سوالی بکس
▪ اگر کسی کے ساتھ دروازے پر کھڑے ہو کر بائبل کا مطالعہ کِیا جاتا ہے تو کیا مطالعے کے شروع اور آخر میں دُعا کی جانی چاہئے؟
جب ہم کسی کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں تو مطالعے کے شروع اور آخر میں دُعا کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ دُعا میں ہم یہوواہ خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مطالعے کے دوران روحُالقدس کے ذریعے ہماری رہنمائی کرے۔ (لو ۱۱:۱۳) جب ہم دُعا کرتے ہیں تو طالبعلم سمجھ جاتا ہے کہ بائبل کا مطالعہ کرنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ وہ یہ بھی سیکھتا ہے کہ دُعا کس طرح کی جانی چاہئے۔ (لو ۶:۴۰) اِس لئے کسی کے ساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کرنے کے بعد ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جتنی جلد ہو سکے، مطالعے کا آغاز دُعا سے کِیا جائے۔ لیکن اگر کسی کے ساتھ دروازے پر کھڑے ہو کر ہی بائبل کا مطالعہ کِیا جاتا ہے تو مطالعہ کرانے والے مبشر کو حالات کے مطابق سمجھداری سے فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ مطالعے کے شروع اور آخر میں دُعا کرے گا یا نہیں۔
اِس سلسلے میں آسپاس کے ماحول کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کسی حد تک دوسروں کی نظروں سے اوجھل کھڑے ہیں تو مطالعے کے شروع اور آخر میں چھوٹی سی دُعا کی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ دُعا کرنے سے لوگ خواہمخواہ آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور طالبعلم کو بھی کچھ اُلجھن محسوس ہوگی تو دُعا کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اگر مستقبل میں اُس طالبعلم کے ساتھ کسی ایسی جگہ مطالعہ کرنا ممکن ہو جہاں دوسرے لوگ آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے تو تب آپ دُعا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا جگہ چاہے کوئی بھی ہو، کسی کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے وقت سمجھداری سے یہ فیصلہ کریں کہ مطالعہ کے شروع اور آخر میں دُعا کرنا مناسب ہے یا نہیں۔—مارچ ۲۰۰۵ء کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے صفحہ ۴ کو دیکھیں۔