آپبیتی
ہم جہاں بھی گئے، یہوواہ نے خوش رہنے میں ہماری مدد کی
”آپ کو جس زمین میں لگایا جائے، وہیں بڑھیں۔“ شاید یہ مشورہ سننے میں تھوڑا عجیب لگے۔ لیکن سویڈن میں رہنے والے ایک میاں بیوی کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ اُن کا نام ماٹس اور اَنکاترین ہے۔ آئیے دیکھیں کہ وہ ایسے پودوں کی طرح کیسے ثابت ہوئے جنہیں کئی بار مختلف زمینوں میں لگایا گیا۔
بھائی ماٹس اور بہن اَنکاترین 1979ء میں گلئیڈ سکول گئے اور اِس کے بعد سے اُنہیں مختلف جگہوں پر خدمت کرنے کا موقع ملا۔ اُن دونوں نے مل کر ایران، موریشس، میانمار، تنزانیہ، یوگنڈا اور زائر میں یہوواہ کی خدمت کی۔ گلئیڈ سکول میں اُن کے ایک اُستاد نے طالبِعلموں کو وہ مشورہ دیا جس کا اِس مضمون کے شروع میں ذکر ہوا ہے۔ اُس اُستاد کا نام جیک ریڈفرڈ تھا۔ بھائی جیک کے بتائے مشورے پر عمل کرنے سے بھائی ماٹس اور بہن اَنکاترین کو بہت فائدہ ہوا کیونکہ اُنہیں ایک بار نہیں بلکہ کئی بار فرق جگہوں پر خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ آئیے اُن کی کہانی اُنہی کی زبانی سنتے ہیں۔
مہربانی سے پہلے آپ دونوں یہ بتائیے گا کہ آپ یہوواہ کے گواہ کیسے بنے؟
ماٹس: میرے ابو دوسری عالمی جنگ کے دوران پولینڈ میں رہ رہے تھے۔ اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ چرچ میں کتنی ریاکاری پائی جاتی ہے۔ لیکن پھر بھی وہ اکثر کہتے تھے: ”مجھے پتہ ہے، سچا مذہب کہیں نہ کہیں تو ضرور ہوگا۔“ کچھ وقت بعد مَیں نے دیکھا کہ وہ بالکل ٹھیک کہتے تھے۔ ایک دن مَیں نے بہت سی اِستعمالشُدہ کتابیں خریدیں۔ اِن میں سے ایک کتاب نیلے رنگ کی تھی جس کا عنوان تھا: ”سچائی جو باعثِابدی زندگی ہے۔“ مجھے یہ عنوان بڑا ہی دلچسپ لگا اِس لیے مَیں نے اُسی رات پوری کتاب پڑھ لی۔ صبح تک مجھے اِس بات کا پکا یقین ہو گیا تھا کہ مجھے سچائی مل گئی ہے!
اپریل 1972ء سے مَیں یہوواہ کے گواہوں کی اَور بھی زیادہ کتابیں پڑھنے لگا اور مجھے کئی ایسے سوالوں کے جواب مل گئے جو میرے ذہن میں تھے۔ مجھے لگا کہ مَیں یسوع کی مثال میں بتائے گئے اُس تاجر کی طرح ہوں جسے بہت ہی قیمتی موتی مل گیا تھا اور جسے حاصل کرنے کے لیے وہ اپنا سب کچھ بیچنے کو تیار تھا۔ مَیں نے بھی ایک طرح سے سچائی کا موتی حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ بیچ دیا۔ مَیں نے ڈاکٹر بننے کے لیے یونیورسٹی جانے کا اِرادہ چھوڑ دیا۔ (متی 13:45، 46) مَیں نے 10 دسمبر 1972ء میں بپتسمہ لے لیا۔
ایک سال کے اندر اندر میرے امی ابو اور میرے چھوٹے بھائی نے بھی بپتسمہ لے لیا۔ جولائی 1973ء میں مَیں کُلوقتی طور پر یہوواہ کی خدمت کرنے لگا۔ ہماری کلیسیا میں ایک بہت ہی جوشیلی پہلکار تھیں جن کا نام اَنکاترین تھا۔ وہ بہت اچھی تھیں اور یہوواہ سے بہت پیار کرتی تھیں۔ ہم دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہو گئی اور 1975ء میں ہم نے شادی کر لی۔ اِس کے بعد ہم چار سال تک سویڈن کے خوبصورت گاؤں سترمسند میں رہے جہاں بہت سے لوگ بائبل کے بارے میں سیکھنے کا شوق رکھتے تھے۔
اَنکاترین: میرے ابو نے یہوواہ کے بارے میں اُس وقت سیکھا تھا جب وہ شہر سٹاکہوم کی ایک یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے۔ حالانکہ مَیں اُس وقت تین مہینے کی تھی لیکن ابو پھر بھی مجھے اپنے ساتھ عبادتوں میں اور مُنادی کرنے کے لیے لے جاتے تھے۔ امی کو یہ بات بالکل اچھی نہیں لگتی تھی۔ وہ گواہوں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگیں لیکن وہ ایسا نہیں کر پائیں۔ کچھ وقت بعد اُنہوں نے بھی یہوواہ کی گواہ کے طور پر بپتسمہ لے لیا۔ مَیں نے 13 سال کی عمر میں بپتسمہ لیا اور 16 سال کی عمر میں پہلکار بن گئی۔ مَیں شہر اومیو میں خدمت کر رہی تھی جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت تھی۔ اِسی دوران مَیں خصوصی پہلکار بن گئی۔
شادی کے بعد مَیں نے اور ماٹس نے کئی لوگوں کی یہوواہ کے بارے میں سیکھنے میں مدد کی جس سے ہمیں بہت خوشی ملی۔ اِن میں سے ایک مائیوور نام کی نوجوان لڑکی تھی جو بعد میں میری چھوٹی بہن کے ساتھ پہلکار کے طور پر خدمت کرنے لگی۔ وہ دونوں 1984ء میں گلئیڈ سکول گئیں اور ابھی وہ دونوں ایکواڈور میں مشنریوں کے طور پر خدمت کر رہی ہیں۔
جب آپ کو مختلف جگہوں پر مشنری کے طور پر خدمت کرنے کا موقع ملا تو اِس دوران آپ نے اِس مشورے پر کیسے عمل کِیا کہ ”آپ کو جس زمین میں لگایا جائے، وہیں بڑھیں“؟
ماٹس: ہمیں اکثر ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ خدمت کرنے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ لیکن ایک چیز نے مسیح میں ”جڑ پکڑتے“ رہنے میں ہماری بہت مدد کی۔ ہم نے یسوع کی طرح بننے اور خاص طور پر اُن کی طرح خاکساری ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی۔ (کُل 2:6، 7) مثال کے طور پر ہم نے کبھی مقامی بہن بھائیوں سے یہ توقع نہیں کی کہ وہ خود کو ہمارے حساب سے ڈھالیں۔ اِس کی بجائے ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ فلاں کام کیوں کرتے ہیں۔ ہم اُن کی سوچ اور ثقافت کو سمجھنا چاہتے تھے۔ جتنا زیادہ ہم یسوع کی مثال پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے اُتنا ہی زیادہ ہمیں محسوس ہوتا تھا کہ ہم ’ایک ایسے درخت کی طرح ہیں جسے پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہو۔‘ یوں ہمارے لیے نئی جگہ پر یہوواہ کی خدمت کرنا آسان ہو جاتا تھا۔—زبور 1:2، 3۔
ایک کلیسیا سے دوسری کلیسیا کا دورہ کرنا ہماری زندگی کا معمول تھا۔
