سن 1925ء میں ریاست اِنڈیانا کے شہر اِنڈیاناپولس میں ہمارا علاقائی اِجتماع
1925ء—آج سے 100 سال پہلے
یکم جنوری 1925ء کے ”دی واچٹاور“ میں لکھا تھا: ”اِس سال ہم بہت سی اہم باتوں کو دیکھنے کے منتظر ہیں۔“ اِس مضمون میں آگے یہ لکھا تھا: ”لیکن ہمیں آئندہ ہونے والی باتوں کے بارے میں سوچ سوچ کر فکرمند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارا دھیان بھٹک جائے گا اور ہم خوشی سے وہ کام نہیں کر پائیں گے جو ہمارا مالک یہوواہ ہم سے کروانا چاہتا ہے۔“ لیکن بائبل سٹوڈنٹس 1925ء میں کن باتوں کو دیکھنے کے منتظر تھے؟ اور جب اُن کی اُمیدیں پوری نہیں ہوئیں تو وہ پھر بھی مُنادی کرنے میں مصروف کیسے رہے؟
جب اُمیدیں پوری نہیں ہوئیں
بہت سے بائبل سٹوڈنٹس کو اُمید تھی کہ 1925ء میں زمین پر فردوس قائم ہو جائے گا۔ اِس بارے میں بھائی البرٹ شروڈر نے جو کہ بعد میں گورننگ باڈی کے ایک رُکن بن گئے تھے، یہ بتایا: ”ہم مانتے تھے کہ 1925ء میں مسحشُدہ مسیحی آسمان پر چلے جائیں گے اور بائبل میں بتائے گئے خدا کے وفادار بندے جیسے کہ اَبراہام اور داؤد وغیرہ زمین پر زندہ کیے جائیں گے جہاں وہ حاکموں کے طور پر خدا کے بندوں کی پیشوائی کریں گے۔“ لیکن جب ایسا نہیں ہوا تو کچھ بہن بھائی بہت مایوس ہو گئے۔—اَمثا 13:12۔
مگر مایوسی کے باوجود بھی زیادہتر بائبل سٹوڈنٹس لگن سے مُنادی کرتے رہے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ دوسروں کو یہوواہ کے بارے میں بتانا سب سے اہم کام ہے۔ آئیے دیکھیں کہ اُنہوں نے ریڈیو کے ذریعے پاک کلام کی سچائیوں کو بہت سے لوگوں تک کیسے پہنچایا۔
گواہوں نے اَور زیادہ ریڈیو سٹیشن بنائے
ایک سال پہلے یعنی 1924ء میں کئی لوگوں نے بائبل سٹوڈنٹس کے ریڈیو سٹیشن ”ڈبلیوبیبیآر“ (WBBR) سے نشر ہونے والے بہت سے پروگراموں کو سنا۔ اِسی لیے بائبل سٹوڈنٹس نے 1925ء میں امریکہ کی ریاست الینوائے کے شہر شکاگو میں ایک اَور ریڈیو سٹیشن بنایا۔ اِس نئے ریڈیو سٹیشن کے لیے جو چار انگریزی حروف چُنے گئے، اُنہیں ملا کر انگریزی لفظ ”ورڈ“ (WORD) بنتا ہے۔ بھائی رالف لیفلر جنہوں نے اِس ریڈیو سٹیشن کو بنانے میں مدد کی تھی، اُنہوں نے کہا: ”بہت سے دُوردراز علاقوں میں رہنے والے لوگ اِس ریڈیو سٹیشن کو بڑے شوق سے سنتے تھے، خاص طور پر سردی کے موسم میں جب اندھیرا جلدی ہو جاتا تھا اور زیادہتر لوگ ٹھنڈ کی وجہ سے اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلتے تھے۔“ مثال کے طور پر ایک گھرانہ تقریباً 5000 کلومیٹر (3000 میل) دُور الاسکا کے ایک شہر میں رہتا تھا۔ اِس گھرانے نے ہمارے نئے ریڈیو سٹیشن سے نشر ہونے والے ایک پروگرام کو سنا۔ پروگرام سننے کے بعد اُس گھرانے نے ریڈیو سٹیشن پر کام کرنے والے بھائیوں کو خط لکھا جس میں اُس نے اُن کا شکریہ ادا کِیا اور بتایا کہ اُسے پروگرام سُن کر بہت حوصلہ ملا ہے اور وہ خدا اور بائبل کے بارے میں اَور زیادہ جان پایا ہے۔
دائیں: ریاست الینوائے کے شہر بٹاویا میں ہمارا ریڈیو سٹیشن ”ورڈ“
بائیں: بھائی رالف لیفلر ریڈیو سٹیشن میں کام کرتے ہوئے
یکم دسمبر 1925ء کے ”دی واچٹاور“ میں بتایا گیا کہ دُوردراز علاقوں میں رہنے والے لوگ کس وجہ سے اِس ریڈیو سٹیشن کے پروگراموں کو سُن سکے۔ اِس میں لکھا تھا: ”ریڈیو سٹیشن ”ورڈ“ امریکہ کے اُن ریڈیو سٹیشنوں میں سے ایک ہے جس کی رینج کئی دُوردراز علاقوں تک پھیلی ہے۔“ ہمارا یہ ریڈیو سٹیشن نہ صرف پورے امریکہ میں بلکہ کیوبا، یہاں تک کہ الاسکا کے شمالی حصوں میں بھی صاف طور پر سنا جا سکتا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اِس ریڈیو سٹیشن کے ذریعے ہی پہلی بار پاک کلام کی سچائیوں کو سنا اور وہ اِن کے بارے میں اَور بھی سیکھنا چاہتے تھے۔
جارج نیش
اِسی سال بائبل سٹوڈنٹس کینیڈا میں بھی ریڈیو سٹیشن کے ذریعے خوشخبری سنانے کی اپنی کوششوں کو بڑھانے لگے۔ 1924ء میں کینیڈا میں رہنے والے بائبل سٹوڈنٹس نے شہر ساسکاٹون میں ریڈیو سٹیشن ”سیایچیوسی“ (CHUC) بنایا۔ یہ کینیڈا کے اُن ریڈیو سٹیشنوں میں سے ایک تھا جس پر مذہبی پروگرام نشر کیے جاتے تھے۔ 1925ء میں بائبل سٹوڈنٹس کو اپنے اِس ریڈیو سٹیشن کے لیے ایک بڑی جگہ کی ضرورت پڑی۔ تو اِسی سال ”واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی“ نے اِس ریڈیو سٹیشن کو قانونی طور پر اپنے نام کر لیا اور اِسے شہر ساسکاٹون میں شفٹ کرنے کے لیے ایک پُرانا تھیٹر خریدا اور اُس کی مرمت کی۔
اِس ریڈیو سٹیشن کے ذریعے کینیڈا کے صوبے ساسکچیوان کے ہر چھوٹے اور دُوردراز علاقے میں لوگوں نے خوشخبری کو پہلی بار سنا۔ مثال کے طور پر جب ایک دُوردراز شہر میں رہنے والی ایک عورت نے ہمارے ریڈیو سٹیشن پر پروگرام سنا تو اِس کے بعد اُس نے ہماری کتابوں اور رسالوں کو حاصل کرنے کی درخواست کی۔ بھائی جارج نیش نے اُس عورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا: ”اُس عورت نے اِتنے دل سے مِنت اور اِلتجا کی تھی کہ ہم نے اُسے کتاب ”سٹڈیز اِن دی سکرپچرز“ کی ساری جِلدیں ہی بھیج دیں۔“ جلد ہی وہ عورت بادشاہت کا پیغام اپنے علاقے سے بھی دُوردراز علاقوں میں پھیلانے لگی۔
ہمارے عقیدوں کی وضاحت
یکم مارچ 1925ء کے ”دی واچٹاور“ میں ایک بہت ہی خاص مضمون آیا جس کا عنوان تھا: ”قوم کی پیدائش۔“ یہ مضمون اِتنا خاص کیوں تھا؟ بائبل سٹوڈنٹس یہ جانتے تھے کہ شیطان کی ایک تنظیم ہے جس میں بُرے فرشتے اور زمین پر موجود جھوٹا مذہب، حکومتیں اور کاروباری نظام شامل ہیں۔ لیکن اُس مضمون کے ذریعے ”وفادار اور سمجھدار غلام“ نے بہن بھائیوں کی یہ اَور زیادہ سمجھنے میں مدد کی کہ یہوواہ کی بھی ایک تنظیم ہے جو شیطان کی تنظیم سے بالکل فرق ہے اور اِس کے خلاف ہے۔ (متی 24:45) وفادار غلام نے یہ بھی بتایا کہ خدا کی بادشاہت 1914ء میں قائم ہو چُکی تھی اور اِسی سال شیطان اور اُس کے بُرے فرشتوں کو آسمان سے نیچے پھینک دیا گیا تھا اور اب وہ زمین پر محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔—مُکا 12:7-9۔
کچھ بائبل سٹوڈنٹس کو یہ نئی وضاحت قبول کرنا مشکل لگ رہا تھا۔ اِس لیے اِس مضمون میں یہ حوصلہافزائی کی گئی: ”اگر ”واچٹاور“ کو پڑھنے والے اُن باتوں سے متفق نہیں ہیں جو اِس مضمون میں بتائی گئی ہیں تو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ صبر سے مالک پر بھروسا کریں اور صافدل اور وفاداری سے اُس کی خدمت کرتے رہیں۔“
لیکن برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک بھائی نے بتایا کہ وہاں رہنے والے زیادہتر بائبل سٹوڈنٹس کو یہ مضمون پڑھ کر کیسا لگا تھا۔ اُس بھائی کا نام ٹام ایر تھا اور وہ ایک پہلکار تھے۔ اُنہوں نے کہا: ”بہن بھائی مُکاشفہ 12 باب کی اِس وضاحت کو سُن کر بہت خوش ہوئے۔ جب ہم جان گئے کہ آسمان پر خدا کی بادشاہت قائم ہو چُکی ہے تو ہم بڑے جوش سے دوسروں کو یہ خوشخبری سنانے لگے۔ اِس سے ہمارے دل میں اَور زیادہ مُنادی کرنے کی خواہش پیدا ہوئی اور ہم یہ دیکھ پائے کہ یہوواہ مستقبل میں بہت سے شاندار کام کرنے والا ہے۔“
یہوواہ کے بارے میں گواہی
آج یہوواہ کے گواہ یسعیاہ 43:10 میں لکھے الفاظ کے بارے میں اکثر بات کرتے ہیں جہاں لکھا ہے: ”یہوواہ فرماتا ہے:”تُم میرے گواہ ہو، ہاں، میرے خادم ہو جسے مَیں نے چُنا ہے۔““ لیکن 1925ء سے پہلے اِس آیت کا ہماری کتابوں اور رسالوں میں کم ہی ذکر ہوتا تھا۔ مگر اب ایک تبدیلی آنے والی تھی۔ 1925ء میں رسالہ ”دی واچٹاور“ کے 11 شماروں میں یسعیاہ 43:10 اور 12 آیت کے بارے میں کافی بات کی گئی۔
اگست 1925ء کے آخر میں بائبل سٹوڈنٹس امریکہ کی ریاست اِنڈیانا کے شہر اِنڈیاناپولس میں ایک علاقائی اِجتماع کے لیے جمع ہوئے۔ اِجتماع کے پروگرام پر بھائی رتھرفورڈ کا ایک پیغام لکھا تھا جو اِجتماع پر آنے والے لوگوں کے لیے تھا۔ اِس پر لکھا تھا: ”ہم اِس اِجتماع پر اپنے مالک سے طاقت پانے کے لیے آئے ہیں تاکہ یہاں سے ہم اِس نئے جذبے کے ساتھ جائیں کہ ہم دوسروں کو اُس کے بارے میں اَور زیادہ گواہی دیں گے۔“ آٹھ دن تک ہونے والے اِس اِجتماع میں بہن بھائیوں کا بس یہی حوصلہ بڑھایا گیا کہ وہ ہر موقعے پر دوسروں کو یہوواہ کے بارے میں گواہی دیں۔
ہفتے کے دن 29 اگست کو بھائی رتھرفورڈ نے ایک تقریر کی جس میں اُنہوں نے اِس بات کو نمایاں کِیا کہ یہوواہ کے بارے میں گواہی دینا کتنا ضروری ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”یہوواہ نے اپنے بندوں سے کہا ہے کہ ”تُم میرے گواہ ہو . . . اور مَیں خدا ہوں۔““ پھر بھائی رتھرفورڈ نے بڑے ہی صاف اور کھرے لفظوں میں یہ حکم دیا: ””قوموں کے لیے ایک جھنڈا کھڑا کرو۔“ زمین پر صرف یہوواہ کے بندے ہی قوموں کے لیے جھنڈا کھڑا کر سکتے ہیں یعنی اُنہیں یہوواہ کے بارے میں گواہی دے سکتے ہیں کیونکہ یہوواہ اپنی پاک روح کے ذریعے اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔“—یسع 43:12؛ 62:10۔
پرچہ ”اُمید بھرا پیغام“
پھر بھائی رتھرفورڈ نے اپنی تقریر کے بعد ایک قرارداد پڑھی جس کا عنوان تھا: ”اُمید بھرا پیغام۔“ اِجتماع پر موجود سبھی بہن بھائی اِس قرارداد سے متفق تھے۔ اِس میں لکھا تھا: ”صرف خدا کی بادشاہت ہی ہمیں حقیقی امن اور سلامتی، اچھی صحت، ہمیشہ کی زندگی، گُناہ اور موت سے آزادی اور سچی خوشی دے سکتی ہے۔ یہی ہماری واحد اُمید ہے۔“ یہ قرارداد بعد میں بہت سی زبانوں میں ایک پرچے کی صورت میں بھی چھاپی گئی۔ اِس پرچے کی تقریباً 4 کروڑ کاپیاں لوگوں کو دی گئیں۔
حالانکہ بائبل سٹوڈنٹس نے اِس کے کئی سال بعد بھی نام یہوواہ کے گواہ نہیں اپنایا تھا لیکن وہ یہ بات بہت اچھی طرح سے سمجھ گئے تھے کہ یہوواہ کے بندوں کے طور پر اُن کے لیے اُس کے بارے میں گواہی دینا بہت ضروری ہے۔
دلچسپی رکھنے والے لوگوں سے واپسی ملاقاتیں
جیسے جیسے بائبل سٹوڈنٹس کی تعداد بڑھتی گئی، تنظیم میں بھائیوں نے سب کی حوصلہافزائی کی کہ وہ لوگوں میں صرف ہماری کتابیں اور پرچے ہی نہ بانٹیں بلکہ اُن لوگوں سے دوبارہ ملنے کے لیے بھی جائیں جنہوں نے اُن کے پیغام میں دلچسپی دِکھائی تھی۔ تو پرچہ ”اُمید بھرا پیغام“ کی مہم کے بعد ”بلیٹن“a میں یہ ہدایت دی گئی: ”اُن لوگوں سے دوبارہ ملنے جائیں جن کو آپ نے پرچہ ”اُمید بھرا پیغام“ دیا تھا۔“
جنوری 1925ء کے ”بلیٹن“ میں ایک بائبل سٹوڈنٹ کے تجربے کو بھی شامل کِیا گیا جو امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر پلانو میں رہتا تھا۔ اُس بائبل سٹوڈنٹ نے کہا: ”جب ہم اُن علاقوں میں دوبارہ مُنادی کرنے گئے جہاں ہم پہلے بھی جا چُکے تھے تو ہمیں یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ وہاں لوگوں نے بڑے دھیان سے ہماری بات کو سنا۔ ہمارے ساتھ ایسا اُن علاقوں میں نہیں ہوا جہاں ہم پہلی بار مُنادی کر رہے تھے۔ ہماری کلیسیا کے علاقے میں ایک ایسا چھوٹا شہر ہے جہاں ہم نے پچھلے دس سالوں میں پانچ بار مُنادی کی ہے۔ حال ہی میں میری امی[اور ایک اَور بہن]وہاں پھر سے مُنادی کرنے گئیں اور اُنہوں نے لوگوں کو پہلے سے بھی زیادہ کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔“
اور ملک پانامہ سے ایک پہلکار نے لکھا: ”جب مَیں اُن لوگوں کے پاس دوبارہ گیا جنہوں نے پہلی بار بائبل کا پیغام سننے سے اِنکار کر دیا تھا تو مَیں نے دیکھا کہ دوسری اور تیسری ملاقات پر اُن کا رویہ بالکل بدل چُکا تھا۔ اِس سال مَیں نے زیادہتر لوگوں کے ساتھ واپسی ملاقاتیں کی ہیں اور اِس دوران مجھے کچھ لوگوں کے ساتھ باتچیت کرتے ہوئے بہت اچھے تجربے ہوئے ہیں۔“
مستقبل میں ہونے والی شاندار باتیں
بھائی رتھرفورڈ نے 1925ء کے آخر میں پہلکاروں کو ایک خط لکھا جس میں اُنہوں نے بتایا کہ اُس سال مُنادی کے دوران اُن پہلکاروں نے کیا کچھ انجام دیا ہے اور اب اگلے سال اُنہیں کیا کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”اِس سال آپ کو ایسے بہت سے لوگوں کو تسلی دینے کا موقع ملا جو بڑے دُکھی تھے۔ بےشک اُنہیں تسلی دے کر آپ کو بہت خوشی ملی۔ . . . اب اگلے سال آپ کو اِس بات کے بہت سے موقعے ملیں گے کہ آپ دوسروں کو یہوواہ اور اُس کی بادشاہت کے بارے میں گواہی دیں اور یہ ثابت کریں کہ کون اُس کے سچے بندے ہیں۔ . . . آئیے ہم سب مل کر اپنے خدا اور اپنے بادشاہ کی بڑائی کریں۔“
سن 1925ء میں ہمارے بھائی بروکلن میں ہمارے بیتایل کو اَور بڑا بنانے کا منصوبہ بنانے لگے۔ اور پھر 1926ء میں اُنہوں نے ایک ایسا بڑا تعمیراتی پراجیکٹ شروع کِیا جو اِس سے پہلے ہماری تنظیم میں کبھی نہیں کِیا گیا تھا۔
سن 1926ء میں بروکلن میں بیتایل کی تعمیر کا کام
a اب اِسے ”مسیحی زندگی اور خدمت—اِجلاس کا قاعدہ“ کہا جاتا ہے۔