یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 12/‏11 ص.‏ 2
  • سوالی بکس

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سوالی بکس
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۱۱
  • ملتا جلتا مواد
  • کتابوں اور رسالوں کو سمجھ‌داری سے اِستعمال کریں
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ (‏2017ء)‏
  • بائبل پر مبنی مطبوعات کا دانشمندی سے استعمال کریں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۵
  • مختلف زبانوں والے علاقے میں لٹریچر پیش کرنا
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۳
  • اِس کتاب یا رسالے کی حالت کیسی ہے؟‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۱۱
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۱۱
خدم 12/‏11 ص.‏ 2

سوالی بکس

▪ ہم یہ اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں کہ ہمیں ایک شخص کو کوئی کتاب یا رسالہ وغیرہ دینا چاہئے یا نہیں؟‏

اِس سلسلے میں ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ شخص ہمارے پیغام میں دلچسپی لیتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ ہمارے پیغام میں دلچسپی لیتا ہے تو ہم اُسے دو رسالے، کوئی بروشر یا کتاب وغیرہ دے سکتے ہیں۔ اگر ہمیں لگتا ہے کہ وہ زیادہ عطیات نہیں دے سکتا یا بالکل بھی عطیات نہیں دے سکتا تو تب بھی ہمیں اُسے کتاب یا رسالے وغیرہ دینے چاہئیں۔ (‏ایو ۳۴:‏۱۹؛‏ مکا ۲۲:‏۱۷‏)‏ ہمارے رسالے، کتابیں اور بروشر موتیوں کی طرح قیمتی ہیں۔ اِس لئے ہم اُن لوگوں کو اپنے رسالے یا کتابیں وغیرہ نہیں دیں گے جو ہمارے پیغام میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔‏‏—‏متی ۷:‏۶‏۔‏

ہمیں یہ کیسے پتہ چلے گا کہ ایک شخص ہمارے پیغام میں دلچسپی لے رہا ہے یا نہیں؟ اگر وہ ہم سے بات‌چیت کرنے کے لئے تیار ہے تو یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہمارے پیغام میں دلچسپی لے رہا ہے۔ اِس کے علاوہ ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کیا وہ ہماری بات دھیان سے سُن رہا ہے؟ کیا وہ اُن سوالوں کا جواب دیتا ہے جو ہم اُس سے پوچھتے ہیں؟ کیا وہ اُس موضوع کے بارے میں اپنے خیالات کا اِظہار کرتا ہے جس پر ہم اُس سے بات کر رہے ہیں؟ جب ہم کوئی آیت پڑھتے ہیں تو کیا وہ ہمارے ساتھ بائبل میں وہ آیت دیکھتا ہے اور یوں یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خدا کے کلام کی عزت کرتا ہے؟ اچھا ہوگا کہ ہم اُس سے پوچھیں کہ کیا وہ ہماری کتابیں یا رسالے وغیرہ پڑھے گا۔ مبشروں کو یہ اندازہ لگانے کے لئے سمجھ‌داری سے کام لینا چاہئے کہ ایک شخص ہمارے پیغام میں دلچسپی لے رہا ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر گلیوں میں یا سڑکوں پر مُنادی کا کام کرتے وقت ہمیں سوچے‌سمجھے بغیر ہر شخص کو کتابیں، رسالے یا بروشر وغیرہ نہیں دینے چاہئیں۔ اگر ہم یہ اندازہ نہیں لگا پاتے کہ کوئی شخص ہمارے پیغام میں دلچسپی لے رہا ہے یا نہیں تو اُسے کوئی اشتہار دینا بہتر ہوگا۔‏

مبشروں کو بھی ضرورت کے مطابق ہی رسالے، کتابیں یا بروشر لینے چاہئیں۔ اُنہیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اگر وہ زیادہ عطیات دے سکتے ہیں تو وہ جتنے چاہیں رسالے، کتابیں یا بروشر لے سکتے ہیں۔ عطیات صرف کتابیں اور رسالے وغیرہ چھاپنے کے لئے استعمال نہیں کئے جاتے بلکہ یہ پوری دُنیا میں مُنادی کے کام کو چلانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ہمارے مالی حالات چاہے جیسے بھی ہوں، اگر ہم یہوواہ خدا اور اُس کی تنظیم کی قدر کرتے ہیں تو پھر ہم مُنادی کے کام کو چلانے کے لئے ”‏اپنے مال کی بہتات“‏ سے نہیں بلکہ دل کی خوشی سے عطیات دیں گے۔ (‏مر ۱۲:‏۴۱-‏۴۴؛‏ ۲-‏کر ۹:‏۷‏)‏ اگر ہم یہوواہ خدا اور اُس کی تنظیم کی قدر کرتے ہیں تو ہم اپنی ضرورت کے مطابق ہی رسالے اور کتابیں لیں گے اور یوں اُن عطیات کو ضائع نہیں کریں گے جو رسالوں اور کتابوں وغیرہ کو چھاپنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔‏

‏[‏صفحہ ۲ پر عبارت]‏

مبشروں کو یہ اندازہ لگانے کے لئے سمجھ‌داری سے کام لینا چاہئے کہ ایک شخص ہمارے پیغام میں دلچسپی لے رہا ہے یا نہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں