یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م26 مارچ ص.‏ 2-‏7
  • دوسروں کو تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لاتے رہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دوسروں کو تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لاتے رہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دل سے لوگوں کی فکر کریں
  • خدا کے کلام کو اِستعمال کریں
  • یہوواہ کو اچھی طرح سے جاننے میں دوسروں کی مدد کریں
  • اپنی تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لاتے رہیں
  • اپنے طالبِ‌علموں کی مدد کریں کہ وہ یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • اُن لوگوں کی فوراً مدد کریں جو خدا کے بارے میں سیکھنا چاہتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ایسے فیصلے کریں جن سے ثابت ہو کہ آپ یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2023ء
  • خاکساری سے تسلیم کریں کہ آپ سب باتوں کو نہیں جانتے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
م26 مارچ ص.‏ 2-‏7

4-‏10 مئی 2026ء

گیت نمبر 53 مُنادی کرنے کا شوق پیدا کریں

دوسروں کو تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لاتے رہیں

‏”‏خدا کے کلام کی مُنادی کریں ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ صبر سے اور مہارت سے تعلیم دے کر۔“‏‏—‏2-‏تیم 4:‏2‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

ہم کن تین طریقوں سے دوسروں کو تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لا سکتے ہیں۔‏

1.‏ ہمیں اپنے اندر کون سی مہارت پیدا کرنی چاہیے اور کیوں؟ (‏2-‏تیمُتھیُس 4:‏2‏)‏ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ وہ ’‏لوگوں کو شاگرد بنائیں اور اُن کو اُن سب باتوں پر عمل کرنا سکھائیں جن کا یسوع نے اُنہیں حکم دیا ہے۔‘‏ (‏متی 28:‏19، 20‏)‏ اِس ہدایت سے پتہ چلتا ہے کہ سبھی مسیحیوں کو دوسروں کو تعلیم دینی چاہیے۔ یہ سچ ہے کہ یہوواہ ”‏ہمیشہ کی زندگی کی راہ پر چلنے“‏ والے لوگوں کو اپنے قریب لاتا ہے اور فرشتے ایسے لوگوں کو ڈھونڈنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ (‏اعما 13:‏48؛‏ یوح 6:‏44؛‏ مُکا 14:‏6‏)‏ لیکن ہمیں اپنا کردار بھی نبھانا چاہیے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم دوسروں کو یہوواہ کے بارے میں تعلیم کیسے دے سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ذرا پولُس اور برنباس کی مثال پر غور کریں۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ جب اُن دونوں نے اِکُنیُم میں یہودیوں کی عبادت‌گاہ میں لوگوں کو مُنادی کی تو اُنہوں نے ‏”‏اِس طرح سے تعلیم دی کہ بہت سے یہودی اور یونانی ایمان لے آئے۔“‏ (‏اعما 14:‏1‏)‏ بے‌شک پولُس اور برنباس نے یہ سیکھا تھا کہ وہ دوسروں کو مہارت سے تعلیم کیسے دے سکتے ہیں۔ ‏(‏2-‏تیمُتھیُس 4:‏2 کو پڑھیں۔)‏ دراصل سبھی مسیحیوں کو اچھی طرح سے دوسروں کو تعلیم دینی آنی چاہیے۔‏

پولُس بڑے اِعتماد سے یہودیوں کی عبادت‌گاہ میں لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ لوگ بڑے دھیان سے پولُس کی بات سُن رہے ہیں اور کچھ فاصلے پر برنباس پولُس کو بڑی خوشی سے تعلیم دیتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔‏

ہم دوسروں کو مہارت سے تعلیم دینے کے لیے یسوع اور اُن کے شاگردوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں جیسے کہ پولُس اور برنباس سے۔ (‏پیراگراف نمبر 1 کو دیکھیں۔)‏


2.‏ کچھ مسیحیوں کو یہ کیوں لگ سکتا ہے کہ وہ ایک اچھے اُستاد نہیں بن سکتے؟‏

2 شاید کچھ مسیحیوں کو لگے کہ وہ اپنی تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری نہیں لا سکتے۔ اِس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ مسیحیوں کو لگتا ہے کہ وہ اِتنے پڑھے لکھے نہیں ہیں یا اُنہیں دوسروں کو اچھی طرح سے کوئی بات سمجھانی نہیں آتی۔ بائبل میں بھی کچھ ایسے لوگوں کا ذکر کِیا گیا ہے جو بالکل ایسا ہی محسوس کرتے تھے۔ (‏خر 4:‏10؛‏ یرم 1:‏6‏)‏ اِس کے علاوہ کچھ مسیحیوں کے پاس ایک بھی بائبل کورس نہیں ہے یا اُنہیں مُنادی میں اُتنے اچھے تجربے نہیں ہوتے جتنے دوسروں کو ہوتے ہیں۔ اِس لیے اُنہیں لگتا ہے کہ وہ ایک اچھے اُستاد نہیں بن سکتے۔ یہ سچ ہے کہ مُنادی میں ملنے والا ہر شخص ہمارے پیغام کو قبول نہیں کرتا اور اگر ہمیں ایسے لوگ مل بھی جاتے ہیں جو اِسے قبول کرتے ہیں تو یہ یہوواہ اور فرشتوں کی مدد سے ہی ہوتا ہے۔ لیکن ہمیں پھر بھی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ہم دوسروں کو بائبل کا پیغام اِس طرح سے سنائیں کہ یہ اُن کے دل کو چُھو لے۔ اِس حوالے سے یہ مضمون ہمارے بہت کام آئے گا کیونکہ اِس میں تین ایسے طریقوں پر غور کِیا جائے گا جن کے ذریعے ہم مُنادی کے دوران اپنی تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لا سکتے ہیں۔‏

دل سے لوگوں کی فکر کریں

3.‏ یسوع مسیح کی تعلیمات لوگوں کے دل کو کیوں چُھو لیتی تھیں؟‏

3 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یسوع جانتے تھے کہ ”‏اِنسان کے دل میں کیا ہے۔“‏ (‏یوح 2:‏25‏)‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع کو معلوم تھا کہ لوگ ایک معاملے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور کیسا محسوس کرتے ہیں۔ یسوع جانتے تھے کہ اُن کے زمانے کے لوگ مذہبی رہنماؤں کی بنائی ہوئی روایتوں اور قوانین کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اُنہیں خدا کے کلام سے رہنمائی اور تسلی کی ضرورت ہے۔ (‏متی 9:‏36؛‏ 23:‏4‏)‏ اِسی لیے اُنہوں نے لوگوں کو ایسی باتوں کی تعلیم دی جن سے اُن کی زندگی سنور جائے۔ یہ بات یسوع کے پہاڑی وعظ سے صاف نظر آتی ہے۔ یسوع کی باتیں اِس لیے لوگوں کے دل کو چُھو لیتی تھیں کیونکہ یسوع اُن سے ایسے معاملوں کے بارے میں بات کرتے تھے جو لوگوں کی نظر میں اہم تھے۔‏

4.‏ ہم لوگوں کے لیے فکرمندی کیسے دِکھا سکتے ہیں؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

4 ہمیں بھی مُنادی میں ملنے والے لوگوں کے لیے فکرمندی دِکھانی چاہیے۔ ایسا کرنے کے لیے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں کون سی باتیں اہم ہیں۔ ہم یہ یاد رکھ سکتے ہیں کہ مُنادی میں ملنے والا ہر شخص ہی کسی نہ کسی طرح سے شیطان کی دُنیا میں تکلیف سہہ رہا ہے۔ ایسا کرنے سے ہمارے دل میں لوگوں کے لیے ہمدردی پیدا ہوگی اور ہمارے لیے اُن کی مدد کرنا آسان ہوگا۔ مثال کے طور پر ہم اپنے علاقے میں ہونے والے کسی ایسے واقعے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں یا شاید وہ بے‌روزگاری کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اِس کے علاوہ ہم ایسے ماں باپ کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں جو اِس وجہ سے فکرمند رہتے ہیں کہ کہیں سکول میں اُن کے بچوں کے ساتھ کچھ بُرا نہ ہو جائے۔ ذرا سوچیں کہ اُن لوگوں کی زندگی کا ہر دن کتنا مشکل ہوتا ہوگا جو بائبل میں دی گئی اُمید کے بارے میں بالکل نہیں جانتے۔—‏2-‏تیم 3:‏1؛‏ یسع 65:‏13، 14‏۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ ایک بہن مُنادی کی تیاری کرتے وقت یہ سوچ رہی ہے کہ اُس کے علاقے کے لوگوں کو کن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 1.‏ ایک آدمی ایک ماں اور اُس کے بچے کو ڈرانے کے لیے مکا دِکھا رہا ہے۔ ماں اپنے بچے کو محفوظ رکھنے کے لیے اُسے اپنی بانہوں میں چھپا رہی ہے۔ 2.‏ ایک جوان عورت سگریٹ پی رہی ہے۔ 3.‏ ایک بوڑھی عورت کو ڈاکٹر اُس کی صحت کے حوالے سے بہت بُری خبر سنا رہا ہے۔‏

دوسروں کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر سوچیں کہ آپ اُن کے لیے فکر کیسے دِکھا سکتے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 4 کو دیکھیں۔)‏


5.‏ یسوع مسیح اپنے زمانے کے مذہبی رہنماؤں سے کیسے فرق تھے؟ (‏متی 11:‏28-‏30‏)‏

5 یسوع لوگوں سے بہت محبت کرتے تھے اور لوگ بھی یہ بات صاف طور پر دیکھ سکتے تھے کہ یسوع دل سے اُن کی فکر کرتے ہیں۔ یسوع اپنے زمانے کے مذہبی رہنماؤں سے بالکل فرق تھے۔ مذہبی رہنما خود کو بہت اہم سمجھتے تھے اور عام لوگوں کے ساتھ بُرا سلوک کرتے تھے۔ (‏متی 23:‏13؛‏ یوح 7:‏49‏)‏ مگر یسوع لوگوں کے ساتھ پیار اور احترام سے پیش آتے تھے۔ وہ ”‏نرم‌مزاج اور دل سے خاکسار“‏ تھے جس کی وجہ سے اُن کی تعلیم دینے کا انداز لوگوں کے دل کو چُھو لیتا تھا۔ ‏(‏متی 11:‏28-‏30 کو پڑھیں۔)‏ ہمیں بھی مُنادی میں ملنے والے لوگوں کے ساتھ پیار اور عزت سے پیش آنا چاہیے۔‏

6.‏ ہم اُن لوگوں کے ساتھ نرمی اور احترام سے کیسے پیش آ سکتے ہیں جو ہمارا پیغام نہیں سننا چاہتے یا ہماری مخالفت کرتے ہیں؟‏

6 کبھی کبھار ہمیں مُنادی میں ایسے لوگ ملتے ہیں جو ہمارا پیغام نہیں سننا چاہتے، یہاں تک کہ ہماری مخالفت بھی کرتے ہیں۔ تو ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے؟ یسوع نے ہمیں صرف یہی نہیں سکھایا کہ ہم مخالفت کو برداشت کریں بلکہ اُنہوں نے ہم سے یہ بھی کہا ہے کہ ہم ’‏اپنے دُشمنوں سے محبت کریں، اُن لوگوں سے بھلائی کریں جو ہم سے نفرت کرتے ہیں اور اُن لوگوں‌کے لیے دُعا کریں جو ہماری بے‌عزتی کرتے ہیں۔‘‏ (‏لُو 6:‏27، 28‏)‏ لیکن ہمارے لیے ایسا کرنا تبھی آسان ہوگا اگر ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ لوگ کس وجہ سے ہمارا پیغام نہیں سننا چاہ رہے۔ یہ سچ ہے کہ کچھ لوگ ہمیں مُنادی کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ شاید اِس وجہ سے ہمارا پیغام نہیں سننا چاہتے کیونکہ وہ اپنے گھریلو مسئلوں یا پھر کسی اَور وجہ سے پریشان ہیں۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ ہم غلط وقت پر اُن سے ملنے چلے گئے ہیں۔ وجہ چاہے کچھ بھی ہو، ہماری ”‏باتیں ہمیشہ دلکش اور نمک کی طرح ذائقے‌دار“‏ ہونی چاہئیں تاکہ ہم لوگوں کو اچھی طرح سے جواب دے پائیں۔ (‏کُل 4:‏6‏)‏ اگر ہمارے دل میں لوگوں کے لیے ہمدردی ہوگی اور ہم اُن کی زندگی میں چلنے والے مسئلوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو ہم اُن کی باتوں کا بُرا نہیں منائیں گے اور اُنہیں اِس طرح سے تعلیم دیں گے جس سے اُنہیں فائدہ ہو۔‏

خدا کے کلام کو اِستعمال کریں

7.‏ یسوع مسیح لوگوں کو تعلیم دیتے وقت کیا اِستعمال کرتے تھے؟ (‏یوحنا 7:‏14-‏16‏)‏

7 یسوع نے کبھی بھی اپنے علم یا اپنی سوچ کے مطابق دوسروں کو تعلیم نہیں دی۔ وہ ہمیشہ لوگوں کی توجہ خدا کے کلام پر دِلاتے تھے اور اُن کی یہ سمجھنے میں مدد کرتے تھے کہ اِس میں لکھی باتوں پر عمل کرنے سے اُنہیں کتنا فائدہ ہو سکتا ہے۔ یسوع لوگوں کو آسان لفظوں میں تعلیم دیتے تھے تاکہ لوگ اِسے آسانی سے سمجھ سکیں اور یاد رکھ سکیں۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یسوع ”‏شریعت کے عالموں کی طرح نہیں بلکہ اِختیار کے ساتھ تعلیم“‏ دیتے تھے۔ (‏مر 1:‏22‏)‏ یسوع کے زمانے میں شریعت کے عالم لوگوں کو تعلیم دیتے وقت اُنہیں جانے مانے مذہبی رہنماؤں کی باتوں کا حوالہ دیتے تھے۔ لیکن یسوع ہمیشہ پاک صحیفوں کا حوالہ دیتے تھے۔ حالانکہ یسوع آسمان پر اپنے باپ کے ساتھ رہے تھے لیکن اُنہوں نے کبھی بھی لوگوں کو اپنے علم اور دانش‌مندی سے متاثر نہیں کِیا اور نہ ہی اُنہیں یہ احساس دِلایا کہ لوگوں کو کچھ بھی نہیں پتہ۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے خدا کے کلام کو اِستعمال کر کے لوگوں کو بتایا کہ یہوواہ اُن سے کیا چاہتا ہے۔ ‏(‏یوحنا 7:‏14-‏16 کو پڑھیں۔)‏ یسوع نے ہمارے لیے واقعی بڑی زبردست مثال قائم کی ہے!‏

8.‏ پطرس رسول نے یسوع کی مثال پر کیسے عمل کِیا؟‏

8 یسوع کے شاگرد بھی لوگوں کو تعلیم دیتے وقت خدا کے کلام کو اِستعمال کرتے تھے۔ ذرا اُس واقعے پر غور کریں جب پطرس رسول نے 33ء کی عیدِپنتِکُست پر لوگوں کی بِھیڑ سے بات کی تھی۔ پطرس نے کسی بڑے یا جانے مانے سکول سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ لیکن اُنہوں نے بہت سے صحیفوں کو اِستعمال کر کے لوگوں کو سمجھایا کہ یسوع پر وہ پیش‌گوئیاں کیسے پوری ہوئیں جو خدا نے اپنے کلام میں لکھوائی تھیں۔ (‏اعما 2:‏14-‏37‏)‏ اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟ پطرس کی باتوں نے لوگوں کے دل کو چُھو لیا۔ لوگوں نے خوشی سے خدا کے پیغام کو قبول کِیا اور بپتسمہ لے لیا۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”‏اُس دن تقریباً 3000 لوگ شاگردوں میں شامل ہوئے۔“‏—‏اعما 2:‏41‏۔‏

9.‏ ہمیں لوگوں کو تعلیم دیتے وقت خدا کے کلام پر بھروسا کیوں کرنا چاہیے؟‏

9 صرف خدا کا کلام ہی ایک شخص کی زندگی کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ (‏عبر 4:‏12‏)‏ اِس لیے ہمیں لوگوں کو تعلیم دیتے وقت اُن کی توجہ بائبل پر دِلانی چاہیے۔ ہم اپنے خیالات کی نہیں بلکہ ”‏خدا کے کلام کی مُنادی“‏ کرنا چاہتے ہیں۔ (‏2-‏تیم 4:‏2‏)‏ اَمثال 2:‏6 میں لکھا ہے:‏ ”‏یہوواہ دانش‌مندی عطا کرتا ہے؛ اُس کے مُنہ سے علم اور سُوجھ‌بُوجھ کی باتیں نکلتی ہیں۔“‏ تو جب ہم لوگوں کو تعلیم دیتے وقت بائبل کو اِستعمال کرتے ہیں تو ایک طرح سے ہم یہوواہ کو بات کرنے دیتے ہیں۔ (‏ملا 2:‏7)‏ ہم لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بائبل میں جو کچھ لکھا ہے، وہ اِنسانوں کی دانش‌مندی سے کہیں اعلیٰ ہے؛ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اِس کے ذریعے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ہم خدا کو کیسے خوش کر سکتے ہیں اور خوشیوں بھری زندگی کیسے گزار سکتے ہیں۔—‏2-‏تیم 3:‏16، 17‏۔‏

10.‏ ہم بائبل کورس کرنے والے شخص کی توجہ خدا کے کلام پر کیسے دِلا سکتے ہیں؟‏

10 جب آپ بائبل کورس کرانے کی تیاری کرتے ہیں تو اِس بارے میں سوچیں کہ آپ اپنے طالبِ‌علم کو بائبل کی کون سی آیتیں دِکھائیں گے۔ سچ ہے کہ کورس کے دوران ہم طالبِ‌علم کو کچھ باتیں سکھانے کے لیے تصویریں اور ویڈیوز اِستعمال کرتے ہیں لیکن ہمیں ہمیشہ اُن کی توجہ خدا کے کلام پر دِلانی چاہیے۔ اِس لیے کورس کے دوران طالبِ‌علم کو اہم نکتے سمجھانے کے لیے بائبل کی آیتوں کو اِستعمال کریں اور پھر اُس کی یہ سمجھنے میں مدد کریں کہ وہ اُن آیتوں سے کیا سیکھ سکتا ہے۔ اگر آپ کوئی تصویر یا ویڈیو اِستعمال کرتے ہیں تو بھی طالبِ‌علم کی یہ دیکھنے میں مدد کریں کہ اِس سے وہ بائبل کا کون سا اصول سیکھتا ہے۔ لیکن اپنے طالبِ‌علم کی توجہ بائبل پر دِلانے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آپ سبق میں دی گئی ہر آیت کو پڑھیں یا اِس پر بہت لمبی چوڑی بات کریں۔ جب آپ ایک آیت پڑھتے ہیں تو طالبِ‌علم کو اِس پر سوچنے اور اِسے سمجھنے کے لیے وقت دیں۔ اور اگر ضرورت ہو تو طالبِ‌علم کو دوبارہ وہ آیت پڑھنے کے لیے کہیں۔ اِس طرح آپ طالبِ‌علم کو یہ نہیں سکھا رہے ہوں گے کہ ایک کتاب، تصویر یا ویڈیو میں کیا بتایا گیا ہے بلکہ آپ اُسے یہ سکھا رہے ہوں گے کہ بائبل میں کیا بتایا گیا ہے۔—‏1-‏کُر 2:‏13‏۔‏

11-‏12.‏ (‏الف)‏ہم اپنے طالبِ‌علموں کے ساتھ صبر سے کیسے پیش آ سکتے ہیں؟ (‏اعمال 17:‏1-‏4‏)‏ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏ (‏ب)‏کچھ لوگوں کو بائبل کے بارے میں کیا سیکھنے کی ضرورت ہے اور ہم اُن کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏

11 کبھی کبھار ایک طالبِ‌علم کو بائبل کی کوئی سچائی سمجھنا یا اِسے قبول کرنا مشکل لگتا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں صبر سے اُسے خدا کا کلام سکھاتے رہنا چاہیے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کچھ طالبِ‌علموں کو اُن سچائیوں کو سمجھنے میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے جو ہمیں بہت آسان لگتی ہیں۔ اِس سلسلے میں تھسلُنیکے میں رہنے والے یہودیوں کی مثال پر غور کریں۔ وہ بھی اُن سچائیوں کو فوراً نہیں سمجھ پائے تھے جو پولُس اُنہیں سکھا رہے تھے۔ اِس لیے پولُس اُنہیں صحیفوں میں سے دلیلیں دے کر قائل کرتے رہے جس کے بعد کچھ لوگ بائبل کی تعلیمات کو سمجھ گئے۔‏‏—‏اعمال 17:‏1-‏4 کو پڑھیں۔‏

