مطالعے کا مضمون نمبر 40
گیت نمبر 111: ہماری خوشی کی وجوہات
یہوواہ سے ہمیں ”بےاِنتہا خوشی“ ملتی ہے
’ مَیں خدا کے پاس جاؤں گا جس کے دم سے مجھے بےاِنتہا خوشی ملتی ہے۔‘—زبور 43:4۔
غور کریں کہ . . .
کون سی چیزیں ہماری خوشی چھین سکتی ہیں اور اگر ہم کسی وجہ سے اپنی خوشی کھو بیٹھے ہیں تو ہم پھر سے خوش رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔
1-2. (الف)دُنیا میں بہت سے لوگ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ (ب)اِس مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟
آج بہت سے لوگ خوش رہنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ لیکن اُنہیں پھر بھی سچی خوشی نہیں ملتی۔ کئی لوگ تو بہت ہی مایوس اور دُکھی رہتے ہیں اور اُنہیں اپنی زندگی کھوکھلی لگتی ہے۔ یہوواہ کے کچھ بندے بھی کبھی کبھار ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اِس ”آخری زمانے“میں رہتے ہوئے ہمیں ایسے مسئلوں اور پریشانیوں کا سامنا ہوگا جن سے نمٹنا ہمارے لیے بہت مشکل ہو سکتا ہے۔—2-تیم 3:1۔
2 اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ کن چیزوں کی وجہ سے ہماری خوشی چھن سکتی ہے اور اگر ہم کسی وجہ سے اپنی خوشی کھو بیٹھے ہیں تو ہم پھر سے خوش رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ لیکن آئیے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ سچی خوشی کا سرچشمہ کون ہے۔
سچی خوشی کا سرچشمہ
3. ہمیں یہوواہ کی بنائی ہوئی چیزوں سے اُس کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
3 یہوواہ خدا ہمیشہ خوش رہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی خوش رہیں۔ اِسی لیے اُس نے بہت سی ایسی چیزیں بنائی ہیں جن سے ہمیں بڑی خوشی ملتی ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم زمین پر رنگبرنگی چیزوں کو اور جانوروں کو کھیلتا کُودتا دیکھتے ہیں اور مزے مزے کے کھانے کھاتے ہیں تو ہم بہت خوش ہوتے ہیں۔ واقعی یہوواہ ہم سے دل کی گہرائیوں سے محبت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم زندگی کا مزہ لیں۔
Baby elephant: Image © Romi Gamit/Shutterstock; penguin chicks: Vladimir Seliverstov/500px via Getty Images;baby goats: Rita Kochmarjova/stock.adobe.com; two dolphins:georgeclerk/E+ via Getty Images
جب ہم جانوروں کو کھیلتا کُودتا دیکھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہوواہ کتنا خوشدل خدا ہے۔ (پیراگراف نمبر 3 کو دیکھیں۔)
4. (الف)یہوواہ دُنیا میں پائی جانے والی مصیبتوں کو دیکھنے کے باوجود بھی اپنی خوشی قائم کیسے رکھ پاتا ہے؟ (ب)یہوواہ ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ (زبور 16:11)
4 حالانکہ یہوواہ دُنیا میں چلنے والے مسئلوں اور پریشانیوں سے اچھی طرح واقف ہے لیکن وہ پھر بھی خوش رہتا ہے۔ (1-تیم 1:11) مگر وہ اپنی خوشی قائم کیسے رکھتا ہے؟ وہ جانتا ہے کہ مصیبتیں اور پریشانیاں صرف کچھ وقت کے لیے ہیں اور اُس نے وہ دن مقرر کر لیا ہے جب وہ اِنہیں ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا، یہوواہ ہماری تکلیفوں کو محسوس کرتا ہے اور ہمیں سہارا دینا چاہتا ہے۔ ایک طریقہ کیا ہے جس سے یہوواہ ایسا کرتا ہے؟ وہ دل سے خوش رہنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ (زبور 16:11 کو پڑھیں۔) آئیے دیکھیں کہ یہوواہ کو جاننے سے یسوع خوش کیسے رہ پائے۔
5-6. یسوع مسیح خوش کیوں رہتے ہیں؟
5 یہوواہ کے بعد یسوع کائنات کی سب سے خوشدل ہستی ہیں۔ غور کریں کہ ہم یہ بات کیوں کہہ سکتے ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یسوع ہوبہو اپنے باپ جیسے ہیں اِس لیے وہ اُس کی طرح خوش رہتے ہیں۔ (کُل 1:15؛ 1-تیم 6:15) دوسری وجہ یہ ہے کہ جتنا زیادہ وقت یسوع نے سچی خوشی کے سرچشمے یعنی یہوواہ کے ساتھ گزارا ہے اُتنا کسی نے نہیں گزارا۔
6 اِس کے علاوہ یسوع ہمیشہ وہی کام کرتے ہیں جو اُن کا باپ اُن سے چاہتا ہے۔ (اَمثا 8:30، 31؛ یوح 8:29) اِس وجہ سے یہوواہ اُن سے خوش رہتا ہے اور اُسے اُن پر فخر ہے۔ (متی 3:17) اور یہ بات بھی یسوع کے خوش رہنے کی ایک وجہ ہے۔
7. ہمیں سچی خوشی کیسے مل سکتی ہے؟
7 ہم بھی سچی خوشی کے سرچشمے یعنی یہوواہ کے قریب جانے سے خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔ جتنا زیادہ وقت ہم یہوواہ کو جاننے اور اُس کی طرح بننے میں لگائیں گے اُتنا ہی زیادہ ہم خوش رہ پائیں گے۔ یسوع کی طرح اگر ہم بھی یہوواہ کی مرضی پر چلیں گے اور یہ یاد رکھیں گے کہ یہوواہ ہم سے خوش ہے تو ہم بھی خوش رہ پائیں گے۔a (زبور 33:12) لیکن اگر کبھی کبھار یا پھر اکثر ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہماری خوشی کم ہو رہی ہے تو کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ یہوواہ ہم سے خوش نہیں ہے؟ بالکل نہیں! یہوواہ جانتا ہے کہ ہم عیبدار ہیں اور اِس دُنیا میں رہتے ہوئے کبھی کبھار ہم دُکھی اور مایوس ہو جائیں گے۔ (زبور 103:14) لیکن آئیے دیکھیں کہ کون سی چیزیں ہم سے ہماری خوشی چھین سکتی ہیں اور ہم پھر سے خوش رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔
کسی بھی چیز کو اِجازت نہ دیں کہ وہ آپ سے آپ کی خوشی چھین لے
8. زندگی کی مشکلیں اور پریشانیاں ہم پر کیا اثر ڈال سکتی ہیں؟
8 جب ہمیں مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے۔ کیا آپ کو یہوواہ کا گواہ ہونے کی وجہ سے اذیت دی جا رہی ہے؟ کیا آپ قدرتی آفت کا شکار ہوئے ہیں؟ یا کیا آپ پیسے کی تنگی، بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں؟ ہم بڑی آسانی سے اِن باتوں کی وجہ سے اپنی خوشی کھو سکتے ہیں، خاص طور پر اُس وقت جب ہم اپنی صورتحال کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ بائبل میں لکھی یہ بات واقعی سچ ہے: ”دل کا دُکھ اِنسان کو کچل دیتا ہے۔“ (اَمثا 15:13) ایسا ہی کچھ بابس نام کے بھائی کے ساتھ ہوا جو اپنی کلیسیا میں ایک بزرگ ہیں۔ چار سال کے عرصے کے دوران اُن کا بھائی اور امی ابو فوت ہو گئے۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں بالکل اکیلا پڑ گیا۔ کبھی کبھار مجھے اِس بات کا بھی بہت پچھتاوا ہوتا تھا کہ مَیں اپنے بھائی اور امی ابو کے جیتے جی اُن کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار پایا کیونکہ مصروف رہنے کی وجہ سے مَیں بہت تھک جاتا تھا۔“ کبھی کبھار ہمارے مسئلے اور پریشانیاں ہماری زندگی کو اِتنا مشکل بنا دیتے ہیں کہ ہم بھی بےحوصلہ اور تھک کر چُور ہو جاتے ہیں۔
9. کیا چیز پھر سے خوش رہنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟ (یرمیاہ 29:4-7، 10)
9 کیا چیز پھر سے خوش رہنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟ اگر ہم اُن باتوں کی فکر کرنا چھوڑ دیں گے جن پر ہمارا کوئی بس نہیں ہے اور اُن چیزوں کے لیے شکرگزار ہوں گے جو ہمارے پاس ہیں تو ہم پھر سے خوش رہ سکیں گے۔ دُنیا کے لوگوں کا ماننا ہے کہ ہم صرف تبھی خوش رہ سکتے ہیں اگر ہماری زندگی میں سب کچھ صحیح چلتا رہے گا۔ لیکن بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بات سچ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر یہوواہ نے بابل میں قید ہونے والے یہودیوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی صورتحال کو قبول کریں اور وہاں ہنسی خوشی زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ (یرمیاہ 29:4-7، 10 کو پڑھیں۔) اِس سے آپ کیا سیکھ سکتے ہیں؟ اپنی صورتحال کو قبول کریں اور اُن برکتوں کو دیکھنے کی کوشش کریں جو آپ کو مل رہی ہیں اور اِن کے لیے یہوواہ کے شکرگزار ہوں۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ قدم قدم پر آپ کی مدد کرے گا۔ (زبور 63:7؛ 146:5) ذرا ایفی نام کی بہن کی مثال پر غور کریں جو بہت بُری طرح سے زخمی ہوئیں اور اب چل پھر نہیں سکتیں۔ اُنہوں نے کہا: ”یہوواہ خدا نے، میرے گھر والوں اور کلیسیا کے بہن بھائیوں نے میری بہت مدد کی۔ مَیں نے سوچا کہ اگر مَیں ہمت ہار بیٹھوں گی تو ایک طرح سے مَیں ناشکری ظاہر کر رہی ہوں گی۔ اِس لیے مَیں خوش رہنے کی پوری کوشش کرتی ہوں تاکہ مَیں اُن سب کاموں کے لیے یہوواہ اور اپنے پیاروں کا شکریہ ادا کر سکوں جو اُنہوں نے میرے لیے کیے اور ابھی بھی کر رہے ہیں۔“
10. ہم مشکلوں کا سامنا کرتے وقت بھی خوش کیوں رہ سکتے ہیں؟
10 ہم تب بھی اپنی خوشی قائم رکھ سکتے ہیں جب ہمارے یا ہمارے گھر والوں کے ساتھ کچھ بُرا ہوتا ہے یا ہمیں کسی ایسی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے جس کا ہم نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔b (زبور 126:5) ہم ایسے حالات میں بھی خوش کیوں رہ سکتے ہیں؟ کیونکہ ہماری خوشی ہمارے حالات پر نہیں ٹکی۔ اِس حوالے سے ماریہ نام کی پہلکار نے کہا: ”مشکل وقت میں خوش رہنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آپ بالکل ہی نہ روئیں یا اپنے احساسات ظاہر ہی نہ کریں۔ دراصل مشکل وقت میں خوش رہنے سے ہم یہ ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم یہوواہ کے وعدوں کو نہیں بھولے۔ چاہے ہم کسی بھی مشکل کا سامنا کر رہے ہوں، ہمارا آسمانی باپ خوش رہنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔“ یاد رکھیں کہ بھلے ہی ہمیں زندگی میں کتنی ہی بڑی پریشانیوں کا سامنا کیوں نہ ہو، یہ سب وقتی ہیں۔ ہماری پریشانیاں سمندر کی ریت پر بنے پیروں کے نشان کی طرح ہیں جو بہت جلد ایک لہر سے ایسے غائب ہو جائیں گے جیسے یہ کبھی تھے ہی نہیں۔
11. آپ کو پولُس رسول کی مثال پر غور کرنے سے حوصلہ کیسے ملتا ہے؟
11 ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار ہمیں لگے کہ ہم پر اِتنی زیادہ مشکلیں اِس لیے آ رہی ہیں کیونکہ یہوواہ ہم سے خوش نہیں ہے۔ ایسے وقت میں اچھا ہوگا کہ ہم یہوواہ کے اُن وفادار بندوں کے بارے میں سوچیں جنہیں سخت مشکلوں کا سامنا ہوا تھا۔ پولُس رسول کی مثال لیجیے۔ یسوع نے خود پولُس کو چُنا تھا تاکہ وہ ”غیریہودیوں اور بادشاہوں اور بنیاِسرائیل تک“ خوشخبری پہنچائیں۔ (اعما 9:15) ذرا سوچیں کہ پولُس کے لیے یہ کتنا بڑا اعزاز تھا! لیکن کیا اِس وجہ سے پولُس کی زندگی مشکلوں سے خالی ہو گئی؟ نہیں۔ (2-کُر 11:23-27) اُن کی مثال پر غور کرنے سے تو ایسا لگتا ہے جیسے اُن کی مشکلیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ تو کیا اِس کا یہ مطلب تھا کہ یہوواہ اُن سے خوش نہیں تھا؟ ایسا بالکل نہیں ہے۔ دراصل پولُس اِسی لیے مشکلوں میں ثابتقدم رہ پائے کیونکہ یہوواہ اُن کے ساتھ تھا۔ (روم 5:3-5) اب ذرا اپنی صورتحال پر غور کریں۔ آپ بھی مشکلوں کے باوجود بڑی وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ اِسی لیے ہے کیونکہ یہوواہ آپ کے ساتھ ہے اور وہ آپ سے خوش ہے۔
12. ہماری خوشی اُس وقت کیسے چھن سکتی ہے جب ہماری توقعات پوری نہیں ہوتیں؟
12 جب ہماری توقعات پوری نہیں ہوتیں۔ (اَمثا 13:12) ہم یہوواہ سے محبت کرتے ہیں اور اُن کاموں کے لیے اُس کے بہت شکرگزار ہیں جو وہ ہمارے لیے کرتا ہے۔ اِس لیے ہم دلوجان سے اُس کی خدمت کرنے کے لیے فرق فرق طریقوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اُس کی خدمت کرنے کے لیے ایسے منصوبے بنانے کی کوشش کریں گے جنہیں پورا کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے تو ہم بےحوصلہ ہو سکتے ہیں۔ (اَمثا 17:22) ذرا ہولی نام کی ایک پہلکار کی بات پر غور کریں۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں بادشاہت کے مُنادوں کے لیے سکول میں جانا چاہتی تھی تاکہ مَیں کسی اَور ملک میں جا کر خدمت کر سکوں یا پھر ریماپو میں ہمارے تعمیراتی پراجیکٹ میں حصہ لے سکوں۔ لیکن پھر میرے حالات بدل گئے اور میرے لیے اپنے منصوبوں کو پورا کرنا ممکن نہیں رہا۔ مَیں بہت مایوس ہو گئی۔ سچ میں، ہمیں اُس وقت بہت غصہ آتا ہے اور بےبسی محسوس ہوتی ہے جب ہم چاہ کر بھی کچھ کام نہیں کر پاتے ہیں۔“ یہوواہ کے بہت سے بندے بھی اُس وقت ایسا ہی محسوس کرتے ہیں جب وہ یہوواہ کے لیے وہ سب نہیں کر پاتے جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔
13. چاہے ہمارے حالات جیسے بھی ہوں، ہم کون سے کام کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟
13 کیا چیز پھر سے خوش رہنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟ یاد رکھیں کہ یہوواہ کبھی ہم سے کوئی ایسا کام کرنے کی توقع نہیں کرتا جسے کرنا ہمارے بس میں نہ ہو۔ اُس کی نظر میں ہماری قدر اِس بات پر نہیں ٹکی کہ ہم اُس کی خدمت میں کتنا کچھ کر رہے ہیں۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم ’فروتن‘ یعنی خاکسار بنیں اور اُس کے ”وفادار“ رہیں۔ (میک 6:8؛ 1-کُر 4:2، فٹنوٹ) جب یہوواہ ہماری خوبیوں کو اور اِس بات کو دیکھتا ہے کہ ہم دل سے اُسے خوش کرنا چاہتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتا ہے، پھر چاہے ہم اُس کے لیے وہ سب نہ کر پائیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ اگر یہوواہ ہم سے حد سے زیادہ توقع نہیں کرتا تو کیا ہمیں ایسا کرنا چاہیے؟c بالکل نہیں! تو اگر آپ اپنے حالات کی وجہ سے یہوواہ کی اُس طرح سے خدمت نہیں کر پاتے جس طرح سے آپ کرنا چاہتے ہیں تو اُن کاموں پر دھیان دینے کی کوشش کریں جنہیں کرنا آپ کے بس میں ہے۔ مثال کے طور پر آپ یہوواہ کی خدمت کے حوالے سے کسی نوجوان کو ٹریننگ دے سکتے ہیں یا پھر کسی بوڑھے بھائی یا بہن کی مدد کر سکتے ہیں۔ آپ کسی بہن یا بھائی کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اُس سے ملنے جا سکتے ہیں یا پھر اُسے فون کر سکتے یا میسج بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ وہ کام کریں گے جو آپ کر سکتے ہیں تو یہوواہ بہت خوش ہوگا اور وہ آپ کی بھی خوش رہنے میں مدد کرے گا۔ اور کبھی نہ بھولیں کہ بہت جلد نئی دُنیا میں ہمارے پاس یہوواہ کی خدمت کرنے کے ایسے موقعے ہوں گے جن کا ہم نے تصور بھی نہیں کِیا ہوگا! اِس حوالے سے بہن ہولی نے کہا: ”جب بھی مَیں بےحوصلہ ہونے لگتی ہوں تو مَیں خود کو یاد دِلاتی ہوں کہ فردوس میں مَیں ہمیشہ تک زندہ رہوں گی اور تب مَیں یہوواہ کی مدد سے اپنے منصوبوں کو پورا کر سکوں گی۔“
14. اَور کون سی چیز ہم سے ہماری خوشی چھین سکتی ہے؟
14 جب خود کو خوش کرنا ہماری زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔ شاید سوشل میڈیا پر ہم کچھ ایسے لوگوں کو دیکھیں جو زندگی کا بھرپور مزہ لے رہے ہوتے ہیں اور بہت خوش نظر آتے ہیں۔ اُنہیں دیکھ کر شاید ہم سوچنے لگیں کہ اگر ہم بھی فرق فرق چیزیں خریدیں گے اور جگہ جگہ گھومنے جائیں گے تو ہی ہم دل سے خوش رہ پائیں گے۔ زندگی کا مزہ لینا غلط نہیں ہے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اُن خوبصورت چیزوں کا مزہ لیں جو اُس نے ہمارے لیے ہی بنائی ہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں نے دیکھا ہے کہ جب اُنہوں نے اپنا دھیان خود کو خوش کرنے پر رکھا تو بعد میں اُنہیں محسوس ہوا کہ اُنہیں اُن کاموں کو کرنے سے وہ خوشی نہیں ملی جو اُنہوں نے سوچی تھی۔ اِس سلسلے میں ایوا نام کی پہلکار نے کہا: ”جب آپ کا دھیان صرف خود کو خوش کرنے پر رہتا ہے تو آپ کسی بھی چیز سے مطمئن نہیں رہ پاتے بلکہ آپ اَور زیادہ کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔“ اگر ہمارا دھیان ہر وقت خود کو خوش کرنے پر رہے گا تو ہمارے ہاتھ مایوسی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔
15. ہم بادشاہ سلیمان سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
15 آئیے بادشاہ سلیمان کی مثال پر غور کریں جس سے پتہ چلتا ہے کہ جب ہم خود کو خوش کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں تو اِس سے اکثر مایوسی ہوتی ہے۔ بادشاہ سلیمان نے خوشی حاصل کرنے کے لیے اپنے منپسند کام کیے جیسے کہ اُنہوں نے بہترین کھانے کھائے، اچھی موسیقی سنی اور اپنے پیسے سے اعلیٰ چیزیں خریدیں۔ لیکن پھر اُنہوں نے کہا: ”آنکھ دیکھ دیکھ کر تھکتی نہیں اور کان سُن سُن کر اُکتاتے نہیں۔“ (واعظ 1:8؛ 2:1-11) دُنیا کے مطابق جو چیزیں سچی خوشی دے سکتی ہیں، اُنہیں ہم نقلی پیسے کی طرح کہہ سکتے ہیں۔ یہ دِکھنے میں تو کام کے لگتے ہیں لیکن اِن سے کچھ بھی حاصل نہیں کِیا جا سکتا ہے۔
16. ہمیں دوسروں کے لیے کچھ کرنے سے خوشی کیوں ملے گی؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
16 کیا چیز پھر سے خوش رہنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟ یسوع مسیح نے ہمیں بتایا ہے کہ ”لینے کی نسبت دینے میں زیادہ خوشی ہے۔“ (اعما 20:35) ذرا الیکوس نام کے ایک بھائی کی بات پر غور کریں جو اپنی کلیسیا میں ایک بزرگ ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں چھوٹے موٹے طریقوں سے دوسروں کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جتنا زیادہ مَیں دوسروں کے لیے کچھ کرتا ہوں اُتنا ہی زیادہ میرا دھیان خود سے ہٹ کر دوسروں پر رہتا ہے اور اِس طرح مَیں خوش رہ پاتا ہے۔“ آپ دوسروں کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ اگر آپ کسی شخص کو دُکھی یا مایوس دیکھتے ہیں تو اُس کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کریں۔ شاید آپ اُس کی مشکل کو تو حل نہ کر پائیں لیکن آپ اُسے تسلی دینے کے لیے اُس کی بات دھیان سے سُن سکتے ہیں، اُس کے لیے ہمدردی دِکھا سکتے ہیں اور اُسے یاد دِلا سکتے ہیں کہ وہ اپنا بوجھ یہوواہ پر ڈال دے۔ (زبور 55:22؛ 68:19) آپ اُسے یقین دِلا سکتے ہیں کہ یہوواہ نے اُسے نہیں چھوڑا۔ (زبور 37:28؛ یسع 59:1) آپ کچھ اَور طریقوں سے بھی اُس کی مدد کر سکتے ہیں جیسے کہ آپ اُس کے لیے کھانا بنا سکتے ہیں یا پھر اُس کے ساتھ چہلقدمی کے لیے جا سکتے ہیں۔ آپ اُسے اپنے ساتھ مُنادی کرنے کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں جس سے وہ خوش اور تازہدم ہو جائے گا۔ دوسروں کی مدد کرنے سے آپ یہوواہ کو موقع دے رہے ہوں گے کہ وہ آپ کے ذریعے اُن کا حوصلہ بڑھا سکے۔ جب ہم اپنی خوشی سے زیادہ دوسروں کی مدد کرنے پر دھیان دیں گے تو ہمیں سچی خوشی ملے گی۔—اَمثا 11:25۔
اپنی خواہشوں پر دھیان دینے کی بجائے دوسروں کی ضرورتوں پر دھیان دیں۔ (پیراگراف نمبر 16 کو دیکھیں۔)d
17. ہماری خوشی یہوواہ سے کیسے جڑی ہے؟ (زبور 43:4)
17 جتنا زیادہ ہم اپنے آسمانی باپ کے قریب جائیں گے اُتنی ہی زیادہ ہمیں سچی خوشی ملے گی۔ بائبل میں ہمیں یقین دِلایا گیا ہے کہ ’یہوواہ کے دم سے ہمیں بےاِنتہا خوشی‘ ملتی ہے۔ (زبور 43:4 کو پڑھیں۔) تو چاہے ہم زندگی میں کسی بھی مشکل کا سامنا کر رہے ہوں، ہمیں ڈرنے یا گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ اگر یہوواہ ہمارا پکا دوست ہے تو پھر ہم ہمیشہ تک خوش رہ سکتے ہیں!—زبور 144:15۔
گیت نمبر 155: ابدی خوشی
a بکس ”خوشی پانے کے لیے یہوواہ پر آس لگائیں“ کو دیکھیں۔
b مثال کے طور پر ویبسائٹ jw.org پر ویڈیو ”2023ء میں گورننگ باڈی کی طرف سے اپڈیٹ (نمبر 5)“ میں بھائی ڈینس اور بہن اِرینا کا اِنٹرویو دیکھیں۔
c اِس بارے میں اَور جاننے کے لیے 15 جولائی 2008ء کے ”مینارِنگہبانی“ میں مضمون ”خود سے مناسب توقعات رکھنے کے فائدے“ کو دیکھیں۔
d تصویر کی وضاحت: ایک بہن نے اپنے لیے بہت ساری چیزیں خریدی ہیں۔ لیکن اُسے اپنے لیے چیزیں خرید کر اُتنی خوشی نہیں ملی جتنی خوشی اُسے تب ملی جب اُس نے ایک ایسی بوڑھی بہن کے لیے پھول خریدے جسے حوصلے اور تسلی کی ضرورت تھی۔