مطالعے کا مضمون نمبر 30
گیت نمبر 97: خدا کا زندگیبخش کلام
کیا آپ ابھی بھی بائبل کی بنیادی سچائیوں سے نئی باتیں سیکھ سکتے ہیں؟
”مَیں نے عزم کِیا ہے کہ آپ کو یہ باتیں یاد دِلاتا رہوں حالانکہ آپ اِنہیں جانتے ہیں اور . . . سچائی میں مضبوطی سے قائم ہیں۔“—2-پطر 1:12۔
غور کریں کہ . . .
آپ ابھی بھی بائبل کی اُن بنیادی سچائیوں سے کون سے اہم سبق سیکھ سکتے ہیں جو آپ نے شروع میں سیکھی تھیں۔
1. جب آپ نے شروع شروع میں پاک کلام کی سچائیاں سیکھی تھیں تو آپ کو کیسا لگا تھا؟
ہم نے شروع شروع میں پاک کلام کی جو بنیادی سچائیاں سیکھی تھیں، اُن سے ہماری زندگی بدل گئی تھی۔ مثال کے طور پر جب ہم نے سیکھا کہ خدا کا نام یہوواہ ہے تو ہم اُس کے قریب ہونے لگے۔ (یسع 42:8) اور جب ہم نے مُردوں کی حالت کے بارے میں سیکھا تو ہمارے دل سے یہ ڈر ختم ہو گیا کہ ہمارے فوت ہو جانے والے عزیز تکلیف میں ہیں۔ (واعظ 9:10) اور جب ہم نے خدا کے اِس وعدے کے بارے میں جانا کہ وہ پوری زمین کو فردوس بنا دے گا تو ہم نے اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہونا چھوڑ دیا۔ ہمیں پکا یقین ہو گیا تھا کہ ہم صرف 70 یا 80 سالوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہمیشہ تک زندہ رہ سکتے ہیں۔—زبور 37:29؛ 90:10۔
2. دوسرا پطرس 1:12، 13 سے کیسے پتہ چلتا ہے کہ پُختہ مسیحی بھی پاک کلام کی بنیادی تعلیمات سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں؟
2 ہمیں کبھی بھی بائبل کی بنیادی تعلیمات کو کم اہم نہیں سمجھنا چاہیے۔ غور کریں کہ پطرس نے اپنا دوسرا خط اُن مسیحیوں کے لیے لکھا تھا جو ”سچائی میں مضبوطی سے قائم“ تھے۔ (2-پطرس 1:12، 13 کو پڑھیں۔) لیکن اب اُن مسیحیوں کو کلیسیا کے اندر موجود جھوٹے اُستادوں سے خطرہ تھا جو اُنہیں سچائی سے دُور کرنا چاہتے تھے۔ (2-پطر 2:1-3) پطرس اپنے بہن بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ خود کو جھوٹی تعلیمات سے محفوظ رکھ سکیں۔ ایسا کرنے کے لیے اُنہوں نے اپنے ہمایمانوں کو پاک کلام کی وہ تعلیمات یاد دِلائیں جو وہ پہلے ہی سیکھ چُکے تھے۔ اِن تعلیمات کے ذریعے وہ مسیحی آخر تک یہوواہ کے وفادار رہ سکتے تھے۔
3. ایک مثال دے کر بتائیں کہ تمام مسیحیوں کو بائبل کی بنیادی سچائیوں پر سوچ بچار کیوں کرتے رہنا چاہیے۔
3 بھلے ہی ہم پختگی کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن ہم پھر بھی بائبل کی بنیادی سچائیوں سے بہت سی نئی باتیں سیکھ سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں: ایک ڈِش کو تیار کرنے کے لیے شاید ایک ماہر باورچی اور ایک نیا باورچی ایک جیسے ہی اجزا اور مصالحے اِستعمال کریں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماہر باورچی یہ سیکھ لیتا ہے کہ وہ اُنہی اجزا اور مصالحوں کو اِستعمال کر کے ایک نئی اور مزےدار ڈِش کیسے تیار کر سکتا ہے۔ اِسی طرح جو مسیحی لمبے عرصے سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں، شاید وہ بائبل کی اُن بنیادی تعلیمات کو بالکل فرق زاویے سے دیکھیں جنہیں کچھ لوگ ابھی بائبل کورس کرتے ہوئے سیکھ رہے ہیں۔ وہ کیسے؟ جب ہم نے بپتسمہ لیا تھا تو تب سے شاید ہمارے حالات یا یہوواہ کی خدمت میں ہماری ذمےداریاں بدل گئی ہیں۔ تو جب ہم بائبل کی اُن بنیادی سچائیوں پر سوچ بچار کرتے ہیں جو ہم نے پہلے سیکھی تھیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ابھی اِن پر بالکل فرق طریقے سے عمل کر سکتے ہیں۔ آئیے بائبل کی تین بنیادی سچائیوں پر غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ پُختہ مسیحی ابھی اِن سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
یہوواہ نے سب چیزوں کو بنایا ہے
4. یہ جاننے سے ہماری زندگی پر کیا اثر ہوا ہے کہ یہوواہ نے سب چیزوں کو بنایا ہے؟
4 بائبل میں لکھا ہے کہ ”سب چیزوں کو خدا نے بنایا ہے۔“ (عبر 3:4) تو ہم جانتے ہیں کہ زمین اور اِس پر موجود تمام چیزوں کو ذہین اور طاقتور خالق نے بنایا ہے۔ لیکن اِس سچائی سے ہم اَور بھی کئی باتیں سیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر چونکہ یہوواہ نے ہمیں بنایا ہے اِس لیے وہ ہمارے بارے میں ہر بات بہت اچھی طرح سے جانتا ہے۔ اُسے ہماری فکر ہے اور وہ جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔ تو یہ جاننے سے کہ یہوواہ ہمارا خالق ہے، ہماری زندگی کئی لحاظ سے سنور گئی ہے اور ہمیں زندگی میں ایک مقصد ملا ہے۔
5. ہمیں یہ سچائی جاننے سے کیا فائدہ ہوتا ہے کہ یہوواہ ہمارا خالق ہے؟ (یسعیاہ 45:9-12)
5 یہ سچائی جاننے سے کہ یہوواہ ہمارا خالق ہے، ہم خاکسار رہنا بھی سیکھتے ہیں۔ ذرا ایوب کی مثال پر غور کریں۔ کچھ وقت کے لیے اُن کے ذہن میں یہوواہ کے بارے میں غلط سوچ آ گئی تھی۔ وہ خود کو صحیح ثابت کرتے کرتے یہ بھول ہی گئے کہ زیادہ اہم بات کیا ہے۔ لیکن یہوواہ نے اُنہیں یاد دِلایا کہ وہ تمام چیزوں کا خالق ہے اور لامحدود طاقت کا مالک ہے۔ (ایو 38:1-4) یہوواہ کی طرف سے ملنے والی اِس یاددہانی کے ذریعے ایوب کو احساس ہوا کہ یہوواہ جو بھی کرتا ہے، وہ ہمیشہ صحیح ہوتا ہے اور اُس کی راہیں اِنسانوں کی راہوں سے افضل ہیں۔ اِسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یسعیاہ نبی نے بعد میں لکھا: ”کیا مٹی کو کُمہار سے کہنا چاہیے: ”تُو یہ کیا بنا رہا ہے؟““—یسعیاہ 45:9-12 کو پڑھیں۔
6. اِس بات پر سوچ بچار کرنا خاص طور پر کب اہم ہوتا ہے کہ ہمارا خالق ایک دانشمند اور طاقتور ہستی ہے؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
6 جیسے جیسے یہوواہ کا ایک بندہ پُختہ مسیحی بنتا جاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ یہوواہ اور اُس کے کلام سے رہنمائی حاصل کرنے کی بجائے اپنی سمجھ پر زیادہ بھروسا کرنے لگے۔ (ایو 37:23، 24) لیکن اگر وہ اپنے خالق یہوواہ کی دانشمندی اور طاقت پر گہرائی سے سوچ بچار کرے گا تو اُس کی مدد کیسے ہوگی؟ (یسع 40:22؛ 55:8، 9) اِس اہم سچائی پر سوچ بچار کرنے سے وہ خاکسار رہ پائے گا اور اِس بات کو تسلیم کر پائے گا کہ یہوواہ کی سوچ اُس کی سوچ سے زیادہ اہم ہے۔
کیا چیز یہ یاد رکھنے میں ہماری مدد کرے گی کہ یہوواہ کی سوچ ہماری سوچ سے بہتر ہے؟ (پیراگراف نمبر 6 کو دیکھیں۔)e
7. بہن راحیلہ نے تنظیم کی طرف سے ملنے والی نئی ہدایت کو قبول کرنے کے لیے کیا کِیا؟
7 ذرا بہن راحیلہ کی مثال پر غور کریں جو سلووینیا میں رہتی ہیں۔ جب اُنہوں نے اِس بات پر سوچ بچار کی کہ یہوواہ ہمارا خالق ہے تو وہ تنظیم کی طرف سے ملنے والی نئی ہدایت کے مطابق اپنی سوچ کو ڈھال پائیں۔ اُنہوں نے تسلیم کِیا: ”کبھی کبھار میرے لیے اُن بھائیوں کے فیصلوں کو ماننا بالکل آسان نہیں تھا جو تنظیم میں ہماری پیشوائی کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر حالانکہ مَیں نے وہ اپڈیٹa دیکھی تھی جس میں بھائیوں کے داڑھی رکھنے کے حوالے سے تبدیلی کی گئی تھی لیکن مجھے پھر بھی اُس وقت بہت دھچکا لگا جب مَیں نے پہلی بار کسی بھائی کو داڑھی میں تقریر کرتے ہوئے دیکھا۔ مَیں نے یہوواہ سے دُعا کی کہ وہ اِس تبدیلی کو قبول کرنے میں میری مدد کرے۔“ بہن راحیلہ کو احساس ہوا کہ آسمان اور زمین کو بنانے والا خالق یہوواہ ہمیشہ جانتا ہے کہ اُسے اپنی تنظیم کی صحیح سمت میں رہنمائی کیسے کرنی ہے۔ اگر آپ کو بھی بائبل کی کسی سچائی کی نئی وضاحت کو سمجھنا یا تنظیم کی طرف سے ملنے والی کسی نئی ہدایت کو قبول کرنا مشکل لگتا ہے تو کیوں نہ خاکساری سے اِس بات پر سوچ بچار کریں کہ ہمارے خالق کی سمجھ اور طاقت کا ہماری سمجھ اور صلاحیت سے کوئی میل نہیں ہے۔—روم 11:33-36۔
خدا مصیبتوں کی اِجازت کیوں دیتا ہے؟
8. ہمیں یہ جاننے سے کیسے فائدہ ہوا ہے کہ خدا نے مصیبتوں کی اِجازت کیوں دی ہے؟
8 خدا نے اِنسانوں پر مصیبتیں آنے کی اِجازت کیوں دی ہے؟ جو لوگ اِس سوال کا جواب حاصل نہیں کر پاتے، وہ خدا پر غصہ ہونے لگتے ہیں یا یہ مان لیتے ہیں کہ کوئی خدا ہے ہی نہیں۔ (اَمثا 19:3) لیکن آپ نے سیکھ لیا ہے کہ ہم پر آنے والی مصیبتوں اور موت کا ذمےدار یہوواہ نہیں بلکہ آدم سے ملنے والا گُناہ ہے۔ آپ نے یہ بھی سیکھ لیا ہے کہ یہوواہ صبر سے کام لے رہا ہے تاکہ لاکھوں لوگوں کو اُس کے بارے میں سیکھنے کا موقع ملے اور وہ خود دیکھ پائیں کہ یہوواہ تمام مصیبتوں کو مکمل طور پر کیسے ختم کرے گا۔ (2-پطر 3:9، 15) جب ہم اُن وجوہات کو جان جاتے ہیں جن کی بِنا پر یہوواہ مصیبتوں کی اِجازت دے رہا ہے تو ہمیں تسلی ملتی ہے اور ہم اُس کے اَور قریب ہو جاتے ہیں۔
9. ہمیں خاص طور پر شاید کن موقعوں پر خود کو یہ یاد دِلانا پڑے کہ یہوواہ نے مصیبتوں کی اِجازت کیوں دی ہے؟
9 ہم مانتے ہیں کہ ہمیں اُس وقت تک صبر سے یہوواہ کا اِنتظار کرنا ہوگا جب تک وہ مصیبتوں کو ختم نہیں کر دیتا۔ لیکن جب ہمارا کوئی عزیز یا ہم خود کسی پریشانی سے گزرتے ہیں، نااِنصافی کا سامنا کرتے ہیں یا کسی چیز کی وجہ سے نقصان اُٹھاتے ہیں تو شاید ہم یہ سوچنے لگیں کہ یہوواہ جلد کارروائی کیوں نہیں کر رہا۔ (حبق 1:2، 3) ایسے وقت میں اچھا ہوگا کہ ہم اِس بات پر سوچ بچار کریں کہ یہوواہ نیک شخص کو مصیبتوں سے کیوں گزرنے دیتا ہے۔b (زبور 34:19) ہم اِس بات پر بھی سوچ بچار کر سکتے ہیں کہ یہوواہ نے یہ مقصد ٹھہرایا ہوا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں مصیبتوں کا ہمیشہ کے لیے نامونشان مٹا دے گا۔
10. بہن این اپنی امی کی موت کے دُکھ سے کیسے نمٹ پائیں؟
10 جب ہم اِس سچائی کو یاد رکھتے ہیں کہ یہوواہ ہم پر مصیبتیں کیوں آنے دیتا ہے تو ہم ثابتقدم رہ پاتے ہیں اور اپنی مشکلوں سے لڑ پاتے ہیں۔ ذرا بہن این کی بات پر غور کریں جو بحرِہند کے جزیرے مایوٹ میں رہتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”جب کچھ سال پہلے میری امی فوت ہو گئیں تو میرے لیے اِس دُکھ کو برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔ لیکن مَیں ہمیشہ خود کو یہ بات یاد دِلاتی رہتی ہوں کہ یہوواہ اِس کا ذمےدار نہیں ہے۔ وہ تو تمام مصیبتوں کو جڑ سے ختم کرنے اور ہمارے پیاروں کو زندہ کرنے کی شدید خواہش رکھتا ہے۔ دُکھ کی گھڑی میں اِن سچائیوں پر سوچ بچار کرنے سے مجھے اِتنا ذہنی سکون ملتا ہے کہ مَیں اکثر حیران رہ جاتی ہوں۔“
11. یہوواہ نے جن وجوہات کی بِنا پر مصیبتوں کی اِجازت دی ہے، اُن پر سوچ بچار کرنے سے ہمیں مُنادی کرتے رہنے میں مدد کیسے ملتی ہے؟
11 جب ہم اِس بات پر سوچ بچار کرتے ہیں کہ یہوواہ نے کن وجوہات کی بِنا پر مصیبتوں کی اِجازت دی ہے تو ہمارے دل میں مُنادی کرتے رہنے کی خواہش بڑھتی ہے۔ پطرس رسول نے بتایا کہ ایک وجہ جس کی بِنا پر یہوواہ نے ابھی تک بُری دُنیا کو ختم نہیں کِیا، وہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ لوگ توبہ کریں اور اپنی جان بچائیں۔ پطرس نے آگے یہ بھی بتایا کہ ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”اپنے بارے میں سوچیں کہ آپ کو کیسا ہونا چاہیے۔ آپ کا چالچلن پاک ہونا چاہیے اور آپ کو خدا کی بندگی کرنی چاہیے۔“ (2-پطر 3:11) ہم ”خدا کی بندگی“ کرنے کے لیے جو کام کرتے ہیں، اُن میں مُنادی کرنا بھی شامل ہے۔ اپنے آسمانی باپ کی طرح ہم بھی لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ نئی دُنیا میں رہیں جہاں نیکی کا راج ہوگا۔ یہوواہ بڑے صبر سے آپ کے علاقے کے لوگوں کو یہ موقع دے رہا ہے کہ وہ اُس کی عبادت کریں۔ ذرا سوچیں کہ یہ آپ کے لیے کتنے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ آپ خدا کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں کہ وہ دُنیا کے خاتمے سے پہلے یہوواہ کے بارے میں سیکھیں۔—1-کُر 3:9۔
ہم ”آخری زمانے“ میں رہ رہے ہیں
12. ہمیں یہ جاننے سے کیسے فائدہ ہوا ہے کہ ہم ”آخری زمانے“ میں رہ رہے ہیں؟
12 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”آخری زمانے میں“ لوگ کس طرح کا رویہ ظاہر کریں گے اور کیسے کام کریں گے۔ (2-تیم 3:1-5) جب ہم اپنے اِردگِرد لوگوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ بائبل میں لکھی یہ پیشگوئی واقعی پوری ہو رہی ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کا رویہ اور اُن کے کام دنبہدن بگڑتے ہی جا رہے ہیں تو ہمارا یہ یقین پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے کہ خدا کا کلام قابلِبھروسا ہے۔—2-تیم 3:13-15۔
13. ہم لُوقا 12:15-21 میں بتائی گئی یسوع کی مثال کو ذہن میں رکھ کر خود سے کون سے سوال پوچھ سکتے ہیں؟
13 لُوقا 12:15-21 کو پڑھیں۔ جب ہم اِس سچائی کو یاد رکھتے ہیں کہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں تو ہم اپنا دھیان زیادہ اہم بات پر رکھ پاتے ہیں۔ یسوع کی بتائی ہوئی مثال سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنا ضروری کیوں ہے۔ غور کریں کہ مثال میں اُس امیر آدمی کو ”ناسمجھ“ کیوں کہا گیا۔ اُسے ایسا اِس لیے نہیں کہا گیا کیونکہ وہ امیر تھا بلکہ اِس لیے کیونکہ وہ زیادہ اہم بات پر دھیان نہیں دے رہا تھا۔ وہ ’اپنے لیے بہت کچھ جمع کر رہا تھا لیکن خدا کی نظر میں امیر ہونے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔‘ کون سی بات اُس کی صورتحال کو اَور بھی نازک موڑ پر لے آئی؟ خدا نے اُس آدمی سے کہا: ”آج رات تمہاری جان لے لی جائے گی۔“ جیسے جیسے اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک آ رہا ہے، ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنے چاہئیں: ”مَیں نے جو منصوبے بنائے ہیں، کیا اُن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مَیں اپنے وقت کا سمجھداری سے اِستعمال کر رہا ہوں اور اپنا دھیان زیادہ اہم بات پر رکھ رہا ہوں؟ مَیں اپنے بچوں کی کس طرح کے منصوبے بنانے میں مدد کر رہا ہوں؟ کیا مَیں اپنے وقت اور طاقت کو اپنے لیے مالودولت جمع کرنے میں اِستعمال کر رہا ہوں یا کیا مَیں اِنہیں آسمان پر خزانے جمع کرنے کے لیے اِستعمال کر رہا ہوں؟“
14. بہن میکی کی مثال سے کیسے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے لیے اِس بات پر سوچ بچار کرنا بہت ضروری ہے کہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں؟
14 جب ہم اُن باتوں پر گہرائی سے سوچ بچار کرتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم آخری زمانے میں رہے ہیں تو ہم اپنے لیے صحیح فیصلے لے پاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ میکی نام کی بہن کے ساتھ ہوا۔ اُنہوں نے کہا: ”جب مَیں نے اپنے کالج کی پڑھائی ختم کی تو مَیں ایسی نوکری کرنا چاہتی تھی جس میں مجھے جانوروں کے بارے میں سیکھنے کا موقع ملے۔ مَیں نے پہلکار بننے اور اُس جگہ جا کر یہوواہ کی خدمت کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہوا تھا جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت ہے۔ کچھ پُختہ مسیحیوں نے مجھے مشورہ دیا کہ مَیں اِس بات پر سوچ بچار کروں کہ کیا میرے لیے اپنے پسندیدہ پیشے کے ساتھ ساتھ کہیں اَور جا کر یہوواہ کی خدمت کرنا یا پہلکار بننے کے منصوبے کو پورا کرنا ٹھیک رہے گا؟ اُنہوں نے مجھے یاد دِلایا کہ بہت جلد اِس دُنیا کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ لیکن نئی دُنیا میں مَیں ساری زندگی جانوروں کے بارے میں سیکھتی رہوں گی۔ اِس لیے مَیں نے فیصلہ کِیا کہ مَیں ایسا پیشہ اِختیار نہیں کروں گی جس کے لیے مجھے اَور زیادہ پڑھائی کرنی پڑے۔ اِس کی بجائے مَیں نے ایسے کورس کرنا شروع کر دیے جن کے ذریعے مَیں ایسے ہنر سیکھ سکوں جن میں میرا زیادہ وقت نہ لگے۔ اِس طرح مَیں ایک ایسی نوکری ڈھونڈ پائی جس کے ذریعے مَیں پہلکار کے طور پر اپنے خرچے پورے کر سکی اور بعد میں ایکواڈور چلی گئی جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت ہے۔“ ابھی بہن میکی اپنے شوہر کے ساتھ وہاں خدمت کر رہی ہیں جو کہ حلقے کے نگہبان ہیں۔
15. یعقوب کی مثال سے کیسے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں اُن لوگوں کو خوشخبری سنانے میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے جنہوں نے ابھی تک ہمارے پیغام میں دلچسپی نہیں لی ہے؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
15 جب لوگ شروع شروع میں ہمارے پیغام کو قبول نہیں کرتے تو ہمیں بےحوصلہ نہیں ہونا چاہیے۔ لوگ بدل سکتے ہیں۔ ذرا یسوع کے سوتیلے بھائی یعقوب کی مثال پر غور کریں۔ وہ یسوع کے ساتھ پلے بڑھے تھے، اُنہوں نے یسوع کو معجزے کرتے دیکھا تھا اور اُن پر وہ پیشگوئیاں پوری ہوتے ہوئے دیکھی تھی جو مسیح کے بارے میں تھیں۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے دیکھا تھا کہ جس طرح سے یسوع لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں، اُس طرح سے پہلے کبھی کسی اِنسان نے نہیں دی۔ لیکن اِن سب باتوں کے باوجود یعقوب کئی سالوں تک یسوع پر ایمان نہیں لائے۔ وہ تو یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد ہی اُن کے شاگرد بنے اور وہ بھی ایک جوشیلے شاگرد۔c (یوح 7:5؛ گل 2:9) تو کبھی بھی اپنے اُن رشتےداروں کو گواہی دینے کو معمولی نہ سمجھیں جنہوں نے ابھی تک آپ کے پیغام میں دلچسپی نہیں لی ہے اور نہ ہی اُن لوگوں کے پاس دوبارہ جانے سے ہچکچائیں جنہوں نے پہلے آپ کے پیغام کو قبول نہیں کِیا تھا۔ یاد رکھیں کہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں اور اب ہمارے لیے مُنادی کرنا اَور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ ہم لوگوں کو ابھی جو کچھ بتائیں گے، ہو سکتا ہے کہ وہ اُنہیں بعد میں، یہاں تک کہ بڑی مصیبت کے شروع ہونے پر یاد آئے اور وہ کوئی قدم اُٹھا پائیں۔d
کیا چیز ہماری مدد کرے گی کہ ہم اپنے غیرایمان رشتےداروں کو خوشخبری سنانے میں ہمت نہ ہاریں؟ (پیراگراف نمبر 15 کو دیکھیں۔)f
یہوواہ کی طرف سے ملنے والی یاددہانیوں کے لیے شکرگزاری ظاہر کرتے رہیں
16. آپ کو یہوواہ کی طرف سے ملنے والی یاددہانیوں سے کیسے فائدہ ہوا ہے؟ (بکس ”اِنہیں دوسروں کی مدد کرنے کے لیے اِستعمال کریں“ کو بھی دیکھیں۔)
16 ہماری تنظیم کچھ روحانی کھانا ایسے لوگوں کو ذہن میں رکھ کر تیار کرتی ہے جنہوں نے بائبل کی بنیادی سچائیاں پہلے کبھی نہیں سنیں۔ مثال کے طور پر ہر ہفتے عوامی تقریر، کچھ مضامین، ویبسائٹ jw.org پر کچھ ویڈیوز اور عوامی رسالے اُن لوگوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں جو یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں۔ بھلے ہی یہ مطبوعات خاص طور پر اِن لوگوں کے لیے ہوتی ہیں لیکن ہمیں بھی اِن میں پائی جانے والی یاددہانیوں سے فائدہ ہوتا ہے۔ اِن سے ہمارے دل میں یہوواہ کے لیے محبت گہری ہوتی ہے، خدا کے کلام پر ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور ہم سیکھ پاتے ہیں کہ ہم لوگوں کو بائبل کی بنیادی سچائیاں اَور اچھی طرح سے کیسے سکھا سکتے ہیں۔—زبور 19:7۔
17. شاید آپ کو کن موقعوں پر بائبل کی بنیادی سچائیوں پر سوچ بچار کرنے کا موقع ملے؟
17 یہوواہ کے گواہوں کے طور پر ہم اُس وقت بہت خوش ہوتے ہیں جب بائبل کی کسی سچائی کے حوالے سے ہمیں نئی وضاحت ملتی ہے۔ لیکن ہم بائبل کی اُن بنیادی سچائیوں کے لیے بھی یہوواہ کے دل سے شکرگزار ہیں جن کی مدد سے ہم اُس کے قریب آ پائے۔ جیسے کہ ہم نے اِس مضمون میں دیکھا ہے، ہم ابھی بھی اِن بنیادی سچائیوں سے بہت سی اہم باتیں سیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب ہمیں تنظیم کی طرف سے کوئی ہدایت ملتی ہے لیکن ہم یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ہم زیادہ بہتر جانتے ہیں تو ہمیں خاکساری سے خود کو یاد دِلانا چاہیے کہ تنظیم کی رہنمائی کون کر رہا ہے۔ یہ یہوواہ ہے جو دانشمند خالق اور لامحدود طاقت کا مالک ہے۔ اور جب ہم یا ہمارا کوئی عزیز مشکل سے گزر رہا ہوتا ہے تو ہمیں صبر سے کام لینا چاہیے اور اِس بات پر سوچ بچار کرنی چاہیے کہ یہوواہ کن وجوہات کی بِنا پر ہم پر مصیبتیں آنے کی اِجازت دے رہا ہے۔ اور جب ہمیں یہ فیصلہ لینا ہوتا ہے کہ ہم اپنے پیسے اور چیزوں کو کہاں اِستعمال کریں گے تو ہم یہ یاد رکھ سکتے ہیں کہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں اور اب خاتمے کے آنے میں زیادہ وقت نہیں بچا۔ دُعا ہے کہ یہوواہ کی طرف سے ملنے والی یاددہانیوں کے ذریعے ہم دانشمند بنتے جائیں، اِن سے ہمارا ایمان مضبوط ہوتا رہے اور ہم وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہیں۔
گیت نمبر 95: سچائی کی روشنی بڑھتی جا رہی ہے
a ویڈیو ”2023ء میں گورننگ باڈی کی طرف سے اپڈیٹ (نمبر 8)“ کو دیکھیں۔
b ”مینارِنگہبانی،“ 1 جون 2007ء میں مضمون ”دُکھ اور تکلیف کا خاتمہ نزدیک ہے“ کے صفحہ نمبر 12-16 کو دیکھیں۔
c کتاب ”محبت دِکھائیں—شاگرد بنائیں“ کے سبق نمبر 8 کو دیکھیں۔
d ”مینارِنگہبانی،“ مئی 2024ء میں مضمون ”مستقبل میں یہوواہ لوگوں کی عدالت کیسے کرے گا؟“ کے صفحہ نمبر 8-13 کو دیکھیں۔
e تصویروں کی وضاحت: ایک بزرگ اپنی رائے دے رہا ہے لیکن بزرگوں کی جماعت میں شامل باقی بزرگ اُس کی رائے سے متفق نہیں ہیں۔ بعد میں وہ بزرگ ستاروں سے بھرے آسمان کو دیکھ رہا ہے اور گہرائی سے اِس بات پر سوچ بچار کر رہا ہے کہ ہمارا خالق یہوواہ کتنا دانشمند اور طاقتور ہے۔ اُسے احساس ہو رہا ہے کہ یہوواہ جو چاہتا ہے، وہ اُس کی خواہش سے زیادہ اہم ہے۔
f تصویر کی وضاحت: ایک یہوواہ کی گواہ بائبل کا ذاتی مطالعہ کرتے ہوئے اُن باتوں پر غور کر رہی ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں۔ اِن باتوں پر سوچ بچار کرنے سے اُس کے دل میں اپنی بہن کو فون پر گواہی دینے کی خواہش پیدا ہوئی ہے۔