12 ہم ایک اَور طرح سے بھی اپنے طالبِ‌علموں کے ساتھ صبر سے پیش آ سکتے ہیں۔ ہم خود بہت زیادہ بولنے کی بجائے اُن سے سوال پوچھ سکتے ہیں اور اُنہیں جواب دینے کے لیے وقت دے سکتے ہیں۔ پھر ہم اُن کی بات دھیان سے سُن سکتے ہیں اور اُن کی سوچ کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اِس کے بعد ہم اُنہیں بائبل کی ایسی آیتیں دِکھا سکتے ہیں جن سے وہ ایک معاملے کے بارے میں یہوواہ کی سوچ کو سمجھ جائیں۔ اب ذرا کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں بھی سوچیں جو بائبل کے بارے میں یا اِس میں لکھی باتوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ایسے لوگوں سے بات کرنے کے لیے آپ کتاب ‏”‏کتابِ‌مُقدس کا تعارف‏“‏ میں دیے گئے سوال اِستعمال کر سکتے ہیں تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ بائبل میں کن اہم موضوعات کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ آپ سوال نمبر 15 میں دی گئی آیتیں اِستعمال کر کے ایک شخص کو دِکھا سکتے ہیں کہ بائبل خوش رہنے میں اُس کی مدد کیسے کر سکتی ہے۔ تو اگر آپ اپنے طالبِ‌علموں کی یہ سمجھنے میں مدد کریں گے کہ بائبل میں لکھی باتوں سے اُنہیں کتنا فائدہ ہو سکتا ہے تو اُن کے دل میں اِن باتوں پر عمل کرنے کی خواہش پیدا ہوگی اور وہ اَور زیادہ سیکھنا چاہیں گے۔‏

وہی بہن جو پہلے بھی تصویر میں دِکھائی گئی تھی، باہر ایک بینچ پر بیٹھ کر اُس جوان عورت کو بائبل کورس کرا رہی ہے جو سگریٹ پیتی ہے۔ وہ بہن بڑے دھیان سے اُس عورت کی بات سُن رہی ہے۔‏

ایک اچھا اُستاد خود زیادہ نہیں بولتا بلکہ دوسروں کی زیادہ سنتا ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 11-‏12 کو دیکھیں۔)‏


یہوواہ کو اچھی طرح سے جاننے میں دوسروں کی مدد کریں

13.‏ جب ہم لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں تو ہمیں اُن کی توجہ کس کی طرف دِلانی چاہیے؟ مثال دیں۔‏

13 جب ہم لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں تو ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ یہوواہ کے بارے میں جانیں اور اُس کے دوست بن جائیں۔ (‏یعقو 4:‏8‏)‏ اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں۔ اگر ایک شخص گھپ اندھیرے میں کسی دوسرے شخص کو کوئی چیز دِکھانا چاہتا ہے تو وہ ٹارچ کی روشنی اپنے اُوپر نہیں بلکہ اُس چیز پر ڈالتا ہے جو وہ اُسے دِکھانا چاہ رہا ہوتا ہے۔ اِسی طرح جب ہم دوسروں کو تعلیم دیتے ہیں تو ہمیں اُن کی توجہ اپنے اُوپر نہیں بلکہ یہوواہ پر دِلانی چاہیے۔‏

14.‏ ہم اپنے طالبِ‌علم کی مدد کیسے کر سکتے ہیں تاکہ وہ یہوواہ کو خوش کرے؟‏

14 جب آپ اپنے طالبِ‌علم کو بائبل کورس کراتے ہیں تو اُس کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اِس طرح اُس میں یہوواہ کو خوش کرنے کی خواہش پیدا ہوگی۔ (‏اَمثا 27:‏11‏)‏ بے‌شک ہم اپنے طالبِ‌علم کو یہ سکھاتے ہیں کہ وہ صحیح کام کرے اور غلط کاموں سے دُور رہے۔ لیکن ہم ایسا صرف اِس لیے نہیں کرتے تاکہ وہ یہوواہ کا گواہ بن جائے بلکہ ہم اُسے اِس لیے صحیح کام کرنے کی تعلیم دیتے ہیں تاکہ وہ یہوواہ کو خوش کر سکے۔ تو اگر آپ کے طالبِ‌علم کو کسی بُری عادت پر قابو پانا مشکل لگ رہا ہے تو اُس سے کچھ ایسے سوال پوچھیں جن سے وہ یہوواہ کے احساسات پر سوچ بچار کر پائے۔ مثال کے طور پر آپ اُس سے پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏یہوواہ اِس کام سے اِتنی نفرت کیوں کرتا ہے؟ یہوواہ کیوں چاہتا ہے کہ آپ وہ کام چھوڑ دیں جو آپ کو اچھا لگتا ہے؟ اِس سے کیسے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ کو آپ سے پیار ہے؟“‏ جتنا زیادہ آپ اپنے طالبِ‌علم کا حوصلہ بڑھائیں گے کہ وہ یہوواہ اور اُس کی خوبیوں پر سوچ بچار کرے اُتنا ہی زیادہ وہ یہ دیکھ پائے گا کہ یہوواہ کتنا محبت کرنے والا خدا ہے۔ اِس طرح اُس کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت پیدا ہوگی اور وہ دل سے اُسے خوش کرنا چاہے گا۔‏

اپنی تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لاتے رہیں

15.‏ آپ اپنی تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لاتے رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‏

15 آپ دُعا میں یہوواہ سے درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ یہ دیکھنے میں آپ کی مدد کرے کہ آپ اپنی تعلیم دینے کی مہارت میں کہاں بہتری لا سکتے ہیں۔ (‏1-‏یوح 5:‏14‏)‏ پھر دُعا کرنے کے بعد آپ کو ایسے کام کرنے کی بھی ضرورت ہے جن کے لیے یہوواہ آپ کو برکت دے سکے۔ مثال کے طور پر آپ اِجلاسوں کو دھیان سے سُن سکتے ہیں جہاں یہوواہ ہمیں دوسروں کو تعلیم دینے کی تربیت دیتا ہے۔ اِس کے بعد آپ سیکھی ہوئی باتوں پر عمل کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ کسی ایسے بھائی یا بہن کو بھی اپنے ساتھ بائبل کورس کرانے کے لیے لے جا سکتے ہیں جو دوسروں کو بڑے صاف اور آسان لفظوں میں تعلیم دیتا ہے۔ پھر آپ اپنے اِس دوست سے پوچھ سکتے ہیں کہ آپ اپنی تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ بائبل کورس کراتے وقت یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کا طالبِ‌علم ایک موضوع کے بارے میں کیا کچھ جانتا ہے اور کیا نہیں۔ پھر اِس بارے میں سوچیں کہ آپ کا طالبِ‌علم اُن باتوں کے بارے میں کیسا محسوس کرے گا جن کے بارے میں آپ کورس کے دوران اُس سے بات کریں گے۔ کورس کے دوران اپنے طالبِ‌علم کی یہ سمجھنے میں بھی مدد کریں کہ جو کچھ وہ سیکھ رہا ہے، اُس سے اُسے کیا فائدہ ہو سکتا ہے اور یہوواہ نے اپنے کلام میں کتنے اچھے وعدے کیے ہیں۔ اِس طرح آپ اپنے طالبِ‌علم کی مدد کر پائیں گے کہ وہ یہوواہ کا دوست بن سکے اور خوشیوں بھری زندگی گزار سکے۔—‏زبور 1:‏1-‏3‏۔‏

16.‏ اگر ہم اپنی تعلیم دینے کی مہارت کو بہتر بناتے رہیں گے تو اِس سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟‏

16 ہمیں دوسروں کو یہوواہ کے بارے میں سکھانے سے جو خوشی ملتی ہے، وہ شاید ہی کسی اَور کام سے مل سکتی ہے۔ نئی دُنیا میں تو ہمیں اَور بھی بہت سے لوگوں کو تعلیم دینے کا موقع ملے گا۔ اِس لیے یہ بہت اچھی بات ہوگی کہ ہم ابھی سے دوسروں کو اچھی طرح سے تعلیم دینے کی مہارت کو نکھارتے رہیں۔ ایسا کرنے کے لیے آئیے دوسروں کے لیے محبت دِکھاتے رہیں، یہوواہ کے کلام کو اِستعمال کرتے رہیں اور اچھی طرح سے یہوواہ کو جاننے میں لوگوں کی مدد کرتے رہیں۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • آپ لوگوں کے لیے فکر کیسے دِکھا سکتے ہیں؟‏

  • آپ خدا کے کلام پر بھروسا کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

  • آپ یہوواہ کو اچھی طرح سے جاننے میں اپنے طالبِ‌علموں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏

گیت نمبر 65 آگے بڑھتے رہیں!‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں