مطالعے کا مضمون نمبر 39
گیت نمبر 54: ”راہ یہی ہے“
اُن لوگوں کی فوراً مدد کریں جو خدا کے بارے میں سیکھنا چاہتے ہیں
”وہ سب لوگ جو ہمیشہ کی زندگی کی راہ پر چلنے کی طرف مائل تھے، ایمان لے آئے۔“—اعما 13:48۔
غور کریں کہ . . .
ہمیں کب لوگوں کو بائبل کورس کرنے اور عبادتوں میں آنے کی دعوت دینی چاہیے۔
1. جب ہم لوگوں کو بادشاہت کا پیغام سناتے ہیں تو وہ اِس کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟ (اعمال 13:47، 48؛ 16:14، 15)
پہلی صدی عیسوی میں بہت سے لوگوں نے بادشاہت کا پیغام سنتے ہی اِسے فوراً قبول کر لیا۔ (اعمال 13:47، 48؛ 16:14، 15 کو پڑھیں۔) اِسی طرح آج بھی جب کچھ لوگ پہلی بار بائبل سے خوشخبری سنتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں شروع شروع میں تو بادشاہت کے پیغام میں دلچسپی نہیں ہوتی مگر بعد میں وہ دل کھول کر اِسے قبول کرتے ہیں۔ تو جب ہم مُنادی میں ایسے لوگوں سے ملتے ہیں ”جو ہمیشہ کی زندگی کی راہ پر چلنے کی طرف مائل“ ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
2. ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ شاگرد بنانے کا کام ایک کسان کے کام جیسا ہے؟
2 ہم شاگرد بنانے کے کام کو ایک کسان کے کام جیسا کہہ سکتے ہیں۔ جب ایک کسان کے کھیت میں کچھ فصلیں دوسری فصلوں سے پہلے پک جاتی ہیں تو اُس کسان کو فوراً پکی ہوئی فصلوں کی کٹائی کرنی ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اُن فصلوں کو بھی پانی دیتا رہتا ہے جو ابھی تیار نہیں ہوئی ہوتیں۔ اِسی طرح جب ایک شخص ہمارے پیغام کو قبول کرتا ہے تو جتنی جلدی ہو سکتا ہے، ہمیں اُس کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ مسیح کا شاگرد بن سکے۔ لیکن ہمیں اُن لوگوں کے دل میں بھی خوشخبری کو قبول کرنے کی خواہش بڑھانی چاہیے جنہیں اِسے قبول کرنے کے لیے اَور زیادہ وقت کی ضرورت ہے۔ (یوح 4:35، 36) اگر ہمیں پتہ ہوگا کہ لوگ ہمارے پیغام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں تو ہی ہم دیکھ سکیں گے کہ ہم اُن کی اچھی طرح سے مدد کیسے کر سکتے ہیں۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ جب لوگ پہلی بار ہی بادشاہت کے پیغام کو سُن کر اِسے قبول کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ پھر ہم اِس بات پر بھی غور کریں گے کہ ہم اِن لوگوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں تاکہ وہ یہوواہ کے قریب ہوتے جائیں اور اُس کی عبادت کرنے لگیں۔
جب لوگ خوشی سے بادشاہت کے پیغام کو قبول کرتے ہیں
3. جب ہم مُنادی میں ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو ہمارے پیغام کو شوق سے سنتے ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ (1-کُرنتھیوں 9:26)
3 جب ہم مُنادی میں ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو ہمارے پیغام کو شوق سے سنتے ہیں تو ہمیں فوراً زندگی کی راہ پر چلنے میں اُن کی مدد کرنی چاہیے۔ ہمیں پہلی باتچیت کے دوران ہی اِن لوگوں کو بائبل کورس کرنے اور ہماری عبادتوں میں آنے کی دعوت دینی چاہیے۔—1-کُرنتھیوں 9:26 کو پڑھیں۔
4. کسی ایسے شخص کے بارے میں بتائیں جو فوراً ہی بائبل کورس کرنے کو تیار ہو گیا تھا۔
4 بائبل کورس کرنے کی دعوت دیں۔ کچھ لوگ فوراً ہی بائبل کورس کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ذرا کینیڈا میں رہنے والی ایک جوان عورت کے تجربے پر غور کریں۔ ایک دن جمعرات کو وہ عورت ہماری کتابوں اور رسالوں والی ٹرالی کے پاس گئی اور وہاں سے بروشر ”اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!“ لیا۔ ٹرالی کے پاس کھڑی بہن نے اُسے بتایا کہ اگر وہ چاہے تو کوئی یہوواہ کا گواہ اُسے اِس بروشر سے مُفت بائبل کورس کرا سکتا ہے۔ وہ عورت بائبل کورس کرنا چاہتی تھی اِس لیے اُس نے اور اُس بہن نے ایک دوسرے کو اپنا فون نمبر دیا۔ اُسی دن بعد میں اُس عورت نے اُس بہن کو میسج کِیا کہ وہ اُسے کب بائبل کورس کرا سکتی ہے۔ جب بہن نے اُس سے کہا کہ کیا وہ ہفتے کے دن اُس کے پاس آ سکتی ہے تو اُس عورت نے کہا: ”کیا آپ کل ہی نہیں آ سکتیں؟ مَیں گھر پر ہی ہوں گی۔“ تو ہماری بہن نے اُس عورت کو جمعے کو ہی بائبل کورس شروع کرا دیا۔ وہ عورت اُسی اِتوار کو پہلی بار ہماری عبادتگاہ میں گئی اور تب سے ہی بہت اچھے سے یہوواہ کے بارے میں سیکھ رہی ہے۔
5. اگر ہمیں لگتا ہے کہ ابھی ایک شخص بائبل کورس کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
5 بےشک ہر کوئی اُس جوان عورت کی طرح نہیں ہوگا جو فوراً ہی بائبل کورس کرنے کو تیار ہو جائے۔ کچھ لوگوں کو اپنے دل میں بائبل کورس کرنے کی خواہش پیدا کرنے میں وقت لگتا ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ہمیں یہ نہیں سوچ لینا چاہیے کہ وہ کبھی بھی بائبل کورس نہیں کرنا چاہیں گے۔ ہم اِن لوگوں کی مدد کرنے کے لیے فرق طریقے تلاش کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ہم اُن کے ساتھ باتچیت کی شروعات کسی ایسے موضوع سے کر سکتے ہیں جس میں اُنہیں دلچسپی ہو۔ اگر ہم اِن لوگوں کے بارے میں اچھا سوچیں گے تو ہو سکتا ہے کہ کچھ وقت بعد وہ ہم سے بائبل کورس کرنے کو تیار ہو جائیں۔ لیکن ہم کسی کو بائبل کورس کی دعوت دیتے وقت کیا کہہ سکتے ہیں؟ آئیے دیکھیں کہ کچھ ایسے بہن بھائی جو بائبل کورس شروع کرانے میں بہت ماہر ہیں، اِس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔
آپ کے خیال میں آپ تصویر میں نظر آنے والے اِن لوگوں سے کیا کہتے جس سے اُن کے دل میں بائبل سیکھنے کا شوق پیدا ہوتا؟ (پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)a
6. ہم بائبل میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں سے آئندہ بھی باتچیت جاری رکھنے کے لیے اُن سے کیا کہہ سکتے ہیں؟
6 جب کچھ مبشروں اور پہلکاروں سے پوچھا گیا کہ وہ اِتنی مہارت سے دوسروں کو بائبل کورس شروع کیسے کرا لیتے ہیں تو اُنہوں نے بتایا کہ کچھ ملکوں میں کسی کو بائبل کورس کی دعوت دیتے وقت اچھا ہوتا ہے کہ ہم اُن کے سامنے ”مطالعہ،“ ”بائبل کورس“ یا ”تعلیم دینے“ جیسے الفاظ اِستعمال نہ کریں۔ اِن مبشروں اور پہلکاروں نے دیکھا ہے کہ جب وہ لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ ”کیا آپ آئندہ بھی ہم سے باتچیت کرنا چاہتے ہیں؟“ یا ”کیا آپ بائبل کو اچھے سے جاننا چاہتے ہیں؟“ تو لوگ اِس کے لیے مان جاتے ہیں۔ تو آپ بھی لوگوں کے ساتھ آئندہ باتچیت جاری رکھنے کے لیے اُن سے کہہ سکتے ہیں: ”یہ کتنی حیرانی کی بات ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے اہم سوالوں کے جواب بائبل سے ملتے ہیں!“ یا پھر ہم اُن سے کہہ سکتے ہیں کہ ”بائبل صرف ایک مذہبی کتاب ہی نہیں ہے بلکہ اِس میں ہمیں زندگی گزارنے کے حوالے سے بہت اچھے مشورے بھی دیے گئے ہیں۔“ آپ ساتھ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں: ”آپ صرف 10 سے 15 منٹوں میں ہی بائبل سے ایسی خاص بات سیکھ سکتے ہیں جو آپ کے بہت کام آ سکتی ہے۔“ ضروری نہیں کہ آپ اِس طرح کے جملے اِستعمال کریں کہ ”ہم اِس وقت پر ملیں گے“ یا ”ہم ہر ہفتے آپ کے پاس آئیں گے۔“ اِس طرح کی باتوں سے شاید لوگ دباؤ محسوس کرنے لگیں۔
7. کچھ لوگوں کو کب بائبل کی سچائیوں کا پتہ چلا؟ (1-کُرنتھیوں 14:23-25)
7 عبادتوں میں آنے کی دعوت دیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پولُس رسول کے زمانے میں کچھ لوگوں کو پاک کلام کی سچائیوں کے بارے میں پہلی بار تب پتہ چلا تھا جب وہ مسیحیوں کی عبادت پر گئے تھے۔ (1-کُرنتھیوں 14:23-25 کو پڑھیں۔) آج بھی اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب بائبل کورس کرنے والے زیادہتر لوگ ہماری عبادتوں میں جانے لگتے ہیں تو وہ اَور تیزی سے یہوواہ کے قریب ہونے لگتے ہیں۔ لیکن ہمیں بائبل کورس کرنے والے لوگوں کو ہماری عبادتوں میں آنے کی دعوت کب دینی چاہیے؟ کتاب ”اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!“ کے سبق نمبر 10 میں کورس کرنے والے شخص کو یہ دعوت دی گئی ہے۔ لیکن آپ کو اپنے طالبِعلم کو عبادت میں آنے کی دعوت دینے کے لیے اُس وقت تک اِنتظار نہیں کرنا چاہیے جب تک آپ سبق نمبر 10 پر نہیں پہنچ جاتے۔ پہلی باتچیت کے دوران ہی آپ اُسے ہفتے یا اِتوار کے دن ہونے والی عبادت میں آنے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ آپ اُسے عوامی تقریر کا عنوان بتا سکتے ہیں یا پھر اُس ہفتے ہونے والے ”مینارِنگہبانی“ کے مضمون میں سے کوئی نکتہ بتا سکتے ہیں۔
8. جب ہم کسی شخص کو عبادت میں آنے کی دعوت دیتے ہیں تو ہم اُسے پہلے سے کیا کچھ بتا سکتے ہیں؟ (یسعیاہ 54:13)
