مطالعے کا مضمون نمبر 41
گیت نمبر 108: یہوواہ کی شفقت
خدا کی محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے
” یہوواہ کا شکر کرو کیونکہ وہ اچھا ہے؛ اُس کی اٹوٹ محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔“—زبور 136:1۔
غور کریں کہ . . .
جب ہم یہ یاد رکھتے ہیں کہ یہوواہ کی محبت بائبل کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک ہے تو ہمیں اپنی مشکلوں سے لڑنے کا حوصلہ کیسے ملتا ہے۔
1-2. یہوواہ کے بہت سے بندوں کو کس مسئلے کا سامنا ہے؟
ذرا ایک بحری جہاز کا تصور کریں جو سمندری طوفان میں گِھرا ہوا ہے۔ وہ اُونچی اُونچی لہروں میں ہچکولے کھا رہا ہے۔ یہ جہاز تب تک لہروں کے زور سے اِدھر اُدھر ہوتا رہے گا جب تک کوئی اِس کا لنگر پانی میں نہیں ڈال دیتا۔ لنگر جہاز کو ڈگمگانے نہیں دے گا اور اِسے بہہ کر دُور جانے سے محفوظ رکھے گا۔
2 جب آپ کی زندگی میں کوئی ایسی مشکل کھڑی ہو جاتی ہے جو کسی طوفان سے کم نہیں ہوتی تو شاید آپ کو لگے کہ آپ اُس بحری جہاز کی طرح ہیں۔ شاید آپ کے دل میں فرق فرق طرح کے احساسات پیدا ہوں۔ مثال کے طور پر شاید ایک دن آپ کو لگے کہ یہوواہ آپ سے بہت محبت کرتا ہے اور وہ آپ کے ساتھ ہے لیکن اگلے ہی دن آپ کو اِس بات پر شک ہونے لگے کہ ”پتہ نہیں، یہوواہ کو اِس بات کی فکر بھی ہے کہ مجھ پر کیا بیت رہی ہے!“ (زبور 10:1؛ 13:1) یا شاید آپ کا دوست آپ سے حوصلہ بڑھانے والی کوئی بات کہے اور اِس کے بعد آپ بہت اچھا محسوس کریں۔ (اَمثا 17:17؛ 25:11) لیکن پھر اگلے ہی لمحے شک دوبارہ سے آپ کے دل میں جگہ بنانے لگے۔ شاید آپ تو یہ تک سوچنے لگیں کہ آپ یہوواہ کی محبت کے لائق ہی نہیں ہیں۔ جب اِس طرح کے احساسات کی وجہ سے آپ کا دل ہچکولے کھانے لگتا ہے تو آپ مشکلوں کے طوفان میں اپنا لنگر کیسے ڈال سکتے ہیں؟ دوسرے لفظوں میں کہیں تو آپ اِس بات کا پکا یقین کیسے رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ آپ سے محبت کرتا ہے اور وہ آپ کا ساتھ ہے؟
3. (الف)زبور 31:7 اور 136:1 میں لکھی اِصطلاح ”اٹوٹ محبت“ کا کیا مطلب ہے؟ (ب)ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں کہ یہوواہ اٹوٹ محبت کی اعلیٰ مثال ہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
3 مشکلوں کے طوفان میں ثابتقدم رہنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم یہوواہ کی اٹوٹ محبت کو یاد رکھیں۔ (زبور 31:7؛ 136:1 کو پڑھیں۔) جس عبرانی اِصطلاح کا ترجمہ ”اٹوٹ محبت“ کِیا گیا ہے، وہ ایسے گہرے لگاؤ کی طرف اِشارہ کرتی ہے جو ایک شخص کسی کے لیے رکھتا ہے اور جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ یہوواہ اٹوٹ محبت کی اعلیٰ مثال ہے۔ بائبل میں تو اُس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ’شفقت[”اٹوٹ محبت،“ ترجمہ نئی دُنیا]میں غنی‘ ہے یا اِس سے بھرا ہوا ہے۔ (خر 34:6، 7) بائبل میں یہوواہ کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے: ”جو تجھے پکارتے ہیں، اُن کے لیے تیری اٹوٹ محبت کی کوئی اِنتہا نہیں۔“ (زبور 86:5) غور کریں کہ اِن آیتوں کے ذریعے یہوواہ ہمیں اپنے بارے میں کون سی بات بتانا چاہ رہا ہے۔ یہ کہ وہ اپنے وفادار بندوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا! تو اگر آپ یہ یاد رکھیں گے کہ یہوواہ وفادار خدا ہے تو آپ مشکلوں کے طوفان میں کبھی نہیں ڈگمگائیں گے۔—زبور 23:4۔
جس طرح سمندری طوفان میں ایک کشتی کا لنگر کشتی کو ڈگمگانے نہیں دیتا اُسی طرح یہوواہ کی محبت پر ہمارا یقین ہمیں مشکلوں میں ڈگمگانے نہیں دیتا۔ (پیراگراف نمبر 3 کو دیکھیں۔)
یاد رکھیں کہ یہوواہ کی محبت بائبل کی ایک بنیادی تعلیم ہے
4. بائبل کی کچھ بنیادی تعلیمات کی مثالیں دیں اور بتائیں کہ ہم اِن پر پکا ایمان کیوں رکھتے ہیں۔
4 مشکلوں کے طوفان میں ثابتقدم رہنے کا ایک اَور طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ یاد رکھیں کہ یہوواہ کی محبت بائبل کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک ہے۔ جب آپ اِصطلاح ”بائبل کی بنیادی تعلیمات“ سنتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ شاید آپ کے ذہن میں وہ سچائیاں آئیں جو آپ نے بائبل سے سیکھی ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے سیکھا ہے کہ خدا کا نام یہوواہ ہے؛ یسوع اُس کے اِکلوتے بیٹے ہیں؛ مُردے کچھ نہیں جانتے اور اِنسان زمین پر فردوس میں ہمیشہ کی زندگی حاصل کریں گے۔ (زبور 83:18؛ واعظ 9:5؛ یوح 3:16؛ مُکا 21:3، 4) جب آپ اِن تعلیمات پر پکا ایمان رکھنے لگے تھے تو پھر کوئی بھی آپ کو اِنہیں ماننے سے نہیں روک سکا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ آپ جان گئے تھے کہ یہ تعلیمات سچ پر ٹکی ہیں۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ جب ہم یہوواہ کی محبت کو بائبل کی بنیادی تعلیم سمجھتے ہیں تو ہم اپنے دل سے اِس خیال کو کیسے نکال پاتے ہیں کہ یہوواہ کو ہماری کوئی فکر نہیں۔
5. ایک شخص جھوٹی تعلیمات کو کیسے رد کر سکتا ہے؟
5 جب آپ بائبل کورس کرنے لگے تھے تو کس چیز نے جھوٹی تعلیمات کو رد کرنے میں آپ کی مدد کی تھی؟ شاید آپ نے بائبل کا تعلیمات کا موازنہ اُن تعلیمات سے کِیا تھا جو پہلے آپ کے مذہب میں سکھائی جا رہی تھیں۔ مثال کے طور پر شاید پہلے آپ مانتے تھے کہ یسوع خدا ہیں اور لامحدود طاقت کے مالک ہیں۔ لیکن پھر جیسے جیسے آپ بائبل کی تعلیم حاصل کرتے گئے، آپ نے خود سے پوچھا: ”کیا یہ تعلیم واقعی سچ ہے؟“ بائبل کا مطالعہ کرنے سے آپ کو ایسے ثبوت ملے جن سے آپ کو یقین ہو گیا کہ یسوع خدا نہیں ہیں۔ پھر آپ جھوٹی تعلیم کی جگہ اِس سچائی کو ماننے لگے کہ یسوع کو ”سب چیزوں سے پہلے بنایا گیا“ تھا اور وہ ”خدا کے اِکلوتے بیٹے“ ہیں۔ (کُل 1:15؛ یوح 3:18) بےشک جھوٹی تعلیمات ایسی چیزوں کی طرح ہیں ”جو بڑی مضبوطی سے قائم ہیں“ اور جنہیں ڈھانا آسان نہیں ہے۔ (2-کُر 10:4، 5) لیکن جب آپ نے اِنہیں ڈھا دیا تو پھر آپ نے کبھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔—فِل 3:13۔
6. آپ اِس بات کا پکا یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ کی ”اٹوٹ محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے“؟
