ہوا میں مکے نہ ماریں
۱. ہم ۱-کرنتھیوں ۹:۲۶ کو مُنادی کے کام پر کیسے لاگو کر سکتے ہیں؟
۱ پولس رسول نے لکھا: ”مَیں بھی اِسی طرح دوڑتا ہوں یعنی بےٹھکانا نہیں۔ مَیں اِسی طرح مکوں سے لڑتا ہوں یعنی اُس کی مانند نہیں جو ہوا کو مارتا ہے۔“ (۱-کر ۹:۲۶) دراصل پولس رسول اِس آیت میں خدا کی خدمت میں اپنی منزلوں کو حاصل کرنے کی بات کر رہے تھے۔ لیکن یہ آیت مُنادی کے کام پر بھی لاگو ہو سکتی ہے۔ ہم اِس طرح سے ’مکوں سے لڑنا‘ یعنی اپنی طاقت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ اِس سے عمدہ نتائج حاصل ہوں۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟
۲. ہم مُنادی کے لئے وقت اور جگہ چننے کے سلسلے میں پہلی صدی کے مسیحیوں کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۲ جہاں لوگ ہیں، وہاں جائیں: پولس رسول اور پہلی صدی کے دوسرے مسیحی وہاں مُنادی کرتے تھے جہاں پر اُنہیں لوگ ملتے تھے۔ (اعما ۵:۴۲؛ ۱۶:۱۳؛ ۱۷:۱۷) اِسی طرح اگر ہمارے علاقے میں زیادہتر لوگ شام کے وقت گھر پر موجود ہوتے ہیں تو ہم اُس وقت گھرگھر مُنادی کر سکتے ہیں۔ کیا صبح اور شام کے وقت بس اور ٹرین کے اڈے لوگوں سے بھرے ہوتے ہیں؟ لوگ خریداری کرنے کب نکلتے ہیں؟ اگر ہم ایسے موقعوں پر لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کریں گے تو شاید ہم زیادہ لوگوں کو خوشخبری سنا سکیں گے۔
۳. ہم مُنادی کے کام کا اِنتظام کیسے کر سکتے ہیں تاکہ ہم ہوا میں مکے نہ ماریں؟
۳ مُنادی کے کام کا دانشمندی سے اِنتظام کریں: کلیسیا کے علاقے میں رہنے والے لوگوں کو خوشخبری سنانے کے لئے ہمیں دانشمندی سے کام لینا چاہئے تاکہ ہم ہوا میں مکے نہ ماریں۔ مثال کے طور پر اگر ہم مبشروں کے ایک بہت بڑے گروہ کو چھوٹے علاقے میں لے کر جاتے ہیں تو اِس گروہ کا اِنتظام کرنا مشکل ہوگا۔ اِس لئے بہتر ہوگا کہ گروہ کو تقسیم کِیا جائے۔ اِس کے علاوہ ہم اپنے گھر کے قریب بھی مُنادی کے لئے کوئی علاقہ اپنے نام پر لے سکتے ہیں جہاں پہنچنے میں زیادہ وقت نہ لگے۔
۴. ہم مُنادی کے کام کے سلسلے میں مچھیروں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۴ یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو مچھیروں سے تشبیہ دی۔ (مر ۱:۱۷) مچھیرے کا مقصد صرف جال پھینکنا ہی نہیں بلکہ مچھلیاں پکڑنا ہے۔ ایک کامیاب مچھیرے کو معلوم ہے کہ کب اور کہاں مچھلیاں ملتی ہیں اور وہ اُنہیں پکڑنے میں دیر نہیں لگاتا۔ جیہاں، ایک مچھیرا اپنی طاقت کا دانشمندانہ استعمال کرتا ہے۔ اُمید ہے کہ ہم بھی مُنادی کے کام میں ایسا ہی کریں۔—عبر ۶:۱۱۔