اَنکاترین: جب ایک درخت کو ایک جگہ سے اُکھاڑ کر دوسری جگہ لگایا جاتا ہے تو اُسے بڑھنے کے لیے سورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہوواہ ہمیشہ ہمارے لیے سورج ثابت ہوا۔ (زبور 84:11) اُس نے ہمیں ایسے بہن بھائی دیے جن کی محبت سے ہمارے دل روشن ہو گئے۔ مثال کے طور پر ایران کے شہر تہران میں ہماری چھوٹی سی کلیسیا کے بہن بھائی بہت ہی مہماننواز تھے۔ اُن کی مہماننوازی کو دیکھ کر ہمیں کچھ ایسے لوگوں کی مہماننوازی یاد آئی جن کا ذکر بائبل میں ہوا ہے۔ ہمیں ایران میں خدمت کر کے بہت مزہ آ رہا تھا لیکن جولائی 1980ء میں حکومت نے ہمارے کام پر پابندی لگا دی۔ ایک دن ہمیں نوٹس ملا کہ ہم 48 گھنٹوں کے اندر اندر ملک سے نکل جائیں۔ پھر ہمیں افریقہ کے ملک زائر میں (جسے اب کانگو کہتے ہیں) خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا۔
1982ء میں زائر میں جہاں خدمت کرتے ہوئے ہمیں بہت مزہ آیا
جب مجھے پتہ چلا کہ ہمیں افریقہ بھیجا جا رہا ہے تو مَیں بہت روئی۔ مجھے افریقہ جانے سے ڈر لگتا تھا کیونکہ مَیں نے سنا تھا کہ وہاں سانپ ہوتے ہیں اور بہت بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں۔ لیکن ایک میاں بیوی نے ہمارا بہت حوصلہ بڑھایا۔ وہ ہمارے پکے دوست تھے اور بہت سالوں سے افریقہ میں خدمت کر رہے تھے۔ اُنہوں نے ہم سے کہا: ”ڈریں مت! آپ نے تو ابھی تک افریقہ دیکھا ہی نہیں ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ جب آپ یہاں آئیں گے تو یہ آپ کو بہت پسند آئے گا۔“ اور واقعی ہمیں افریقہ بہت پسند آیا! وہاں کے بہن بھائیوں نے ہمارے لیے بہت محبت دِکھائی۔ لیکن پھر چھ سال بعد ہمیں زائر سے جانا پڑا کیونکہ وہاں ہمارے کام پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ایک وقت تھا جب مَیں افریقہ نہیں جانا چاہتی تھی لیکن اب مَیں یہ دُعا کر رہی تھی کہ ”یہوواہ پلیز ہمیں افریقہ میں رہنے دیں۔“ مجھے یہ سوچ کر ہنسی آ رہی تھی کہ افریقہ کے بارے میں میری سوچ کتنی بدل گئی تھی۔
آپ کو یہوواہ کی خدمت کرتے ہوئے کون سی برکتیں ملی ہیں؟
1988ء میں تنزانیہ میں ہماری گاڑی ہمارا بیڈروم تھی
ماٹس: مختلف جگہوں پر یہوواہ کی خدمت کرنے کی وجہ سے ہمیں فرق فرق ملک سے تعلق رکھنے والے مشنریوں سے دوستی کرنے کا موقع ملا۔ کچھ جگہوں پر تو خدمت کرتے وقت ہم دونوں نے ہی کبھی کبھار تقریباً بیس بیس لوگوں کو بائبل کورس کرایا جس سے ہمیں بہت زیادہ خوشی ملی۔ مَیں افریقہ میں رہنے والے اپنے بہن بھائیوں کی مہماننوازی کو تو کبھی نہیں بھولوں گا۔ جب ہم تنزانیہ میں کلیسیاؤں کا دورہ کرتے تھے تو ہم اپنی گاڑی میں سوتے تھے۔ حالانکہ وہاں کے بہن بھائی بہت غریب تھے لیکن وہ اِس بات کا پورا خیال رکھتے تھے کہ ہمارے پاس ضرورت کی ہر چیز ہو۔ (2-کُر 8:3) ہر دن کے آخر پر مَیں اور اَنکاترین بیٹھ کر ایک دوسرے کو دن بھر ہونے والی باتوں کے بارے میں بتاتے تھے اور یہوواہ کی مدد کے لیے اُس کا شکریہ ادا کرتے تھے۔
اَنکاترین: میرے لیے تو سب سے بڑی برکت یہ تھی کہ مجھے فرق فرق ملکوں کے بہن بھائیوں کو جاننے کا موقع ملا۔ ہم نے کئی نئی ثقافتیں اور نئی زبانیں بھی سیکھیں جن میں فارسی، فرانسیسی، لوگینڈہ اور سواحلی شامل تھیں۔ ہمیں اُن بہن بھائیوں کی مدد کرنے کا موقع ملا جو حال ہی میں یہوواہ کے گواہ بنے تھے۔ اِس کے علاوہ ہمیں نئے دوست بنانے اور اُن کے ساتھ مل کر یہوواہ کی خدمت کرنے کا بھی موقع ملا۔—صِفَن 3:9۔
ہمیں یہوواہ کی بنائی ہوئی شاندار چیزوں کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ ہمیں جب بھی یہوواہ کی طرف سے کوئی نئی ذمےداری ملتی تھی تو ہمیں ایسا لگتا تھا جیسے ہم یہوواہ کے ساتھ ایک نئے سفر پر چل پڑے ہیں اور وہ اِس میں ہمارے آگے آگے ہے۔ یہوواہ کی وجہ سے ہم ایسی باتوں کا تجربہ کر پائے جو شاید ہم خود کبھی نہ کر پاتے۔
تنزانیہ کے مختلف علاقوں میں مُنادی کرتے ہوئے
آپ کو کن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا اور آپ اِن سے کیسے نمٹے؟
ماٹس: کبھی کبھار ہمیں ایسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا جو گرم ملکوں میں عام ہوتی ہیں جیسے کہ ملیریا وغیرہ۔ کئی بار اَنکاترین کو اچانک سے کچھ آپریشن بھی کرانے پڑے۔ اِس کے علاوہ ہمیں اپنے بوڑھے ماں باپ کی بھی فکر رہتی تھی۔ لیکن میرے چھوٹے بھائی اور اَنکاترین کے چھوٹے بہن بھائیوں نے اُن کا خیال رکھا جس کے لیے ہم اُن کے بہت شکرگزار ہیں۔ اُنہوں نے بڑے صبر اور خوشی سے امی ابو کا خیال رکھا۔ (1-تیم 5:4) حالانکہ ہم دُور رہتے ہوئے بھی امی ابو کی مدد کرنے کی پوری کوشش کرتے تھے لیکن پھر بھی کبھی کبھار ہم اِس بات کی وجہ سے دُکھی ہو جاتے ہیں کہ کاش ہم اُن کے لیے کچھ زیادہ کر پاتے۔
اَنکاترین: جب 1983ء میں ہم زائر میں خدمت کر رہے تھے تو مجھے بہت ہی بُرا ہیضہ ہو گیا۔ ڈاکٹر نے ماٹس سے کہا کہ وہ مجھے آج کے آج ہی وہاں سے لے جائیں۔ ہم اگلے ہی دن سویڈن کے لیے نکلے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہاں جانے کے لیے کوئی فلائٹ نہیں تھی۔ اِس لیے ہمیں کارگو جہاز میں جانا پڑا جہاں مسافروں کے بیٹھنے کے لیے سیٹیں نہیں ہوتیں۔
ماٹس: ہمیں لگ رہا تھا کہ اب ہم مشنری کے طور پر خدمت جاری نہیں رکھ پائیں گے۔ اِس لیے ہم بہت روئے۔ ڈاکٹر کو لگ رہا تھا کہ اَنکاترین کی حالت بہتر نہیں ہو پائے گی۔ لیکن شکر ہے کہ وہ ٹھیک ہونے لگیں۔ اور پھر ایک سال بعد ہم دوبارہ سے کانگو چلے گئے۔ اِس بار ہم زائر کے شہر لوبمباشی میں ایک چھوٹی کلیسیا میں خدمت کرنے لگے جہاں بہن بھائی سواحلی زبان بولتے تھے۔
اَنکاترین: جب ہم لوبمباشی میں تھے تو مَیں حاملہ ہو گئی لیکن میرا بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی ضائع ہو گیا۔ حالانکہ ہمارا بچہ پیدا کرنے کا کوئی اِرادہ نہیں تھا لیکن جب وہ فوت ہوا تو اِس درد کو برداشت کرنا میرے لیے بہت مشکل تھا۔ لیکن اُس مشکل وقت میں یہوواہ نے ہمیں ایک ایسی برکت دی جس کی ہم نے توقع بھی نہیں کی تھی۔ ہم پہلے سے بھی زیادہ لوگوں کو بائبل کورس کرانے لگے۔ ایک سال سے بھی کم وقت میں ہماری کلیسیا میں 35 سے 70 مبشر ہو گئے اور ہمارے اِجلاسوں کی حاضری 40 سے 220 تک ہو گئی۔ ہم مُنادی کے کام میں بالکل مگن ہو گئے جس کی وجہ سے یہوواہ نے ہمیں برکت دی اور مَیں بہت بہتر محسوس کرنے لگی۔ ہم آج بھی اکثر اپنے بچے کے بارے میں سوچتے اور بات کرتے ہیں۔ ہم اُس وقت کا شدت سے اِنتظار کر رہے ہیں جب یہوواہ ہمارے دل پر لگے زخم کو پوری طرح سے ٹھیک کر دے گا۔
ماٹس: ایک وقت آیا کہ اَنکاترین کو بہت شدید تھکاوٹ اور کمزوری ہو گئی اور مجھے پتہ چلا کہ مجھے بڑی آنت کا کینسر ہے اور یہ چوتھی سٹیج پر ہے۔ تو مجھے ایک بڑا آپریشن کرانے کی ضرورت تھی۔ لیکن مَیں ابھی ٹھیک ہوں اور اَنکاترین سے بھی جتنا ہو سکتا ہے، وہ دلوجان سے یہوواہ کی خدمت کر رہی ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ صرف ہم ہی پریشانیوں کا سامنا نہیں کر رہے۔ جب 1994ء میں روانڈا میں قتلِعام ہوا تھا تو بعد میں ہم پناہگزین کیمپوں میں اپنے بہت سے دوستوں سے ملنے گئے تھے۔ جب ہم نے دیکھا کہ وہ اِتنے مشکل حالات میں بھی کتنے مہماننواز ہیں اور مضبوط ایمان اور وفاداری ظاہر کر رہے ہیں تو ہم نے سیکھا کہ یہوواہ ہر مشکل کا سامنا کرنے کے لیے اپنے بندوں کو طاقت دے سکتا ہے۔—زبور 55:22۔
اَنکاترین: ہمیں ایک اَور مسئلے کا سامنا تب کرنا پڑا جب ہم 2007ء میں یوگنڈا میں ہماری برانچ کی مخصوصیت کے لیے گئے تھے۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد ہم تقریباً 25 مشنریوں اور بیتایل میں خدمت کرنے والے بہن بھائیوں کے ساتھ کینیا کے شہر نیروبی جا رہے تھے۔ کینیا کے بارڈر پر پہنچنے سے پہلے ایک چھوٹی بس اچانک سے مخالف سمت سے آئی اور ہماری بس سے ٹکرائی۔ ڈرائیور اور ہمارے پانچ دوست موقعے پر ہی فوت ہو گئے۔ ایک بہن نے بعد میں ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ ہم بتا نہیں سکتے کہ ہم اپنے اِن دوستوں کو نئی دُنیا میں ملنے کے لیے کتنے بےتاب ہیں!—ایو 14:13-15۔
مجھے جو چوٹیں آئی تھیں، وہ کچھ وقت بعد ٹھیک ہو گئیں۔ لیکن مَیں، ماٹس اور کچھ اَور لوگ اُس حادثے کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہو گئے۔ مجھے تو رات کے وقت پریشانی کے دورے پڑتے تھے اور ایسے لگتا تھا جیسے میرا دل بند ہو رہا ہے۔ مَیں بہت ڈر جاتی تھی۔ لیکن یہوواہ سے شدت سے دُعا کرنے اور بائبل سے اپنی پسندیدہ آیتوں کو پڑھنے اور اِن پر سوچ بچار کرنے سے میری بہت مدد ہوئی۔ ہم نے اِس حادثے کو اپنے ذہن سے نکالنے کے لیے ڈاکٹر سے بھی علاج کروایا جس کا ہمیں بہت فائدہ ہوا۔ اب ہم پہلے سے بہتر محسوس کرتے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے یہوواہ سے دُعا کرتے ہیں جو شدید پریشانی سے لڑ رہے ہیں۔
جب آپ بتا رہے تھے کہ آپ مشکلوں سے کیسے نمٹے تو آپ نے کہا تھا کہ یہوواہ نے آپ کا ایسے خیال رکھا جیسے کوئی کچے انڈوں کا رکھتا ہے۔ اِس بات کا کیا مطلب ہے؟
ماٹس: یہ سواحلی زبان کا ایک محاورہ ہے۔ اِس زبان میں لوگ کہتے ہیں کہ ”آپ کا ایسے خیال رکھا گیا جیسے کچے انڈوں کا۔“ جس طرح ایک شخص کچے انڈوں کو بہت دھیان سے پکڑتا ہے تاکہ یہ ٹوٹ نہ جائیں اُسی طرح یہوواہ نے بڑے پیار سے ہمارا دھیان رکھا تاکہ ہم اپنی ہر ذمےداری کو پورا کر سکیں۔ یہوواہ نے ہمیشہ ہمیں وہ چیزیں دیں جن کی ہمیں ضرورت ہوتی تھی اور کبھی کبھار تو اُس نے ہماری ضرورت سے بھی بڑھ کر ہمیں دیا۔ جس طرح سے گورننگ باڈی نے ہمارے لیے ہمدردی دِکھائی، اُس سے تو ہمیں یہوواہ کی محبت اور فکرمندی کا اَور بھی زیادہ احساس ہوا۔
اَنکاترین: مَیں وہ واقعہ بتانا چاہتی ہوں جب مَیں نے یہوواہ کی محبت کو بہت زیادہ محسوس کِیا۔ ایک دن مجھے ایک فون آیا کہ میرے ابو بہت بیمار ہیں اور ہسپتال میں ہیں۔ ماٹس ابھی ابھی ملیریا کے بستر سے اُٹھے تھے اور بہت کمزور ہو گئے تھے۔ ہمارے پاس ٹکٹ خریدنے کے پیسے تک نہیں تھے۔ اِس لیے ہم نے سوچا کہ ہم اپنی گاڑی بیچ دیں گے۔ لیکن پھر ہمیں دو اَور فون آئے۔ ایک فون ایک میاں بیوی کا تھا جنہیں ہماری پریشانی کا پتہ چلا تھا اور وہ ہم میں سے ایک کی ٹکٹ کے لیے پیسے دینا چاہتے تھے۔ اور دوسرا فون ایک بہن نے کِیا تھا جنہوں نے ایک ڈبے میں کسی ایسے شخص کے لیے پیسے جمع کیے ہوئے تھے جسے اِس کی ضرورت ہوگی۔ تو چند ہی منٹوں میں یہوواہ نے ہماری ٹکٹ کا بندوبست کر دیا۔—عبر 13:6۔
آپ نے یہوواہ کی خدمت میں جو 50 سال گزارے، اُس دوران آپ نے کیا کچھ سیکھا؟
میانمار میں یہوواہ کی خدمت
اَنکاترین: مَیں نے سیکھا ہے کہ ہمیں ’پُرسکون رہنے اور یہوواہ پر بھروسا ظاہر کرنے سے طاقت‘ مل سکتی ہے۔ جب ہم یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں تو یہوواہ ہمارے لیے ہماری جنگیں لڑتا ہے۔ (یسع 30:15؛ 2-توا 20:15، 17) ہم نے یہوواہ کی خدمت میں ملنے والی ہر ذمےداری کو پورے جی جان سے نبھانے کی کوشش کی ہے اِس لیے یہوواہ نے ہمیں اِتنی زیادہ برکتیں دی ہیں جو ہمیں کوئی بھی دوسرا کام کرنے سے نہ ملتیں۔
ماٹس: مَیں نے یہ اہم سبق سیکھا ہے کہ مَیں ہر معاملے میں یہوواہ پر بھروسا کروں اور دیکھوں کہ وہ میری خاطر کارروائی کیسے کرے گا۔ (زبور 37:5) اُس نے اپنے وعدے کے مطابق ہمیشہ میری مدد کی ہے۔ اور ہم ابھی بھی صاف طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ وہ میانمار بیتایل میں خدمت کرنے کے لیے ہماری مدد کیسے کر رہا ہے۔
ہماری دُعا ہے کہ وہ نوجوان جو یہوواہ کی اَور زیادہ خدمت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اُس اٹوٹ محبت کو محسوس کریں جو یہوواہ نے ہمارے لیے دِکھائی ہے۔ ہمیں پکا یقین ہے کہ اگر وہ یہوواہ کو موقع دیں گے کہ وہ نئی ذمےداریوں کو نبھانے میں اُن کی مدد کرے تو یہوواہ ایسا ضرور کرے گا!