6 بائبل میں یہوواہ کی محبت کے بارے میں جو تعلیم دی گئی ہے، آپ اُس پر بھی پکا ایمان رکھ سکتے ہیں۔ اگر کسی مشکل سے گزرتے وقت آپ کے دل میں یہوواہ کی محبت کو لے کر شک پیدا ہوتا ہے تو خود سے پوچھیں: ”کیا جو کچھ مَیں سوچ رہا ہوں، وہ ٹھیک ہے؟“ اپنے شک کا موازنہ زبور 136:1 میں لکھے الفاظ سے کریں جو کہ اِس مضمون کی مرکزی آیت ہے۔ جس عبرانی اِصطلاح کا ترجمہ ”اٹوٹ محبت“ کِیا گیا ہے، اُس میں وفاداری کا خیال بھی شامل ہے۔ ذرا سوچیں کہ یہوواہ نے اپنی پاک روح کے ذریعے اِس زبور کو لکھنے والے شخص کے دل میں یہ کیوں ڈالا کہ وہ اُس کی محبت کو اِس طرح سے بیان کرے؟ اور اِس زبور میں یہ بات 26 بار کیوں لکھی گئی ہے کہ ”[یہوواہ]کی اٹوٹ محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے“؟ یہوواہ کی اٹوٹ محبت بائبل کی اُن بنیادی اور اہم سچائیوں میں سے ایک ہے جنہیں آپ نے خوشی سے قبول کِیا تھا۔ تو یہ خیال کہ یہوواہ کی نظر میں آپ کی کوئی قیمت نہیں ہے یا آپ یہوواہ کی محبت کے لائق نہیں ہیں، بالکل جھوٹ ہے۔ اِس جھوٹ پر یقین نہ کریں اور اِسے ویسے ہی رد کریں جیسے آپ نے باقی جھوٹی تعلیمات کو رد کِیا تھا۔
7. بائبل کی کچھ ایسی آیتیں بتائیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہوواہ ہم سے محبت کرتا ہے۔
7 بائبل میں اَور بھی بہت سے ایسے ثبوت دیے گئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یسوع نے اپنے پیروکاروں سے کہا: ’آپ چڑیوں سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔‘ (متی 10:31) یہوواہ نے خود بھی اپنے بندوں سے کہا ہے: ”مَیں تجھے مضبوط کروں گا، ہاں، مَیں تیری مدد کروں گا؛ مَیں نیکی کے اپنے دائیں ہاتھ سے ضرور تجھے تھامے رکھوں گا۔“ (یسع 41:10) غور کریں کہ یہوواہ اور یسوع نے کتنے یقین سے یہ باتیں کہی ہیں۔ یسوع نے یہ نہیں کہا کہ ”آپ چڑیوں سے زیادہ اہم ہو سکتے ہیں“ اور یہوواہ نے بھی یہ نہیں کہا کہ ”مَیں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔“ اِس کی بجائے اُنہوں نے کہا: ’آپ چڑیوں سے کہیں زیادہ اہم ہیں‘ اور ”مَیں تیری مدد کروں گا۔“ اگر کسی مشکل سے گزرتے وقت آپ کے دل میں یہوواہ کی محبت کو لے کر شک آتا ہے تو اِن آیتوں پر غور کریں۔ اِن سے آپ کو نہ صرف یہوواہ کی محبت کا احساس ہوگا بلکہ آپ کو پکا یقین ہو جائے گا کہ یہوواہ آپ سے محبت کرتا ہے۔ اِن آیتوں میں لکھے الفاظ سچ پر ٹکے ہیں۔ اگر آپ اپنے شک کے بارے میں یہوواہ سے دُعا کریں گے اور پھر اِن آیتوں پر سوچ بچار کریں گے تو آپ بھی 1-یوحنا 4:16 میں لکھی یہ بات کہہ پائیں گے: ”ہم جان گئے ہیں کہ خدا ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اِس بات پر یقین بھی رکھتے ہیں۔“a
8. اگر کبھی کبھار آپ کے دل میں یہ خیال آ جاتا ہے کہ یہوواہ آپ سے محبت نہیں کرتا تو پھر آپ کیا کر سکتے ہیں؟
8 لیکن اگر پھر بھی کبھی کبھار آپ کے دل میں یہ خیال آ جاتا ہے کہ یہوواہ آپ سے محبت نہیں کرتا تو پھر آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ جو کچھ محسوس کر رہے ہیں، اُس کا موازنہ اُس سچائی سے کریں جو آپ جانتے ہیں۔ احساسات بدلتے رہتے ہیں لیکن حقیقت کبھی نہیں بدلتی۔ اور بائبل کے مطابق یہوواہ کی محبت ایک حقیقت ہے۔ اگر ہم اِس بات پر یقین نہیں کرتے کہ یہوواہ ہم سے محبت کرتا ہے تو ایک طرح سے ہم یہ کہہ رہے ہوں گے کہ بائبل میں لکھی یہ بات سچ نہیں ہے کہ ”خدا محبت ہے۔“—1-یوح 4:8۔
اِس بات پر سوچ بچار کریں کہ یہوواہ ”آپ سے پیار کرتا ہے“
9-10. جب یسوع نے یوحنا 16:26، 27 میں کہا کہ ”باپ خود آپ سے پیار کرتا ہے“ تو وہ کس بارے میں بات کر رہے تھے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
9 آئیے دیکھیں کہ یسوع نے اپنے پیروکاروں سے جو بات کہی، اُس پر غور کرنے سے ہمیں یہوواہ کی محبت کے بارے میں اَور کون سی بات پتہ چلتی ہے۔ یسوع نے کہا: ”باپ خود آپ سے پیار کرتا ہے۔“ (یوحنا 16:26، 27 کو پڑھیں۔) اِس آیت میں لفظ ”پیار“ کے لیے یسوع نے جو یونانی لفظ اِستعمال کِیا تھا، وہ ایسے شدید اور گہرے جذبات کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو یہوواہ یسوع کے شاگردوں کے لیے رکھتا ہے۔ یسوع نے وہ بات اپنے شاگردوں کا دل خوش کرنے کے لیے نہیں کی تھی۔ 26 اور 27 آیتوں سے پہلے والی آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع اُس وقت اپنے شاگردوں کے احساسات کے بارے میں نہیں بلکہ دُعا کے موضوع پر بات کر رہے تھے۔
10 یسوع نے ابھی ابھی اپنے شاگردوں کو بتایا تھا کہ وہ اُن کے نام کے وسیلے سے دُعا کریں نہ کہ اُن سے دُعا کریں۔ (یوح 16:23، 24) شاگردوں کے لیے یہ بات جاننا ضروری کیوں تھا؟ کیونکہ یسوع کے مُردوں میں سے زندہ ہو جانے کے بعد ہو سکتا تھا کہ شاگرد یسوع سے دُعا کرنے لگتے۔ دیکھا جائے تو یسوع اُن کے بہت اچھے دوست تھے۔ شاگرد سوچ سکتے تھے کہ یسوع اُن سے اِتنی محبت کرتے ہیں کہ وہ اُن کی اِلتجائیں سننا چاہیں گے اور پھر اِنہیں اپنے باپ کے سامنے پیش کریں گے۔ لیکن یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا: ”باپ خود آپ سے پیار کرتا ہے۔“ یہوواہ ہم سے اِتنا پیار کرتا ہے کہ وہ خود ہماری دُعائیں سنتا ہے۔ یہ سچائی دُعا کے بارے میں بائبل کی بنیادی تعلیم کا حصہ ہے۔ اب ذرا اِس سچائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے بارے میں سوچیں۔ بائبل کا مطالعہ کرنے سے آپ یسوع کو جان گئے اور اُن سے محبت کرنے لگے۔ (یوح 14:21) لیکن پہلی صدی عیسوی کے شاگردوں کی طرح آپ بھی پورے اِعتماد سے یہوواہ سے دُعا کرتے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ یہوواہ ”خود آپ سے پیار کرتا ہے۔“ جب جب آپ یہوواہ سے دُعا کرتے ہیں، آپ اِسی بات پر اپنا ایمان ظاہر کرتے ہیں۔—1-یوح 5:14۔
آپ اِس یقین کے ساتھ یہوواہ سے دُعا کر سکتے ہیں کہ وہ ”خود آپ سے پیار کرتا ہے۔“ (پیراگراف نمبر 9-10 کو دیکھیں۔)b
یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کے دل میں شک آ کہاں سے رہا ہے
11. اگر ہم یہوواہ کی محبت پر شک کریں گے تو شیطان خوش کیوں ہوگا؟
11 ہمارے دل میں یہوواہ کی محبت کے حوالے سے شک کہاں سے آ سکتا ہے؟ شاید آپ کہیں کہ شیطان کی طرف سے اور یہ بات کسی حد تک سچ بھی ہے۔ شیطان ہمیں ’پھاڑ کھانے کا موقع ڈھونڈتا‘ ہے اور چاہتا ہے کہ ہم یہوواہ کی محبت پر شک کریں۔ (1-پطر 5:8) یہوواہ نے ہم سے محبت کرنے کی وجہ سے ہمارے لیے فدیہ فراہم کِیا۔ لیکن شیطان ہم میں یہ سوچ ڈالنا چاہتا ہے کہ ہم اِتنے گُناہگار اور ناکارہ ہیں کہ ہمیں فدیے سے فائدہ ہو ہی نہیں سکتا۔ (عبر 2:9) لیکن ذرا سوچیں کہ اگر ہم یہوواہ کی محبت پر شک کریں گے تو اِس سے کس کو خوشی ملے گی؟ شیطان کو۔ اور اگر ہم مشکلوں کے آگے گُھٹنے ٹیک دیں گے تو کون اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا؟ ظاہری بات ہے کہ شیطان۔ غور کریں کہ شیطان کتنی بےباکی سے ہمارے دل میں یہوواہ کی محبت کے حوالے سے شک ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ یہوواہ کی محبت کے بالکل لائق نہیں ہے۔ لیکن وہ ہمیں یہ احساس دِلانا چاہتا ہے کہ یہوواہ کے دل میں ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ اُس کی بہت سی کامیاب ”چالوں“ میں سے ایک چال ہے۔ (اِفِس 6:11) تو اگر ہم اپنے دُشمن اِبلیس کا مقصد سمجھنے کی کوشش کریں گے تو ہم اپنے اِس عزم کو مضبوط کر پائیں گے کہ ہم اُس کا ”مقابلہ کریں“ گے۔—یعقو 4:7۔
12-13. عیبدار ہونے کی وجہ سے ہمارے دل میں یہوواہ کی محبت کو لے کر شک کیوں پیدا ہو سکتا ہے؟
12 ایک اَور چیز کی وجہ سے بھی ہمارے دل میں یہوواہ کی محبت کو لے کر شک پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ کون سی چیز ہے؟ ہماری گُناہگار حالت۔ (زبور 51:5؛ روم 5:12) گُناہ کی وجہ سے اِنسانوں کا اپنے خالق سے رشتہ خراب ہو گیا ہے۔ گُناہ کی وجہ سے ہی اِنسانوں کی سوچ، اُن کے دل اور اُن کے جسم میں نقص بھی آ گیا ہے۔
13 گُناہ نے ہمارے جذبات پر بہت بُرا اثر ڈالا ہے۔ اِس کی وجہ سے ہم پچھتاوا، شرمندگی اور پریشانی محسوس کرتے ہیں۔ ہم میں یہ جذبات صرف تبھی پیدا نہیں ہوتے ہیں جب ہم کوئی گُناہ کر بیٹھتے ہیں بلکہ ہم میں یہ جذبات اِس لیے بھی پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ہم گُناہ کی حالت میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہ ایسی حالت ہے جو یہوواہ کے مقصد کے خلاف ہے کیونکہ اُس نے اِنسانوں کو بےعیب بنایا تھا۔ (روم 8:20، 21) ہم اپنی عیبدار حالت کو ایک ایسے پہیے کی طرح کہہ سکتے ہیں جس سے ہوا نکل گئی ہو۔ جب ایک گاڑی کے پہیے سے ہوا نکل جاتی ہے تو گاڑی صحیح طرح سے کام نہیں کر پاتی۔ اِسی طرح عیبدار ہونے کی وجہ سے ہم پوری طرح سے وہ کام نہیں کر پاتے جنہیں کرنے کے لیے ہمیں بنایا گیا تھا۔ عیبدار ہونے کی وجہ سے ہی کبھی کبھار ہمارے دل میں یہوواہ کی محبت کو لے کر شک آ جاتا ہے۔ لیکن جب بھی ایسا ہوتا ہے تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہوواہ ایک عظیم خدا ہے جو ’اُن لوگوں کے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کرتا ہے جو اُس سے محبت کرتے اور اُس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔‘—نحم 1:5۔
14. فدیے پر سوچ بچار کرنے سے ہم اپنے دل سے یہ خیال کیسے نکال پاتے ہیں کہ یہوواہ ہم سے محبت نہیں کرتا؟ (رومیوں 5:8) (بکس ”’گُناہ کی دھوکےباز کشش‘ سے بچیں“ کو بھی دیکھیں۔)
14 بےشک کبھی کبھار ہمارے دل میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ ہم یہوواہ کی محبت کے لائق نہیں ہیں۔ سچ کہیں تو ہم سے کوئی بھی واقعی اِس کے لائق نہیں ہے۔ مگر یہوواہ کی یہی بات تو ہمارے دل کو چُھو لیتی ہے کہ اُس کی محبت کے لائق نہ ہونے کے باوجود بھی وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اپنے بلبوتے پر یہوواہ کی محبت نہیں جیت سکتا تھا۔ لیکن یہوواہ نے ہم سے محبت کرنے کی وجہ سے ہمارے گُناہوں کو ڈھانپنے کے لیے فدیے کا بندوبست کِیا۔ (1-یوح 4:10) یہ بھی یاد رکھیں کہ یسوع بےعیب اِنسانوں کو نہیں بلکہ گُناہگار لوگوں کو نجات دِلانے کے لیے آئے تھے۔ (رومیوں 5:8 کو پڑھیں۔) ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو ہمیشہ صحیح کام ہی کرے۔ اور یہوواہ بھی ہم سے اِس کی توقع نہیں کرتا۔ تو اگر ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ گُناہگار حالت کی وجہ سے ہمارے دل میں یہوواہ کی محبت کو لے کر شک آ رہا ہے تو ہم اپنے اِس عزم کو مضبوط کر پائیں گے کہ ہم گُناہ کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔—روم 7:24، 25۔
یہوواہ کا وفادار رہنے کا فیصلہ کریں
15-16. اگر ہم یہوواہ کے وفادار رہیں گے تو ہم کس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں اور کیوں؟ (2-سموئیل 22:26)
15 یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اُس سے ’لپٹے رہنے‘ کا فیصلہ کریں۔ (اِست 30:19، 20) اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ وفاداری کرے گا۔ (2-سموئیل 22:26 کو پڑھیں۔) جب تک ہم یہوواہ کے وفادار ہیں، ہم اِس بات کا پورا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہر طرح کی مشکل میں ہمارا ساتھ دے گا۔
16 ہم نے بہت سی ایسی وجوہات پر غور کِیا ہے جن کے ذریعے ہم یہ جان گئے ہیں کہ ہم مشکلوں کے طوفان میں بھی ثابتقدم رہ سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمیشہ ہمارا ساتھ دے گا۔ یہ بات ہمیں بائبل میں سکھائی گئی ہے۔ اگر کبھی ہمارے دل میں یہوواہ کی محبت کو لے کر شک پیدا ہوتا ہے تو ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم بائبل سے یہوواہ کی محبت کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں، وہ سچ ہے نہ کہ ہمارے احساسات۔ آئیے بائبل میں لکھی اِس سچائی پر پکا بھروسا کرتے رہیں کہ یہوواہ کی اٹوٹ محبت ہمیشہ قائم رہے گی!
گیت نمبر 159: یہوواہ کی تعظیم کریں
a اِس کی کچھ اَور مثالیں اِستثنا 31:8، زبور 94:14 اور یسعیاہ 49:15 میں ہیں۔
b تصویر کی وضاحت: ایک بھائی کی بیوی بیمار ہے۔ وہ اُس کا خیال رکھنے، سمجھداری سے پیسہ اِستعمال کرنے اور اپنی بیٹی کی یہوواہ کی مرضی کے مطابق تربیت کرنے کے لیے دُعا کر رہا ہے۔