اُن لوگوں کے ساتھ مطالعہ شروع کرنے کی کوشش کریں جو باقاعدگی سے رسالے لیتے ہیں
۱. خدا کی تنظیم ہماری حوصلہافزائی کیوں کرتی ہے کہ ہم اُن لوگوں کو باقاعدگی سے رسالے دیں جو اِنہیں شوق سے پڑھتے ہیں؟
۱ بہت سے لوگ اگرچہ ہمارے ساتھ بائبل کا مطالعہ نہیں کرنا چاہتے لیکن وہ ہمارے رسالے بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔ اِس لیے یہوواہ خدا کی تنظیم ہماری حوصلہافزائی کرتی ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو باقاعدگی سے رسالے دیں۔ جب لوگ باقاعدگی سے ہمارے رسالے پڑھتے ہیں تو اکثر اُن کے دل میں پاک کلام کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ (۱-پطر ۲:۲) ہو سکتا ہے کہ رسالے میں لکھی کوئی بات اُن کے دل کو چُھو لے اور وہ بائبل کا مطالعہ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
۲. جن لوگوں کو ہم باقاعدگی سے رسالے دیتے ہیں، اُن کے دل میں ہم پاک کلام کو سیکھنے کا شوق کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟
۲ سچائی کے بیج کو پانی دیں: صاحبِخانہ کو صرف رسالے دے کر چلے نہ جائیں بلکہ اُس کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ دونوں کی اچھی جانپہچان ہو جائے۔ اِس طرح آپ کو اُس کے حالات، دلچسپی اور عقیدوں سے واقف ہونے کا موقع ملے گا اور آپ سمجھ جائیں گے کہ آپ کو اُس سے کیا بات کرنی چاہیے۔ (امثا ۱۶:۲۳) ہر بار صاحبِخانہ کے پاس تیاری کرکے جائیں۔ اگر ممکن ہو تو رسالے میں دیے گئے کسی نکتے اور اِس کے ساتھ دی گئی آیت پر مختصراً بات کریں تاکہ آپ سچائی کے بیج کو پانی دے سکیں۔ (۱-کر ۳:۶) ہر ملاقات کی تاریخ کو لکھ لیں۔ اِس کے علاوہ یہ بھی لکھ لیں کہ آپ نے اُسے کونسے رسالے پیش کیے، کس موضوع پر بات کی اور کونسی آیتیں پڑھیں۔
۳. جن لوگوں کو ہم باقاعدگی سےرسالے دیتے ہیں، ہمیں اُن کے ساتھ کتنی بار دوبارہ ملاقات کرنی چاہیے؟
۳ آپ کو کتنی بار دوبارہ ملاقات کرنی چاہیے؟ جب بھی ہمارے نئے رسالے آتے ہیں تو آپ کو اِنہیں صاحبِخانہ کو دینا چاہیے۔ لیکن آپ اپنے حالات اور صاحبِخانہ کے دلچسپی کے مطابق رسالے دینے کے بعد بھی چند ایک بار دوبارہ ملاقات کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر رسالے دینے کے ایک یا دو ہفتے بعد آپ اُس کے پاس دوبارہ جا کر کہہ سکتے ہیں: ”دراصل مَیں آپ کو اُن رسالوں میں سے ایک خاص بات دِکھانا چاہتا تھا جو مَیں نے آپ کو دیے تھے۔“ اِس طرح صاحبِخانہ کے دل میں اُس مضمون کو پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا۔ لیکن اگر وہ اِس مضمون کو پڑھ چُکا ہے تو آپ اُس سے پوچھ سکتے ہیں کہ اُسے یہ مضمون کیسا لگا اور پھر اِس پر مختصراً بات کر سکتے ہیں۔ یا اگر صاحبِخانہ ہماری کتابیں رسالے شوق سے پڑھتا ہے تو آپ اُسے ہمارا وہ پرچہ، بروشر یا کتاب دے سکتے ہیں جو اُس مہینے کی پیشکش ہے۔
۴. یہ اندازہ لگانے کے لیے کہ آیا صاحبِخانہ بائبل کا مطالعہ کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے یا نہیں، ہم وقتاًفوقتاً کیا کر سکتے ہیں؟
۴ اِس بات کا اِنتظار نہ کریں کہ صاحبِخانہ خود آپ سے کہے کہ وہ بائبل کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے۔ آپ خود اِس سلسلے میں پہل کریں۔ اگر اُس نے پہلے بائبل کا مطالعہ کرنے سے منع کر دیا تھا تو بھی اُسے وقتاًفوقتاً مینارِنگہبانی کا سلسلہوار مضمون ”پاک کلام سے متعلق سوالوجواب“ دِکھائیں اور اگر وہ اِس مضمون پر بات کرنے کو تیار ہے تو شاید آپ اُس کے ساتھ دروازے پر کھڑے ہو کر بائبل کا مطالعہ شروع کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ مطالعہ شروع نہیں کرا پاتے تو بھی اُسے رسالے دیتے رہے تاکہ اُس کے دل میں بائبل کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہو۔