یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 جولائی ص.‏ 20-‏25
  • کیا آپ نے ”‏مطمئن رہنے کا راز“‏ جان لیا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ نے ”‏مطمئن رہنے کا راز“‏ جان لیا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اپنے دل میں شکرگزاری کا جذبہ پیدا کریں
  • اپنا دھیان یہوواہ کی مرضی پر رکھیں اور خاکسار رہیں
  • اپنی اُمید پر سوچ بچار کریں
  • ‏”‏اُس کا خوف رکھنے والوں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی“‏
  • خاکساری سے تسلیم کریں کہ آپ سب باتوں کو نہیں جانتے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • کبھی نہ بھولیں کہ یہوواہ ”‏زندہ خدا“‏ ہے!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • دیکھیں کہ اِن سوالوں کے کیا جواب ہیں۔‏
    2025ء-‏2026ء حلقے کا اِجتماع حلقے کے نگہبان کے ساتھ
  • کیا آپ سچائی کو پہچانتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 جولائی ص.‏ 20-‏25

مطالعے کا مضمون نمبر 31

گیت نمبر 111‏:‏ ہماری خوشی کی وجوہات

کیا آپ نے ”‏مطمئن رہنے کا راز“‏ جان لیا ہے؟‏

‏”‏مَیں نے ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ ہر حال میں مطمئن رہنا سیکھ لیا ہے۔“‏‏—‏فِل 4:‏11‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

ہم اپنے دل میں شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرنے، اپنا دھیان یہوواہ کی مرضی پر رکھنے، خاکسار رہنے اور مستقبل کے بارے میں اپنی اُمید پر سوچ بچار کرنے سے خوش اور مطمئن رہنا کیسے سیکھ سکتے ہیں۔‏

1.‏ ہر حال میں مطمئن رہنے کا کیا مطلب ہے اور کیا نہیں؟‏

کیا آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ہر حال میں خوش اور مطمئن رہتا ہے؟ جو لوگ اپنے حالات سے مطمئن رہتے ہیں، وہ اُن برکتوں کو پا کر خوش ہوتے ہیں جو یہوواہ اُنہیں دے رہا ہوتا ہے۔ وہ اُن چیزوں کی وجہ سے اپنے دل میں تلخی اور غصہ نہیں آنے دیتے جو اُن کے پاس نہیں ہوتیں۔ لیکن مطمئن ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم سکون سے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک مسیحی یہوواہ کی اَور زیادہ خدمت کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ غلط نہیں ہوتا۔ (‏روم 12:‏1؛‏ 1-‏تیم 3:‏1‏)‏ لیکن اگر وہ ہر حال میں مطمئن رہتا ہے تو وہ اُس وقت بھی اپنی خوشی نہیں کھوئے گا جب یہوواہ کی خدمت کے حوالے سے اُسے وہ ذمے‌داری فوراً نہیں ملے گی جس کی اُس نے توقع کی ہوگی۔‏

2.‏ اگر ہم مطمئن نہیں رہتے تو یہ خطرناک کیوں ہو سکتا ہے؟‏

2 اگر ہم خوش اور مطمئن نہیں رہیں گے تو اِس کے بہت بُرے نتیجے نکل سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جو لوگ اُن چیزوں پر مطمئن نہیں رہتے جو اُن کے پاس ہوتی ہیں، وہ غیرضروری چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ کچھ مسیحیوں نے تو پیسہ اور ایسی چیزیں تک چوری کیں جنہیں پانے کی وہ خواہش رکھتے تھے۔ شاید اُنہوں نے خود سے یہ کہہ کر ایسا کِیا:‏ ”‏یہ میرا حق ہے،“‏ ”‏اب مَیں اِس چیز کو حاصل کرنے کے لیے اَور اِنتظار نہیں کر سکتا“‏ یا ”‏مَیں بعد میں پیسہ لوٹا دوں گا۔“‏ چاہے چوری کسی بھی نیت سے کی گئی ہو، یہوواہ کو اِس سے نفرت ہے اور اِس سے اُس کی بدنامی ہوتی ہے۔ (‏اَمثا 30:‏9‏)‏ اِس کے علاوہ جب کچھ مسیحیوں کو خدا کی اُس طرح سے خدمت کرنے کا اعزاز نہیں ملا جس طرح سے وہ چاہتے تھے تو وہ اِتنے بے‌حوصلہ ہو گئے کہ اُنہوں نے یہوواہ کی خدمت کرنا ہی چھوڑ دی۔ (‏گل 6:‏9‏)‏ شاید ہم سوچیں کہ ”‏یہوواہ کا ایک بندہ ایسا کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟“‏ اِس کی وجہ شاید یہ ہو کہ اُس نے ہر حال میں مطمئن رہنا چھوڑ دیا ہے۔‏

3.‏ ہمیں فِلپّیوں 4:‏11، 12 میں لکھی کس سچائی کو جاننے سے ہمت ملتی ہے؟‏

3 ہم سبھی ہر حال میں خوش اور مطمئن رہنا سیکھ سکتے ہیں۔ پولُس رسول نے لکھا کہ اُنہوں نے ”‏ہر حال میں مطمئن رہنا سیکھ لیا ہے۔“‏ ‏(‏فِلپّیوں 4:‏11، 12 کو پڑھیں۔)‏ اُنہوں نے یہ بات اُس وقت لکھی تھی جب وہ قید میں تھے۔ لیکن اِس مشکل سے گزرتے وقت بھی اُنہوں نے اپنی خوشی نہیں کھوئی۔ کیوں؟ کیونکہ اُنہوں نے ”‏ہر حال میں مطمئن رہنے کا راز جان“‏ لیا تھا۔ اگر ہمیں خوش اور مطمئن رہنا مشکل لگتا ہے تو پولُس کی لکھی بات سے اور اُن کے تجربے سے ہمیں اِس بات کا یقین ہو سکتا ہے کہ ہم مطمئن رہنا سیکھ سکتے ہیں۔ ہمیں خود سے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ ہمیں ہر طرح کے حالات میں خودبخود ہی خوش اور مطمئن رہنا آ جائے گا۔ اِس کی بجائے ہمیں ایسا کرنا سیکھنا ہوگا۔ لیکن ہم یہ کیسے سیکھ سکتے ہیں؟ آئیے کچھ ایسی خوبیوں پر غور کرتے ہیں جن سے ہم مطمئن رہنے کا راز جان سکتے ہیں۔‏

اپنے دل میں شکرگزاری کا جذبہ پیدا کریں

4.‏ شکرگزاری کا جذبہ مطمئن رہنے میں ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ (‏1-‏تھسلُنیکیوں 5:‏18‏)‏

4 جس شخص میں شکرگزاری کا جذبہ ہوتا ہے، وہ عام طور پر اپنے حالات سے خوش اور مطمئن بھی رہتا ہے۔ ‏(‏1-‏تھسلُنیکیوں 5:‏18 کو پڑھیں۔)‏ مثال کے طور پر جب ہم زندگی کی بنیادی چیزوں کے لیے دل سے یہوواہ کے شکرگزار ہوتے ہیں تو ہم اُن چیزوں کے بارے میں حد سے زیادہ فکرمند نہیں ہوتے جو ہمارے پاس نہیں ہوتیں۔ اِس کے علاوہ جب ہم اُن کاموں پر غور کرتے ہیں جو ہم ابھی یہوواہ کی خدمت میں کر رہے ہیں تو ہم اپنا دھیان کسی نئے اعزاز کو حاصل کرنے کی بجائے اِس بات پر رکھ پاتے ہیں کہ ہم ابھی جو کچھ یہوواہ کے لیے کر رہے ہیں، ہم اُسے اَور اچھی طرح سے کیسے کر سکتے ہیں۔ اِسی وجہ سے تو بائبل میں ہماری حوصلہ‌افزائی کی گئی ہے کہ ہم اپنی دُعاؤں میں کبھی یہوواہ کا شکریہ ادا کرنا نہ بھولیں!‏ جب ہم اپنے دل میں شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرتے ہیں تو’‏خدا ہمیں وہ اِطمینان دیتا ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔‘‏—‏فِل 4:‏6، 7‏۔‏

5.‏ بنی‌اِسرائیل کو کن باتوں کی وجہ سے یہوواہ کا شکرگزار ہونا چاہیے تھا؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

5 ذرا بنی‌اِسرائیل کی مثال پر غور کریں۔ اُنہوں نے کئی موقعوں پر یہوواہ سے یہ شکایت کی کہ اُن کے پاس کھانے کی وہ چیزیں نہیں ہیں جو وہ مصر میں مزے سے کھایا کرتے تھے۔ (‏گن 11:‏4-‏6)‏ سچ ہے کہ ویرانے میں اُن کی زندگی آسان نہیں تھی۔ لیکن کیا چیز خوش اور مطمئن رہنے میں اُن کی مدد کر سکتی تھی؟ اُنہیں یہوواہ کا شکرگزار ہوتے ہوئے اِس بات پر سوچ بچار کرنی چاہیے تھی کہ یہوواہ نے ابھی تک اُن کے لیے کیا کچھ کِیا ہے۔ مثال کے طور پر اُنہیں سوچنا چاہیے تھا کہ جب وہ لوگ مصر میں غلام تھے اور اُن کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی تھی تو یہوواہ اُن کے دشمنوں پر دس آفتیں لایا تھا۔ پھر جب وہ غلامی سے آزاد ہوئے تھے تو اُنہوں نے مصریوں کے سونے، چاندی اور عمدہ کپڑوں کو حاصل کر کے اُنہیں ”‏لُوٹ لیا“‏ تھا۔ (‏خر 12:‏35، 36)‏ اِس کے بعد جب مصری اُن کا پیچھا کرتے کرتے بحیرۂ‌احمر پہنچ گئے تھے تو یہوواہ نے معجزہ کر کے سمندر کو دو ٹکڑے کر دیا تھا۔ اور اب جب وہ ویرانے میں سفر کر رہے تھے تو یہوواہ اُنہیں ہر روز من کھانے کے لیے دے رہا تھا۔ یہوواہ واقعی بنی‌اِسرائیل کے لیے بہت کچھ کر رہا تھا۔ تو پھر بنی‌اِسرائیل کے ساتھ مسئلہ کیا تھا؟ وہ کسی حال میں خوش اور مطمئن نہیں تھے۔ کیوں؟ اِس لیے نہیں کیونکہ اُنہیں کھانے کو کچھ نہیں مل رہا تھا بلکہ اِس لیے کہ وہ اُن چیزوں کے لیے یہوواہ کے شکرگزار نہیں تھے جو اُن کے پاس تھیں۔‏

کچھ اِسرائیلی موسیٰ سے من کے بارے میں شکایت کر رہے ہیں جبکہ کچھ اِسرائیلی اِسے جمع کر رہے ہیں اور موسیٰ اور شکایت کرنے والے اِسرائیلیوں کی باتیں سُن رہے ہیں۔‏

بنی‌اِسرائیل نے کس وجہ سے خوش اور مطمئن رہنا چھوڑ دیا؟ (‏پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)‏


6.‏ ہم کن طریقوں سے اپنے دل میں شکرگزاری کا جذبہ پیدا کر سکتے ہیں؟‏

6 آپ اپنے دل میں شکرگزاری کا جذبہ کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلی بات:‏ ہر دن اُن چیزوں کے بارے میں سوچیں جن سے آپ کو خوشی مل رہی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو آپ ایک نوٹ بُک میں دو یا تین ایسی باتوں کو لکھ سکتے ہیں جن کے لیے آپ دل سے شکرگزار ہیں۔ (‏نوحہ 3:‏22، 23‏)‏ دوسری بات:‏ دوسروں کا شکریہ ادا کریں۔ اگر کسی نے آپ کے لیے کچھ کِیا ہے تو اُس کا شکریہ ادا کرنا نہ بھولیں۔ سب سے بڑھ کر باقاعدگی سے یہوواہ کا شکریہ ادا کریں۔ (‏زبور 75:‏1‏)‏ تیسری بات:‏ ایسے لوگوں کے ساتھ پکی دوستی کریں جو دوسروں کی مدد کے لیے دل سے اُن کے شکرگزار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے ہم پر اچھا اثر پڑے گا۔ لیکن اگر ہم ایسے لوگوں سے دوستی کریں گے جو ناشکرے ہیں اور اکثر شکایتیں کرتے ہیں تو ہم بھی اُن کی طرح بن جائیں گے۔ (‏اِست 1:‏26-‏28؛‏ 2-‏تیم 3:‏1، 2،‏ 5‏)‏ اگر ہم اپنا دھیان شکرگزاری ظاہر کرنے پر رکھیں گے تو ہم اپنی محرومیوں کی وجہ سے غصے میں نہیں آئیں گے۔‏

7.‏ آچی نام کی بہن نے اپنے دل میں شکرگزاری کا جذبہ کیسے پیدا کِیا اور اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟‏

7 ذرا اِنڈونیشیا میں رہنے والی ایک بہن کی مثال پر غور کریں جن کا نام آچی ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کورونا کی وبا کے دوران مَیں اپنے حالات کا موازنہ اپنے ہم‌ایمانوں کے حالات سے کرنے لگی۔ اِس وجہ سے مَیں نے اپنے حالات پر خوش اور مطمئن رہنا چھوڑ دیا۔“‏ (‏گل 6:‏4‏)‏ بہن آچی اپنی سوچ کو کیسے بدل پائیں؟ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں ہر دن اُن برکتوں کو گننے لگی جو یہوواہ مجھے دے رہا تھا۔ مَیں اُن بہت سی اچھی باتوں پر بھی سوچ بچار کرنے لگی جو یہوواہ کی تنظیم کا حصہ ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ ہو رہی تھیں۔ پھر مَیں نے اِن سب باتوں کے لیے یہوواہ کا شکریہ ادا کِیا۔ اِس طرح مَیں دل سے خوش اور مطمئن رہ پائی۔“‏ اگر بُری باتیں آپ کی سوچ پر حاوی ہو رہی ہیں تو کیا آپ بھی یہوواہ کا شکرگزار ہونے کے لیے ایسے ہی قدم اُٹھا سکتے ہیں؟‏

اپنا دھیان یہوواہ کی مرضی پر رکھیں اور خاکسار رہیں

8.‏ باروک کس پھندے میں پھنس گئے؟‏

8 آئیے یرمیاہ نبی کے مُنشی باروک کی مثال پر غور کرتے ہیں۔ ایک وقت آیا جب باروک نے اپنے حالات پر خوش اور مطمئن رہنا چھوڑ دیا۔ باروک یہوواہ کی خدمت میں ایک بہت ہی مشکل ذمے‌داری نبھا رہے تھے۔ وہ یرمیاہ نبی کی مدد کر رہے تھے جو باغی اِسرائیلیوں کو یہوواہ کی طرف سے سزا کا پیغام سنا رہے تھے۔ لیکن پھر باروک کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جب اُن کا دھیان یہوواہ کی مرضی سے ہٹ کر اِس بات پر لگ گیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ یہوواہ نے یرمیاہ کے ذریعے باروک سے کہا:‏ ”‏کیا تُو اپنے لئے اُمورِعظیم کی تلاش میں ہے؟ اُن کی تلاش چھوڑ دے۔“‏ (‏یرم 45:‏3-‏5‏)‏ دوسرے لفظوں میں یہوواہ باروک سے یہ کہہ رہا تھا کہ ”‏اپنے حالات پر مطمئن رہو۔“‏ باروک نے یہوواہ کی بات مانی اور اِس طرح وہ یہوواہ کے دوست بنے رہے۔‏

9.‏ پہلا کُرنتھیوں 4:‏6، 7 کے مطابق خاکساری کی خوبی کی وجہ سے ہم کس بات کو تسلیم کریں گے؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

9 کبھی کبھار ہو سکتا ہے کہ یہوواہ کا ایک بندہ یہ سوچنے لگے کہ اُسے تنظیم میں فلاں ذمے‌داری ملنی چاہیے۔ شاید وہ ایسا اِس لیے سوچے کیونکہ اُس میں بہت سی صلاحیتیں ہیں؛ وہ بہت محنتی ہے یا وہ کئی سالوں سے یہوواہ کی خدمت کر رہا ہے۔ لیکن پھر شاید دوسروں کو وہ ذمے‌داری مل جائے جسے پانے کی وہ خواہش رکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ دیکھ کر اُسے غصہ آ جائے۔ ایسی صورت میں وہ معاملے پر ٹھنڈے دماغ سے کیسے سوچ بچار کر سکتا ہے؟ وہ پولُس رسول کے اُن الفاظ پر غور کر سکتا ہے جو 1-‏کُرنتھیوں 4:‏6، 7 میں لکھے ہیں۔ ‏(‏اِن آیتوں کو پڑھیں۔)‏ ہمارے اندر جو بھی صلاحیتیں ہیں یا ہمیں یہوواہ کی خدمت میں جو بھی اعزاز ملے ہیں، وہ سب یہوواہ کی طرف سے ہیں۔ یہوواہ نے ہمیں یہ نعمتیں اِس لیے نہیں دیں کیونکہ ہم اِن کے لائق تھے یا اِنہیں پانا ہمارا حق تھا یا پھر یہوواہ ہمیں دوسروں سے زیادہ خاص سمجھتا ہے۔ یہوواہ نے ہمیں یہ اِس لیے دیں کیونکہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور وہ بہت مہربان ہے۔—‏روم 12:‏3،‏ 6؛‏ اِفِس 2:‏8، 9‏۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ کچھ ایسے بہن بھائی جنہیں یہوواہ کی خدمت میں مختلف اعزاز ملے ہیں۔ 1.‏ ایک بھائی کلیسیا میں تقریر کر رہا ہے۔ 2.‏ ایک بہن اِشاروں کی زبان والے حلقے کے اِجتماع میں اِنٹرویو دے رہی ہے۔ 3.‏ ایک بھائی تنظیم کی ایک عمارت کی دیکھ‌بھال کر رہا ہے۔‏

یہوواہ نے ہمیں جو بھی صلاحیتیں یا اعزاز دیے ہیں، وہ اِس لیے دیے ہیں کیونکہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور وہ بہت مہربان ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 9 کو دیکھیں۔)‏b


10.‏ ہم خاکسار کیسے بن سکتے ہیں؟‏

10 اگر ہم یسوع مسیح کی مثال پر گہرائی سے سوچ بچار کریں گے تو ہم بھی اُن کی طرح خاکسار بن پائیں گے۔ ذرا اُس رات کے بارے میں سوچیں جب یسوع نے اپنے رسولوں کے پاؤں دھوئے تھے۔ یوحنا رسول نے لکھا:‏ ”‏یسوع جانتے تھے کہ[‏1]‏باپ نے سب چیزیں اُن کے حوالے کی ہیں اور[‏2]‏وہ خدا کی طرف سے آئے ہیں اور[‏3]‏اُس کے پاس واپس جانے والے ہیں۔ .‏ .‏ .‏ وہ اُٹھے اور .‏ .‏ .‏ شاگردوں کے پاؤں دھو کر .‏ .‏ .‏ کپڑے سے صاف کرنے لگے۔“‏ (‏یوح 13:‏3-‏5‏)‏ یسوع یہ سوچ سکتے تھے کہ اُن کے شاگردوں کو اُن کے پاؤں دھونے چاہئیں۔ لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں سوچا۔ اُنہوں نے تو زمین پر خدمت کرتے وقت ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا کہ خدا کا بیٹا ہونے کی وجہ سے اُن کے پاس اچھا گھر، ڈھیر سارا پیسہ اور آسائشیں ہونی چاہئیں۔ (‏لُو 9:‏58‏)‏ یسوع خاکسار تھے اور اُن چیزوں پر مطمئن تھے جو اُن کے پاس تھیں۔ اُنہوں نے واقعی ہمارے لیے بڑی زبردست مثال قائم کی!‏—‏یوح 13:‏15‏۔‏

11.‏ کس چیز نے بھائی ڈینس کی خاکسار بننے میں مدد کی ہے؟‏

11 نیدرلینڈز میں رہنے والے بھائی ڈینس نے بتایا کہ وہ یسوع کی طرح خاکسار بننے کی بہت کوشش کرتے ہیں لیکن ایسا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب بھی کسی کو یہوواہ کی خدمت میں کوئی ایسی ذمے‌داری ملتی ہے جسے مَیں نبھانا چاہتا ہوں تو مَیں نے دیکھا ہے کہ مَیں تھوڑا غصے میں آ جاتا ہوں اور یہ سوچنے لگتا ہوں کہ یہ ذمے‌داری مجھے ملنی چاہیے تھی۔ جب جب ایسا ہوتا ہے تو مَیں خاکساری کے موضوع کا مطالعہ کرتا ہوں۔ مَیں نے ‏”‏جے‌ڈبلیو لائبریری“‏ ایپ میں اُن آیتوں پر ٹیگ لگائے ہوئے ہیں جو خاکساری کے بارے میں ہیں تاکہ مَیں جلدی سے اِنہیں ڈھونڈ کر دوبارہ پڑھ سکوں۔ مَیں نے اپنے فون پر کچھ ایسی تقریریں بھی ڈاؤن‌لوڈ کی ہوئی ہیں جو خاکساری کے موضوع پر ہیں اور مَیں اکثر اِنہیں سنتا ہوں۔‏a مَیں نے سیکھ لیا ہے کہ ہم یہوواہ کے لیے جو کچھ بھی کرتے ہیں، اِس سے ہمیشہ صرف اُسی کی بڑائی ہونی چاہیے نہ کہ ہماری واہ واہ۔ یہوواہ نے ہم پر مہربانی کرتے ہوئے ہم سبھی کو کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے دیا ہے اور وہی ہمیں ہمارے کام میں کامیاب کرتا ہے۔“‏ اگر کبھی آپ بھی اِس وجہ سے اپنی خوشی کھو بیٹھے ہیں کیونکہ آپ کو یہوواہ کی اُس طرح سے خدمت کرنے کا موقع نہیں ملا جیسے آپ کرنا چاہتے تھے تو خاکسار بننے کے لیے قدم اُٹھائیں۔ اِس طرح یہوواہ کے ساتھ آپ کی دوستی اَور پکی ہو جائے گی اور آپ خوش اور مطمئن رہ پائیں گے۔—‏یعقو 4:‏6،‏ 8‏۔‏

اپنی اُمید پر سوچ بچار کریں

12.‏ مستقبل کے بارے میں کس اُمید پر سوچ بچار کرنے سے ہم خوش اور مطمئن رہ سکتے ہیں؟ (‏یسعیاہ 65:‏21-‏25‏)‏

12 جب ہم مستقبل کے بارے میں اُس اُمید پر سوچ بچار کرتے ہیں جو یہوواہ نے ہمیں دی ہے تو ہم زیادہ خوش اور مطمئن رہ پاتے ہیں۔ یسعیاہ کی کتاب میں لکھے یہوواہ کے الفاظ کو پڑھنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اِس دُنیا میں ہمیں کن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اُس نے ہم سے وعدہ کِیا ہے کہ وہ ہمیں اِن تمام مشکلوں سے مکمل طور پر چھٹکارا دِلائے گا۔ ‏(‏یسعیاہ 65:‏21-‏25 کو پڑھیں۔)‏ مستقبل میں ہمارے پاس اپنا ایک خوب‌صورت گھر ہوگا جہاں ہم آرام اور سکون سے رہیں گے۔ ہمارے پاس ایسے کام کرنے کے لیے ہوں گے جن سے ہمیں بہت خوشی ملے گی۔ ہم مزےدار اور غذائیت‌بخش کھانے کھائیں گے اور پھر ہمیں کبھی اپنی یا اپنے بچوں کی جان کے حوالے سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ (‏یسع 32:‏17، 18؛‏ حِز 34:‏25)‏ ہمیں اِس بات کا سو فیصد یقین ہے کہ مستقبل کے بارے میں یہوواہ کے یہ سب شان‌دار وعدے ضرور پورے ہوں گے۔‏

13.‏ ہمیں خاص طور پر کن صورتحال میں اپنی اُمید پر سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے؟‏

13 اب ہمیں پہلے سے بھی کہیں زیادہ اپنی اُمید پر سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ہم ”‏آخری زمانے“‏ میں رہ رہے ہیں اور ہم سب کو ہی ”‏مشکل وقت“‏ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ (‏2-‏تیم 3:‏1‏)‏ یہوواہ مشکلوں میں ثابت‌قدم رہنے کے لیے ہر روز ہماری رہنمائی کرتا ہے، ہمیں طاقت دیتا ہے اور ہمارا ساتھ دیتا ہے۔ (‏زبور 145:‏14‏)‏ یہوواہ نے ہمیں جو اُمید دی ہے، وہ خاص طور پر اُس وقت ہمیں ڈگمگانے نہیں دیتی جب ہم کسی پریشانی سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ شاید آپ بڑی مشکل سے اپنے گھر والوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کر رہے ہیں۔ لیکن کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو گزربسر کرنے کے لیے ہمیشہ مشکل وقت دیکھنا پڑے گا اور آپ ہمیشہ غریب ہی رہیں گے؟ بالکل نہیں!‏ یہوواہ نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ آپ کو ضرورت کی ہر چیز دے گا اور فردوس میں تو آپ کی سوچ سے بھی بڑھ کر آپ کو چیزیں دے گا۔ (‏زبور 9:‏18؛‏ 72:‏12-‏14‏)‏ شاید آپ کو ہر دن صحت کے کسی سنگین مسئلے یا ڈپریشن سے لڑنا پڑ رہا ہے۔ لیکن کیا آپ کی زندگی بس ایسے ہی چلتی رہے گی؟ ہرگز نہیں۔ یہوواہ نئی دُنیا میں بیماری اور موت کا نام‌ونشان مٹا دے گا۔ (‏مُکا 21:‏3، 4‏)‏ اِس اُمید پر سوچ بچار کرنے سے ہم اپنے حالات سے تنگ آنے کی بجائے خوش اور مطمئن رہ پائیں گے۔ ہم تو اُس وقت بھی خوشی اور اِطمینان محسوس کر سکتے ہیں جب دوسرے ہمارے ساتھ نااِنصافی کرتے ہیں، ہمارا کوئی عزیز فوت ہو جاتا ہے یا ہمیں اپنی بیماری سے لڑنا پڑتا ہے۔ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ چاہے ہمیں ابھی کسی بھی مشکل سے گزرنا پڑے، یہ بس ”‏تھوڑی دیر کے لیے“‏ ہے اور نئی دُنیا میں ہمیں اِس سے مکمل طور پر چھٹکارا مل جائے گا۔—‏2-‏کُر 4:‏17، 18‏۔‏

14.‏ ہم اپنی اُمید کو مضبوط کیسے کر سکتے ہیں؟‏

14 یہوواہ کی طرف سے ملنے والی اُمید سے ہم واقعی خوش اور مطمئن رہ پاتے ہیں۔ لیکن ہم اپنی اِس اُمید کو اَور مضبوط کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ جس طرح ایک شخص کو دُور کی چیزیں واضح طور پر دیکھنے کے لیے چشمے کی ضرورت ہو سکتی ہے اُسی طرح ہمیں بھی مستقبل کے حوالے سے اپنی اُمید کو مضبوط کرنے اور اِسے ایمان کی آنکھوں سے واضح طور پر دیکھنے کے لیے قدم اُٹھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر جب ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس گزربسر کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں تو ہمیں خود کو فردوس میں تصور کرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ ہماری زندگی اُس وقت کیسی ہوگی جب ہمیں پھر کبھی پیسے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور ہم میں سے کوئی بھی غریب نہیں ہوگا۔ اور جب ہمیں یہ سوچ کر مایوسی ہوتی ہے کہ ہمیں یہوواہ کی خدمت کرنے کے حوالے سے وہ ذمے‌داری نہیں ملی جسے ہم نبھانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ جب نئی دُنیا میں ہم بے‌عیب ہو جائیں گے اور ہزاروں سال تک یہوواہ کی خدمت کریں گے تو تب یہ باتیں کوئی معنی نہیں رکھیں گی۔ (‏1-‏تیم 6:‏19‏)‏ ہو سکتا ہے کہ ہم ابھی اپنی مشکلوں کی وجہ سے اِتنے پریشان ہو جائیں کہ ہمیں مستقبل کے بارے میں یہوواہ کے وعدوں پر دھیان دینا مشکل لگے۔ لیکن جتنا زیادہ ہم اپنا دھیان اپنی شان‌دار اُمید پر رکھیں گے اُتنا ہی زیادہ ہم اپنا دھیان اپنی مشکلوں سے ہٹا پائیں گے۔‏

15.‏ آپ نے بہن کرسٹا کی بات سے کیا سیکھا ہے؟‏

15 غور کریں کہ بھائی ڈینس کی بیوی کرسٹا کو مستقبل کے بارے میں اپنی اُمید پر توجہ رکھنے سے کیسے فائدہ ہوا۔ بہن کرسٹا نے کہا:‏ ”‏مجھے ایک ایسی بیماری ہے جس میں میرے جسم کے پٹھے کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ اِس وجہ سے مَیں ویل‌چیئر اِستعمال کرتی ہوں اور زیادہ‌تر وقت بستر پر ہوتی ہوں۔ میرا ہر دن تکلیف میں گزرتا ہے۔ حال ہی میں مجھے میرے ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے بہتر ہونے کی بہت کم اُمید ہے۔ اُس کی بات سُن کر مَیں فوراً سوچنے لگی کہ آنے والے وقت کے بارے میں اُس ڈاکٹر کی اُمید میری اُمید سے کتنی فرق ہے۔ مَیں اپنا پورا دھیان اپنی اُمید پر رکھتی ہوں جس کی وجہ سے مجھے ذہنی سکون ملتا ہے۔ بھلے ہی اِس دُنیا میں رہتے ہوئے مجھے بہت سی مشکلوں سے لڑنا پڑ رہا ہے لیکن نئی دُنیا میں مَیں بھرپور زندگی جیوں گی!‏“‏

‏”‏اُس کا خوف رکھنے والوں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی“‏

16.‏ بادشاہ داؤد یہ کیوں کہہ سکتے تھے کہ یہوواہ کا خوف رکھنے والوں کو ”‏کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی“‏؟‏

16 یہوواہ کے بندے مشکلوں کا سامنا کرتے وقت بھی خوش اور مطمئن رہ سکتے ہیں۔ بادشاہ داؤد اِس کی جیتی جاگتی مثال تھے۔ اُنہیں اپنی زندگی میں کم از کم اپنے تین بچوں کی موت کا دُکھ سہنا پڑا۔ اُنہیں دوسروں کے لگائے گئے جھوٹے اِلزامات کا اور اپنے دوستوں کی غداری کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس کے علاوہ اُنہیں سالوں تک اِس وجہ سے دربدر بھٹکنا پڑا کیونکہ ایک بادشاہ اُن کی جان لینے پر تُلا ہوا تھا۔ داؤد نے اِن سخت مشکلوں کا سامنا کرتے وقت بھی یہوواہ کے بارے میں کہا:‏ ”‏اُس کا خوف رکھنے والوں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی۔“‏ (‏زبور 34:‏9، 10‏)‏ داؤد یہ بات کیوں کہہ سکتے تھے؟ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بھلے ہی یہوواہ ہم پر مشکلیں آنے سے نہیں روکتا لیکن وہ ہمیں ہمیشہ وہ چیزیں دیتا رہتا ہے جن کی ہمیں واقعی ضرورت ہوتی ہے۔ (‏زبور 145:‏16‏)‏ اِس کے علاوہ ہم ہمیشہ اِس بات پر پکا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہر طرح کی مشکل کا مقابلہ کرنے میں ہمارا ساتھ دیتا ہے۔ اِس بات کو یاد رکھنے سے ہمیں خوشی اور سکون مل سکتا ہے پھر چاہے ہمارے حالات جیسے بھی ہوں۔‏

17.‏ آپ نے ہر طرح کے حالات میں خوش اور مطمئن رہنے کا عزم کیوں کِیا ہے؟‏

17 یہوواہ چاہتا ہے کہ آپ ہر طرح کے حالات میں خوش اور مطمئن رہیں۔ (‏زبور 131:‏1، 2‏)‏ تو جہاں تک آپ سے ہو سکتا ہے، خوش اور مطمئن رہنے کی پوری کوشش کریں۔ اگر آپ اپنے دل میں شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرنے، اپنا دھیان یہوواہ کی مرضی پر رکھنے، خاکسار رہنے اور اپنی اُمید کو مضبوط کرنے کے لیے سخت محنت کریں گے تو آپ بھی یہ کہہ سکیں گے:‏ ”‏ہاں، مَیں .‏ .‏ .‏ مطمئن ہوں۔“‏—‏زبور 16:‏5، 6‏۔‏

نیچے بتائی گئی باتیں خوش اور مطمئن رہنے میں آپ کی مدد کیسے کریں گی؟‏

  • اپنے دل میں شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرنا

  • اپنا دھیان یہوواہ کی مرضی پر رکھنا اور خاکسار رہنا

  • مستقبل کے بارے میں اپنی اُمید پر سوچ بچار کرنا

گیت نمبر 118‏:‏ ہمیں اَور ایمان دے

a مثال کے طور پر ویب‌سائٹ jw.org پر ویڈیو ‏”‏کیا آپ خاکسار ہیں یا مغرور؟‏‏“‏ کو دیکھیں۔‏

b تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک بھائی عوامی تقریر کر رہا ہے، ایک بہن نے اِشاروں کی زبان سیکھی ہے اور وہ ایک حلقے کے اِجتماع پر اِنٹرویو دے رہی ہے اور ایک بھائی ہماری تنظیم کی ایک عمارت کی دیکھ‌بھال کر رہا ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں