اپنی خدمتگزاری میں مؤثر ہوں
۱ آسمان پر تاریکی چھا جاتی ہے اور کان پھاڑ دینے والی ہیبتناک آواز بڑھتی جاتی ہے۔ پھر دھوئیں کا بادل نیچے آنے لگتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ زمین کو مکمل طور پر تباہ کرنے کیلئے آنے والی ٹڈیوں کا ایک لشکر! یوایل نبی کی معرفت بیانکردہ اس منظر کی تکمیل خدا کے ممسوح خادموں اور اُنکی ساتھی بڑی بِھیڑ کے منادی کے کام سے ہوتی ہے۔
۲ مئی ۱۹۹۸ کے مینارِنگہبانی کے صفحہ ۲۱ پر پیراگراف ۱۹ نے بیان کِیا ”خدا کی جدید ٹڈیوں کی فوج نے مسیحی دُنیا کے ’شہر‘ میں مکمل گواہی دی ہے۔ (یوایل ۲:۹) . . . وہ تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے لاکھوں گھروں میں داخل ہو رہی ہیں، گلیکوچوں میں لوگوں تک رسائی کر رہی ہیں، فون پر باتچیت کر رہی ہیں تاکہ ہر ممکن طریقے سے یہوواہ کے پیغام کا اعلان کریں۔“ کیا خدا کی طرف سے تفویضکردہ کام میں شرکت کرنا ایک عظیم شرف نہیں ہے؟
۳ حقیقی ٹڈیوں کے برعکس جنکا مقصد محض اپنا پیٹ بھرنا ہوتا ہے، یہوواہ کے خادموں کے طور پر ہمیں اُن لوگوں کی زندگیوں کی بہت فکر ہے جن کو ہم منادی کرتے ہیں۔ ہم خدا کے کلام میں پائی جانیوالی سچائیاں سیکھنے اور ان سے تحریک پا کر ایسے اقدامات اُٹھانے کیلئے دوسروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو ہمیشہ کی زندگی پر منتج ہوتے ہیں۔ (یوح ۱۷:۳؛ ۱-تیم ۴:۱۶) لہٰذا ہم اپنی خدمتگزاری میں مؤثر ہونا چاہتے ہیں۔ منادی کیلئے جو طریقہ بھی استعمال کِیا جاتا ہے، ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آیا ہم اسے ایسے وقت پر اور اس طرح سے انجام دے رہے ہیں جو عمدہترین نتائج کا باعث بنیگا۔ چونکہ ”دُنیا کی شکل بدلتی جاتی ہے،“ لہٰذا زیادہ سے زیادہ پھلدار ہونے کا یقین کرنے کیلئے ہم اپنی رسائی اور طریقوں کا تجزیہ کر کے اچھا کرتے ہیں۔—۱-کر ۷:۳۱۔
۴ اگرچہ ہم بہت سے طریقوں سے لوگوں سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں تو بھی گھرباگھر کا کام ہماری خدمتگزاری کا بنیادی حصہ ہے۔ کیا آپ کو اکثراوقات ایسی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے کہ جب آپ ملاقات کے لئے جاتے ہیں تو لوگ گھر پر نہیں ہوتے یا سو رہے ہوتے ہیں؟ آپ کے لئے اُن کو خوشخبری کے پیغام میں شریک کرنے میں ناکامی کتنی مایوسکُن ہو سکتی ہے! آپ اس چیلنج پر کیسے قابو پا سکتے ہیں؟
۵ لچکدار اور معقول بنیں: پہلی صدی کے اسرائیل میں ماہیگیر رات کے وقت مچھلیاں پکڑتے تھے۔ رات کے وقت کیوں؟ اگرچہ یہ وقت سہل نہ تھا تاہم یہ زیادہ مچھلیاں پکڑنے کیلئے نہایت مناسب تھا۔ یہ نہایت پھلدار وقت تھا۔ اس دستور پر تبصرہ کرتے ہوئے، جون ۱۵، ۱۹۹۲ کے واچٹاور نے بیان کِیا: ”ہمیں بھی اپنے علاقے کا بغور مشاہدہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس وقت مچھلیاں پکڑنے جائیں جب لوگوں کی اکثریت گھر پر موجود ہوتی ہے اور جوابیعمل دکھاتی ہے۔“ معاشرتی عادات کا محتاط مشاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ بہت سے قصبوں اور رہائشی علاقوں میں ہفتے اور اتوار کی صبح شاید بہت سے لوگ گھر پر ہوں تو بھی عموماً وہ اُس وقت ملاقات کیلئے جوابیعمل نہیں دکھاتے۔ اگر آپ کے علاقے کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے تو کیا آپ دوپہر کو یا صبح کو ذرا دیر سے ملاقات کر سکتے ہیں؟ یہ ہماری خدمتگزاری کو مؤثر بنانے اور پڑوسیوں کے لئے پاسولحاظ دکھانے کا عمدہ طریقہ ہے جو سچی مسیحی محبت کا ثبوت ہے۔—متی ۷:۱۲۔
۶ فلپیوں ۴:۵ میں پولس ہمیں یاددہانی کراتا ہے کہ ’تمہاری معقولپسندی سب آدمیوں پر ظاہر ہو۔‘ اپنی تفویض کو مستعدی اور جوشوجذبے سے انجام دیتے ہوئے، ہم اس الہامی ہدایت کی مطابقت میں اپنے طورطریقوں میں متوازن اور معقول بننا چاہتے ہیں۔ ہم ’علانیہ اور گھرگھر سکھانے سے ہچکچاہٹ‘ محسوس کرنا نہیں چاہتے بلکہ یہ یقین کر لینا چاہتے ہیں کہ گھرباگھر کی اپنی خدمتگزاری کو ایسے اوقات پر انجام دیں جو معقول اور پھلدار ہیں۔ (اعما ۲۰:۲۰) پہلی صدی کے اسرائیلی ماہیگیروں کی طرح ہم بھی اُس وقت پر ’مچھلیاں پکڑنا‘ چاہتے ہیں جب ہم زیادہ پھلدار ثابت ہو سکیں نہ کہ اُس وقت جو ہمارے لئے زیادہ سہل ہے۔
۷ کونسی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں؟ اکثراوقات ہفتے یا اتوار کے روز اجلاس برائے میدانی خدمت ۰۰:۹ یا ۳۰:۹ بجے منعقد ہوتے ہیں جسکے فوراً بعد گروپ علاقے میں گھرباگھر کے کام کیلئے پیشقدمی کرتا ہے۔ تاہم بعض مجلسِبزرگان نے رہائشی علاقوں میں گھرباگھر جانے سے پہلے گروپ کیلئے خدمتگزاری کے دیگر طریقوں جیسےکہ گلیکوچوں میں، کاروباری علاقے میں گواہی دینے یا واپسی ملاقاتوں میں حصہ لینے کا بندوبست بنایا ہے۔ دیگر کلیسیاؤں نے اجلاس برائے میدانی خدمت کا وقت صبح کو دیر سے—۰۰:۱۰ بجے، ۰۰:۱۱ بجے یا دوپہر ۰۰:۱۲ بجے مقرر کِیا ہے۔ اسکے بعد گروپ گھرباگھر کے کام میں چلا جاتا ہے اور دوپہر تک خدمت کیلئے باہر رہتا ہے۔ بعض علاقوں میں صبح کی نسبت دوپہر کے وقت میدانی خدمت کیلئے جمع ہونے کیلئے بہترین وقت ہو سکتا ہے۔ ایسے ردوبدل گھرباگھر کے کام کے زیادہ پھلدار ہونے کا باعث بن سکتے ہیں۔
۸ فہیم اور موقعشناس بنیں: جب ہم گھرباگھر لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں تو ہم اپنے پیغام کیلئے مختلف قسم کے ردِعمل کا سامنا کرتے ہیں۔ بعض صاحبِخانہ اثرپذیر ہوتے ہیں جبکہ دوسرے بےحس ہوتے ہیں اور دیگر بحثوتکرار کرنے والے یا جھگڑالو ہوتے ہیں۔ مؤخرالذکر کے معاملے میں ریزننگ فرام دی سکرپچرز کے صفحہ ۷ پر ہمیں یاددہانی کرائی گئی ہے کہ ”جو لوگ سچائی کیلئے قدردانی ظاہر نہیں کرتے اُن سے ’بحث جیتنا‘ ہمارا مقصد نہیں ہے۔“ اگر صاحبِخانہ مخالف ہے تو ہمارے لئے وہاں سے چلے جانا موزوں ہوگا۔ اس بات پر اصرار کرکے ہم لوگوں کو اشتعال نہیں دلائیں گے کہ وہ ہماری بات ضرور سنیں یا ہمارا نقطۂنظر اپنائیں۔ ہم اپنے پیغام کو لوگوں پر مسلّط کرنا نہیں چاہتے۔ یہ معقول نہیں ہوگا اور دیگر گواہوں یا اُنکے کام کیلئے مشکل پیدا کر سکتا ہے۔
۹ گھرباگھر کام کرتے ہوئے فہیم بننے سے ہم اپنی اثرآفرینی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ جب آپ کسی گھر پر جاتے ہیں تو مشاہدہ کریں۔ کیا تمام پردے اور بلائنڈر بند ہیں؟ کیا کوئی آواز نہیں ہے؟ یہ شاید ظاہر کرے کہ مکین سو رہے ہیں۔ اسطرح اگر ہم بعد میں ملاقات کیلئے آتے ہیں تو ہماری گفتگو زیادہ پھلدار ہوگی۔ شاید یہ انتہائی مناسب ہوگا کہ اس وقت گھر کا نمبر نوٹ کر کے گھر کو چھوڑ دیا جائے۔ شاید آپ علاقے کو چھوڑنے سے پہلے دوبارہ آ سکتے ہیں یا بعد میں ملاقات کرنے کیلئے نوٹ کر سکتے ہیں۔
۱۰ تاہم ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جب ہم نادانستہ طور پر کسی شخص کو جگا دیں یا اُسکے آرام میں مخل ہوں۔ وہ شاید ناراض یا غصے میں دکھائی دے۔ ہمارا ردِعمل کیا ہونا چاہئے؟ امثال ۱۷:۲۷ نصیحت کرتی ہے: ”صاحبِفہم متین ہے۔“ اگرچہ ہم اپنی خدمتگزاری کیلئے معذرت نہیں کرتے، تاہم افسوس کا اظہار کر سکتے ہیں کہ ہم ایک غیرموزوں وقت پر آئے ہیں۔ ہم نرمی سے پوچھ سکتے ہیں آیا کوئی اَور وقت موزوں ہوگا اور واپس آنے کی پیشکش کر سکتے ہیں۔ دھیمی آواز میں ذاتی فکر کا اظہار ایک ایسے شخص کے قہر کو دُور کر سکتا ہے۔ (امثا ۱۵:۱) اگر ایک صاحبِخانہ مطلع کرتا ہے کہ وہ باقاعدگی سے رات کی شفٹ پر کام کرتا ہے تو علاقے کے کارڈ کے ساتھ ایک نوٹ لگایا جا سکتا ہے تاکہ مستقبل میں موزوں وقت پر ملاقات کی جا سکے۔
۱۱ علاقے کا مکمل طور پر احاطہ کرنے کی کوشش کرتے وقت بھی فہم موزوں ہے۔ جب ہم پہلی ملاقات کرتے ہیں تو بہت سے لوگ گھر پر نہیں ہوتے لہٰذا نجات کے پیغام میں اُنہیں شریک کرنے کے لئے ملاقات کرنے کے سلسلے میں اضافی کوشش درکار ہے۔ (روم ۱۰:۱۳) رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ بعضاوقات پبلشر لوگوں کو ملنے کی غرض سے ایک دن میں ایک ہی گھر کے کئی چکر لگاتے ہیں۔ یہ پڑوسیوں کی نظر سے چھپا نہیں رہتا۔ ایک غیرموزوں نظریہ پیدا ہو سکتا ہے کہ یہوواہ کے گواہ ان کی گلی کا ’ہر وقت چکر لگاتے‘ ہیں۔ اس سے کیسے گریز کِیا جا سکتا ہے؟
۱۲ فہم کو استعمال میں لائیں۔ جب آپ کسی ایسے گھر پر دوبارہ ملاقات کر رہے ہوں جہاں پہلے کوئی نہیں ملا تھا تو دیکھیں کہ آیا کسی کے گھر پر ہونے کے کوئی آثار ہیں؟ اگر ڈاک ڈبے سے باہر ہے تو بہت اغلب ہے کہ وہ شخص ابھی تک گھر پر نہیں ہے اور دوبارہ دستک دینا نتیجہخیز نہیں ہوگا۔ اگر دن کے مختلف اوقات جیسےکہ شام کو جانے سے بھی کسی شخص سے ملاقات نہیں ہوتی تو ممکن ہے کہ صاحبِخانہ سے ٹیلیفون پر باتچیت کی جائے۔ اگر نہیں تو دانشمندی سے اشتہار، یا دستیاشتہار دروازے پر چھوڑا جا سکتا ہے، بالخصوص اگر علاقے میں اکثروبیشتر کام کِیا جا چکا ہے۔ جب دوبارہ علاقے میں کام کِیا جاتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اُس شخص سے ملاقات ہو جائے۔
۱۳ منظم اور باوقار بنیں: اچھے انتظام کیساتھ ہم کسی بھی علاقے میں جمع ہونے والے گروپ کے بڑے یا بہت نمایاں ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ جب پبلشروں کی بڑی تعداد کے ساتھ بہت سی کاریں اور وین لوگوں کے گھروں کے سامنے پہنچتی ہیں تو وہ خوفزدہ محسوس کر سکتے ہیں۔ ہم اُنہیں یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ ہم رہائشی علاقوں پر ”حملہ“ کر رہے ہیں۔ علاقے میں کام کرنے کا بندوبست بنانے کی بہترین جگہ اجلاس برائے میدانی خدمت ہیں۔ پبلشروں کے چھوٹے گروپ، جیسے کہ ایک خاندان، صاحبِخانہ کو خوفزدہ نہیں کرتے اور علاقے میں کام کرتے وقت اُنہیں منظم کرنے کی ضرورت بھی کم ہی پڑتی ہے۔
۱۴ منظم ہونے میں یہ بھی شامل ہے کہ علاقے میں کام کے دوران والدین اپنے بچوں کے چالچلن کا خیال رکھیں۔ بالغوں کیساتھ دروازے پر دستک دیتے ہوئے بچوں کو باتمیز ہونا چاہئے۔ چھوٹے بچوں کو آزادی سے ہر جگہ گھومنے یا کھیلنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے کیونکہ یہ رہائشپزیر اور راہگیروں کو متوجہ کرنے کا باعث بنے گا۔
۱۵ سستانے کیلئے رکنے کے معاملے میں بھی توازن کی ضرورت ہے۔ جون ۱۹۹۵، کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری نے صفحہ ۴ پر بیان کِیا: ”جب ہم باہر میدانی خدمت میں ہوتے ہیں تو ہم سستانے اور ریفرشمنٹ کے وقفوں میں قیمتی وقت ضائع کر سکتے ہیں۔ تاہم، جب موسمی حالتیں شدید ہوتی ہیں تو ایک وقفہ ہمیں تازگی بخشنے اور کام کو جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ تاہم، بہتیرے [پبلشر] لوگوں کو گواہی دینے میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اُس وقت کے دوران جسے خدمتگزاری کے لئے مختص کِیا گیا ہے وقفےوقفے سے بھائیوں کے ساتھ سماجی میلجول سے گریز کرتے ہیں۔“ مشروبات نوش کرنے کیلئے ٹھہرنا اگرچہ ذاتی فیصلہ ہے تو بھی یہ نوٹ کِیا گیا ہے کہ بعضاوقات بھائیبہنوں کے بڑے گروپ کافی کی دکان یا ایک ریسٹورنٹ پر جمع ہوتے ہیں۔ مشروبات نوش کرنے میں صرف ہونے والے وقت کے علاوہ گروہ کی موجودگی وہاں پر موجود دوسرے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کا باعث ہو سکتی ہے۔ بعضاوقات صبح کی میدانی خدمتگزاری کے تجربات پر بلندآواز سے گفتگو کی جاتی ہے اور ایسا کرنا ہماری خدمتگزاری کے وقار کو کم کر سکتا اور اسکی اثرآفرینی کو متاثر کر سکتا ہے۔ فہم سے کام لیتے ہوئے پبلشر کسی بھی علاقے میں زیادہ تعداد میں جمع ہونے اور خدمتگزاری کا وقت غیرضروری کاموں میں صرف کرنے سے بچ سکتے ہیں۔
۱۶ بہتیروں کو گلیکوچوں میں، پارکنگ کی جگہوں پر اور دیگر عوامی جگہوں پر، لوگوں تک رسائی کرنے سے عمدہ نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ اس جگہ پر ہم نہ صرف اپنے کلام بلکہ اپنی معقولپسندی سے بھی عمدہ گواہی دینا چاہتے ہیں۔ ہر کلیسیا میں پبلشروں کو اپنے علاقے کی حدود کا احترام کرنا چاہئے تاکہ وہ کاروباری علاقے اور زمیندوز گاڑیوں میں داخل ہونے کی جگہوں یا ۲۴ گھنٹے کھلے رہنے والے کاروبار جیسےکہ پٹرول سٹیشنوں پر لوگوں کی راہ میں حائل ہوتے نظر نہ آئیں۔ یہ یقین کرنے کیلئے کہ ہم خدمتگزاری کو منظم اور باوقار طریقے سے انجام دیتے ہیں ہم صرف اپنے تفویضکردہ علاقے میں ہی کام کرینگے جبتککہ دوسری کلیسیا کی خدمتی کمیٹی کے ذریعے اُنہیں کچھ مدد دینے کیلئے واضح انتظامات نہیں کئے جاتے۔—مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۱۰:۱۳-۱۵۔
۱۷ جن کلیسیاؤں کے پاس ایسے بہت سے علاقے ہیں جہاں علانیہ گواہی دینا ممکن ہے، انہوں نے ان علاقوں کو ترتیبوار منظم کِیا ہے۔ پھر کسی انفرادی پبلشر یا گروپ کو علاقے کا کارڈ دے دیا جاتا ہے۔ یہ ۱-کرنتھیوں ۱۴:۴۰ میں پائے جانیوالے اصول: ”سب باتیں شایستگی اور قرینہ سے عمل میں آئیں“ کی مطابقت میں زیادہ مؤثر طور پر احاطہ کرنے اور بہت زیادہ پبلشروں کو ایک ہی وقت میں ایک ہی علاقے میں کام کرنے سے روکتا ہے۔
۱۸ ہماری ذاتی وضعقطع بھی باوقار اور یہوواہ کے نام کے حامل خادموں کے شایانِشان ہونی چاہئے۔ یہی بات اُن چیزوں پر بھی صادق آتی ہے جو ہم استعمال کرتے ہیں۔ پھٹےپُرانے بیگ اور خستہحال بائبل بادشاہتی پیغام سے توجہ منتشر کر دیتے ہیں۔ لباس اور وضعقطع کی بابت کہا جاتا ہے کہ یہ ”جلد رابطہ قائم کرنے کا ذریعہ ہیں جو اردگرد کے لوگوں کو آپکی بابت معلومات فراہم کرتا ہے کہ آپ کون ہیں اور آپ کا کیا مقام ہے۔“ لہٰذا ہماری وضعقطع نہ تو میلیکچیلی اور گندی اور نہ ہی پُرنمود اور نامعقول بلکہ ”خوشخبری کے موافق“ ہونی چاہئے۔—فل ۱:۲۷؛ مقابلہ کریں ۱-تیمتھیس ۲:۹، ۱۰۔
۱۹ ۱-کرنتھیوں ۹:۲۶ میں رسول پولس بیان کرتا ہے: ”پس مَیں بھی اِسی طرح دوڑتا ہوں یعنی بےٹھکانہ نہیں۔ مَیں اِسی طرح مکوں سے لڑتا ہوں یعنی اُسکی مانند نہیں جو ہوا کو مارتا ہے۔“ پولس کے نمونہ کی نقل میں ہم اثرآفرین اور پھلدار خدمتگزاری کا عزم رکھتے ہیں۔ جب ہم یہوواہ کی “ٹڈیوں کے لشکر“ کے حصہ کے طور پر گواہی دینے کے کام میں سرگرمی سے حصہ لیتے ہیں تو دُعا ہے کہ ہم اپنے علاقے میں نجات کا پیغام لے کر جانے میں مسیحی معقولپسندی اور فہم کا استعمال کریں۔