گواہی دینے کے کام میں اپنی مہارتوں کو نکھاریں—اُن سے باتچیت جاری رکھیں جو ہمارا پیغام سننے سے اِنکار کرتے ہیں
یہ مہارت پیدا کرنا ضروری کیوں ہے؟ فرض کریں کہ آپ کو پتہ چلتا ہے کہ بہت جلد ایک آفت آنے والی ہے۔ اگر لوگ کسی محفوظ جگہ پر نہیں گئے تو وہ مر جائیں گے۔ آپ بھاگے بھاگے اپنے پڑوسی کے پاس جاتے ہیں تاکہ آپ اُسے آنے والی آفت سے آگاہ کر سکیں۔ لیکن وہ فوراً آپ کی بات کاٹ دیتا ہے اور آپ سے کہتا ہے کہ ”ابھی مَیں مصروف ہوں۔“ ظاہری بات ہے کہ آپ اُسے اُس کے حال پر چھوڑ کر چلے نہیں جائیں گے بلکہ اُس کی مدد کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ ہمارے علاقے میں بہت سے لوگ ہمارا پیغام نہیں سننا چاہتے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ ہمارے پیغام سے اُن کی جان بچ سکتی ہے۔ جب ہم اُن کے پاس جاتے ہیں تو شاید وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہوتے ہیں۔ (متی ۲۴:۳۷-۳۹) یا شاید ہمارے بارے میں جھوٹی افواہوں کی وجہ سے وہ ہم سے تعصب برتتے ہیں۔ (متی ۱۱:۱۸، ۱۹) شاید اُنہیں لگتا ہے کہ ہمارے مذہب میں بھی دوسرے مذہبوں کی طرح بُرائی پائی جاتی ہے۔ (۲-پطر ۲:۱، ۲) اگر صاحبِخانہ شروعشروع میں ہمارے پیغام میں دلچسپی نہیں لیتا تو ہمیں فوراً ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
• گھرگھر مُنادی کرنے سے پہلے چند منٹ کے لیے غور کریں کہ صاحبِخانہ کس وجہ سے آپ کا پیغام سننے سے اِنکار کر سکتا ہے اور ایسی صورت میں آپ اُس سے کیا کہہ سکتے ہیں۔
• اگر صاحبِخانہ کوئی اعتراض کرتا ہے تو پیار سے اُس کے ساتھ باتچیت جاری رکھنے کی کوشش کریں۔ ایسا کرنے کے لیے شاید آپ اُسے کسی بات پر داد دے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر صاحبِخانہ کہتا ہے کہ اُس کا تعلق فلاں مذہب سے ہے تو آپ اُس سے کہہ سکتے ہیں کہ ”مَیں ایسے لوگوں سے ہی ملنا چاہ رہا تھا جو خدا کی عبادت کرتے ہیں۔“ کبھیکبھار صاحبِخانہ کے احساسات یا صورتحال کا لحاظ رکھنے سے ہم اُسے گواہی دینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر صاحبِخانہ کہتا ہے کہ ”مَیں مصروف ہوں“ تو شاید آپ اُس سے کہہ سکتے ہیں کہ ”کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن جانے سے پہلے مَیں آپ کو یہ دینا چاہتا ہوں۔“ یا اگر صاحبِخانہ ہمارا پیغام نہیں سننا چاہتا تو آپ اُس سے پوچھ سکتے ہیں کہ ”کیا آپ بائبل کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے یا کیا آپ کسی مذہبی موضوع پر بات کرنا پسند نہیں کرتے؟“
• سمجھداری سے کام لیں۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا دوسروں کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ اُس کی بات سنیں۔ (است ۳۰:۱۹) ہر شخص اُس کے حضور جوابدہ ہے۔ (گل ۶:۵) اگر صاحبِخانہ کسی بھی صورت میں ہم سے بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا تو اچھا ہے کہ ہم وہاں سے چلے جائیں۔ اگر ہم صاحبِخانہ کے احساسات کا احترام کریں گے تو ممکن ہے کہ جب کوئی اَور مبشر اُسے گواہی دینے جائے تو وہ اُس مبشر کی بات سننے کو تیار ہو جائے۔—۱-پطر ۳:۱۵۔
اِس مہینے یہ کریں:
• جب صاحبِخانہ آپ کی بات سننے سے اِنکار کر دیتا ہے تو بعد میں اپنے ساتھ مُنادی کرنے والے مبشر سے بات کریں کہ آپ باتچیت کو جاری رکھنے کے لیے اَور کیا کر سکتے تھے۔