سوالی بکس
▪ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری موت کے بعد ہمارے کچھ اثاثے یا پھر ہماری پوری جائیداد یہوواہ خدا کی تنظیم کو دی جائے تو ہمیں کن باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے؟
جب انسان مر جاتا ہے تو اُس کا اپنے مالودولت پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔ (واعظ ۹:۵، ۶) اِس لئے بہت سے لوگ وصیتنامہ لکھتے ہیں جس میں وہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنے اثاثوں کو کیسے تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ (۲-سلا ۲۰:۱) اِس دستاویز میں وہ عموماً یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ کس شخص کو اپنا وصی یعنی وصیت کا مختار بنانا چاہتے ہیں۔ اگر وصیتنامہ موجود نہ ہو تو بہت سے ملکوں میں عدالت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ جائیداد کو کیسے تقسیم کِیا جائے۔ لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی موت کے بعد آپ کے کچھ اثاثے یا آپ کی پوری جائیداد یہوواہ خدا کی تنظیم کو دی جائے تو یہ بہت اہم ہے کہ آپ وصیتنامہ بنائیں اور کسی کو اپنا وصی مقرر کریں۔
وصی کے کندھوں پر بہت بھاری ذمہداری ہوتی ہے۔ اگر جائیداد بہت زیادہ ہو تو ہو سکتا ہے کہ اُسے سارے اثاثے اِکٹھے کرنے اور اِنہیں تقسیم کرنے کے لئے بہت بھاگدوڑ کرنی پڑے اور بہت وقت لگانا پڑے۔ اِس کے علاوہ شاید جائیداد کی تقسیم کے سلسلے میں حکومت کے بھی قوانین ہوں جن کی پابندی کرنا لازمی ہے۔ لہٰذا وصی کے طور پر کام کرنا کلیسیا کے ہر فرد کے بس کی بات نہیں ہے۔ وصی کے طور پر ایک ایسے شخص کو چنیں جو لائق اور قابلِبھروسا ہو اور جو آپ کی خواہشات کو پورا کرنے کو تیار ہو۔
اگر آپ کو وصی مقرر کِیا جائے: اگر کوئی آپ کو اپنا وصی مقرر کرنا چاہے تو حامی بھرنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ آپ اِس ذمہداری کو نبھا سکتے ہیں یا نہیں اور اِس سلسلے میں دُعا بھی کریں۔ (لو ۱۴:۲۸-۳۲) اُس شخص کی موت کے بعد آپ کو اُن سب لوگوں کو خبر دینی پڑے گی جن کا وصیتنامے میں ذکر ہوا ہے۔ پھر جب آپ کو وصی کے طور پر اختیار حاصل ہو جاتا ہے تو آپ کو تمام اثاثے قانون اور وصیت کے مطابق تقسیم کرنے ہوں گے۔ وصی کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ چاہے جائیداد زیادہ ہو یا کم، اُسے کسی بھی صورت میں وصیت میں دی گئی ہدایات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ وصیت میں جو بھی اثاثے یہوواہ کے گواہوں کی تنظیم کے نام ہیں، اُنہیں کسی اَور مقصد کے لئے استعمال نہیں کِیا جانا چاہئے۔—لو ۱۶:۱۰؛ ۲۱:۱-۴۔