی ضرورت ہے۔ اِس حوالے سے ڈونلڈ نام کے ایک بزرگ نے کہا:‏ ”‏ہمارے اِتنے زیادہ بہن بھائی مشکلوں سے گزر رہے ہیں کہ کبھی کبھار ہم یہوواہ کے سامنے ایک ایسی دُعا کر سکتے ہیں جس میں وہ سارے ہی بہن بھائی آ جائیں جو تکلیفوں کا سامنا کر رہے ہیں۔“‏

11 کیا یہوواہ اِس طرح کی دُعاؤں سے خوش ہوتا ہے؟ بالکل!‏ کیونکہ ہم اپنے ہر بھائی یا بہن کے بارے میں یہ نہیں جانتے کہ اُسے کس چیز کی ضرورت ہے۔ اِس لیے یہوواہ سے ایسی دُعائیں کرنا غلط نہیں جس میں ہم اپنے ہر طرح کے بہن بھائیوں کے لیے ہی دُعا کر سکیں۔ (‏یوح 17:‏20؛‏ اِفِس 6:‏18‏)‏ اِس طرح کی دُعاؤں سے ثابت ہوگا کہ ہم اپنے ”‏تمام ہم‌ایمانوں سے محبت“‏ کرتے ہیں۔—‏1-‏پطر 2:‏17‏۔‏

جب ہم ایک شخص کو ذہن میں رکھ کر اُس کے لیے دُعا کرتے ہیں

12.‏ دوسروں کی ضرورتوں پر دھیان دینے سے ہم اُن کی ضرورت کے مطابق دُعا کیسے کر پائیں گے؟‏

12 دوسروں کی ضرورتوں پر دھیان دیں۔‏ ہمیں دُنیا بھر میں اپنے بہن بھائیوں کے لیے دُعا کرنے کے علاوہ اُن بہن بھائیوں کے لیے بھی دُعا کرنی چاہیے جنہیں ہم جانتے ہیں۔ کیا آپ کی کلیسیا میں کوئی ایسی بہن یا بھائی ہے جو کسی سنگین بیماری سے لڑ رہا ہے؟ یا کیا آپ کی کلیسیا میں کوئی ایسا نوجوان ہے جو اپنے سکول کے بچوں کے دباؤ کی وجہ سے بجھا بجھا سا رہتا ہے؟ یا کیا آپ کسی ایسی ماں یا باپ کو جانتے ہیں جو اکیلے اپنے بچے کی ’‏یہوواہ کی طرف سے تربیت اور رہنمائی کرتے ہوئے پرورش‘‏ کر رہا ہے؟ (‏اِفِس 6:‏4‏)‏ اگر آپ اپنے بہن بھائیوں کی ضرورتوں پر دھیان دیں گے تو آپ کے دل میں اُن کے لیے اَور زیادہ ہمدردی جاگے گی اور آپ کے دل میں اُن کے لیے دُعا کرنے کی خواہش بڑھے گی۔‏b‏—‏روم 12:‏15‏۔‏

13.‏ ہم اُن بہن بھائیوں کے لیے بھی دُعا کیسے کر سکتے ہیں جن سے ہم کبھی نہیں ملے؟‏

13 دوسروں کا نام لے کر اُن کے لیے دُعا کریں۔‏ ہم اُن لوگوں کا بھی نام لے کر اُن کے لیے دُعا کر سکتے ہیں جن سے ہم کبھی نہیں ملے۔ مثال کے طور پر ذرا اپنے اُن بہن بھائیوں کے بارے میں سوچیں جو کریمیا، ایریٹریا، روس اور سنگاپور میں رہ رہے ہیں۔ ہماری ویب‌سائٹ jw.org پر آپ اُن بہن بھائیوں کے نام دیکھ سکتے ہیں جو اِس وقت جیل میں ہیں۔‏c اِس سلسلے میں برائن نام کے ایک حلقے کے نگہبان نے کہا:‏ ”‏مَیں نے دیکھا ہے کہ جب مَیں جیل میں قید اپنے کسی ہم‌ایمان کے نام کو ایک کتاب میں لکھتا ہوں اور اِسے اُونچی آواز میں بولنے کی کوشش کرتا ہوں تو مَیں اُس بہن یا بھائی کو یاد رکھ پاتا ہوں اور اُس کا نام لے کر اُس کے لیے دُعا کر سکتا ہوں۔“‏

14-‏15.‏ ہم اپنی دُعاؤں میں کچھ خاص باتوں کی درخواست کیسے کر سکتے ہیں؟‏

14 خاص اُن باتوں کا ذکر کریں جن کی آپ درخواست کرنا چاہتے ہیں۔‏ ذرا پھر سے بھائی مائیکل کی بات پر غور کریں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب مَیں ویب‌سائٹ jw.org پر اُن بھائیوں کے بارے میں پڑھتا ہوں جو قید میں ہیں تو مَیں یہ تصور کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اگر مَیں اُن کی جگہ ہوتا تو مَیں کیسا محسوس کرتا۔ بے‌شک مَیں اپنی بیوی کے لیے بہت فکرمند ہوتا اور اِس بات کا پورا خیال رکھتا کہ اُس کے پاس ضرورت کی ہر چیز ہو۔ یوں دُعا کرتے وقت میرے ذہن میں وہ باتیں ہوتی ہیں جن کی درخواست مَیں اپنے اُن بھائیوں کے لیے کر سکتا ہوں جو شادی‌شُدہ ہیں اور اپنی بیوی سے دُور قید میں ہیں۔“‏—‏عبر 13:‏3‏۔‏

15 اگر ہم یہ تصور کرنے کی بھی کوشش کریں گے کہ جیل میں ہمارے بہن بھائیوں کا ہر دن کیسے گزرتا ہوگا تو ہم اَور بھی کئی خاص باتوں کے بارے میں اُن کے لیے دُعا کر سکیں گے۔ مثال کے طور پر ہم یہ دُعا کر سکتے ہیں کہ جیل میں سپاہی ہمارے بہن بھائیوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور سرکاری افسر جیل میں اُنہیں یہوواہ کی عبادت کرنے کی اِجازت دیں۔ (‏1-‏تیم 2:‏1، 2‏)‏ ہم یہ بھی دُعا کر سکتے ہیں کہ جو بہن بھائی قید میں ہیں، اُن کی مقامی کلیسیا کے بہن بھائی اُن کی مثال سے حوصلہ پائیں۔ یا پھر ہم یہ دُعا کر سکتے ہیں کہ غیرایمان لوگ قید میں ہمارے بہن بھائیوں کے اچھے چال‌چلن کو دیکھیں اور یوں ہمارا پیغام سننے کے لیے تیار ہو جائیں۔ (‏1-‏پطر 2:‏12‏)‏ بے‌شک ہم اِنہی اصولوں پر اُس وقت بھی عمل کر سکتے ہیں جب ہم اپنے ایسے بہن بھائیوں کے لیے دُعا کرتے ہیں جو فرق طرح کے مسئلوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اپنے بہن بھائیوں کی ضرورتوں پر دھیان دینے، اُن کا نام لے کر اُن کے لیے دُعا کرنے اور اُن کی ضرورت کے مطابق اُن کے لیے درخواست کرنے سے ہم ثابت کریں گے کہ ہم ’‏ایک دوسرے سے[‏بہت]‏زیادہ محبت‘‏ کرتے ہیں۔—‏1-‏تھس 3:‏12‏۔‏

دُعا کے بارے میں صحیح سوچ اپنائیں

16.‏ ہم دُعا کے حوالے سے کون سی بات یاد رکھ سکتے ہیں؟ (‏متی 6:‏8‏)‏

16 جیسے کہ ہم نے پہلے بات کی تھی، ہماری دُعاؤں سے کسی کی صورتحال بدل سکتی ہے۔ لیکن ہمیں دُعا کے حوالے سے ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم دُعا کرتے ہیں تو ہم یہوواہ کو کوئی ایسی بات نہیں بتا رہے ہوتے جس کا اُسے پہلے سے پتہ نہ ہو اور نہ ہی ہم اُسے یہ مشورہ دے رہے ہوتے ہیں کہ ایک معاملہ حل کرنے کا کون سا طریقہ بہتر رہے گا۔ یہوواہ اپنے بندوں کے مانگنے سے پہلے ہی جانتا ہے کہ اُنہیں کن چیزوں کی ضرورت ہے حالانکہ ابھی اُنہیں یا پھر ہمیں اِس کا پتہ بھی نہیں ہوتا۔ ‏(‏متی 6:‏8 کو پڑھیں۔)‏ لیکن اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں دوسروں کے لیے دُعا کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ویسے تو ہم اِس مضمون میں پہلے سے ہی اِس بات کی بہت سی وجوہات دیکھ چُکے ہیں۔ لیکن دوسروں کے لیے دُعا کرنے کی ایک اَور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اِس بات کا نشان ہے کہ ہم دوسروں کی کتنی فکر کرتے ہیں۔ محبت کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کے لیے دُعا کرتے ہیں اور جب یہوواہ یہ دیکھتا ہے تو اُسے بہت خوشی ہوتی ہے کہ اُس کی بندے محبت ظاہر کر کے اُس کی جھلک پیش کر رہے ہیں۔‏

17-‏18.‏ ہم اپنے بہن بھائیوں کے لیے جو دُعا کرتے ہیں، اُسے ہم کون سی مثال کے ذریعے سمجھا سکتے ہیں؟‏

17 جب ہماری دُعاؤں کے بعد بھی کسی بھائی یا بہن کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی تو بھی ہمیں اُس کے لیے دُعا کرتے رہنی چاہیے۔ کیوں؟ کیونکہ ایسا کرنے سے ظاہر ہوگا کہ ہم اپنے بہن بھائیوں سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ یہوواہ اِس بات پر بہت دھیان دیتا ہے۔ ہم اپنے بہن بھائیوں کے لیے جو دُعائیں کرتے ہیں، اُسے ہم اِس مثال کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں:‏ فرض کریں کہ ایک میاں بیوی کے دو بچے ہیں؛ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ ایک دن اُن کا بیٹا بیمار ہو جاتا ہے۔ بیٹی اپنے باپ سے رو کر کہتی ہے:‏ ”‏ابو!‏ پلیز، بھائی کے لیے کچھ کریں، وہ بہت بیمار ہے۔“‏ باپ اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا ہے اور وہ اُس کا بہت اچھے سے خیال رکھ رہا ہے۔ اُس نے اپنے بیٹے کے علاج کے حوالے سے پہلے سے ہی پوری صورتحال کو سنبھالا ہوا ہے۔ لیکن ذرا سوچیں کہ جب باپ دیکھتا ہے کہ اُس کی بیٹی اپنے بھائی کی تکلیف کو دیکھ کر کتنا تڑپ رہی ہے اور اُس کے لیے کتنی فکرمند ہے تو اُسے کتنی خوشی ہوئی ہوگی۔‏

18 ہمارا باپ یہوواہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی فکر کریں اور دُعا میں اُسے اِس کے بارے میں بتائیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہماری دُعاؤں سے ظاہر ہوگا کہ ہم صرف اپنے بارے میں ہی نہیں سوچتے بلکہ ہمیں دوسروں کی بھی دل سے فکر ہے۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ اِس بات کو کبھی نظرانداز نہیں کرتا۔ (‏2-‏تھس 1:‏3؛‏ عبر 6:‏10‏)‏ اور جیسے کہ ہم اِس مضمون میں دیکھ چُکے ہیں، ہماری دُعاؤں سے کسی شخص کی صورتحال بدل سکتی ہے۔ اِس لیے آئیے ایک دوسرے کے لیے دُعا کرنا کبھی نہ بھولیں۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • کس لحاظ سے ہماری دُعاؤں کا ”‏اثر بہت زبردست“‏ ہو سکتا ہے؟‏

  • ہمیں اپنے بہن بھائیوں کے لیے دُعا کیوں کرنی چاہیے؟‏

  • ہم ایک شخص کی ضرورت کے مطابق دُعا کیسے کر سکتے ہیں؟‏

گیت نمبر 101‏:‏ یہوواہ کی خدمت میں یک‌دل

a کچھ نام فرضی ہیں۔‏

b ویب‌سائٹ jw.org پر اِس ویڈیو کو دیکھیں:‏ ‏”‏تکیشی شیمیزو:‏ یہوواہ ‏’‏دُعائیں سنتا‘‏ ہے۔“‏

c اپنے اُن ہم‌ایمانوں کے نام جاننے کے لیے جو ابھی جیل میں ہیں، ویب‌سائٹ jw.org پر انگریزی زبان میں اِس حصے کو دیکھیں:‏ ”‏“‏Jehovah’s Witnesses Imprisoned for Their Faith–By Location.

d تصویر کی وضاحت‏:‏ کچھ ایسے بہن بھائی جو خود مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں لیکن وہ دوسروں کے لیے دُعا کر رہے ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں