اِس کتاب یا رسالے کی حالت کیسی ہے؟
یہ سوال ہمیں اُس وقت خود سے پوچھنا چاہئے جب ہم مُنادی کے دوران کوئی کتاب یا رسالہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم ایسی کتابیں یا رسالے پیش کرتے ہیں جن کے کونے مڑے ہوئے ہوں، جن کا رنگ خراب ہو گیا ہو یا جو پھٹے ہوئے ہوں تو اِس سے لوگوں کو ہماری تنظیم کا بُرا تاثر ملے گا اور اُن کی توجہ اُس خوبصورت اور زندگیبخش پیغام سے ہٹ جائے گی جو اِن میں پایا جاتا ہے۔
ہم اپنی کتابوں اور رسالوں کو اچھی حالت میں کیسے رکھ سکتے ہیں؟ بہت سے بہنبھائی اپنے بیگ میں کتابوں، رسالوں، بروشروں اور اشتہاروں کو اِس ترتیب سے رکھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے الگالگ رہیں۔ جب وہ اپنی بائبل، کوئی کتاب یا رسالہ وغیرہ بیگ میں واپس ڈالتے ہیں تو وہ اِس بات کا دھیان رکھتے ہیں کہ یہ خراب نہ ہوں۔ کچھ بہنبھائی اپنی کتابیں اور رسالے وغیرہ فولڈر یا پلاسٹک کے بیگوں میں رکھتے ہیں۔ ہم اپنی کتابوں اور رسالوں کو اچھی حالت میں رکھنے کے لئے کوئی بھی طریقہ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہماری کتابوں اور رسالوں کی حالت کی وجہ سے لوگوں کو غلط تاثر ملے اور ہماری خدمت پر حرف آئے۔—۲-کر ۶:۱-۳۔