یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 جولائی ص.‏ 2-‏7
  • دوسروں سے صلاح مشورہ کیوں لیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دوسروں سے صلاح مشورہ کیوں لیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • مجھے خود میں کون سی خوبی پیدا کرنی ہوگی؟‏
  • کون مجھے اچھا مشورہ دے سکتا ہے؟‏
  • کیا مَیں واقعی اچھا مشورہ لینا چاہتا ہوں؟‏
  • کیا مجھے دوسروں سے کہنا چاہیے کہ وہ میرے لیے فیصلہ کریں؟‏
  • دوسروں سے صلاح مشورہ کرتے رہیں
  • دوسروں کو نصیحت یا مشورہ کیسے دیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ایسے فیصلے کریں جن سے ثابت ہو کہ آپ یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2023ء
  • خدا کے وفادار بندوں کے آخری الفاظ سے سیکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • خاکساری سے تسلیم کریں کہ آپ سب باتوں کو نہیں جانتے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 جولائی ص.‏ 2-‏7

مطالعے کا مضمون نمبر 28

گیت نمبر 88‏:‏ ”‏اپنی راہیں مجھے دِکھا“‏

دوسروں سے صلاح مشورہ کیوں لیں؟‏

‏”‏دوسروں سے صلاح مشورہ کرنے والا دانش‌مند ہوتا ہے۔“‏‏—‏اَمثا 13:‏10‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

ہمیں جو مشورے ملتے ہیں، ہم اُن سے پوری طرح فائدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔‏

1.‏ ہم اچھے فیصلے کیسے لے سکتے ہیں اور اپنے منصوبوں میں کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں؟ (‏اَمثال 13:‏10؛‏ 15:‏22‏)‏

ہم سب ہی اپنی زندگی میں اچھے فیصلے لینا چاہتے ہیں اور ایسے منصوبے بنانا چاہتے ہیں جنہیں ہم پورا بھی کر سکیں۔ خدا کے کلام میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔‏‏—‏اَمثال 13:‏10؛‏ 15:‏22 کو پڑھیں۔‏

2.‏ یہوواہ نے ہمارے لیے کیا کرنے کا وعدہ کِیا ہے؟‏

2 بے‌شک ہمیں ہمارے آسمانی باپ یہوواہ سے زیادہ اچھا مشورہ اَور کوئی نہیں دے سکتا۔ اِس لیے ہم دُعا میں اُس سے دانش‌مندی مانگ سکتے ہیں۔ یہوواہ نے اپنے کلام میں ہم سے کہا ہے:‏ ”‏میری نظر تُم پر ہوگی اور مَیں تمہیں نصیحت کروں گا۔“‏ (‏زبور 32:‏8‏)‏ اِن الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ ہمیں صرف نصیحت ہی نہیں کرتا بلکہ اُس کی نظر بھی ہم پر ہوتی ہے یعنی وہ ہماری بھلائی میں دلچسپی رکھتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہماری مدد بھی کرتا ہے تاکہ ہم اُس کی نصیحت پر عمل کر سکیں۔‏a

3.‏ اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

3 اِس مضمون میں ہم خدا کے کلام سے اِن چار سوالوں کے جواب حاصل کریں گے:‏ (‏1)‏اگر مَیں کسی کے مشورے سے فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہوں تو مجھے خود میں کون سی خوبی پیدا کرنی ہوگی؟ (‏2)‏کون مجھے اچھا مشورہ دے سکتا ہے؟ (‏3)‏کیا مَیں واقعی اچھا مشورہ لینا چاہتا ہوں؟ (‏4)‏مجھے دوسروں سے یہ کیوں نہیں کہنا چاہیے کہ وہ میرے لیے فیصلہ کریں؟‏

مجھے خود میں کون سی خوبی پیدا کرنی ہوگی؟‏

4.‏ اگر ہم دوسروں کے اچھے مشوروں سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے اندر کون سی خوبی ہونی چاہیے؟‏

4 اگر ہم دوسروں کے اچھے مشوروں سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ بہت ضروری ہے کہ ہم میں خاکساری کی خوبی ہو۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اچھے فیصلے لینے کے لیے ہمیں دوسروں کے مشورے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، خاص طور پر اُس وقت جب ہم کسی ایسی صورتحال میں ہوتے ہیں جس سے ہم پہلے کبھی نہیں گزرے۔ ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہم سب باتوں کو نہیں جانتے۔ اگر ہم میں خاکساری نہیں ہوگی تو یہوواہ بھی ہماری مدد نہیں کر پائے گا۔ پھر بھلے ہی ہم جتنا بھی اُس کا کلام پڑھ لیں، ہم یہ دیکھ ہی نہیں پائیں گے کہ فلاں نصیحت ہمارے لیے ہے اور ہمیں اِس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ (‏میک 6:‏8؛‏ 1-‏پطر 5:‏5‏)‏ لیکن اگر ہم خاکسار ہوں گے تو ہم فوراً اُن مشوروں اور نصیحتوں پر عمل کریں گے جو ہم بائبل میں پڑھیں گے۔‏

5.‏ بادشاہ داؤد کے دل میں اپنی کن کامیابیوں کی وجہ سے غرور آ سکتا تھا؟‏

5 آئیے دیکھیں کہ ہم بادشاہ داؤد سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ داؤد کو اپنی زندگی میں بہت کامیابیاں ملی تھیں اور اِس وجہ سے اُن کے دل میں غرور سما سکتا تھا۔ بادشاہ بننے سے بہت پہلے داؤد ایک موسیقار کے طور پر کافی مشہور تھے۔ اُنہیں تو بادشاہ کے لیے ساز بجانے کا کام سونپا گیا تھا۔ (‏1-‏سمو 16:‏18، 19‏)‏ پھر جب داؤد کو بنی‌اِسرائیل کے اگلے بادشاہ کے طور پر مسح کِیا گیا تو اُس کے بعد سے یہوواہ کی پاک روح اُنہیں طاقت بخشنے لگی تھی۔ (‏1-‏سمو 16:‏11-‏13‏)‏ داؤد نے اپنی قوم کے بہت سے دُشمنوں کو مار گِرایا تھا جن میں لمبا چوڑا جولیت بھی شامل تھا۔ لوگ تو اِس وجہ سے داؤد کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔ (‏1-‏سمو 17:‏37،‏ 50؛‏ 18:‏7‏)‏ اگر داؤد میں ذرا سا بھی غرور ہوتا تو اِتنی کامیابیاں حاصل کر لینے کے بعد وہ یہ سوچ سکتے تھے کہ اُنہیں کسی کے صلاح مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن داؤد خاکسار تھے۔‏

6.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ داؤد دوسروں کے مشوروں کو مانتے تھے؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

6 جب داؤد بادشاہ بن گئے تو اُنہوں نے اپنے لیے ایسے دوست چُنے جو اُنہیں اچھے مشورے دے سکتے تھے۔ (‏1-‏توا 27:‏32-‏34‏)‏ دوسروں سے مشورہ لینا داؤد کے لیے نئی بات نہیں تھی۔ دراصل بادشاہ بننے سے پہلے بھی وہ ہمیشہ دوسروں کے مشورے سننے کے لیے تیار رہتے تھے۔ اُنہوں نے نہ صرف آدمیوں کے مشوروں کو بلکہ ایک عورت کے مشورے کو بھی مانا جس کا نام ابیجیل تھا۔ داؤد ابیجیل کے شوہر نابال کی طرح بدمزاج، ناشکرے اور اَناپرست نہیں تھے۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے خاکساری سے ابیجیل کے مشورے پر عمل کِیا اور اِس طرح وہ بہت بڑی غلطی کرنے سے بچ گئے۔—‏1-‏سمو 25:‏2، 3،‏ 21-‏25،‏ 32-‏34‏۔‏

ابیجیل گُھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی بادشاہ داؤد سے اِلتجا کر رہی ہیں اور داؤد اُن کی بات کو بہت دھیان سے سُن رہے ہیں۔‏

داؤد نے خاکساری سے نہ صرف ابیجیل کے مشورے کو سنا بلکہ اِسے مانا بھی۔ (‏پیراگراف نمبر 6 کو دیکھیں۔)‏


7.‏ ہم داؤد سے کون سی باتیں سیکھ سکتے ہیں؟ (‏واعظ 4:‏13‏)‏ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

7 ہم داؤد سے کئی خاص باتیں سیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر شاید ہم میں کوئی صلاحیت ہے یا ہمارے پاس کسی حد تک اِختیار ہے۔ ایسی صورت میں بھی ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں سب باتوں کا پتہ ہے اور ہمیں کسی کے صلاح مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ داؤد کی طرح ہمیں بھی اچھے مشوروں کو سننے کے لیے تیار رہنا چاہیے پھر چاہے اِنہیں دینے والا شخص کوئی بھی ہو۔ ‏(‏واعظ 4:‏13 کو پڑھیں۔)‏ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم اُن بڑی غلطیوں کو کرنے سے بچ جائیں گے جن کی وجہ سے ہمارے اور دوسروں کے لیے مسئلے کھڑے ہو سکتے ہیں۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ کلیسیا کے چار بزرگ آپس میں بات‌چیت کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ اُن میں سے ایک بزرگ بہت سختی سے بات کر رہا ہے۔ 2.‏ بعد میں اُس بزرگ سے چھوٹی عمر والا بزرگ اکیلے گاڑی میں اُس سے بات کر رہا ہے۔‏

ہمیں اچھے مشورے کو سننے کے لیے تیار رہنا چاہیے پھر چاہے اِسے دینے والا شخص کوئی بھی ہو۔ (‏پیراگراف نمبر 7 کو دیکھیں۔)‏d


کون مجھے اچھا مشورہ دے سکتا ہے؟‏

8.‏ یونتن داؤد کو اچھا مشورہ کیوں دے سکتے تھے؟‏

8 آئیے دیکھیں کہ ہم داؤد سے اَور کون سی بات سیکھتے ہیں۔ اُنہوں نے ایسے لوگوں کے مشوروں کو قبول کِیا جو نہ صرف یہوواہ کے اچھے دوست تھے بلکہ وہ اُس صورتحال کو بھی بہت اچھی طرح سے سمجھتے تھے جس سے داؤد گزر رہے تھے۔ مثال کے طور پر جب داؤد یہ جاننا چاہتے تھے کہ ساؤل اُن سے صلح کرنے کو راضی ہیں یا نہیں تو اُنہوں نے ساؤل کے بیٹے یونتن سے صلاح مشورہ کِیا۔ یونتن داؤد کو اچھا مشورہ کیوں دے سکتے تھے؟ کیونکہ یونتن کی نہ صرف یہوواہ سے اچھی دوستی تھی بلکہ وہ ساؤل کو بھی بہت اچھی طرح سے جانتے تھے۔ (‏1-‏سمو 20:‏9-‏13‏)‏ اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏

9.‏ جب ہمیں مشورہ لینے کی ضرورت پڑتی ہے تو ہمیں کن سے مشورہ لینا چاہیے؟ وضاحت کریں۔ (‏اَمثال 13:‏20‏)‏

9 جب ہمیں ایک معاملے کے حوالے سے کسی سے مشورہ لینے کی ضرورت پڑتی ہے تو ہمیں اُس شخص سے مشورہ لینا چاہیے جس کی نہ صرف یہوواہ سے پکی دوستی ہے بلکہ جو اُس معاملے کے بارے میں تجربہ بھی رکھتا ہے۔‏b ‏(‏اَمثال 13:‏20 کو پڑھیں۔)‏ مثال کے طور پر فرض کریں کہ ایک جوان بھائی ایک اچھے جیون ساتھی کی تلاش کر رہا ہے۔ اِس حوالے سے کون اُسے اچھا مشورہ دے سکتا ہے؟ شاید وہ اپنے کسی غیرشادی‌شُدہ دوست سے مشورہ مانگے۔ بے‌شک اگر اُس کا دوست اُسے بائبل کے اصولوں کے مطابق مشورے دے گا تو یہ اُس کے کام آئیں گے۔ لیکن اگر وہ بھائی کسی ایسے میاں بیوی سے مشورہ مانگے گا جو پُختہ مسیحی ہیں؛ جو کئی سالوں سے مل کر یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں اور جو اُسے اچھی طرح سے جانتے ہیں تو وہ اُسے نہ صرف یہ بتائیں گے کہ وہ بائبل میں لکھی نصیحتوں پر کیسے عمل کر سکتا ہے بلکہ وہ اُسے اپنے تجربے سے بھی بہت اچھے مشورے دیں گے۔‏

10.‏ اب ہم کس بات پر غور کریں گے؟‏

10 اب تک ہم نے ایک ایسی خوبی پر بات کی ہے جو نہ صرف ہم میں بلکہ اُن لوگوں میں بھی ہونی چاہیے جو ہمیں اچھا مشورہ دے سکتے ہیں۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ ہمیں اچھے مشورے لینے کے لیے دوسروں سے مدد کیوں لینی چاہیے اور کیا ہمیں دوسروں سے یہ کہنا چاہیے کہ وہ ہمارے لیے فیصلہ کریں؟‏

کیا مَیں واقعی اچھا مشورہ لینا چاہتا ہوں؟‏

11-‏12.‏ (‏الف)‏کبھی کبھار شاید ہم کیا کر بیٹھیں؟ (‏ب)‏جب بادشاہ رحبُعام کو ایک اہم فیصلہ لینا تھا تو اُس نے کیا کِیا؟‏

11 کبھی کبھار شاید ایک شخص دوسروں سے کسی معاملے کے بارے میں مشورہ لے۔ لیکن اگر اُس نے پہلے سے ہی یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کیا کرے گا تو دراصل وہ دوسروں سے مشورہ نہیں لے رہا ہوگا بلکہ بس یہ چاہ رہا ہوگا کہ دوسرے یہ تصدیق کریں کہ اُس کا لیا ہوا فیصلہ صحیح ہے۔ ایسی صورت میں وہ یہ ظاہر نہیں کر رہا ہوگا کہ وہ واقعی اچھا مشورہ لینا چاہتا ہے۔ ایسے شخص کو بادشاہ رحبُعام کی مثال پر غور کرنا چاہیے۔‏

12 رحبُعام اپنے والد سلیمان کی موت کے بعد بادشاہ بنا۔ جب رحبُعام نے حکمرانی شروع کی تھی تو ملک میں لوگوں کی مالی حالت بہت اچھی تھی۔ لیکن لوگوں کو لگتا تھا کہ سلیمان نے اُن سے بہت کڑی محنت کرائی تھی۔ تو لوگ رحبُعام کے پاس آئے اور اُس سے درخواست کی کہ وہ اُن کے کام کے بوجھ کو تھوڑا ہلکا کر دے۔ رحبُعام نے لوگوں سے سوچنے کے لیے تھوڑا وقت مانگا۔ پھر اُس نے اُن بزرگوں سے مشورہ کِیا جو اُس کے والد سلیمان کے جیتے جی اُن کے مُشیر ہوا کرتے تھے۔ (‏1-‏سلا 12:‏2-‏7‏)‏ لیکن اُس نے اُن بزرگوں کے مشورے کو رد کر دیا۔ کیوں؟ شاید رحبُعام پہلے سے ہی فیصلہ کر چُکا تھا کہ وہ کیا کرے گا اور وہ بس یہ چاہتا تھا کہ وہ بزرگ اُس کی ہاں میں ہاں ملائیں۔ اگر ایسا تھا تو اُس کی یہ خواہش تب پوری ہو گئی جب اُس نے اپنے ہم‌عمر دوستوں سے مشورہ مانگا اور اُنہوں نے اُس سے وہی کہا جو وہ سننا چاہتا تھا۔ (‏1-‏سلا 12:‏8-‏14‏)‏ پھر رحبُعام نے لوگوں سے ٹھیک وہی بات کہی جس کا اُس کے دوستوں نے اُسے مشورہ دیا تھا۔ اِس کے نتیجے میں بنی‌اِسرائیل بٹ گئے اور تب سے رحبُعام کو ایک کے بعد ایک مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔—‏1-‏سلا 12:‏16-‏19‏۔‏

13.‏ ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ ہم واقعی دوسروں سے مشورہ لینا چاہتے ہیں؟‏

13 ہم بادشاہ رحبُعام سے کیا سیکھتے ہیں؟ ہمیں پہلے سے ہی کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ کر کے دوسروں سے مشورہ نہیں مانگنا چاہیے۔ ہمیں دوسروں کے مشوروں کو سننے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏کیا مَیں دوسروں سے مشورہ لے کر فوراً اِسے رد کر دیتا ہوں کیونکہ اُنہوں نے مجھے وہ مشورہ نہیں دیا جو مَیں سننا چاہ رہا تھا؟“‏ آئیے اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔‏

14.‏ جب ہمیں کوئی مشورہ ملتا ہے تو ہمیں کیا یاد رکھنا چاہیے؟ مثال دیں۔ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

14 فرض کریں کہ ایک بھائی کو ایک موٹی تنخواہ والی نوکری کی آفر ہوتی ہے۔ وہ اِسے قبول کرنے سے پہلے کلیسیا کے ایک بزرگ سے صلاح مشورہ کرتا ہے۔ وہ بھائی اُس بزرگ کو بتاتا ہے کہ اِس نوکری کی وجہ سے اُسے اکثر کئی کئی ہفتوں تک اپنے گھر والوں سے دُور رہنا پڑے گا۔ وہ بزرگ اُس بھائی کو بائبل کے کچھ ایسے اصول یاد دِلاتا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ اُس کی پہلی ذمے‌داری یہ ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کی یہوواہ کے قریب رہنے میں مدد کرے۔ (‏اِفِس 6:‏4؛‏ 1-‏تیم 5:‏8‏)‏ فرض کریں کہ اُس بھائی کو فوراً ہی اُس بزرگ کے مشورے میں نقص نظر آنے لگتے ہیں اور پھر وہ ایک کے بعد ایک بھائی سے اُس وقت تک مشورہ لیتا رہتا ہے جب تک وہ اُس کی پسند کی بات نہیں کہہ دیتا۔ کیا وہ بھائی واقعی کسی سے اچھا مشورہ لینا چاہتا ہے یا کیا اُس نے پہلے سے ہی اپنا ذہن بنا لیا ہے اور اب وہ بس کسی ایسے شخص کو ڈھونڈ رہا ہے جو اُس کی ہاں میں ہاں ملائے؟ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا دل حیلے‌باز ہے۔ (‏یرم 17:‏9‏)‏ کبھی کبھار جس مشورے کو ہم نہیں سننا چاہتے دراصل یہی وہ مشورہ ہوتا ہے جس کی ہمیں واقعی ضرورت ہوتی ہے۔‏

ایک بہن فرق فرق بہن بھائیوں سے مشورہ لے رہی ہے۔ وہ ایک کے بعد ایک بہن یا بھائی کے پاس جا رہی ہے لیکن اُسے اُن میں سے کسی کا بھی مشورہ پسند نہیں آ رہا۔‏

کیا ہم واقعی اچھا مشورہ لینا چاہتے ہیں یا ہم تب تک دوسروں سے مشورہ لیتے رہتے ہیں جب تک ہمیں اپنی پسند کا کوئی مشورہ نہیں مل جاتا؟ (‏پیراگراف نمبر 14 کو دیکھیں۔)‏


کیا مجھے دوسروں سے کہنا چاہیے کہ وہ میرے لیے فیصلہ کریں؟‏

15.‏ ہمیں کس حوالے سے محتاط رہنا چاہیے اور کیوں؟‏

15 یہ ہم سب کی ذاتی ذمے‌داری ہے کہ ہم خود اپنے لیے فیصلے لیں۔ (‏گل 6:‏4، 5‏)‏ اِس مضمون سے ہم نے سیکھ لیا ہے کہ ایک سمجھ‌دار شخص کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے خدا کے کلام سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور پُختہ مسیحیوں سے صلاح مشورہ کرتا ہے۔ لیکن ہمیں ایک بات کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔ ہمیں کبھی بھی دوسروں سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ ہمارے لیے فیصلہ کریں۔ کبھی کبھار کچھ لوگ کسی قابلِ‌بھروسا شخص سے براہِ‌راست یہ پوچھ لیتے ہیں:‏ ”‏اگر آپ میری جگہ ہوتے تو آپ کیا کرتے؟“‏ اور کچھ لوگ تو بِنا سوچے سمجھے ہی دوسروں کے دیکھا دیکھی کوئی فیصلہ لے لیتے ہیں۔‏

16.‏ کُرنتھس کی کلیسیا میں بُتوں کے آگے چڑھائے جانے والے گوشت کو لے کر کیا مسئلہ کھڑا ہوا تھا اور اِس گوشت کو کھانے کے حوالے سے فیصلہ لینے کی ذمے‌داری کس کی تھی؟ (‏1-‏کُرنتھیوں 8:‏7؛‏ 10:‏25، 26‏)‏

16 ذرا پہلی صدی عیسوی میں کُرنتھس کی کلیسیا میں کھڑے ہونے والے ایک مسئلے پر غور کریں۔ اِس کلیسیا کے مسیحیوں کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ اُس گوشت کو کھائیں گے یا نہیں جو بُتوں کے آگے قربانی کے طور پر پیش کِیا گیا تھا۔ پولُس نے اِن مسیحیوں کو لکھا:‏ ”‏ہم جانتے ہیں کہ بُت کچھ بھی نہیں ہیں بلکہ صرف ایک ہی سچا خدا ہے۔“‏ (‏1-‏کُر 8:‏4‏)‏ پولُس کی اِس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اُس کلیسیا کے کچھ مسیحیوں نے اُس گوشت کو کھانے کا فیصلہ کِیا جو شاید پہلے بُتوں کے آگے چڑھایا جاتا تھا لیکن پھر بعد میں بازار میں بیچا جاتا تھا۔ لیکن کچھ نے فیصلہ کِیا کہ وہ اِس طرح کا گوشت نہیں کھائیں گے کیونکہ اُن کا ضمیر اُنہیں ایسا کرنے کی اِجازت نہیں دے رہا تھا۔ ‏(‏1-‏کُرنتھیوں 8:‏7؛‏ 10:‏25، 26 کو پڑھیں۔)‏ تو یہ ہر ایک کا ذاتی فیصلہ تھا۔ پولُس نے کبھی بھی کُرنتھس کے مسیحیوں کو یہ مشورہ نہیں دیا کہ وہ دوسروں کے لیے فیصلہ کریں یا پھر دوسروں کے دیکھا دیکھی اپنے لیے کوئی فیصلہ لیں۔ اُن میں سے ہر ایک کو ”‏خدا کے سامنے حساب دینا“‏ تھا۔—‏روم 14:‏10-‏12‏۔‏

17.‏ اگر ہم دوسروں کے دیکھا دیکھی کوئی کام کرتے ہیں تو کیا ہو سکتا ہے؟ ایک مثال دیں۔ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

17 آج بھی اِسی طرح کی صورتحال کیسے کھڑی ہو سکتی ہے؟ ذرا خون کے بنیادی حصوں کے اجزا کے معاملے پر غور کریں۔ ہر مسیحی کو بائبل سے تربیت‌یافتہ اپنے ضمیر کے مطابق خود یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ اِن اجزا کو قبول کرے گا یا نہیں۔‏c شاید ہمیں اِس موضوع کے حوالے سے تمام باتوں کو پوری طرح سے سمجھنا مشکل لگے۔ لیکن یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی ذمے‌داری کا بوجھ ہر مسیحی کو خود اُٹھانا ہوگا۔ (‏روم 14:‏4‏)‏ اگر ہم کسی کی نقل کرتے ہوئے فیصلہ لیں گے تو اِس سے ہمارا ضمیر کمزور ہو سکتا ہے۔ ہم اپنے ضمیر کی صرف تبھی تربیت کر پائیں گے جب ہم اِسے اِستعمال کریں گے۔ (‏عبر 5:‏14‏)‏ تو پھر ہمیں کسی پُختہ مسیحی سے کب مشورہ لینا چاہیے؟ تب ہی جب ہم نے اپنی طرف سے ایک معاملے کے بارے میں پوری تحقیق کر لی ہے اور ہمیں پھر بھی بائبل کے کسی اصول کو سمجھنے کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ ایک بھائی ”‏میرے علاج کے بارے میں اہم ہدایتیں“‏ والا فارم پُر کرنے کے لیے کتاب ”‏خوشیوں بھری زندگی!‏“‏ کے سبق نمبر 39 کو اور ویڈیو ”‏ہم علاج میں خون کے اِستعمال کے حوالے سے صحیح فیصلے کیسے کر سکتے ہیں؟“‏ کو اِستعمال کر رہا ہے۔ 2.‏ بعد میں وہ ایک پُختہ مسیحی کی بات بھی سُن رہا ہے جو اُسے بائبل سے ایک آیت دِکھا رہا ہے۔‏

ہمیں اپنی طرف سے پوری تحقیق کر لینے کے بعد ہی دوسروں سے کوئی مشورہ مانگنا چاہیے۔ (‏پیراگراف نمبر 17 کو دیکھیں۔)‏


دوسروں سے صلاح مشورہ کرتے رہیں

18.‏ یہوواہ نے ہمارے لیے کیا کِیا ہے؟‏

18 یہوواہ نے ہمیں خود اپنے لیے فیصلے لینے کی اِجازت دینے سے ہم پر بہت بھروسا کِیا ہے۔ اُس نے ہماری مدد کرنے کے لیے ہمیں اپنا کلام دیا ہے۔ اُس نے ہمیں ایسے سمجھ‌دار دوست بھی دیے ہیں جو ہماری یہ سمجھنے میں مدد کر سکتے ہیں کہ ہم اُس صورتحال میں بائبل کے اصولوں پر کیسے عمل کر سکتے ہیں جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ اِن طریقوں سے ہماری مدد کرنے سے یہوواہ ایک شفیق باپ کے طور پر اپنی ذمے‌داری نبھا رہا ہے۔ (‏اَمثا 3:‏21-‏23‏)‏ ہم اِس مدد کے لیے یہوواہ کا شکریہ ادا کیسے کر سکتے ہیں؟‏

19.‏ ہم یہوواہ کو آئندہ بھی خوش کیسے کر سکتے ہیں؟‏

19 ذرا اِس بات پر غور کریں:‏ یہوواہ سے محبت کرنے والے ماں باپ کو یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ اُن کے بچے ایک سمجھ‌دار اور پُختہ مسیحی بن رہے ہیں اور دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ اِسی طرح ہمارے آسمانی باپ یہوواہ کو بھی اُس وقت بہت خوشی ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ ہم پختگی کی طرف بڑھنے، دوسروں سے اچھے مشورے مانگنے اور ایسے فیصلے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن سے اُس کی بڑائی ہو۔‏

اچھے مشوروں سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے مجھے ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

  • خاکساری سے کام کیوں لینا چاہیے؟‏

  • یہ کیوں جان لینا چاہیے کہ کیا مَیں واقعی دوسروں سے مشورہ لینا چاہتا ہوں؟‏

  • خود اپنے لیے فیصلے کیوں لینے چاہئیں؟‏

گیت نمبر 127‏:‏ مَیں تیرا شکریہ کیسے ادا کروں؟‏

a پاک کلام میں لفظ ‏”‏نصیحت“‏ اور ‏”‏صلاح مشورہ“‏ ایک جیسی بات کی طرف اِشارہ کر سکتے ہیں۔ اِس مضمون میں اور اگلے مضمون میں یہ دونوں ہی لفظ اِستعمال ہوں گے۔‏

b مسیحی سمجھ‌داری سے کام لیتے ہوئے کاروبار، علاج اور دوسرے معاملوں کے حوالے سے کبھی کبھار اُن لوگوں سے بھی مشورہ لے سکتے ہیں جو یہوواہ کی عبادت نہیں کرتے۔‏

c اِس موضوع کے بارے میں تفصیل سے جاننے کے لیے کتاب ‏”‏اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!‏“‏ کے سبق نمبر 39 کے نکتہ نمبر 5 کو اور حصہ ”‏مزید جانیں‏“‏ کو دیکھیں۔‏

d تصویروں کی وضاحت‏:‏ کلیسیا کا ایک بزرگ اپنے سے بڑی عمر والے بزرگ کو بائبل کے ذریعے سمجھا رہا ہے کہ بزرگوں کے اِجلاس میں اُس کے بات کرنے کا طریقہ ٹھیک نہیں تھا۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں