مطالعے کا مضمون نمبر 29
گیت نمبر 87: اِجلاسوں سے تازگی پائیں
دوسروں کو نصیحت یا مشورہ کیسے دیں؟
”میری نظر تُم پر ہوگی اور مَیں تمہیں نصیحت کروں گا۔“—زبور 32:8۔
غور کریں کہ . . .
ہم دوسروں کو اچھے مشورے کیسے دے سکتے ہیں۔
1. کن کو مشورہ دینا چاہیے اور کیوں؟
آپ کو دوسروں کو مشورے دینا کیسا لگتا ہے؟ کچھ لوگوں کے لیے یہ بہت آسان ہوتا ہے اور وہ خوشی سے دوسروں کو مشورے دیتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسا کرنے سے جھجکتے ہیں اور اُنہیں سمجھ نہیں آتا کہ وہ ایسا کیسے کریں۔ چاہے ہمارے لیے دوسروں کو مشورے دینا آسان ہو یا مشکل، ہم سبھی کو کبھی نہ کبھی ایسا کرنا پڑتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ اپنے ہمایمانوں کے لیے محبت دِکھانے کا ایک طریقہ ہے اور یسوع مسیح نے کہا تھا کہ اگر ہم اُن کے شاگرد بننا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کے لیے محبت دِکھانی ہوگی۔ (یوح 13:35) اِس کے علاوہ خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ جب ہمارے دوست ”سچے دل سے[ہماری]اِصلاح“ کرتے ہیں تو اُن کے ساتھ ہماری دوستی اَور مضبوط ہو جاتی ہے۔—اَمثا 27:9۔
2. کلیسیا کے بزرگوں کو کون سی بات اچھی طرح سے پتہ ہونی چاہیے اور کیوں؟ (بکس ”مسیحی زندگی اور خدمت والے اِجلاس میں دیے جانے والے مشورے“ کو بھی دیکھیں۔)
2 خاص طور پر کلیسیا کے بزرگوں کو یہ بات اچھی طرح سے پتہ ہونی چاہیے کہ وہ دوسروں کو اچھے مشورے کیسے دے سکتے ہیں۔ یہوواہ نے یسوع کے ذریعے بزرگوں کو کلیسیا کے بہن بھائیوں کا خیال رکھنے کے لیے مقرر کِیا ہے۔ (1-پطر 5:2، 3) بزرگ کئی طریقوں سے کلیسیا کی دیکھبھال کرتے ہیں۔ اِن میں سے ایک طریقہ کلیسیا میں تقریریں کرنا ہے جن کے ذریعے وہ ہمیں بائبل سے اچھے مشورے دیتے ہیں۔ وہ یہوواہ کی بھیڑوں کو اِنفرادی طور پر بھی مشورے دیتے ہیں۔ اِن میں یہوواہ کی وہ بھیڑیں بھی شامل ہیں جو اُس سے دُور ہو گئی ہیں۔ کلیسیا کے بزرگ، یہاں تک کہ ہم سبھی دوسروں کو اچھے مشورے کیسے دے سکتے ہیں؟
3. (الف)ہم دوسروں کو اچھے مشورے دینا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟ (یسعیاہ 9:6؛ بکس ”دوسروں کو نصیحت کرتے وقت یسوع کی مثال پر عمل کریں“ کو بھی دیکھیں۔) (ب)اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟
3 دوسروں کو اچھے مشورے دینے کے حوالے سے ہم بائبل میں بتائے گئے لوگوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، خاص طور پر یسوع مسیح سے۔ بائبل میں یسوع کو بہت سے لقب دیے گئے ہیں جن میں سے ایک لقب ”شاندار مُشیر“ ہے۔ (یسعیاہ 9:6 کو پڑھیں۔) اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم اُس وقت کیا کر سکتے ہیں جب کوئی ہم سے مشورہ مانگتا ہے اور ہم تب کیا کر سکتے ہیں جب ہمیں کسی کے بِنا کہے ہی اُسے مشورہ دینا یا اُسے نصیحت کرنی پڑتی ہے۔ ہم اِس بات پر بھی غور کریں گے کہ دوسروں کو صحیح وقت پر اور صحیح انداز میں نصیحت کرنا کتنا اہم ہے۔
جب کوئی ہم سے مشورہ مانگتا ہے
4-5. جب کوئی ہم سے مشورہ مانگتا ہے تو ہمیں اُس کی مدد کرنے سے پہلے خود سے کون سا سوال پوچھنا چاہیے؟ ایک مثال دیں۔
4 جب آپ کا کوئی دوست آپ سے مشورہ مانگتا ہے تو شاید آپ کو یہ سوچ کر خوشی ہو کہ اُس نے آپ پر بھروسا کر کے آپ سے صلاح مانگی ہے۔ شاید آپ فوراً ہی اُس کی مدد کرنا چاہیں۔ لیکن ایسا کرنے سے پہلے آپ کو خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے: ”جس معاملے کے بارے میں میرا دوست مجھ سے مشورہ مانگ رہا ہے، کیا مَیں اُس کے بارے میں اِتنا علم یا تجربہ رکھتا ہوں کہ مَیں اُسے اچھا مشورہ دے سکوں؟“ کبھی کبھار اپنے دوستوں کی مدد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اُنہیں اپنی طرف سے کوئی مشورہ نہ دیں بلکہ اُنہیں ایسے لوگوں سے مشورہ لینے کو کہیں جو اُن کی صورتحال کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔
5 اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں: فرض کریں کہ آپ کے کسی قریبی دوست کو صحت کا کوئی بڑا مسئلہ ہو جاتا ہے۔ وہ آپ کو بتاتا ہے کہ اُس نے علاج کے مختلف طریقوں کے بارے میں تحقیق کی ہے۔ پھر وہ آپ سے کہتا ہے کہ آپ کے خیال میں اُس کے لیے کون سا علاج کروانا بہتر رہے گا۔ شاید آپ کو علاج کا ایک طریقہ بہتر لگے لیکن آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ ڈاکٹر نہیں ہیں جس نے اُس بیماری کا علاج کرنے کی ٹریننگ لی ہے۔ ایسی صورت میں اپنے دوست کی مدد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہوگا کہ آپ کسی ایسے شخص کو ڈھونڈنے میں اُس کا ساتھ دیں جو اُس بیماری کا علاج کرنے میں ماہر ہو۔
6. ہمیں کسی کو کوئی مشورہ دینے سے پہلے تھوڑا اِنتظار کیوں کرنا چاہیے؟
6 اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہم کسی کو ایک معاملے کے بارے میں اچھی صلاح دے سکتے ہیں تو بھی ہمیں اُسے کوئی جواب دینے سے پہلے کچھ وقت تک اِنتظار کرنا چاہیے۔ کیوں؟ کیونکہ اَمثال 15:28 میں لکھا ہے: ”نیک شخص جواب دینے سے پہلے دل میں سوچ بچار کرتا ہے۔“ لیکن اگر ہمیں لگے کہ ہمیں جواب پتہ ہے تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں پھر بھی تھوڑی تحقیق کرنے، دُعا کرنے اور سوچ بچار کرنے کے لیے وقت لینا چاہیے۔ اِس طرح ہم معاملے کے بارے میں یہوواہ کی سوچ کو ذہن میں رکھتے ہوئے پورے اِعتماد سے اُس شخص کو جواب دے پائیں گے۔ آئیے اِس حوالے سے ناتن نبی کی مثال پر غور کرتے ہیں۔
7. آپ نے ناتن نبی سے کیا سیکھا ہے؟
7 ایک مرتبہ داؤد نے ناتن نبی سے بات کرتے ہوئے اُنہیں بتایا کہ وہ یہوواہ کے لیے ایک ہیکل بنانا چاہتے ہیں۔ ناتن نبی نے اُنہیں فوراً مشورہ دیا کہ وہ اپنی خواہش کو پورا کریں۔ لیکن ناتن نبی کو داؤد کو کوئی مشورہ دینے سے پہلے یہوواہ سے مشورہ لے لینا چاہیے تھا۔ کیوں؟ کیونکہ یہوواہ نہیں چاہتا تھا کہ داؤد اُس کے لیے ہیکل بنائیں۔ (1-توا 17:1-4) اِس واقعے سے ہم سیکھتے ہیں کہ جب کوئی ہم سے مشورہ مانگتا ہے تو یہ اچھا ہوگا کہ ہم ’بولنے میں جلدی نہ کریں۔‘—یعقو 1:19۔
8. ایک اَور وجہ کیا ہے جس کی بِنا پر ہمیں دوسروں کو مشورہ دینے سے پہلے خوب سوچ بچار کرنی چاہیے؟
8 آئیے اب ایک اَور وجہ پر غور کرتے ہیں جس سے ہم یہ سمجھ پائیں گے کہ دوسروں کو مشورہ دینے سے پہلے خوب سوچ بچار کرنا کیوں اچھا ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی کو غلط مشورہ دیں گے اور وہ شخص ہمارے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کوئی ایسا فیصلہ لے گا جس سے بعد میں اُس کو نقصان ہوگا تو ہم بھی اُس کے نقصان میں برابر کے حصےدار ہوں گے۔ واقعی دوسروں کو مشورہ دینے سے پہلے خوب سوچ بچار کر لینا بہت ضروری ہے۔
جب ہمیں کسی کے بِنا کہے ہی اُسے مشورہ دینا یا نصیحت کرنی پڑتی ہے
9. کسی کو نصیحت کرنے سے پہلے بزرگوں کو کس بات کو پرکھ لینا چاہیے؟ (گلتیوں 6:1)
9 کبھی کبھار کلیسیا کے بزرگوں کو اپنے کسی ایسے ہمایمان کو سیدھی راہ پر لانے میں پہل کرنی پڑتی ہے جو ’غلط قدم اُٹھاتا‘ ہے۔ (گلتیوں 6:1 کو پڑھیں۔) ایسا مسیحی غلط راہ کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے، بھلے ہی اُس نے ابھی کوئی سنگین گُناہ نہ کِیا ہو۔ تو اُس مسیحی کی مدد کرتے وقت بزرگوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کی زندگی کے راستے پر چلتا رہے۔ (یعقو 5:19، 20) لیکن اگر بزرگ چاہتے ہیں کہ اُس مسیحی کو اُن کی نصیحت سے فائدہ ہو تو پہلے اُنہیں یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کیا اُس نے واقعی کوئی غلط قدم اُٹھایا ہے۔ اُنہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہوواہ نے ہم سبھی کو اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کرنے کی آزادی دی ہے۔ تو اگر اُس مسیحی نے کوئی ایسا فیصلہ لیا ہے جو اُن کے مطابق صحیح نہیں ہے تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ یہوواہ اُس کے فیصلے سے ناخوش ہے۔ (روم 14:1-4) لیکن اگر ایک مسیحی نے واقعی کوئی غلط قدم اُٹھایا ہے اور بزرگ اُس کی مدد کرنے میں پہل کرتے ہیں تو وہ اُسے نصیحت کیسے کر سکتے ہیں؟
10-12. جب بزرگوں کو کسی ایسے مسیحی کو نصیحت کرنی ہوتی ہے جس کی اُس مسیحی نے توقع نہیں کی ہوتی تو بزرگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
10 بزرگوں کے لیے کسی ایسے مسیحی کو نصیحت کرنا آسان نہیں ہوتا جس کی اُس مسیحی نے توقع بھی نہیں کی ہوتی۔ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں؟ غور کریں کہ پولُس رسول نے بتایا تھا کہ شاید اُس مسیحی کو احساس بھی نہیں ہے کہ اُس نے کوئی غلط قدم اُٹھایا ہے۔ تو اگر بزرگ اُسے نصیحت کریں گے تو اُس مسیحی کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگا کہ اُسے نصیحت کیوں کی جا رہی ہے۔ اِس لیے بزرگوں کو اُسے سیدھی راہ پر لانے سے پہلے ایسے قدم اُٹھانے چاہئیں جن سے اُس مسیحی کے لیے اُن کی بات کو سمجھنا اور ماننا آسان ہو جائے۔
11 اِس سلسلے میں ذرا ایک کسان کی مثال پر غور کریں جو ایک ایسی زمین میں پودا اُگانے کی کوشش کرتا ہے جس کی مٹی خشک اور سخت ہے۔ بیج بونے سے پہلے وہ مٹی کو نرم کرتا ہے۔ پھر وہ بیج بونے کے بعد اِسے پانی دیتا ہے تاکہ یہ بڑھ سکے۔ اِسی طرح ایک بزرگ کو بھی کسی مسیحی کو نصیحت کرنے سے پہلے کچھ ایسے قدم اُٹھانے چاہئیں جن سے اُس مسیحی کے لیے اُس کی نصیحت کو قبول کرنا آسان ہو جائے۔ مثال کے طور پر وہ صحیح وقت کا اِنتظار کر سکتا ہے اور پھر اُس مسیحی کو بتا سکتا ہے کہ وہ اُس کی بہت فکر کرتا ہے اور اِسی لیے وہ اُس سے ایک معاملے کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے۔ اگر نصیحت کرنے والا بزرگ ایک ایسا شخص ہے جسے بہن بھائی اُس کی شفقت اور نرممزاجی کی وجہ سے بہت پسند کرتے ہیں تو اُن کے لیے اُس کی نصیحت کو قبول کرنا زیادہ آسان ہوگا۔
12 بزرگ غلط قدم اُٹھانے والے مسیحی سے باتچیت کرتے وقت بار بار اِس بات پر زور دے سکتا ہے کہ ہم سبھی سے غلطیاں ہو جاتی ہیں اور ہم سبھی کو کبھی کبھار درستی کی ضرورت پڑتی ہے۔ یوں وہ ایک طرح سے باتچیت کے دوران مٹی کو نرم کرتا رہے گا اور اُس مسیحی کے لیے اُس کی نصیحت کو قبول کرنا آسان ہو جائے گا۔ (روم 3:23) بزرگ نرم لہجے اور احترام کے ساتھ اُس مسیحی کو پاک کلام سے ایسی آیتیں دِکھا سکتا ہے جن سے یہ واضح ہو کہ اُس نے کیسے غلط قدم اُٹھایا۔ پھر جب اُس مسیحی کو احساس ہو جائے گا کہ اُس نے غلطی کی ہے تو ایک طرح سے وہ بزرگ نرم مٹی میں بیج بو سکے گا یعنی وہ اُسے واضح اور سادہ لفظوں میں بتا سکے گا کہ وہ اپنی غلطی کو سدھارنے کے لیے کیا کر سکتا ہے۔ اِس کے بعد وہ بزرگ بیج کو پانی دے گا یعنی باتچیت کے آخر میں وہ اُسے اُس کے اچھے کاموں کے لیے داد دے گا اور اُس کے ساتھ مل کر دُعا کرے گا۔—یعقو 5:15۔
بزرگ ایک ایسے مسیحی کو نصیحت کرتے وقت محبت اور سمجھداری سے کام لیتے ہیں جس نے نصیحت ملنے کی توقع نہیں کی ہوتی۔ (پیراگراف نمبر 10-12 کو دیکھیں۔)
13. بزرگ یہ اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں کہ ایک مسیحی اُن کی طرف سے ملنے والی نصیحت کو سمجھ گیا ہے؟
13 کبھی کبھار نصیحت کرنے والا شخص جو کچھ کہتا ہے، سننے والا شخص اِسے بالکل فرق طریقے سے سمجھتا ہے۔ تو بزرگ یہ اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں کہ ایک مسیحی اُن کی طرف سے ملنے والی نصیحت کو سمجھ گیا ہے؟ وہ نرمی، احترام اور سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اُس سے ایسے سوال پوچھ سکتے ہیں جن سے وہ دیکھ سکیں کہ وہ مسیحی اُن کی بات کو سمجھ گیا ہے اور یہ جان گیا ہے کہ وہ اِس پر کیسے عمل کر سکتا ہے۔—واعظ 12:11۔
صحیح وقت پر اور صحیح انداز میں نصیحت کریں
14. ہمیں غصے میں کسی کو نصیحت کیوں نہیں کرنی چاہیے؟ وضاحت کریں۔
14 ہم سب عیبدار ہیں اِس لیے کبھی کبھار ہم ایسے کام کر بیٹھتے ہیں یا ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جن کی وجہ سے دوسرے ہم سے ناراض ہو سکتے ہیں۔ (کُل 3:13) بائبل میں بتایا گیا ہے کہ کبھی کبھار تو ہمیں ایک دوسرے کی باتوں اور کاموں کی وجہ سے غصہ تک آ سکتا ہے۔ (اِفِس 4:26) لیکن ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ہم غصے میں کسی کو نصیحت نہ کریں۔ کیوں؟ کیونکہ ”جو شخص غصے پر قابو نہیں رکھتا، وہ خدا کی نظروں میں نیک نہیں ٹھہرتا۔“ (یعقو 1:20) اگر ہم غصے میں کسی کو نصیحت کریں گے تو صورتحال بہتر ہونے کی بجائے بگڑ سکتی ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ جس شخص کی باتوں یا کاموں کی وجہ سے ہمیں غصہ آیا ہے ہم اُسے کبھی یہ نہ بتائیں کہ ہم کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ مگر اچھا ہوگا کہ ہم تب تک اُس شخص سے بات نہ کریں جب تک ہمارا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو جاتا۔ آئیے دیکھیں کہ اِس حوالے سے ایوب کے دوست اِلیہو نے کیسی مثال قائم کی۔
15. ہم اِلیہو سے کیا سیکھتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
15 اِلیہو کئی دنوں تک بڑے صبر سے ایوب کی وہ صفائیاں سنتے رہے جو وہ اُن آدمیوں کو دے رہے تھے جنہوں نے اُن پر جھوٹے اِلزام لگائے تھے۔ اِلیہو کو ایوب پر بہت ترس آ رہا تھا۔ لیکن جب ایوب خود کو صحیح ثابت کرتے وقت یہوواہ کے بارے میں ایسی باتیں کہہ گئے جو سچی نہیں تھیں تو اِلیہو آگبگولا ہو گئے۔ لیکن وہ تب تک چپ رہے جب تک اُن کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو گیا۔ اِس کے بعد اُنہوں نے بڑی نرمی اور احترام سے ایوب کی سوچ کو درست کِیا۔ (ایو 32:2؛ 33:1-7) اِلیہو کی مثال سے ہم یہ اہم بات سیکھتے ہیں: ہمیں صحیح وقت پر اور صحیح انداز میں یعنی محبت اور احترام سے دوسروں کو نصیحت کرنی چاہیے۔—واعظ 3:1، 7۔
حالانکہ ایوب کی باتیں سُن کر اِلیہو آگبگولا ہو گئے تھے لیکن اُنہوں نے صبر سے اِنتظار کِیا، اپنے غصے کو ٹھنڈا کِیا اور پھر احترام سے ایوب سے بات کی۔ (پیراگراف نمبر 15 کو دیکھیں۔)
دوسروں کو مشورہ دیتے رہیں اور دوسروں سے مشورہ لیتے رہیں
16. آپ نے زبور 32:8 سے کون سی باتیں سیکھی ہیں؟
16 اِس مضمون کی مرکزی آیت میں بتایا گیا ہے کہ ’یہوواہ کی نظر ہم پر ہوگی اور وہ ہمیں نصیحت کرے گا۔‘ (زبور 32:8 کو پڑھیں۔) اِس سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ ہماری مدد کرتا رہے گا۔ وہ نہ صرف ہمیں نصیحت کرے گا بلکہ اِس پر عمل کرنے میں ہماری مدد بھی کرے گا۔ یہوواہ نے ہمارے لیے واقعی بڑی اچھی مثال قائم کی ہے! جب ہمیں دوسروں کو مشورہ دینے یا اُنہیں نصیحت کرنے کا اعزاز ملتا ہے تو ہمیں یہوواہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے دوسروں کا حوصلہ بڑھانا چاہیے اور اُن کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ اچھے فیصلے لے سکیں۔
17. جب بزرگ ہمیں بائبل سے کوئی مشورہ دیتے یا نصیحت کرتے ہیں تو وہ ہمارے لیے کیا ثابت ہوتے ہیں؟ وضاحت کریں۔ (یسعیاہ 32:1، 2)
17 اب ہمیں پہلے سے بھی زیادہ دوسروں سے اچھے مشورے لینے اور دوسروں کو اچھے مشورے دینے کی ضرورت ہے۔ (2-تیم 3:1) جس طرح ”خشک زمین پر پانی کی ندیوں“ سے ایک شخص کو تازگی ملتی ہے اُسی طرح جب بزرگ بائبل سے ہمیں خاص نصیحتیں کرتے ہیں تو ہمارا حوصلہ بڑھتا ہے اور ہمیں یہوواہ کی خدمت کرتے رہنے کی ہمت ملتی ہے۔ (یسعیاہ 32:1، 2 کو پڑھیں۔) ہمارے وہ دوست واقعی ”چاندی کے تراشے ہوئے برتن میں سونے کے سیبوں کی طرح“ ہوتے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ ہم کیا سننا چاہتے ہیں لیکن ہم سے وہی بات کرتے ہیں جسے ہمیں سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ (اَمثا 25:11) دُعا ہے کہ ہم سبھی خود میں وہ دانشمندی پیدا کرتے رہیں جس کے ذریعے ہم دوسروں سے صلاح مشورہ کر سکیں اور اُنہیں بھی اچھا مشورہ دے سکیں۔
گیت نمبر 109: دل کی گہرائی سے محبت کریں