مطالعے کا مضمون نمبر 42
گیت نمبر 44: دُکھی بندے کی فریاد
ہم اپنی دُعاؤں کو اَور بہتر کیسے بنا سکتے ہیں؟
” اَے یہوواہ! مَیں پورے دل سے تجھے پکارتا ہوں، مجھے جواب دے۔“—زبور 119:145۔
غور کریں کہ . . .
بائبل میں خدا کے بندوں کی دُعاؤں پر غور کرنے سے ہم اپنی دُعاؤں کو اَور بہتر کیسے بنا سکتے ہیں۔
1-2. (الف)کیا چیز ہمیں دُعا میں یہوواہ کے سامنے اپنا دل اُنڈیلنے سے روک سکتی ہے؟ (ب)ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ بڑے دھیان سے ہماری دُعاؤں کو سنتا ہے؟
کیا کبھی کبھار آپ کو لگتا ہے کہ آپ ہر بار دُعا میں یہوواہ سے ایک جیسی باتوں کا ہی ذکر کرتے ہیں اور اُس سے دل کھول کر بات نہیں کرتے؟ ہم سبھی کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے۔ ہم سب کی زندگی بہت مصروف ہے اِس لیے ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار ہم یہوواہ سے جلدی جلدی چھوٹی سے دُعا کریں۔ اور کبھی کبھار ہمیں شاید یہوواہ کے سامنے اپنا دل کھولنا اِس لیے مشکل لگے کیونکہ ہم خود کو اُس سے بات کرنے کے لائق نہیں سمجھتے۔
2 بائبل میں ہمیں یقین دِلایا گیا ہے کہ یہوواہ کی نظر میں یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ ہم دُعا میں اُس سے جو کچھ کہیں گے، وہ کس طرح سے کہیں گے۔ اِس کی بجائے وہ چاہتا ہے کہ ہم خاکساری سے دُعا میں اُس کے سامنے اپنا دل اُنڈیل دیں۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ ”حلیم لوگوں کی درخواست“ سنتا ہے۔ (زبور 10:17) یہوواہ بڑے دھیان سے ہماری دُعا میں کہے گئے ایک ایک لفظ کو سنتا ہے کیونکہ وہ دل سے ہم سے محبت کرتا ہے۔—زبور 139:1-3۔
3. اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟
3 اِس مضمون میں ہم اِن سوالوں پر غور کریں گے: ہمیں دل کھول کر یہوواہ سے دُعا کرنے سے کیوں نہیں ہچکچانا چاہیے؟ ہم اپنی دُعاؤں کو اَور بہتر کیسے بنا سکتے ہیں؟ ہم بائبل میں لکھی خدا کے بندوں کی دُعاؤں پر سوچ بچار کرنے سے اپنی دُعاؤں میں بہتری کیسے لا سکتے ہیں؟ اور ہم اُس وقت کیا کر سکتے ہیں جب ہم اِتنے دُکھی اور پریشان ہوتے ہیں کہ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ہم دُعا میں اپنے احساسات کو کیسے بتائیں؟
دل کھول کر یہوواہ سے دُعا کرنے سے نہ ہچکچائیں
4. کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے تاکہ ہم بغیر ہچکچائے یہوواہ سے دُعا کریں؟ (زبور 119:145)
4 اگر ہمیں پکا یقین ہوگا کہ یہوواہ ہمارا وفادار دوست ہے جو ہمارا بھلا چاہتا ہے تو ہم اُسے اپنے احساسات بتانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ زبور 119 کو لکھنے والا شخص یہوواہ کو اپنا دوست سمجھتا تھا اِسی لیے اُس نے کُھل کر یہوواہ سے بات کی۔ اُسے اپنی زندگی میں کئی مسئلوں کا سامنا تھا جن میں سے ایک مسئلہ یہ تھا کہ کچھ لوگ اُس پر جھوٹے اِلزام لگا رہے تھے۔ (زبور 119:23، 69، 78) اِس کے علاوہ اُسے اپنی کچھ خامیوں سے بھی لڑنا پڑ رہا تھا۔ (زبور 119:5) لیکن اِن سب باتوں کے باوجود اُس نے بغیر ہچکچائے دُعا میں یہوواہ کے سامنے اپنا دل اُنڈیل دیا۔—زبور 119:145 کو پڑھیں۔
5. اگر ہم سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو ہمیں تب بھی یہوواہ سے دُعا کرنے سے کیوں نہیں ہچکچانا چاہیے؟ مثال دیں۔
5 یہوواہ چاہتا ہے کہ وہ لوگ بھی اُس سے دُعا کریں جن سے کوئی سنگین غلطی ہو جاتی ہے۔ (یسع 55:6، 7) اِس لیے ہمیں دُعا میں یہوواہ سے بات کرنے سے نہیں ہچکچانا چاہیے۔ اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں: فرض کریں کہ آپ کسی نئی جگہ گھومنے جاتے ہیں۔ وہاں جا کر آپ راستہ بھول جاتے ہیں اور غلطی سے کہیں اَور مُڑ جاتے ہیں۔ بےشک اُس علاقے میں رہنے والا کوئی شخص صحیح راستہ بتانے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ لیکن کیا آپ اِس وجہ سے اُس سے مدد مانگنے میں شرمندگی محسوس کریں گے کہ آپ صحیح راستے سے بھٹک گئے ہیں؟ بالکل نہیں! اِسی طرح اگر کبھی کبھار ہم سیدھی راہ سے بھٹک جاتے ہیں یا کوئی گُناہ کر بیٹھتے ہیں تو ہمیں بھی یہوواہ سے بات کرنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرنی چاہیے۔—زبور 119:25، 176۔
ہم اپنی دُعاؤں کو اَور بہتر کیسے بنا سکتے ہیں؟
6-7. یہوواہ کی خوبیوں پر سوچ بچار کرنے سے ہمارے لیے اُس سے کُھل کر بات کرنا کیسے آسان ہو سکتا ہے؟ ایک مثال دیں۔ (فٹنوٹ کو بھی دیکھیں۔)
6 جب ہم دل کھول کر یہوواہ کو اپنی سوچ اور احساسات بتائیں گے تو ہم اُس کے اَور قریب ہو جائیں گے۔ تو ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہم دل کی گہرائیوں سے یہوواہ سے دُعا کریں؟
7 یہوواہ کی خوبیوں پر سوچ بچار کریں۔a جتنا زیادہ ہم یہوواہ کی شاندار خوبیوں پر سوچ بچار کریں گے اُتنا ہی زیادہ ہمارے لیے اُس سے کُھل کر بات کرنا آسان ہو جائے گا۔ (زبور 145:8، 9، 18) ذرا کرسٹین نام کی بہن کی مثال پر غور کریں۔ اُن کے ابو بہت ظالم تھے جس کی وجہ سے بہن کرسٹین کو یہ ماننا مشکل لگتا تھا کہ یہوواہ ایک شفیق باپ ہے جس سے وہ کُھل کر بات کر سکتی ہیں۔ اُنہیں یہ بھی لگتا تھا کہ یہوواہ اُن کی غلطیوں کی وجہ سے اُن سے محبت کرنا چھوڑ دے گا۔ یہوواہ کی کس خوبی پر غور کرنے سے بہن کرسٹین کی مدد ہوئی؟ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے یہوواہ کی اٹوٹ محبت کے بارے میں بہت سوچا جس سے مجھے پکا یقین ہو گیا کہ یہوواہ مجھ سے پیار کرتا ہے۔ اب مَیں جان گئی ہوں کہ یہوواہ میرا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑے گا۔ اگر مَیں اپنی کسی غلطی کی وجہ سے لڑکھڑا گئی تو وہ بڑے پیار سے مجھے میرے قدموں پر کھڑا کر دے گا۔ جب بھی مَیں اِن باتوں پر سوچ بچار کرتی ہوں تو میرے لیے یہوواہ کے ساتھ اپنی خوشیاں اور غم بانٹنا آسان ہو جاتا ہے۔“
8-9. اگر آپ دُعا کرنے سے پہلے سوچیں گے کہ آپ یہوواہ سے کیا کچھ کہیں گے تو اِس سے آپ کو کون سے فائدے ہوں گے؟ مثال دیں۔
8 سوچیں کہ آپ دُعا میں کیا کہیں گے۔ آپ دُعا کرنے سے پہلے خود سے کچھ ایسے سوال پوچھ سکتے ہیں: ”مَیں ابھی کن مسئلوں کا سامنا کر رہا ہوں؟ کیا مجھے کسی کو معاف کرنے کی ضرورت ہے؟ یا کیا مَیں اپنی زندگی میں کسی نئی مشکل کا سامنا کر رہا ہوں جس کا مقابلہ کرنے کے لیے مجھے یہوواہ کی مدد کی ضرورت ہے؟“ (2-سلا 19:15-19) اُن باتوں کو بھی اپنے ذہن میں رکھیں جن کا ذکر یسوع نے اُس وقت کِیا تھا جب اُنہوں نے اپنے پیروکاروں کو دُعا کرنا سکھائی تھی۔ اِس بارے میں سوچیں کہ آپ دُعا میں یہوواہ کے نام، اُس کی بادشاہت اور اُس کی مرضی کے حوالے سے کیا کہیں گے۔—متی 6:9، 10۔
9 ذرا بہن الیسکا کی مثال پر غور کریں۔ جب اُنہیں پتہ چلا کہ اُن کے شوہر کو دماغ کا کینسر ہے اور وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہیں گے تو اُن کے لیے دُعا کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں اِتنی پریشان تھی کہ جب مَیں دُعا کرنے بیٹھتی تھی تو مجھے سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ مَیں کیا کہوں۔“ کس چیز نے بہن کی مدد کی؟ اُنہوں نے کہا: ”مَیں دُعا کرنے سے پہلے سوچتی ہوں کہ مَیں یہوواہ سے کیا کہوں گی۔ اِس طرح مَیں اُس سے صرف اپنے اور اپنے شوہر کی بیماری کے بارے میں ہی نہیں بلکہ دوسرے معاملوں کے بارے میں بھی بات کر پاتی ہوں۔“
10. ہمیں جلدی جلدی دُعا کرنے کی بجائے زیادہ دیر تک یہوواہ سے بات کرنے کی کوشش کیوں کرنی چاہیے؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
10 جلدی جلدی دُعا نہ کریں۔ سچ ہے کہ ہم چھوٹی دُعائیں کرنے سے بھی یہوواہ کے قریب جا سکتے ہیں لیکن جب ہم سکون سے زیادہ دیر تک یہوواہ سے بات کرتے ہیں تو ہم کُھل کر اُسے اپنے احساسات بتا پاتے ہیں۔b بہن الیسکا کے شوہر الائیجا نے کہا: ”مَیں دن کے دوران کئی بار دُعا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ لیکن جب مَیں دُعا میں یہوواہ سے زیادہ دیر تک بات کرتا ہوں تو مَیں خود کو اُس کے اَور قریب محسوس کرتا ہوں۔ مَیں جانتا ہوں کہ یہوواہ اِس اِنتظار میں نہیں رہتا کہ مَیں جلدی سے اپنی بات ختم کروں۔ اِس لیے مَیں بڑے سکون سے اُس سے بات کرتا ہوں۔“ کیوں نہ آپ بھی دُعا کرنے کے لیے یہ کریں: ایک ایسا وقت اور ایسی جگہ چُنیں جہاں یہوواہ سے بات کرتے وقت آپ کا دھیان نہ بٹے اور جہاں آپ تھوڑی اُونچی آواز میں یہوواہ سے زیادہ دیر تک بات کر سکیں۔ پھر اکثر اِسی طرح سے دُعا کرنے کی کوشش کریں۔
ایسا وقت اور ایسی جگہ چُنیں جہاں آپ سکون سے دیر تک اپنے آسمانی باپ سے بات کر سکیں۔ (پیراگراف نمبر 10 کو دیکھیں۔)
بائبل میں لکھی خدا کے بندوں کی دُعاؤں پر سوچ بچار کریں
11. ہمیں بائبل میں لکھی خدا کے بندوں کی دُعاؤں پر سوچ بچار کرنے سے کیسے فائدہ ہوگا؟ (بکس ”کیا آپ بھی اُنہی کی طرح محسوس کرتے ہیں؟“ کو بھی دیکھیں۔)
11 بائبل میں آپ کو یہوواہ کے بہت سے بندوں کی دُعائیں اور یہوواہ کی بڑائی کے لیے گائے جانے والے بہت سے گیت یا زبور ملیں گے۔ آپ کو اِن پر سوچ بچار کرنے سے بھی بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ جب آپ اِس بات پر غور کریں گے کہ یہوواہ کے بندوں نے اُس کے سامنے اپنا دل کیسے اُنڈیل دیا تھا تو آپ کے دل میں بھی کُھل کر یہوواہ سے بات کرنے کی خواہش پیدا ہوگی۔ آپ کو تو یہوواہ کی بڑائی کرنے کے لیے کئی ایسے نئے لفظ بھی مل جائیں گے جنہیں آپ اپنی دُعاؤں میں اِستعمال کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ یہ بھی دیکھ پائیں گے کہ یہوواہ کے کچھ بندوں نے اپنی دُعاؤں میں ایسے جذبات ظاہر کیے جو آپ محسوس کر رہے ہیں اور اُنہوں نے ایسی باتوں کے لیے درخواست کی جن کی درخواست آپ کرنا چاہتے ہیں۔
12. بائبل میں لکھی دُعاؤں کو پڑھتے وقت ہم خود سے کون سے سوال پوچھ سکتے ہیں؟
12 جب آپ بائبل میں لکھی کوئی دُعا پڑھتے ہیں تو خود سے پوچھیں: ”یہ دُعا کون کر رہا ہے اور اُس نے کن حالات میں یہ دُعا کی تھی؟ یہوواہ کا یہ بندہ دُعا میں اُسے اپنے جو احساسات بتا رہا ہے، کیا مَیں بھی ویسا ہی محسوس کر رہا ہوں؟ مَیں اُس کی دُعا سے کیا سیکھ سکتا ہوں؟“ آپ اِن سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے تحقیق کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے میں تھوڑی محنت تو لگے گی لیکن اِس سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا۔ آئیے بائبل میں لکھی چار دُعاؤں پر غور کرتے ہیں۔
13. ہم دُعا کے سلسلے میں حنّہ سے کون سی بات سیکھتے ہیں؟ (1-سموئیل 1:10، 11) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
13 پہلا سموئیل 1:10، 11 کو پڑھیں۔ جب حنّہ نے یہ دُعا کی تھی تو اُنہیں دو بڑے مسئلوں کا سامنا تھا۔ ایک تو یہ کہ وہ بانجھ تھیں اور دوسرا یہ کہ اُن کی سوتن نے اُن کا جینا دوبھر کِیا ہوا تھا۔ (1-سمو 1:4-7) اگر آپ کو بھی کسی ایسی مشکل کا سامنا ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تو آپ حنّہ کی دُعا سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ حنّہ نے دل کھول کر یہوواہ کو اپنی سب پریشانیوں کے بارے میں بتایا جس کے بعد اُن کا دل ہلکا ہو گیا۔ (1-سمو 1:12، 18) اگر ہم بھی دل کھول کو یہوواہ کو اپنی پریشانیوں اور احساسات کے بارے میں بتائیں گے تو ہمیں بھی ’اپنا بوجھ اُس پر ڈالنے‘ سے سکون ملے گا۔—زبور 55:22۔
حنّہ بانجھ تھیں اور اُن کی سوتن اُنہیں طعنے دیتی تھی۔ حنّہ نے دُعا میں یہوواہ کے سامنے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کِیا۔ (پیراگراف نمبر 13 کو دیکھیں۔)
14. (الف)ہم حنّہ سے اَور کیا سیکھتے ہیں؟ (ب)بائبل پڑھنے اور اِس میں لکھی باتوں پر سوچ بچار کرنے سے ہم یہ کیسے جان پائیں گے کہ ہم دُعا میں یہوواہ سے اَور کیا کچھ کہہ سکتے ہیں؟ (فٹنوٹ کو دیکھیں۔)
14 پھر جب حنّہ کا بیٹا ہوا تو حنّہ اُس کی پیدائش کے کچھ سال بعد اُسے کاہنِاعظم عیلی کے پاس لے گئیں۔ (1-سمو 1:24-28) حنّہ نے یہوواہ سے دُعا کرتے وقت اِس بات پر یقین ظاہر کِیا کہ یہوواہ اپنے وفادار بندوں کی حفاظت کرتا اور اُن کا خیال رکھتا ہے۔c (1-سمو 2:1، 8، 9) ہو سکتا ہے کہ حنّہ کے گھر میں چلنے والے مسئلے ختم نہ ہوئے ہوں لیکن اُنہوں نے اپنا دھیان اِس بات پر رکھا کہ یہوواہ اُنہیں کس طرح سے برکتیں دے رہا ہے۔ اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ اگر ہم بھی اِس بات پر دھیان دیں گے کہ یہوواہ نے ابھی تک کس طرح سے ہماری مدد کی ہے تو ہم اپنے مسئلوں سے اچھی طرح سے نمٹ پائیں گے۔
15. جب ہمیں نااِنصافی کا سامنا ہوتا ہے تو ہم یرمیاہ کی دُعا سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (یرمیاہ 12:1)
15 یرمیاہ 12:1 کو پڑھیں۔ ایک وقت آیا جب یرمیاہ نبی یہ دیکھ کر بہت پریشان ہو گئے کہ بُرے لوگ اپنی زندگی میں اِتنے کامیاب ہیں۔ اُنہیں تو اکثر اِس وجہ سے بھی بہت پریشانی ہوتی تھی کہ اُن کی اپنی قوم کے لوگ اُن کے ساتھ بُرا سلوک کرتے اور اُن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ (یرم 20:7، 8) ہم یرمیاہ کے احساسات سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ہم بھی ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو بُرے کام کرنے کے بعد بھی مزے کی زندگی جیتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آج لوگ ہمارا بھی مذاق اُڑاتے ہیں۔ حالانکہ یرمیاہ نے کُھل کر یہوواہ کو بتایا کہ وہ اُن باتوں کی وجہ سے کتنے پریشان ہیں لیکن اُنہوں نے کبھی یہوواہ کے اِنصاف پر اُنگلی نہیں اُٹھائی۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ یہوواہ نے کیسے اپنی قوم کے باغی لوگوں کی درستی کی تو یہوواہ کے اِنصاف پر اُن کا بھروسا اَور بڑھ گیا۔ (یرم 32:19) جب ہمارے ساتھ بھی نااِنصافی ہوتی ہے تو ہم بھی کُھل کر یہوواہ کو اپنے احساسات بتا سکتے ہیں اور اِس بات پر بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اپنے وقت پر ہمارے ساتھ ہونے والی نااِنصافی کو ختم کر دے گا۔
16. اگر ہم اپنے حالات کی وجہ سے کچھ کام نہیں کر پاتے تو ہم اُس لاوی کی دُعا سے کیا سیکھ سکتے ہیں جو ہیکل میں خدا کے بندوں کے ساتھ مل کر عبادت نہیں کر سکتا تھا؟ (زبور 42:1-4) (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
16 زبور 42:1-4 کو پڑھیں۔ یہ گیت ایک ایسے لاوی نے لکھا تھا جو ہیکل میں خدا کے بندوں کے ساتھ مل کر عبادت نہیں کر سکتا تھا۔ اِس زبور سے ہمیں اُس لاوی کے احساسات پتہ چلتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کے ہو کر رہ گئے ہیں یا اپنے ایمان کی وجہ سے قید میں ہیں تو ہم اُس لاوی کے جذبات کو سمجھ سکتے ہیں۔ شاید ہمارے جذبات ایک پَل میں کچھ اور دوسرے پَل میں کچھ اَور ہو جائیں۔ لیکن چاہے ہم جیسا بھی محسوس کریں، ہمیں کُھل کر یہوواہ سے بات کرنی چاہیے۔ یوں ہم اپنے احساسات کو بہتر طور پر سمجھ پائیں گے اور صورتحال کو فرق نظر سے دیکھ پائیں گے۔ ایسا ہی کچھ اُس لاوی کے ساتھ ہوا تھا۔ جب اُس نے کُھل کر یہوواہ کو اپنے احساسات بتائے تو اُسے محسوس ہوا کہ اُسے یہوواہ کی بڑائی کرنے کے بہت سے نئے موقعے ملے ہیں۔ (زبور 42:5) وہ یہ بھی دیکھ پایا کہ یہوواہ کس طرح سے اُس کا خیال رکھ رہا ہے۔ (زبور 42:8) جب ہم شدت سے دُعا میں یہوواہ سے مدد مانگیں گے تو ہم اپنے جذبات کو سمجھ پائیں گے؛ پُرسکون رہ پائیں گے اور ہمیں اپنے حالات سے لڑنے کی طاقت ملے گی۔
زبور 42 کو لکھنے والے لاوی نے یہوواہ کے سامنے اپنا دل اُنڈیل دیا۔ جب ہم دُعا میں یہوواہ کو اپنے احساسات بتاتے ہیں تو ہم معاملے کو فرق نظر سے دیکھ پاتے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 16 کو دیکھیں۔)
17. (الف)ہم یُوناہ نبی کی دُعا سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (یُوناہ 2:1، 2) (ب)جب ہم مشکل وقت سے گزر رہے ہوتے ہیں تو زبوروں میں لکھی کچھ باتیں ہمارے کام کیسے آ سکتی ہیں؟ (فٹنوٹ کو دیکھیں۔)
17 یُوناہ 2:1، 2 کو پڑھیں۔ یُوناہ نبی نے یہ دُعا تب کی تھی جب وہ ایک بہت بڑی مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ حالانکہ اُنہوں نے یہوواہ کی نافرمانی کی تھی لیکن اُنہیں پکا یقین تھا کہ یہوواہ اُن کی دُعا ضرور سنے گا۔ یُوناہ نے یہوواہ سے اِلتجائیں کرتے ہوئے جو الفاظ اِستعمال کیے، وہ بہت سے زبوروں میں ملتے ہیں۔d بےشک یُوناہ اُن زبوروں سے اچھی طرح واقف تھے۔ زبوروں میں لکھی باتوں کو یاد کرنے اور اِن پر سوچ بچار کرنے سے یُوناہ کا یہ یقین مضبوط ہوا کہ یہوواہ اُن کی مدد کرے گا۔ اِسی طرح اگر ہم بھی بائبل کی کچھ آیتوں کو زبانی یاد کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ آیتیں ہمیں اُس وقت یاد آ سکتی ہیں جب ہم مشکل وقت میں یہوواہ سے تسلی پانے کے لیے دُعا کرتے ہیں۔
دُعا کے ذریعے یہوواہ کے قریب ہوتے جائیں
18-19. اگر کبھی کبھار دُعا کرتے وقت ہمیں اپنے احساسات کو لفظوں میں بتانا مشکل لگتا ہے تو ہمیں رومیوں 8:26، 27 پر غور کرنے سے حوصلہ کیسے مل سکتا ہے؟ ایک مثال دیں۔
18 رومیوں 8:26، 27 کو پڑھیں۔ کبھی کبھار ہم اِتنے دُکھی اور پریشان ہوتے ہیں کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتا کہ ہم دُعا میں اپنے احساسات کیسے بیان کریں۔ لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو یہوواہ کی پاک روح ”ہمارے لیے اِلتجا کرتی ہے۔“ وہ کیسے؟ یہوواہ نے اپنی پاک روح کے ذریعے اپنے کلام میں اپنے بہت سے بندوں کی دُعائیں لکھوائی ہیں۔ جب ہم اپنے احساسات کو اچھی طرح سے نہیں بتا پاتے تو یہوواہ اِن دُعاؤں میں پائی جانے والی درخواستوں کو ایسے قبول کرتا ہے جیسے ہم اُس سے وہ درخواست کر رہے ہوں اور وہ ہمیں اِن کا جواب بھی دیتا ہے۔
19 اِس بات سے بہن یالینا کو بہت حوصلہ ملا جو روس میں رہتی ہیں۔ بہن یالینا کو پولیس نے گِرفتار کر لیا تھا کیونکہ وہ بائبل پڑھ رہی اور دُعا کر رہی تھیں۔ بہن یالینا اِتنی پریشان ہو گئی تھیں کہ اُن سے دُعا ہی نہیں کی جا رہی تھی۔ اُنہوں نے کہا: ”پھر مجھے یاد آیا کہ اگر پریشانی کے وقت مجھے یہ سمجھ نہ آئے کہ مَیں یہوواہ سے کیا دُعا کروں تو یہوواہ بائبل میں لکھی دُعاؤں کو ایسے قبول کرے گا جیسے وہ دُعا مَیں مانگ رہی ہوں۔ . . . اِس بات پر غور کرنے سے مجھے بہت تسلی ملی۔“
20. جب ہم کسی بات کی وجہ سے فکرمند ہوتے ہیں تو ہم اپنے ذہن کو دُعا کرنے کے لیے تیار کیسے کر سکتے ہیں؟
20 جب ہم بہت زیادہ پریشان ہوتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ دُعا کرتے وقت ہمارا دھیان دوسری باتوں پر چلا جائے۔ تو اپنے ذہن کو دُعا کے لیے تیار کرنے کے لیے ہم زبوروں کی آڈیو ریکارڈنگز سُن سکتے ہیں۔ ہم اپنے احساسات کو ایک کاغذ پر لکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں جیسے بادشاہ داؤد نے کِیا تھا۔ (زبور 18؛ 34؛ 142؛ شروع میں دی گئی عبارتیں) بےشک اِس حوالے سے کوئی قانون نہیں ہے کہ ہمیں اپنے ذہن کو دُعا کے لیے تیار کیسے کرنا چاہیے۔ (زبور 141:2) اِس لیے یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ آپ کے لیے کون سا طریقہ صحیح رہے گا۔
21. ہم یہوواہ سے دل کھول کر دُعا کیوں کر سکتے ہیں؟
21 ہمیں یہ جان کر بہت تسلی ملتی ہے کہ یہوواہ ہمارے کہنے سے پہلے ہی جانتا ہے کہ ہم کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ (زبور 139:4) لیکن پھر بھی وہ ہم سے سننا چاہتا ہے کہ ہم کیسا محسوس کر رہے ہیں اور اُس پر کتنا بھروسا کرتے ہیں۔ اِس لیے اپنے آسمانی باپ سے دُعا کرنے سے نہ ہچکچائیں۔ اُس کے کلام میں لکھی دُعاؤں کو اِستعمال کریں۔ پورے دل سے یہوواہ کو پکاریں۔ اُسے اپنی خوشیوں اور غموں کے بارے میں بتائیں۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ کا پکا دوست ہے اور وہ آپ کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت آپ کے ساتھ ہے!
گیت نمبر 45: میرے دل کی سوچ بچار
a اِس سلسلے میں کتاب ”زندگی گزارنے کے لیے پاک کلام کے اصول“ میں حصہ ”یہوواہ“ کے تحت ”یہوواہ کی کچھ شاندار خوبیاں“ کو دیکھیں۔
b جو دُعائیں کلیسیا میں بھائی کرتے ہیں، وہ عام طور پر چھوٹی ہوتی ہیں۔
c حنّہ نے اپنی دُعا میں کچھ ایسے الفاظ اور جملے اِستعمال کیے جو موسیٰ نے لکھے تھے۔ بےشک حنّہ صحیفوں پر سوچ بچار کرنے کے لیے وقت نکالتی تھیں۔ (اِست 4:35؛ 8:18؛ 32:4، 39؛ 1-سمو 2:2، 6، 7) اِس کے کئی صدیوں بعد یسوع مسیح کی ماں یعنی مریم نے یہوواہ کی بڑائی کرتے ہوئے دُعا میں کچھ ایسے الفاظ اِستعمال کیے جو حنّہ کے الفاظ سے ملتے جلتے تھے۔—لُو 1:46-55۔
d مثال کے طور پر یُوناہ 2:3-9 کا موازنہ زبور 69:1؛ 16:10؛ 30:3؛ 142:2، 3؛ 143:4، 5؛ 18:6 اور 3:8 سے کریں۔ بائبل کی اِن آیتوں کو اُسی ترتیب سے بتایا گیا ہے جس طرح سے یُوناہ نے اِن کا اپنی دُعا میں ذکر کِیا۔