8 جب ہم کسی ایسے شخص کو عبادت میں آنے کی دعوت دیتے ہیں جو بائبل سیکھنے کا شوق رکھتا ہے تو ہم اُسے بتا سکتے ہیں کہ ہماری عبادتوں میں اور اُن عبادتوں میں کیا فرق ہے جن میں شاید وہ جاتا ہے۔ جب ایک بہن کی طالبِعلم نے پہلی بار ”مینارِنگہبانی“ کا مطالعہ ہوتے ہوئے دیکھا تو اُس نے اُس بہن سے پوچھا: ”کیا مطالعہ کروانے والا یہ بھائی سب کے نام جانتا ہے؟“ ہماری بہن نے اُسے بتایا کہ کلیسیا میں ہم سب ہی ایک دوسرے کے نام جاننے اور اِنہیں یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہماری کلیسیا ایک گھرانے کی طرح ہے۔ پھر اُس طالبِعلم نے بتایا کہ اُس کے چرچ میں زیادہتر لوگ ایک دوسرے کا نام تک نہیں جانتے۔ ہم لوگوں کو عبادت میں آنے کی دعوت دیتے وقت اُنہیں اَور بھی کئی ایسی باتیں بتا سکتے ہیں جن کی وجہ سے ہماری عبادتیں دوسرے لوگوں کی عبادتوں سے فرق ہیں۔ (یسعیاہ 54:13 کو پڑھیں۔) ہم اِس لیے اپنے اِجلاسوں میں جاتے ہیں تاکہ ہم مل کر یہوواہ کی عبادت کر سکیں، اُس سے تعلیم حاصل کر سکیں اور ایک دوسرے کی حوصلہافزائی کر سکیں۔ (عبر 2:12؛ 10:24، 25) اِس وجہ سے ہماری عبادتوں میں رسمورواج کو منانے سے زیادہ اِس بات کا دھیان رکھا جاتا ہے کہ اِنہیں اِس طرح سے منظم کِیا جائے جس سے ہم خدا کے کلام سے سچائیاں سیکھ سکیں۔ (1-کُر 14:40) اِس کے علاوہ ہماری عبادتگاہیں سادہ ہوتی ہیں اور اِنہیں اِس طرح سے بنایا جاتا ہے کہ ہم وہاں آسانی سے یہوواہ کے بارے میں سیکھ سکیں۔ چونکہ ہم کسی بھی سیاسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے اِس لیے ہم اپنی عبادتوں میں نہ تو سیاسی معاملوں پر بات کرتے ہیں اور نہ ہی بحثوتکرار کرنے والی تقریریں کرتے ہیں۔ یہ بھی اچھا ہوگا کہ آپ اپنے طالبِعلم کو ہماری عبادت میں آنے سے پہلے یہ ویڈیو دِکھائیں: ”ہماری عبادتگاہوں میں کیا ہوتا ہے؟“ اِس طرح اُسے پہلے سے اندازہ ہوگا کہ ہماری عبادت میں کیا کچھ ہوگا۔
9-10. جب ہم کسی شخص کو عبادت میں آنے کی دعوت دیتے ہیں تو ہم اُس سے کیا کہہ سکتے ہیں تاکہ اُسے کسی طرح کا دباؤ محسوس نہ ہو؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
9 شاید ایک شخص ہماری عبادتوں میں آنے سے اِس لیے ہچکچائے کیونکہ اُسے ڈر ہے کہ ہم اُسے یہوواہ کا گواہ بننے کو کہیں گے۔ تو اُس شخص کو یقین دِلائیں کہ وہ بس اِجلاس کو آ کر سنے اور یہ نہ سوچے کہ اُسے اپنا مذہب چھوڑنا پڑے گا۔ اُسے یہ بھی بتائیں کہ ہم بس لوگوں کو ہماری عبادتوں میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم اُنہیں اِس بات پر مجبور نہیں کرتے کہ وہ یہوواہ کے گواہ بن جائیں۔ ہم اُسے بتا سکتے ہیں کہ ایک گھرانے کا ہر شخص ہماری عبادت میں آ سکتا ہے، یہاں تک کہ بچے بھی۔ ہماری عبادتوں میں بچوں کو الگ سے تعلیم نہیں دی جاتی۔ اِس کی بجائے بچے اور ماں باپ مل کر سیکھ سکتے ہیں۔ اِس طرح بچے اپنے ماں باپ کی نظروں کے سامنے ہوتے ہیں اور ماں باپ کو پتہ ہوتا ہے کہ اُن کے بچے کیا سیکھ رہے ہیں۔ (اِست 31:12) ہم لوگوں سے چندہ بھی نہیں لیتے۔ اِس کی بجائے ہم یسوع مسیح کے اِس حکم پر عمل کرتے ہیں: ”آپ نے مُفت پایا ہے اِس لیے مُفت دیں۔“ (متی 10:8) آپ اُس شخص کو یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ہماری عبادتوں میں آنے کے لیے اُسے مہنگے کپڑے پہننے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خدا لوگوں کی شکلوصورت کو نہیں بلکہ دلوں کو دیکھتا ہے۔—1-سمو 16:7۔
