یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 جون ص.‏ 26-‏31
  • ہم ساری زندگی اپنے عظیم اُستاد سے سیکھتے رہیں گے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہم ساری زندگی اپنے عظیم اُستاد سے سیکھتے رہیں گے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • میرے والدین کی مثال
  • کُل‌وقتی خدمت کی شروعات
  • مشنریوں کے طور پر زندگی
  • یورپ اور پھر افریقہ
  • مشرقِ‌وسطیٰ
  • افریقہ میں واپسی
  • یہوواہ نے مجھے میرے تصور سے کہیں بڑھ کر برکتیں دیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • یہوواہ نے ہمیشہ ’‏میرے راستوں کو ہموار‘‏ کِیا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
  • یہوواہ کی خدمت میں ملنے والی ڈھیروں خوشیاں اور برکتیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
  • یہوواہ نے مجھے میرے بچپن سے ہی ٹریننگ دی
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 جون ص.‏ 26-‏31
فرینکو ڈیگوسٹینی

آپ‌بیتی

ہم ساری زندگی اپنے عظیم اُستاد سے سیکھتے رہیں گے

فرینکو ڈیگوسٹینی کی زبانی

مجھے اور میری بیوی کو پہل‌کار اور مشنری کے طور پر خدمت کرتے ہوئے کچھ خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جیسے کہ ہمیں ہتھیار سے لیس فوجیوں کی چوکی سے گزرنا پڑا، طوفانوں، خانہ‌جنگی اور دنگے‌فساد کا سامنا کرنا پڑا اور اپنا گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ لیکن اِن سب مشکلوں کے باوجود ہم اپنے اُن فیصلوں پر قائم رہے جو ہم نے یہوواہ کی خدمت کرنے کے حوالے سے لیے تھے۔ اور یہوواہ نے بھی ہماری پوری زندگی ہمارا ساتھ دیا اور ہمیں برکتوں سے نوازا۔ اُس نے ہمارے عظیم اُستاد کے طور پر ہمیں بہت سی اہم باتیں بھی سکھائیں۔—‏ایو 36:‏22؛‏ یسع 30:‏20‏۔‏

میرے والدین کی مثال

میرے امی ابو 1957ء میں اِٹلی سے کینیڈا شفٹ ہو گئے۔ ہم شہر کنڈرسلی میں رہنے لگے۔ جلد ہی میرے امی ابو یہوواہ کے گواہ بن گئے اور تب سے ہمارے لیے یہوواہ کی خدمت کرنا سب سے اہم بن گیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ بچپن میں مَیں اپنے گھر والوں کے ساتھ سارا سارا دن مُنادی کِیا کرتا تھا۔ اِسی لیے کبھی کبھار مَیں مذاق میں کہتا ہوں کہ ”‏مَیں تو آٹھ سال کی عمر میں ہی مددگار پہل‌کار کے طور پر خدمت کر رہا تھا!‏“‏

بھائی فرینکو کے بچپن کی ایک تصویر جس میں وہ اپنے امی ابو اور بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں۔‏

تقریباً 1966ء میں اپنے خاندان کے ساتھ

حالانکہ میرے امی ابو غریب تھے لیکن اُنہوں نے یہوواہ کے لیے قربانیاں دینے کے معاملے میں ہمارے لیے بڑی زبردست مثال قائم کی۔ مثال کے طور پر 1963ء میں اُنہوں نے کیلیفورنیا میں ہونے والے بین‌الاقوامی اِجتماع میں جانے کے لیے اپنی کئی چیزیں بیچ دیں۔ 1972ء میں ہم تقریباً 1000 کلومیٹر (‏تقریباً 620 میل)‏ دُور شہر ٹریل، برٹش کولمبیا شفٹ ہو گئے تاکہ ہم وہاں اِطالوی زبان بولنے والے لوگوں کو مُنادی کر سکیں۔ میرے ابو ایک سپر سٹور میں صفائی اور چیزوں کی دیکھ‌بھال کرنے کا کام کرتے تھے۔ ابو کو زیادہ پیسہ کمانے کے کئی موقعے ملے لیکن اُنہوں نے یہ موقعے ٹھکرا دیے کیونکہ وہ یہوواہ کی خدمت کو زیادہ اہمیت دینا چاہتے تھے۔‏

مَیں امی ابو کا بہت شکرگزار ہوں کہ اُنہوں نے ہم چاروں بہن بھائیوں کے لیے بہت اچھی مثال قائم کی۔ اب تک مَیں نے یہوواہ کی خدمت میں جو ٹریننگ حاصل کی ہے، اُس کی شروعات میرے والدین کی مثال سے ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے کاموں سے مجھے یہ اہم بات سکھائی جو مَیں پوری زندگی نہیں بھولا:‏ اگر مَیں یہوواہ کی بادشاہت کو سب سے زیادہ اہمیت دوں گا تو یہوواہ میرا خیال رکھے گا۔—‏متی 6:‏33‏۔‏

کُل‌وقتی خدمت کی شروعات

مَیں نے 1980ء میں ایک بہت پیاری لڑکی سے شادی کر لی جس کا نام ڈیبی تھا۔ ڈیبی یہوواہ سے بہت پیار کرتی تھیں اور اُن کا پورا دھیان اُس کی خدمت کرنے پر تھا۔ ہم دونوں ہی کُل‌وقتی طور پر خدمت کرنا چاہتے تھے۔ اِس لیے ہماری شادی کے تین مہینے بعد ہی ڈیبی پہل‌کار بن گئیں۔ اور پھر شادی کے ایک سال بعد ہم ایک چھوٹی کلیسیا میں شفٹ ہو گئے جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت تھی۔ مَیں بھی ڈیبی کے ساتھ مل کر پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے لگا۔‏

بھائی فرینکو اور بہن ڈیبی کی شادی کے دن کی تصویر

سن 1980ء میں ہماری شادی کے دن کی تصویر

مگر کچھ عرصے بعد ہم بے‌حوصلہ ہو گئے اور ہم نے واپس جانے کا فیصلہ کِیا۔ لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہم نے حلقے کے نگہبان سے بات کی۔ اُنہوں نے بڑے پیار سے مگر صاف لفظوں میں ہم سے کہا:‏ ”‏آپ خود صورتحال کو مشکل بنا رہے ہیں۔ آپ صرف مسئلوں پر ہی دھیان دے رہے ہیں۔ اگر آپ اچھی باتوں کے بارے میں سوچیں گے تو یہ آپ کو نظر بھی آنے لگیں گی۔“‏ ہمیں واقعی اپنی سوچ کو ٹھیک کرنے کی ضرورت تھی۔ (‏زبور 141:‏5‏)‏ ہم نے فوراً بھائی کے مشورے پر عمل کِیا۔ جلد ہی ہمیں محسوس ہونے لگا کہ واقعی ایسی بہت سی اچھی باتیں تھیں جن پر ہمیں دھیان دینا چاہیے تھا۔ مثال کے طور پر کلیسیا میں ایسے کئی بہن بھائی تھے جو یہوواہ کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے۔ اِن میں کچھ بچے بھی شامل تھے اور ایسی بہنیں بھی جن کے جیون ساتھی یہوواہ کے گواہ نہیں تھے۔ اپنی زندگی کے اِس واقعے سے ہم نے سیکھا کہ ہمیں اچھی باتوں پر دھیان رکھنا چاہیے اور اِس بات کے لیے یہوواہ پر بھروسا کرنا چاہیے کہ وقت آنے پر وہ مشکل صورتحال کو ٹھیک کر دے گا۔ (‏میک 7:‏7)‏ اِس طرح ہم پھر سے خوش رہنے لگے اور حالات بھی بہتر ہونے لگے۔‏

پھر ہم پہلی بار پہل‌کاروں کے لیے سکول میں گئے۔ اِس سکول میں تربیت دینے والے بھائیوں نے دوسرے ملکوں میں یہوواہ کی خدمت کی تھی۔ اُنہوں نے ہمیں کچھ تصویریں دِکھائیں اور بتایا کہ اُنہیں یہوواہ کی خدمت کرتے ہوئے کن مشکلوں کا سامنا ہوا اور کون سی برکتیں ملیں۔ اُن کی باتیں سُن کر ہمارے دل میں بھی مشنری بننے کی خواہش پیدا ہوئی اور ہم نے بھی ایسا ہی کرنے کا منصوبہ بنایا۔‏

ہماری ایک عبادت‌گاہ میں پارکنگ کی جگہ جو برف سے ڈھکی ہے

سن 1983ء میں برٹش کولمبیا میں ہماری عبادت‌گاہ کے باہر

اپنے اِس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے 1984ء میں ہم برٹش کولمبیا سے تقریباً 4000 کلومیٹر (‏2485 میل)‏ دُور کیوبیک چلے گئے جہاں لوگ فرانسیسی زبان بولتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہاں ہمیں ایک نئی زبان اور نئی ثقافت سیکھنی تھی۔ پھر ایک اَور مسئلہ یہ بھی تھا کہ ہمیں اکثر پیسوں کی تنگی رہتی تھی۔ ایک وقت تو ایسا آیا کہ ہمارے پاس آلوؤں کے سوا کچھ کھانے کو نہیں ہوتا تھا۔ اور یہ بھی بچے کچے آلو ہوتے تھے جو ایک کسان نے ہمیں اپنے کھیتوں سے لینے کی اِجازت دی تھی۔ ڈیبی اِن آلوؤں کو فرق طریقوں سے بناتی تھیں تاکہ ہم اِنہیں کھا کر تنگ نہ آ جائیں۔ ہم نے اِن مشکلوں کو خوشی سے برداشت کرنے کی کوشش کی۔ سب سے بڑھ کر اِس دوران ہمیں یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ یہوواہ ہمارا کتنے اچھے سے خیال رکھ رہا ہے۔—‏زبور 64:‏10‏۔‏

پھر ایک دن ہمیں ایک کال آئی۔ ہم نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمیں کینیڈا بیت‌ایل میں خدمت کرنے کے لیے بُلایا جائے گا۔ دراصل ہم نے گلئیڈ سکول جانے کی درخواست ڈالی تھی اِس لیے جب ہمیں بیت‌ایل بُلایا گیا تو ہم تھوڑے خوش بھی تھے اور تھوڑے دُکھی بھی۔ مگر ہم نے پھر بھی وہاں جانے کا فیصلہ کِیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہم نے برانچ کی کمیٹی کے ایک بھائی جن کا نام کینتھ لٹل تھا، پوچھا:‏ ”‏اگر ہمیں گلئیڈ سکول میں جانے کے لیے بُلا لیا گیا تو پھر ہم کیا کریں؟“‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔“‏

ایک ہفتے بعد ہی وہ وقت آ گیا۔ مجھے اور ڈیبی کو گلئیڈ سکول جانے کی دعوت مل گئی۔ تو اب ہمیں فیصلہ لینا تھا۔ بھائی کینتھ نے ہم سے کہا:‏ ”‏چاہے آپ جو بھی فیصلہ لیں، کبھی کبھار آپ کو لگے گا کہ کاش آپ نے دوسری طرح سے یہوواہ کی خدمت کرنے کا فیصلہ کِیا ہوتا۔ یہ نہ سوچیں کہ ایک خدمت دوسری خدمت سے بہتر ہے۔ آپ جس طرح سے بھی یہوواہ کی خدمت کریں گے، وہ آپ کو برکت دے گا۔“‏ ہم نے گلئیڈ سکول جانے کا فیصلہ کِیا اور پھر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بھائی کینتھ کی کہی بات واقعی سچ تھی۔ بعد میں ہم بھائی کینتھ کی کہی بات اکثر اُن بہن بھائیوں سے بھی کہتے تھے جنہوں نے یہ فیصلہ لینا ہوتا تھا کہ وہ دو طرح کی خدمت میں سے کون سی خدمت چُنیں گے۔‏

مشنریوں کے طور پر زندگی

‏(‏دائیں)‏ یُولیسیس گلاس

‏(‏دائیں)‏ جیک ریڈفرڈ

ہمیں گلئیڈ سکول کی 83ویں کلاس میں بُلایا گیا۔ ہمیں ملا کر ہماری کلاس میں 24 بہن بھائی تھے۔ ہمارا سکول اپریل 1987ء میں بروکلن میں ہوا۔ ہمیں تربیت دینے والے بھائیوں میں بھائی یُولیسیس گلاس اور بھائی جیک ریڈفرڈ شامل تھے۔ پانچ مہینے پلک جھپکتے گزر گئے اور 6 ستمبر 1987ء میں ہماری گریجویشن کا دن آ گیا۔ ہمیں بھائی جان گڈ اور اُن کی بیوی میرَی کے ساتھ ہیٹی میں خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا۔‏

بھائی فرینکو اور بہن ڈیبی ہیٹی کے ساحل پر مُنادی کے دوران

سن 1988ء میں ہیٹی میں

سن 1962ء تک ہیٹی سے تمام مشنریوں کو نکال دیا گیا تھا اور تب سے گلئیڈ سکول سے تربیت پانے والے کسی مشنری کو وہاں خدمت کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا۔ تو گریجویشن کے تین ہفتے بعد ہم ہیٹی میں ایک چھوٹی کلیسیا میں خدمت کرنے لگے جس میں 35 مبشر تھے۔ یہ کلیسیا دُوردراز ایک پہاڑی علاقے میں تھی۔ مَیں اور ڈیبی جوان تھے اور ہمارے پاس اِتنا تجربہ بھی نہیں تھا۔ اِس کے علاوہ ہم اُس گھر میں اکیلے تھے جو مشنریوں کے لیے تھا۔ اُس علاقے میں لوگ بہت غریب تھے اور زیادہ‌تر پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے۔ ہمیں ابھی وہاں رہتے ہوئے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا کہ ہمیں دنگے‌فسادوں، حکومت کے خلاف کیے جانے والے احتجاجوں اور علاقے میں آنے والے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا۔‏

لیکن ہم نے ہیٹی کے بہن بھائیوں سے بہت کچھ سیکھا جو مشکل حالات میں بھی ثابت‌قدم اور خوش رہتے تھے۔ حالانکہ بہت سے بہن بھائیوں کی زندگی کافی مشکل تھی لیکن وہ یہوواہ سے محبت کرتے تھے اور دل‌وجان سے مُنادی کرتے تھے۔ وہاں ہماری ایک بوڑھی اور بیوہ بہن تھیں جو بالکل پڑھ نہیں سکتی تھیں لیکن اُنہیں بائبل کی تقریباً 150 آیتیں زبانی یاد تھیں۔ وہاں جو حالات چل رہے تھے، اُس کی وجہ سے ہمارے دل میں لوگوں کو یہ بتانے کی خواہش پیدا ہوئی کہ اُن کے مسئلوں کا واحد حل خدا کی بادشاہت ہے۔ شروع میں ہم نے جن لوگوں کو بائبل کورس کرایا، اُن میں سے کچھ بعد میں پہل‌کار، خصوصی پہل‌کار اور کلیسیا میں بزرگ بن گئے۔‏

ہیٹی میں میری ملاقات ٹریوور نام کے ایک جوان آدمی سے ہوئی جو مورمن تھا۔ ہمیں کئی بار ایک دوسرے کے ساتھ بائبل سے بات کرنے کا موقع ملا۔ کچھ سال بعد اُس نے مجھے ایک خط بھیجا جس میں اُس نے ایک ایسی بات لکھی جس کی مجھے توقع بھی نہیں تھی۔ اُس نے لکھا:‏ ”‏مَیں آنے والے اِجتماع پر بپتسمہ لینے والا ہوں!‏ مَیں واپس ہیٹی آ کر اُسی علاقے میں خصوصی پہل‌کار بننا چاہتا ہوں جہاں پہلے مَیں ایک مورمن مشنری ہوا کرتا تھا۔“‏ اُس نے واقعی بہت سالوں تک اپنی بیوی کے ساتھ وہاں یہوواہ کی خدمت کی۔‏

یورپ اور پھر افریقہ

بھائی فرینکو اپنے آفس میں کام کرتے ہوئے

سن 1994ء میں سلووینیا میں خدمت کرتے ہوئے

ہمیں یورپ کے ایک ایسے حصے میں خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا جہاں ہمارے مُنادی کے کام سے پابندیاں ہٹ رہی تھیں۔ 1992ء میں ہم سلووینیا کے شہر لیوبلیانا پہنچے۔ میرے امی ابو اِٹلی شفٹ ہونے سے پہلے اِس شہر کے قریب ہی پلے بڑھے تھے۔ اُن علاقوں میں ابھی بھی جنگ چل رہی تھی جو سابقہ یوگوسلاویہ میں تھے۔ تنظیم وہاں ہمارے کام کی نگرانی ہماری ایک برانچ اور دو دفتروں کے ذریعے کر رہی تھی یعنی آسٹریا کے شہر میں ویانا برانچ کے ذریعے اور کروشیا کے شہر زغرب اور سربیا کے شہر بلغراد میں ہمارے دفتروں کے ذریعے۔ لیکن اب اُن چاروں ملکوں میں ایک ایک بیت‌ایل کی ضرورت تھی جو سابقہ یوگوسلاویہ تھے۔‏

اب ہمیں ایک اَور نئی زبان اور ثقافت کو سیکھنا تھا۔ سلووینیا کے لوگ کہتے تھے کہ اُن کی زبان بہت مشکل ہے۔ اور یہ واقعی سچ تھا۔ لیکن وہاں کے بہن بھائیوں کی وفاداری قابلِ‌تعریف تھی کیونکہ اُنہوں نے تنظیم کی طرف سے ملنے والی تبدیلیوں کو فوراً قبول کِیا۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اِس کے لیے یہوواہ نے اُنہیں کتنی برکتیں دیں۔ ہم نے ایک بار پھر سے دیکھا کہ یہوواہ صحیح وقت پر کتنے پیار سے معاملوں کو حل کرتا ہے۔ سلووینیا میں ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور جو باتیں ہم نے پہلے سیکھی تھیں، اُن کی مدد سے ہم اُن مشکلوں کو برداشت کر پائے جن کا ہمیں وہاں سامنا ہوا۔‏

لیکن ابھی ہمیں اپنی زندگی میں اَور بھی کئی تبدیلیاں دیکھنی تھیں۔ 2000ء میں ہمیں مغربی افریقہ کے ملک آئیوری کوسٹ بھیجا گیا۔ لیکن پھر خانہ‌جنگی کی وجہ سے ہمیں نومبر 2002ء میں سیرا لیون بھیجا گیا۔ وہاں 11 سال سے چلنے والی خانہ‌جنگی ابھی ابھی ختم ہوئی تھی۔ ہمیں اِتنی جلدی آئیوری کوسٹ کو چھوڑ کر دُکھ ہو رہا تھا۔ لیکن ابھی تک ہم نے جو کچھ سیکھا تھا، اُس کی وجہ سے ہم اپنی خوشی برقرار رکھ پائے۔‏

وہاں جا کر ہم نے اپنی توجہ اُن لوگوں پر رکھی جو سچائی سیکھنا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنا دھیان اپنے بہن بھائیوں کی مثال پر بھی رکھا جو کئی سالوں سے جنگ کے باوجود ثابت‌قدم تھے۔ حالانکہ وہ بہت غریب تھے لیکن اُن کے پاس جو کچھ تھا، اُسے وہ آپس میں بانٹنا چاہتے تھے۔ مثال کے طور پر ایک بہن نے ڈیبی کو کچھ کپڑے دیے۔ ڈیبی اِنہیں لینے سے تھوڑا ہچکچا رہی تھیں لیکن اُس بہن نے اِصرار کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏جنگ کے دوران دوسرے ملکوں کے بہن بھائیوں نے ہماری بہت مدد کی۔ اب مدد کرنے کی باری ہماری ہے۔“‏ ہم نے بھی اِن بہن بھائیوں کی طرح بننے کا عزم کِیا۔‏

پھر ہم دوبارہ آئیوری کوسٹ چلے گئے لیکن سیاسی مسئلوں کی وجہ سے وہاں پھر سے دنگے‌فساد ہونے لگے۔ تو نومبر 2004ء میں ہمیں ایک ہیلی‌کاپٹر کے ذریعے وہاں سے نکالا گیا۔ ہم دونوں کے پاس صرف ایک ایک چھوٹا بیگ تھا جس میں ہم صرف 10 کلو تک سامان رکھ سکتے تھے۔ ہم نے فرانس کے ایک فوجی علاقے میں ایک رات کاٹی۔ ہم وہاں فرش پر سوئے۔ پھر اگلے دن ہم جہاز میں بیٹھ کر سوئٹزرلینڈ چلے گئے۔ ہم آدھی رات کو وہاں کی برانچ میں پہنچے۔ ہمارے پہنچنے پر برانچ کی کمیٹی کے بھائیوں اور اُن کی بیویوں نے اور منسٹریل ٹریننگ سکول میں تربیت دینے والے بھائیوں اور اُن کی بیویوں نے ہمیں گلے لگا کر ہمارا خیرمقدم کِیا۔ اُنہوں نے ہمارے لیے بڑی محبت دِکھائی۔ اُنہوں نے ہمیں گرم گرم کھانا پیش کِیا اور وہاں کی بہت زیادہ چاکلیٹ دی۔‏

بھائی فرینکو آئیوری کوسٹ کی ایک عبادت‌گاہ میں تقریر کرتے ہوئے

سن 2005ء میں آئیوری کوسٹ میں ایک تقریر کے دوران پناہ‌گزینوں سے بات کرتے ہوئے

پھر ہمیں کچھ وقت کے لیے گھانا میں خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا اور جب آئیوری کوسٹ میں حالات بہتر ہوئے تو ہمیں پھر سے وہاں بھیجا گیا۔ جب بھی خراب حالات کی وجہ سے ہمیں ایک ملک سے بھاگنا پڑتا تھا یا عارضی طور پر کہیں اَور خدمت کرنی پڑتی تھی تو ہمیں تھوڑی بہت پریشانی ہوتی تھی لیکن بہن بھائیوں کی محبت کی وجہ سے ہم اِسے برداشت کر پاتے تھے۔ مَیں اور ڈیبی مانتے ہیں کہ یہوواہ کی تنظیم میں بہن بھائیوں کے بیچ ایسی محبت ہونا عام بات ہے لیکن ہم نے عزم کِیا ہے کہ ہم اِسے کبھی معمولی نہیں سمجھیں گے۔ سچ ہے کہ ہمیں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم نے دیکھا کہ اُس وقت یہوواہ نے ہمیں کتنی اہم باتیں سکھائیں۔‏

مشرقِ‌وسطیٰ

بھائی فرینکو اور بہن ڈیبی مشرقِ‌وسطیٰ کے ایک قدیم کھنڈر میں سیر کرتے ہوئے

سن 2007ء میں مشرقِ‌وسطیٰ میں

ہمیں 2006ء میں مرکزی دفتر کی طرف سے ایک خط ملا جس میں ہمیں بتایا گیا کہ ہمیں مشرقِ‌وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے۔ اب ہمیں پھر سے ایک نئی زبان اور نئی ثقافت کو سیکھنا اور نئی مشکلوں کا سامنا کرنا تھا۔ وہاں لوگ سیاست اور اپنے مذہبی عقیدوں کے حوالے سے بڑی کٹر سوچ رکھتے تھے۔ لیکن ایسے ماحول میں بھی ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ہمیں یہ بات بہت اچھی لگتی تھی کہ وہاں کی کلیسیاؤں میں بہن بھائی ایک دوسرے سے فرق زبان بولتے تھے لیکن تنظیم کی ہدایتوں کی وجہ سے سب متحد تھے۔ ہم اُن بہن بھائیوں کی بھی بہت قدر کرتے تھے جو اپنے گھر والوں، سکول میں پڑھنے والے بچوں، ساتھ کام کرنے والے لوگوں اور پڑوسیوں کی طرف سے مخالفت کا دلیری سے سامنا کر رہے تھے۔‏

ہم 2012ء میں ملک اِسرائیل کے شہر تل‌ابیب میں ہونے والے خاص اِجتماع پر گئے۔ 33ء کی عیدِپنتِکُست کے بعد یہ پہلی بار تھا کہ یہوواہ کے بندے اِس علاقے میں اِتنی بڑی تعداد میں اِجتماع کے لیے اِکٹھے ہوئے۔ یہ واقعی بڑا یادگار موقع تھا!‏

جب ہم مشرقِ‌وسطیٰ میں تھے تو ہمیں ایک ایسے ملک میں جانے کو کہا گیا جہاں ہمارے کام پر پابندی ہے۔ ہم وہاں اپنے ساتھ کچھ کتابیں اور رسالے لے گئے۔ ہم نے وہاں مُنادی بھی کی اور کچھ ایسے حلقے کے اِجتماعوں پر بھی گئے جو چھوٹے پیمانے پر کیے گئے تھے۔ وہاں ہر جگہ ہتھیار سے لیس فوجی کھڑے ہوتے تھے اور ہر جگہ ہی اُن کی چوکیاں ہوتی تھیں۔ لیکن ہم خود کو بہت محفوظ محسوس کرتے تھے کیونکہ ہم کچھ مبشروں کے ساتھ ہی اِدھر اُدھر آتے جاتے تھے۔‏

افریقہ میں واپسی

بھائی فرینکو اپنے لیپ‌ٹاپ پر ٹائپنگ کر رہے ہیں۔‏

سن 2014ء میں کانگو میں ایک تقریر تیار کرتے ہوئے

ہمیں 2013ء میں ایک فرق ذمے‌داری دی گئی۔ ہمیں کانگو کے شہر کنشاسا میں ہماری برانچ میں خدمت کرنے کے لیے کہا گیا۔ کانگو ایک بڑا اور خوب‌صورت ملک ہے۔ لیکن وہاں اِنتہا کی غریبی تھی اور اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ شروع میں ہم نے سوچا:‏ ”‏افریقہ میں تو ہم پہلے بھی رہ چُکے ہیں اِس لیے ہمیں پتہ ہے کہ وہاں زندگی کیسی ہے۔ تو ہم وہاں جانے کے لیے بالکل تیار ہیں!‏“‏ لیکن ہم نے دیکھا کہ ہمیں ابھی بھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت تھی، خاص طور پر یہ کہ ہم اُن علاقوں میں سفر کیسے کر سکتے ہیں جہاں سڑکیں اور پُل وغیرہ نہیں ہیں۔ کانگو میں ہمیں کئی اچھی باتوں پر اپنا دھیان رکھنے کا موقع ملا۔ مثال کے طور پر یہ کہ بہن بھائی اِتنے غریب ہونے کے باوجود کتنی لگن سے مُنادی کرتے ہیں اور عبادتوں اور اِجتماعوں پر جانے کے لیے کتنی محنت کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ کانگو میں بہت زیادہ لوگ سچائی سیکھ رہے تھے جو کہ صرف یہوواہ کی برکت سے ہی ہو رہا تھا۔ ہم نے جتنے سال وہاں خدمت کی، اُس کا ہماری زندگی پر بہت گہرا اثر ہوا۔ ہم نے بہت سی اہم باتیں سیکھیں اور ایسے دوست بنائے جو ہمارے لیے گھر والوں کی طرح بن گئے۔‏

بھائی فرینکو کچھ بہن بھائیوں کے ساتھ ایک گاؤں میں مُنادی کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔‏

سن 2023ء میں جنوبی افریقہ میں مُنادی کرتے ہوئے

پھر 2017ء کے آخر میں ہمیں جنوبی افریقہ کی برانچ میں بھیجا گیا۔ یہ ہمارے لیے اب تک کی وہ سب سے بڑی برانچ تھی جہاں ہم نے خدمت کی۔ وہاں ہمیں جو کام کرنے کے لیے دیا گیا، وہ بھی ہمارے لیے بہت نیا تھا۔ ہمیں ایک بار پھر سے بہت سی باتیں سیکھنی تھیں۔ لیکن ہم نے اب تک جو کچھ سیکھ لیا تھا، وہ ہمارے بڑے کام آیا۔ وہاں ہمیں کئی ایسے بہن بھائیوں سے محبت ہو گئی جو بہت سالوں سے یہوواہ کی خدمت کر رہے تھے۔ ہمیں یہ دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے کہ بیت‌ایل میں بہن بھائی فرق فرق نسلوں اور ثقافتوں سے ہونے کے باوجود مل جُل کر یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہم صاف دیکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ کی برکت کی وجہ سے اُس کے بندوں میں صلح صفائی ہے، وہ نئی شخصیت کو پہنتے ہیں اور بائبل کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔‏

پچھلے کئی سالوں کے دوران مجھے اور ڈیبی کو مختلف طریقوں سے یہوواہ کی خدمت کرنے کا اعزاز ملا۔ ہم نے خود کو فرق ثقافتوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور نئی زبانیں سیکھیں۔ ایسا کرنا آسان تو نہیں تھا لیکن ہم نے بار بار دیکھا کہ یہوواہ اپنی تنظیم اور اپنے بندوں کے ذریعے ہمارے لیے اٹوٹ محبت دِکھاتا رہا۔ (‏زبور 144:‏2‏)‏ ہمیں یقین ہے کہ ہم نے کُل‌وقتی طور پر خدمت کرتے ہوئے جو کچھ سیکھا ہے، اُس سے ہم بہتر مسیحی بن پائے ہیں۔‏

مَیں اپنے امی ابو کا بہت شکرگزار ہوں کہ اُنہوں نے میری اِتنی اچھی پرورش کی۔ مَیں اپنی جیون ساتھی کا بھی دل سے شکرگزار ہوں کہ اُس نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا۔ مَیں پوری دُنیا میں اپنے بہن بھائیوں کی عمدہ مثال کے لیے بھی اُن کا شکرگزار ہوں۔ جیسے جیسے مَیں اور ڈیبی نئی دُنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہمارا عزم ہے کہ ہم اپنے عظیم خدا سے وہ باتیں سیکھتے رہیں گے جو وہ ہمیں سکھانا چاہتا ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں