یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م24 جولائی ص.‏ 14-‏19
  • آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اُن کمزوریوں یا خامیوں کو پہچانیں جو آپ کے لیے آزمائش بن سکتی ہیں
  • ہم آزمائش میں پڑنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏
  • ہمیشہ چوکس رہیں
  • چوکس رہنے کے فائدے
  • ہم غلط خواہشوں کے خلاف جنگ کیسے جیت سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • انسانی کمزوری پر غالب آنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • بپتسمے کے بعد بھی یسوع کی ’‏پیروی کرتے رہیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • آپ غلط خواہشات پر قابو پا سکتے ہیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
م24 جولائی ص.‏ 14-‏19

مطالعے کا مضمون نمبر 29

گیت نمبر 121‏:‏ ضبطِ‌نفس ظاہر کریں

آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہیں

‏”‏چوکس رہیں اور دُعا کرتے رہیں تاکہ آزمائش میں نہ پڑیں۔“‏‏—‏متی 26:‏41‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

ہم گُناہ سے بچنے کی پوری کوشش کیسے کر سکتے ہیں اور ہم ایسے کاموں سے خبردار کیسے رہ سکتے ہیں جن کی وجہ سے ہم گُناہ کرنے کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔‏

1-‏2.‏ (‏الف)‏یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو کس بات سے آگاہ کِیا؟ (‏ب)‏یسوع کے شاگرد کس وجہ سے کمزور پڑ گئے؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

‏”‏بے‌شک دل جوش سے بھرا ہے لیکن جسم کمزور ہے۔“‏a (‏متی 26:‏41‏)‏ یہ بات کہنے سے یسوع مسیح نے ظاہر کِیا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم عیب‌دار ہیں اور ہم سے غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن اُن کی اِس بات سے ہمیں ایک آگاہی بھی ملتی ہے۔ اور وہ آگاہی یہ ہے کہ ہم خود پر حد سے زیادہ بھروسا نہ کریں اور کبھی یہ نہ سوچیں کہ ہم سے کبھی کوئی غلطی ہوگی ہی نہیں۔ جب یسوع مسیح نے متی 26:‏41 میں لکھی بات کہی تو اُسی رات تھوڑی دیر پہلے یسوع کے شاگردوں نے اُنہیں بڑے اِعتماد سے بتایا کہ وہ اُنہیں کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ (‏متی 26:‏35‏)‏ شاگردوں نے یہ بات اچھی نیت سے کی تھی کیونکہ وہ صحیح کام کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اُنہیں یہ احساس نہیں تھا کہ دباؤ میں آ کر وہ کتنی جلدی کمزور پڑ سکتے ہیں۔ اِسی لیے یسوع نے اُنہیں اِس خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏چوکس رہیں اور دُعا کرتے رہیں تاکہ آزمائش میں نہ پڑیں۔“‏—‏متی 26:‏41‏۔‏

2 افسوس کی بات ہے کہ شاگرد چوکس رہنے میں ناکام ہو گئے۔ جب یسوع مسیح کو گِرفتار کِیا گیا تو شاگرد اُن کے ساتھ رہنے کی بجائے اُنہیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ وہ اِس آزمائش کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔ اِس لیے جب یہ اچانک سے اُن پر آئی تو اُنہوں نے ایسا کام کر دیا جس کے بارے میں اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ بالکل بھی نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے یسوع کا ساتھ چھوڑ دیا۔—‏متی 26:‏56‏۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ یسوع مسیح اور اُن کے رسول رات کے وقت گتسمنی میں ہیں۔ 2.‏ یسوع مسیح اپنے رسولوں سے بات کر رہے ہیں۔ 3.‏ جب یسوع مسیح کے مخالفوں نے اُنہیں گِرفتار کِیا تو یسوع کے رسول اُنہیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔‏

یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو آگاہ کِیا کہ وہ چوکس رہیں تاکہ وہ آزمائش میں نہ پڑیں۔ لیکن شاگرد چوکس رہنے میں ناکام ہو گئے اور یسوع کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ (‏پیراگراف نمبر 1-‏2 کو دیکھیں۔)‏


3.‏ (‏الف)‏یہوواہ کا وفادار رہنے کے لیے ہمیں خود پر حد سے زیادہ بھروسا کیوں نہیں کرنا چاہیے؟ (‏ب)‏اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟‏

3 اگر ہم خود پر حد سے زیادہ بھروسا کریں گے تو ہمیں اِس کی بھاری قیمت چُکانی پڑ سکتی ہے۔ سچ ہے کہ ہم نے یہ عزم کِیا ہوا ہے کہ ہم کسی بھی چیز کو اِس بات کی اِجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمیں یہوواہ سے دُور کرے۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم عیب‌دار ہیں اور بڑی آسانی سے غلط کام کرنے کی آزمائش میں پڑ سکتے ہیں۔ (‏روم 5:‏12؛‏ 7:‏21-‏23‏)‏ ہمیں اچانک کسی ایسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے جس میں شاید ہمارا دل ہمیں کوئی ایسا کام کرنے کو کہے جو یہوواہ کی نظر میں غلط ہے۔ تو یہوواہ اور اُس کے بیٹے یسوع کا وفادار رہنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم یسوع کی آگاہی پر عمل کرتے ہوئے آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہیں۔ یہ مضمون ایسا کرنے میں ہماری مدد کرے گا۔ اِس مضمون میں سب سے پہلے ہم اپنی اُن کمزوریوں یا خامیوں کو پہچانیں گے جو ہمارے لیے آزمائش بن سکتی ہیں۔ پھر ہم اِس بات پر غور کریں گے کہ ہم خود کو آزمائش میں پڑنے سے کیسے بچا سکتے ہیں۔ اور آخر میں ہم دیکھیں گے کہ ہم آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے ہمیشہ چوکس کیسے رہ سکتے ہیں۔‏

اُن کمزوریوں یا خامیوں کو پہچانیں جو آپ کے لیے آزمائش بن سکتی ہیں

4-‏5.‏ یہ کیوں ضروری ہے کہ ہم چھوٹے چھوٹے گُناہ کرنے سے بھی خبردار رہیں؟‏

4 بے‌شک کچھ گُناہ اِتنے بڑے نہیں ہوتے لیکن ہمیں اِنہیں بھی کرنے سے خبردار رہنا چاہیے کیونکہ اِن کی وجہ سے یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی کمزور پڑ سکتی ہے۔ اِس کے علاوہ اِن چھوٹے چھوٹے گُناہوں کی وجہ سے ہم بڑے گُناہ کرنے کے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔‏

5 ہم سبھی کو غلط کام کرنے کی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فرق بس یہ ہے کہ ہماری خامیاں اور کمزوریاں ایک دوسرے سے فرق ہوتی ہیں۔ اِس لیے کچھ چیزیں خاص طور پر ہمارے لیے غلط کام کرنے کی آزمائش بن جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر شاید ایک شخص حرام‌کاری جیسے بڑے گُناہ کی آزمائش سے لڑ رہا ہو۔ اور شاید کوئی اَور شخص ناپاک کاموں سے دُور رہنے کی سخت کوشش کر رہا ہو جیسے کہ اپنے جنسی اعضا کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے اور گندی ویڈیوز اور تصویریں دیکھنے سے۔ اور شاید کوئی اَور شخص اِنسان کے ڈر، غرور، جلدی سے غصے میں آنے یا اپنی کسی اَور خامی سے لڑ رہا ہو۔ واقعی یعقوب نے بالکل ٹھیک کہا:‏ ”‏ہر شخص اپنی ہی خواہشوں کی وجہ سے آزمایا اور اُکسایا جاتا ہے۔“‏—‏یعقو 1:‏14‏۔‏

6.‏ ہمیں کس معاملے میں ایمان‌داری سے کام لینا چاہیے؟‏

6 کیا آپ اپنی اُن کمزوریوں یا خامیوں کو جانتے ہیں جن کی وجہ سے آپ آسانی سے آزمائش میں پڑ سکتے ہیں؟ اگر آپ اِس بات سے اِنکار کریں گے کہ آپ میں فلاں خامی ہے یا پھر آپ یہ سوچیں گے کہ آپ اِتنے مضبوط ہیں کہ آپ سے کوئی گُناہ ہو ہی نہیں سکتا تو آپ خود کو دھوکا دے رہے ہوں گے۔ (‏1-‏یوح 1:‏8‏)‏ یاد کریں کہ پولُس رسول نے کہا تھا کہ وہ پُختہ مسیحی بھی آزمائش کے پھندے میں پھنس سکتے ہیں جو چوکس نہیں رہتے۔ (‏گل 6:‏1‏)‏ تو ہمیں ایمان‌داری سے اپنا جائزہ لینا چاہیے اور اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو پہچاننا چاہیے۔—‏2-‏کُر 13:‏5‏۔‏

7.‏ ہمیں خاص طور پر کن حلقوں میں اپنی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے؟ مثال دیں۔‏

7 ایک بار جب ہم یہ جان جاتے ہیں کہ ہم اپنی کن کمزوریوں یا خامیوں کی وجہ سے آزمائش میں پڑ سکتے ہیں تو اِس کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں اپنے اِس عزم کو مضبوط کرنا چاہیے کہ ہم آزمائش کے آگے گُھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں۔ پُرانے زمانے میں ایک شہر کے دروازے اُس کا سب سے کمزور حصہ ہوتے تھے۔ اِسی لیے اُن کی حفاظت کرنے کے لیے وہاں سخت پہرا لگایا جاتا تھا۔ اِسی طرح ہمیں خاص طور پر اُن حلقوں میں اپنی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے جن میں ہم کمزور ہیں تاکہ ہم آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔—‏1-‏کُر 9:‏27‏۔‏

ہم آزمائش میں پڑنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

8-‏9.‏ اَمثال 7 باب میں جس نوجوان کا ذکر ہوا ہے، وہ ایک بڑا گُناہ کرنے سے کیسے بچ سکتا تھا؟ (‏اَمثال 7:‏8، 9،‏ 13، 14،‏ 21‏)‏

8 ہم گُناہ کرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ اِس سلسلے میں ذرا اُس نوجوان شخص کی مثال پر غور کریں جس کا ذکر اَمثال 7 باب میں ہوا ہے اور دیکھیں کہ ہم اُس سے کون سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔ اُس نے ایک بدکار عورت کے ساتھ حرام‌کاری کی۔ اَمثال 7:‏22 میں بتایا گیا ہے کہ وہ نوجوان ”‏فوراً اُس کے پیچھے چل پڑا۔“‏ اِس بات کو پڑھ کر شاید ہمیں لگے کہ وہ فوراً یا اچانک اُس بدکار عورت کے پھندے میں پھنس گیا۔ لیکن اگر ہم 22 آیت سے پہلے کی آیتوں پر غور کریں تو ہم دیکھ پائیں گے کہ اُس نے ایسے کون سے قدم اُٹھائے جو آہستہ آہستہ اُسے گُناہ کی طرف لے گئے۔‏

9 سب سے پہلے تو جب شام ہوئی تو ”‏وہ اُس گلی کے موڑ سے گزرا جس میں وہ[‏بدکار]‏عورت رہتی تھی۔“‏ پھر وہ اُس کے گھر کی طرف بڑھنے لگا۔ ‏(‏اَمثال 7:‏8، 9 کو پڑھیں۔)‏ اِس کے بعد جب اُس نے اُس عورت کو دیکھا تو وہ وہاں سے نہیں مُڑا۔ اور جب وہ عورت اُسے چُومنے لگی تو اُس نے اُسے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ وہ آرام سے اُس عورت کی وہ باتیں سنتا رہا جو وہ صلح کی قربانی پیش کرنے کے حوالے سے کر رہی تھی۔ شاید وہ عورت اُس نوجوان کو یہ تاثر دینا چاہتی تھی کہ وہ ایک بُری عورت نہیں ہے۔ ‏(‏اَمثال 7:‏13، 14،‏ 21 کو پڑھیں۔)‏ اگر وہ نوجوان خطروں سے دُور بھاگا ہوتا تو وہ کبھی بھی گُناہ کرنے کی آزمائش میں نہ پڑتا۔‏

10.‏ آج بھی ایک شخص ویسی ہی غلطی کیسے کر سکتا ہے جیسی غلطی اَمثال 7 باب باب میں بتائے گئے نوجوان نے کی تھی؟‏

10 اَمثال 7 باب باب میں بادشاہ سلیمان نے جو واقعہ بتایا، اُس سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کا کوئی بھی بندہ ایک بڑا گُناہ کرنے کے خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جس شخص سے کوئی بڑا گُناہ ہو جائے، وہ بعد میں کہے:‏ ”‏مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا۔ یہ سب کچھ اچانک ہو گیا!‏“‏ لیکن اگر وہ اِس بارے میں سوچے کہ اصل میں ہوا کیا تھا تو یقیناً اُسے احساس ہوگا کہ اُس نے کچھ ایسے احمقانہ قدم اُٹھائے تھے جن کی وجہ سے وہ بڑا گُناہ کر بیٹھا۔ شاید اُس کی بُرے لوگوں کے ساتھ دوستی تھی، وہ غلط تفریح کا اِنتخاب کرتا تھا، بُری ویب‌سائٹس پر جاتا تھا یا پھر ایسی جگہوں پر جاتا تھا جہاں جانا مسیحیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُس نے دُعا کرنا، بائبل پڑھنا، عبادتوں میں جانا اور مُنادی میں حصہ لینا چھوڑ دیا تھا۔ تو اَمثال میں بتائے گئے نوجوان کی طرح اُس شخص سے اچانک بڑا گُناہ نہیں ہو گیا۔‏

11.‏ گُناہ سے بچے رہنے کے لیے ہمیں کرنا چاہیے؟‏

11 ہم کیا سیکھتے ہیں؟ ہم یہ سیکھتے ہیں کہ ہمیں صرف گُناہ سے ہی نہیں بلکہ اُن باتوں سے بھی دُور رہنا چاہیے جو گُناہ کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہی بات سلیمان بادشاہ نے اُس نوجوان شخص اور بدکار عورت کے واقعے کا ذکر کرنے کے بعد واضح کی۔ سلیمان نے اُس عورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏آپ بھٹک کر اُس کے راستوں پر نہ جاؤ۔“‏ (‏اَمثا 7:‏25‏)‏ اُنہوں نے یہ بھی کہا:‏ ”‏اُس عورت سے دُور رہو؛‏ اُس کے گھر کے دروازے کے قریب نہ جاؤ۔“‏ (‏اَمثا 5:‏3،‏ 8‏)‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ گُناہ سے بچنے کے لیے ہمیں ایسی باتوں یا صورتحال سے بچنے کی ضرورت ہے جو ہمیں گُناہ کی طرف لے جاتی ہیں۔‏b اِن میں کچھ ایسی باتوں اور کاموں سے بچنا بھی شامل ہے جو ویسے تو مسیحیوں کے لیے غلط نہیں ہیں لیکن اِنہیں کرنے سے ایک مسیحی آزمائش میں پڑ سکتا ہے۔—‏متی 5:‏29، 30‏۔‏

12.‏ ایوب نے کیا کرنے کا پکا عزم کِیا ہوا تھا اور ایسا کرنے سے وہ آزمائش میں پڑنے سے کیسے بچ گئے؟ (‏ایوب 31:‏1‏)‏

12 اگر ہم ایسی صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں جو ہمیں گُناہ کی طرف لے جاتی ہیں تو ہمیں چوکس اور محتاط رہنے کا پکا عزم کرنا ہوگا۔ ایوب نے بالکل ایسا ہی کِیا تھا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں نے اپنی آنکھوں سے عہد باندھا ہوا ہے کہ مَیں کبھی کسی عورت کو غلط نظر سے نہیں دیکھوں گا۔“‏ ‏(‏ایوب 31:‏1 کو پڑھیں۔)‏ ایوب اپنے اِس عزم پر قائم تھے اِس لیے وہ زِناکاری جیسا بڑا گُناہ کرنے کے خطرے میں پڑے ہی نہیں۔ ہمیں بھی ہر اُس چیز سے دُور رہنے کا عزم کرنا چاہیے جو ہمارے لیے آزمائش کی وجہ بن سکتی ہے۔‏

13.‏ ہمیں اپنی سوچ کی حفاظت کیوں کرنی چاہیے؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

13 ہمیں اپنی سوچ کو بھی محفوظ رکھنا چاہیے۔ (‏خر 20:‏17)‏کچھ لوگ مانتے ہیں کہ اگر ایک شخص صرف خیالوں میں ہی گندی باتوں کے بارے میں سوچتا ہے تو اِس میں کوئی بُرائی نہیں۔ بس وہ شخص اُن گندے کاموں کو نہ کرے جن کے بارے میں وہ سوچ رہا ہے۔ لیکن ایسی سوچ سراسر غلط ہے۔ جو شخص گندے کاموں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے، وہ اپنی غلط خواہشوں کو بھڑکا رہا ہوتا ہے۔ ایک طرح سے وہ خود اپنے لیے آزمائش کھڑی کر رہا ہوتا ہے جس کا اب اُسے مقابلہ کرنا ہوگا۔ بے‌شک کبھی کبھار گندے خیالات ہمارے ذہن میں آ جاتے ہیں۔ لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ہم اِن گندے خیالوں کو فوراً اپنے ذہن سے نکال دیں اور اِن کی جگہ اچھی باتوں کے بارے میں سوچیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم گندے خیالوں کو اُن غلط خواہشوں میں نہیں بدلنے دیں گے جن سے بعد میں ہمارے لیے لڑنا بہت مشکل ہو جائے گا اور جن کی وجہ سے شاید ہم بہت بڑا گُناہ کر بیٹھیں۔—‏فِل 4:‏8؛‏ کُل 3:‏2؛‏ یعقو 1:‏13-‏15‏۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ ایک بھائی رات دیر تک ٹی‌وی دیکھ رہا ہے۔ 2.‏ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والی عورت کو بُری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ 3.‏ وہ اور اُس کے ساتھ کام کرنے والی وہی عورت ایک بار میں ہیں اور شراب پی رہے ہیں۔‏

ہمیں ہر اُس چیز سے بچنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہم آزمائش میں پڑ سکتے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 13 کو دیکھیں۔)‏


14.‏ اَور کون سی چیز آزمائش سے بچنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

14 ہم خود کو آزمائش سے بچانے کے لیے اَور کیا کر سکتے ہیں؟ ہمیں اِس بات پر پوری طرح سے قائل ہونا چاہیے کہ یہوواہ کے حکموں پر عمل کرنے سے ہمیں ہمیشہ فائدہ ہوگا۔ یہ سچ ہے کہ کبھی کبھار ہمیں اپنی سوچ اور خواہشوں کو یہوواہ کی مرضی کے مطابق ڈھالنا بہت مشکل لگ سکتا ہے۔ لیکن جب ہم ایسا کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں تو ہمیں بہت زیادہ خوشی اور ذہنی سکون ملتا ہے۔‏

15.‏ اگر ہم اپنے دل میں صحیح کام کرنے کی خواہش پیدا کریں گے تو ہم آزمائش سے بچنے کے قابل کیسے ہوں گے؟‏

15 ہمیں اپنے دل میں صحیح کام کرنے کی خواہش پیدا کرنی چاہیے۔ اگر ہم ”‏بدی سے عداوت اور نیکی سے محبت“‏ رکھنا سیکھیں گے تو ہمارا یہ عزم اَور پکا ہو جائے گا کہ ہم ہر صورتحال میں صحیح کام کریں گے اور گُناہ کی طرف لے جانے والی باتوں سے دُور رہیں گے۔ (‏عامو 5:‏15)‏ اپنے دل میں صحیح کام کرنے کی خواہش پیدا کرنے سے ہم اُس وقت بھی آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کر پائیں گے جب یہ آزمائش ہم پر اچانک سے آ جائے گی۔‏

16.‏ خدا کی خدمت میں مصروف رہنے سے ہم چوکس اور محتاط کیسے رہ سکتے ہیں؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

16 ہمارے دل میں صحیح کام کرنے کی خواہش کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ اُن کاموں میں مصروف رہنے سے جن سے ہمارے دل میں یہوواہ کے لیے اَور زیادہ محبت بڑھ سکتی ہے۔ جب ہم عبادتوں میں ہوتے ہیں یا مُنادی کر رہے ہوتے ہیں تو ہم کوئی غلط کام کرنے کی آزمائش میں نہیں پڑتے۔ اِس کی بجائے ہم اپنے دل میں یہوواہ کو خوش کرنے کی خواہش بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ (‏متی 28:‏19، 20؛‏ عبر 10:‏24، 25‏)‏ خدا کے کلام کو پڑھنے، اِس کا مطالعہ کرنے اور اِس میں لکھی باتوں پر سوچ بچار کرنے سے ہم اپنے اِس عزم کو مضبوط کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم اچھائی سے محبت اور بُرائی سے نفرت کریں گے۔ (‏یشو 1:‏8؛‏ زبور 1:‏2، 3؛‏ 119:‏97،‏ 101‏)‏ یاد رکھیں کہ یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا تھا:‏ ”‏دُعا کرتے رہیں تاکہ آزمائش میں نہ پڑیں۔“‏ (‏متی 26:‏41‏)‏ اِس لیے دُعا میں اپنے آسمانی باپ سے بات کریں۔ اِس طرح آپ اُس کی طرف سے ملنے والی مدد سے فائدہ اُٹھا سکیں گے اور اپنے اِس عزم کو مضبوط کر پائیں گے کہ آپ ہمیشہ اُسے خوش کریں گے۔—‏یعقو 4:‏8‏۔‏

اگر ہم باقاعدگی سے ایسے کام کریں گے جن سے ہم یہوواہ کے قریب رہ سکتے ہیں تو ہم آزمائش کے آگے گُھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ (‏پیراگراف نمبر 16 کو دیکھیں۔)‏c


ہمیشہ چوکس رہیں

17.‏ پطرس کی کون سی خامی اُن کے لیے ایک مسئلہ تھی؟‏

17 شاید ہم اپنی کچھ خامیوں پر تو مکمل طور پر قابو پا لیں لیکن کچھ خامیوں پر قابو پانے کے لیے ہمیں ایک لمبی جنگ لڑنی پڑے۔ اِس سلسلے میں ذرا پطرس رسول کی مثال پر غور کریں۔ اُنہوں نے اِنسان کے ڈر کی وجہ سے تین بار یسوع مسیح کو جاننے سے اِنکار کر دیا۔ (‏متی 26:‏69-‏75‏)‏ لیکن بعد میں جب پطرس نے یہودیوں کی عدالتِ‌عظمیٰ کے سامنے بڑی دلیری سے گواہی دی تو ایسے لگ رہا تھا جیسے اُنہوں نے اپنے اِس ڈر پر قابو پا لیا ہے۔ (‏اعما 5:‏27-‏29‏)‏ لیکن پھر کچھ سالوں بعد پطرس نے کچھ بھائیوں کے ڈر سے اُن مسیحیوں کے ساتھ کھانا پینا چھوڑ دیا جو پہلے غیرقوم سے تعلق رکھتے تھے۔ (‏گل 2:‏11، 12‏)‏ پطرس کے دل میں اِنسان کا ڈر پھر سے اُبھر آیا۔ شاید اُن کی یہ خامی کبھی پوری طرح سے دُور ہوئی ہی نہیں تھی۔‏

18.‏ ہماری کچھ خامیوں کی وجہ سے ہمارے ساتھ کیا ہو سکتا ہے؟‏

18 پطرس کی طرح شاید ہمیں لگے کہ ہم نے اپنی کسی خامی پر قابو پا لیا ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ بعد میں ہمیں احساس ہو کہ ہم اپنی اِس خامی کی وجہ سے آزمائش پڑ رہے ہیں۔ ذرا ایک بھائی کی مثال پر غور کریں جسے گندی ویڈیوز اور تصویریں دیکھنے کی عادت تھی۔ اُس بھائی نے کہا:‏ ”‏مَیں نے دس سال تک کوئی گندی ویڈیو یا تصویر نہیں دیکھی۔ مجھے پکا یقین ہو گیا تھا کہ مَیں نے اپنی اِس خامی پر قابو پا لیا ہے۔ لیکن میری یہ خامی ایک خطرناک جانور کی طرح دبک کر بیٹھی ہوئی تھی اور حملہ کرنے کے لیے موقعے کا اِنتظار کر رہی تھی۔“‏ خوشی کی بات ہے کہ جب بھی ہمارا بھائی اِس آزمائش میں پڑا، اُس نے ہمت نہیں ہاری اور وہ اپنی اِس خامی سے لڑتا رہا۔ وہ سمجھ گیا کہ اُسے اپنی اِس خامی سے ہر روز لڑنا ہوگا۔ شاید اُس وقت تک جب تک بُری دُنیا کا خاتمہ نہیں آ جاتا۔ یہ بھائی اب اَور بھی زیادہ محتاط ہے اور اِس سلسلے میں اُس کی بیوی اور کلیسیا کے بزرگ اُس کی بہت مدد کر رہے ہیں۔‏

19.‏ اگر ہم اپنی کسی خامی پر ابھی تک قابو نہیں پا سکے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟‏

19 اگر ہم لاکھ کوششوں کے بعد بھی اپنی کسی ایسی خامی پر قابو نہیں پا سکے جس کی وجہ سے ہم آزمائش میں پڑ سکتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم یسوع مسیح کی اِس نصیحت پر عمل کر سکتے ہیں:‏ ”‏چوکس رہیں۔“‏ اگر آپ کو لگتا بھی ہے کہ آپ ایک آزمائش سے لڑنے کے لیے بالکل تیار ہیں تو تب بھی ایسی صورتحال سے بچنے کی پوری کوشش کریں جو گُناہ کی طرف لے جا سکتی ہے۔ (‏1-‏کُر 10:‏12‏)‏ وہی طریقے اپنائیں جن کے ذریعے آپ پہلے بھی اپنی اُس خامی سے اچھی طرح سے لڑ پائے۔ اَمثال 28:‏14 میں لکھا ہے:‏ ”‏وہ شخص خوش رہتا ہے جو ہمیشہ چوکس رہتا ہے۔“‏—‏2-‏پطر 3:‏14‏۔‏

چوکس رہنے کے فائدے

20-‏21.‏ (‏الف)‏اگر ہم آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہیں گے تو اِس سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ (‏ب)‏اگر ہم آزمائش سے لڑنے کے لیے اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے تو یہوواہ ہمارے لیے کیا کرے گا؟ (‏2-‏کُرنتھیوں 4:‏7‏)‏

20 ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ اگر ہم آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہیں گے تو اِس سے ہمیں ہمیشہ فائدہ ہوگا۔ ”‏گُناہ کا وقتی مزہ لُوٹنے کی بجائے“‏ خدا کے معیاروں کے مطابق زندگی گزارنے سے ہمیں زیادہ خوشی ملے گی۔ (‏عبر 11:‏25؛‏ زبور 19:‏8‏)‏ اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہوواہ نے ہمیں بنایا ہی اِس طرح سے ہے کہ ہم اُس کی مرضی کے مطابق زندگی گزاریں۔ (‏پید 1:‏27‏)‏ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو یہوواہ کے حضور ہمارا ضمیر صاف رہتا ہے اور مستقبل میں ہمیں ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید ملتی ہے۔—‏1-‏تیم 6:‏12؛‏ 2-‏تیم 1:‏3؛‏ یہوداہ 20، 21‏۔‏

21 بے‌شک ”‏جسم کمزور ہے۔“‏ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی خامیوں کے آگے بے‌بس ہیں۔ یہوواہ ہمیں طاقت دینے کے لیے بالکل تیار کھڑا ہے۔ ‏(‏2-‏کُرنتھیوں 4:‏7 کو پڑھیں۔)‏ لیکن غور کریں کہ جو طاقت ہمیں یہوواہ دیتا ہے، وہ اِنسانی قوت سے بڑھ کر ہے۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ آزمائش سے لڑنے کے لیے سب سے پہلے تو ہمیں اپنی پوری قوت یا طاقت لگانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہماری دُعاؤں کے جواب میں یہوواہ ہمیں وہ اِضافی طاقت دے گا جس کی ہمیں ضرورت ہوگی۔ (‏1-‏کُر 10:‏13‏)‏ بے‌شک یہوواہ کی مدد سے ہم آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہ سکتے ہیں۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • ہمیں کن صورتحال میں آزمائش سے بچنے کے لیے چوکس رہنا چاہیے؟‏

  • ہم آزمائش میں پڑنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

  • ہمیں ہمیشہ چوکس رہنے کی ضرورت کیوں ہے؟‏

گیت نمبر 47‏:‏ ہر روز دُعا کریں

a الفاظ کی وضاحت:‏ جب یسوع مسیح نے متی 26:‏41 میں لفظ ‏”‏دل“‏ اِستعمال کِیا تو اِس کا مطلب یہ تھا کہ ہم صحیح کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اور جب اُنہوں نے لفظ ‏”‏جسم“‏ اِستعمال کِیا تو وہ اِس بات پر زور دے رہے تھے کہ گُناہ‌گار اور عیب‌دار ہونے کی وجہ سے ہم اکثر غلط باتوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور غلط کام کر بیٹھتے ہیں۔ بے‌شک ہم اچھے کام کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ہم چوکس اور محتاط نہیں رہیں گے تو ہم اپنی غلط خواہشوں کے آگے گُھٹنے ٹیک دیں گے۔‏

b اگر کسی شخص سے کوئی بڑا گُناہ ہو گیا ہے تو اُسے کتاب ‏”‏اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!‏“‏ کے سبق نمبر 57 میں نکتہ نمبر 1-‏3 کو اور نومبر 2020ء کے ‏”‏مینارِنگہبانی“‏ کے صفحہ نمبر 27-‏28 پر مضمون ”‏اپنی نظریں مستقبل کی طرف رکھیں“‏ کے پیراگراف نمبر 12-‏17 کو پڑھنے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔‏

c تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک بھائی صبح کے وقت روزانہ کی آیت پڑھ رہا ہے، دوپہر میں کھانے کے وقفے کے دوران بائبل پڑھ رہا ہے اور شام کو عبادت میں گیا ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں