سن 1914ء کے متعلق ہمارے عقیدوں کی وضاحت
پاک کلام میں ہماری حوصلہافزائی کی گئی ہے کہ ہم اپنے عقیدوں کے متعلق ”جواب دینے کے لیے ہمیشہ تیار“ رہیں لیکن ”نرممزاجی اور احترام کے ساتھ۔“ (1-پطر 3:15، نیو اُردو بائبل ورشن) مگر کبھی کبھار ہمیں کچھ باتوں کی وضاحت کرنا مشکل لگتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں اِس بات کی وضاحت کرنا مشکل لگ سکتا ہے کہ ہم یہ کیسے جانتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت نے 1914ء میں حکمرانی شروع کی تھی۔ اِس سلسلے میں ہم کتاب پاک صحائف کی تعلیم کے باب 9، پیراگراف 4-14 میں دیے گئے مواد کو اِستعمال کر سکتے ہیں۔ اِن پیراگرافوں کو پڑھتے وقت نیچے دیے گئے سوالوں پر غور کریں:
مَیں صاحبِخانہ کو کن باتوں کے لیے داد دے سکتا ہوں تاکہ وہ مزید باتچیت کے لیے تیار ہو جائے؟—اعما 17:22۔
اپنے عقیدوں کی وضاحت کرتے وقت مَیں خاکساری کیسے ظاہر کر سکتا ہوں؟—اعما 14:15۔
کوئی نئی بات بتانے سے پہلے پچھلی باتوں کا خلاصہ بتانا کیوں اچھا ہوتا ہے؟
صاحبِخانہ سے باتچیت کے دوران وقتاًفوقتاً اُس سے یہ پوچھنا کیوں ضروری ہے کہ آیا وہ اُن باتوں کو سمجھ گیا ہے جو آپ نے اُسے بتائی ہیں؟
یہ کیوں اچھا ہوگا کہ ایک وقت میں بہت زیادہ معلومات پر بات نہ کی جائے؟—یوح 16:12۔
ہمارا عظیم ”مُعلم“ یہوواہ ہمیں سیکھا رہا ہے کہ ہم اُن لوگوں کو تعلیم کیسے دیں جو سچائی کے پیاسے ہیں۔ ہم اِس تربیت کے لیے اُس کے بہت شکر گزار ہیں۔—یسع 30:20۔