”مَیں آپ کے رسالے تب لوں گا جب آپ میری کتابیں لیں گے“
یہ بات اکثر مُنادی میں ملنے والے لوگ ہم سے کہتے ہیں۔ ہم دوسروں کو اپنی کتابیں اور رسالے دے کر اُن کی مذہبی کتابیں اور رسالے نہیں لیتے کیونکہ اُن میں سچی تعلیمات نہیں پائی جاتی ہیں۔ لیکن جب کوئی ہمیں اپنی کتابیں دینے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اُسے سمجھداری سے کیسے جواب دے سکتے ہیں؟ (روم ۱:۲۵) ہم اُس سے کہہ سکتے ہیں: ”مَیں اِس بات کی قدر کرتا ہوں کہ آپ مجھے پڑھنے کے لئے کچھ دینا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا مَیں پوچھ سکتا ہوں کہ اِس میں اِنسانوں کے مسائل کے حل کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟ [جواب دینے دیں۔ اگر وہ شخص آپ سے کہے کہ ”اِس کتاب کو خود پڑھ کر دیکھیں کہ اِس میں کیا لکھا ہے“ تو آپ اُس سے کہہ سکتے ہیں کہ ”مَیں نے آپ کو اپنی کتاب دیتے وقت بتایا تھا کہ اِس میں کیا لکھا ہے۔“ اِس کے بعد متی ۶:۹، ۱۰ کو پڑھیں یا پھر اِس کا حوالہ دیں۔] یسوع مسیح نے بتایا تھا کہ خدا اپنی بادشاہت کے ذریعے زمین پر اپنی مرضی پوری کرے گا۔ اِس لئے مَیں صرف وہی مذہبی کتابیں پڑھتا ہوں جن میں خدا کی بادشاہت کی اہمیت بتائی جاتی ہے۔ کیا مَیں آپ کو پاک کلام سے دِکھا سکتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت اِنسانوں کے لئے کیا کچھ کرے گی؟“