10 پھر جب وہ شخص عبادت میں آتا ہے تو اُسے اپنائیت کا احساس دِلانے کی پوری کوشش کریں۔ اُسے کلیسیا کے بزرگوں اور دوسرے مبشروں سے ملوائیں۔ جب وہ دیکھے گا کہ وہاں لوگ کتنے خوشمزاج ہیں تو شاید وہ دوبارہ بھی اِجلاس میں آنا چاہے۔ اگر اُس کے پاس بائبل نہیں ہے تو اُسے اپنی بائبل سے وہ آیتیں دِکھائیں جن کا ذکر مقرر اپنی تقریر میں کرتا ہے۔ اِس کے علاوہ آپ اُسے اپنی وہ کتاب یا رسالہ بھی دِکھا سکتے ہیں جس کا مطالعہ اِجلاس کے دوران کِیا جاتا ہے۔
جتنی جلدی ایک شخص عبادتوں میں آنے لگے گا اُتنی ہی جلدی وہ یہوواہ کے قریب ہوتا جائے گا۔ (پیراگراف نمبر 9-10 کو دیکھیں۔)
جب ایک شخص بائبل کورس کرنے لگتا ہے
11. آپ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ آپ کو بائبل کورس کرنے والے شخص کے وقت اور اُس کی مصروفیات کا خیال ہے؟
11 جب ہم کسی شخص کو بائبل کورس کرانے لگتے ہیں تو ہمیں کن باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے؟ اُس شخص کے وقت اور اُس کی مصروفیات کا خیال رکھیں۔ مثال کے طور پر آپ نے اُس شخص سے ملنے کا جو وقت طے کِیا ہے، اُس کی پابندی کریں، بھلے ہی آپ کے علاقے میں لوگ وقت کی پابندی کو اِتنا اہم نہ سمجھتے ہوں۔ اِس کے علاوہ جب آپ اُس شخص کے ساتھ پہلے سبق پر بات کرتے ہیں تو اِسے بہت لمبا نہ کھینچیں۔ کچھ تجربہکار بہن بھائی یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اچھا ہوگا کہ پہلا کورس تھوڑا چھوٹا رکھا جائے پھر چاہے کورس کرنے والا شخص اَور زیادہ ہی کیوں نہ سیکھنا چاہے۔ کورس کراتے وقت خود زیادہ نہ بولیں۔ اِس کی بجائے کورس کرنے والے شخص کو زیادہ بولنے کا موقع دیں۔—اَمثا 10:19۔
12. بائبل کورس کے شروع میں ہی ہمارا مقصد کیا ہونا چاہیے؟
12 جب ہم کسی شخص کو بائبل کورس شروع کراتے ہیں تو ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ یہوواہ اور یسوع کو اچھی طرح سے جانے اور اُن کے لیے اپنے دل میں محبت پیدا کرے۔ ایسا کرنے کے لیے ہمیں اُس کی توجہ خود پر اور اپنے علم پر دِلانے کی بجائے خدا کے کلام پر دِلانی چاہیے۔ (اعما 10:25، 26) پولُس رسول نے اِس حوالے سے ہمارے لیے بہت اچھی مثال قائم کی۔ جب وہ لوگوں کو تعلیم دیتے تھے تو وہ لوگوں کی توجہ یسوع مسیح پر دِلاتے تھے جنہیں یہوواہ نے اِس لیے بھیجا تھا تاکہ وہ اُسے جاننے اور اُس سے محبت کرنے میں ہماری مدد کریں۔ (1-کُر 2:1، 2) پولُس نے یہ بات بھی واضح کی کہ نئے شاگردوں کے لیے یہ سیکھنا بہت ضروری ہے کہ وہ خود میں ایسی خوبیاں پیدا کریں جو سونے، چاندی اور قیمتی پتھروں کی طرح ہیں۔ (1-کُر 3:11-15) اِن بیشقیمت خوبیوں میں ایمان، دانشمندی، سُوجھ بُوجھ اور یہوواہ کا خوف رکھنے کی خوبیاں شامل ہیں۔ (زبور 19:9، 10؛ اَمثا 3:13-15؛ 1-پطر 1:7) تو اپنے طالبِعلم کو تعلیم دیتے وقت پولُس کا طریقہ اپنائیں۔ اُس کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے ایمان کو مضبوط کرے اور اپنے آسمانی باپ کے ساتھ پکی دوستی کرے۔—2-کُر 1:24۔
13. پاک کلام میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کی مدد کرتے وقت ہم صبر اور سمجھداری سے کام کیسے لے سکتے ہیں؟ (2-کُرنتھیوں 10:4، 5) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
13 جب آپ دوسروں کو تعلیم دیتے وقت صبر اور سمجھداری سے کام لیں گے تو آپ یسوع کی مثال پر عمل کر رہے ہوں گے۔ بائبل کورس کراتے وقت طالبِعلم سے ایسے سوال نہ پوچھیں جن سے اُسے شرمندگی محسوس ہو۔ اگر اُسے کسی بات کو سمجھنا مشکل لگ رہا ہے تو اُسی نکتے پر بات نہ کرتے رہیں۔ اِس کی بجائے کورس آگے جاری رکھیں اور پھر بعد میں اُس نکتے پر بات کریں۔ اگر وہ فیالحال بائبل کی کسی سچائی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو اُسے مجبور نہ کریں۔ اِس کی بجائے اُسے وقت دیں تاکہ بائبل کی وہ سچائی اُس کے دل میں جڑ پکڑ لے۔ (یوح 16:12؛ کُل 2:6، 7) بائبل میں جھوٹی تعلیمات کو ایسی چیزوں سے تشبیہ دی گئی ہے ”جو بڑی مضبوطی سے قائم ہیں۔“ یونانی زبان میں اِس اِصطلاح کے لیے ایک ایسا لفظ اِستعمال کِیا گیا ہے جو قلعے کی طرف اِشارہ کرتا ہے اور جسے ڈھا دینے کی ضرورت ہے۔ (2-کُرنتھیوں 10:4، 5 کو پڑھیں۔) شاید ایک طالبِعلم کے لیے فوراً سے اُن باتوں کو چھوڑ دینا آسان نہ ہو جنہیں وہ کئی سالوں سے مانتا آ رہا ہے۔ اِس لیے ہمیں اُس کی مدد کرنی چاہیے کہ پہلے وہ یہوواہ پر اپنے بھروسے کو مضبوط کرنے سے ایک نیا قلعہ بنائے۔ اِس طرح اُس کے لیے اپنے پُرانے قلعے کو یعنی جھوٹی تعلیمات کو ڈھا دینا آسان ہوگا۔—زبور 18:2۔
اپنے طالبِعلم کو وقت دیں تاکہ پاک کلام کی سچائیاں اُس کے دل میں جڑ پکڑ سکیں۔ (پیراگراف نمبر 13 کو دیکھیں۔)
جب نئے لوگ عبادتوں میں آنے لگتے ہیں
14. ہمیں اُن لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے جو حال ہی میں ہماری عبادتوں میں آنے لگے ہیں؟
14 یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم سبھی لوگوں کے ساتھ اچھی طرح اور پیار سے پیش آئیں پھر چاہے وہ کہیں سے بھی ہوں؛ کسی بھی ثقافت سے تعلق رکھتے ہوں؛ امیر ہوں یا غریب ہوں۔ (یعقو 2:1-4، 9) تو ہم اُن لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آ سکتے ہیں جنہوں نے حال ہی میں ہماری عبادتوں میں آنا شروع کِیا ہے؟
15-16. ہم عبادت میں آنے والے نئے لوگوں کو یہ احساس کیسے دِلا سکتے ہیں کہ ہم اُنہیں وہاں دیکھ کر خوش ہیں؟
15 کچھ لوگ اِس وجہ سے ہماری عبادتوں میں آتے ہیں کیونکہ اُنہیں یہ دیکھنے کا تجسّس ہوتا ہے کہ ہم کیسے عبادت کرتے ہیں۔ اور کچھ لوگ شاید اپنے کسی ایسے دوست یا رشتےدار کے کہنے پر ہماری عبادتگاہ میں آتے ہیں جو یہوواہ کا گواہ ہے یا یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کورس کر رہا ہے۔ تو جب ہم عبادت میں کسی نئے شخص کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اُس سے بات کرنے سے نہیں ہچکچانا چاہیے۔ دوستانہ انداز میں اُس سے ملیں۔ اُسے اپنے ساتھ بیٹھنے کو کہیں۔ عبادت کے دوران اُسے اپنی بائبل اور وہ کتابیں دِکھائیں جن کا ہم مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اَور بھی ایسے طریقوں کے بارے میں سوچیں جن سے اُسے اپنائیت کا احساس ہو۔ ذرا ایک تجربے پر غور کریں۔ جب ایک آدمی ہماری عبادتگاہ میں آیا تو جس بھائی نے اُس کا خیرمقدم کِیا تھا، اُسے اُس آدمی نے بتایا کہ وہ اِس بات کی وجہ سے بہت گھبرایا ہوا ہے کہ اُس نے ہماری طرح اچھے کپڑے نہیں پہنے۔ اُس بھائی نے اُس آدمی کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا: ”سچ ہے کہ ہم نے عبادت کے لیے اچھے کپڑے پہنے ہیں لیکن یہوواہ کے گواہ بھی عام لوگوں کی طرح ہیں۔“ کچھ عرصے بعد وہ آدمی یہوواہ کا گواہ بن گیا۔ لیکن وہ آج تک یہ نہیں بھولا کہ اُس بھائی نے اُسے کتنی اپنائیت کا احساس دِلایا تھا۔ جب ہم عبادت شروع ہونے سے پہلے یا بعد میں نئے لوگوں سے بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہم اُن سے ایسے سوال نہ پوچھیں جن سے اُنہیں شرمندگی ہو یا جن کے بارے میں وہ بات نہیں کرنا چاہتے۔—1-پطر 4:15۔
16 اَور بھی کئی ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے ہم عبادت میں آنے والے نئے لوگوں کو یہ احساس دِلا سکتے ہیں کہ وہ اجنبی نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ہم باتچیت کرتے وقت، عبادت کے دوران جواب دیتے وقت یا اپنے حصے دیتے وقت یہ خیال رکھ سکتے ہیں کہ ہم غیر ایمان لوگوں یا اُن کے عقیدوں کے بارے میں کچھ ایسا نہ کہیں جس سے اُنہیں بےعزتی محسوس ہو یا جسے سُن کر وہ بُرا مان جائیں۔ ہمیں لوگوں کے عقیدوں کا مذاق نہیں اُڑانا چاہیے۔ (طِط 2:8؛ 3:2؛ 2-کُر 6:3) اِس بات کا خیال خاص طور پر عوامی تقریر کرنے والے بھائیوں کو رکھنا چاہیے۔ اِس کے علاوہ اُنہیں اپنی تقریروں میں ایسے لفظوں اور نظریات کی وضاحت کرنی چاہیے جسے سننے والوں کو سمجھنا مشکل لگ سکتا ہے۔ اِس طرح وہ ظاہر کریں گے کہ وہ اُن لوگوں کو بھی ذہن میں رکھ کر تقریر کر رہے ہیں جو یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں۔
17. جب ہم مُنادی میں ایسے لوگوں کو ڈھونڈتے ہیں جو ”ہمیشہ کی زندگی کی راہ پر چلنے کی طرف مائل“ ہیں تو ہمارا مقصد کیا ہونا چاہیے؟
17 جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے، یہ اَور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ ہم لوگوں کو یسوع کا شاگرد بنائیں۔ اِس لیے ہم ایسے لوگوں کو ڈھونڈتے رہیں گے جو ”ہمیشہ کی زندگی کی راہ پر چلنے کی طرف مائل“ ہیں۔ (اعما 13:48) اور جب ہمیں ایسے لوگ مل جاتے ہیں تو ہمیں اُنہیں بائبل کورس کرانے اور ہماری عبادتوں میں آنے کی دعوت دینے سے نہیں ہچکچانا چاہیے۔ ایسا کرنے سے ہم اُن کی مدد کریں گے کہ وہ زندگی کی طرف لے جانے والے راستے پر قدم رکھ سکیں۔—متی 7:14۔
گیت نمبر 64: فصل کی کٹائی
a تصویر کی وضاحت: دو بھائی ایک ریٹائر فوجی سے بات کر رہے ہیں جو اپنے گھر کے باہر بیٹھا ہے؛ دو بہنیں ایک ماں کو گواہی دے رہی ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ گھر پر ہے۔