یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 1/‏08 ص.‏ 8
  • ‏’‏تمہارا کلام ہمیشہ پُرفضل اور نمکین ہو‘‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏’‏تمہارا کلام ہمیشہ پُرفضل اور نمکین ہو‘‏
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۸۲۰۰
  • ملتا جلتا مواد
  • نمک—‏ایک گراں‌بہا اشیائے‌صرف
    جاگو!‏—‏2002ء
  • کنوئیں پر ایک عورت
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • سامری عورت سے بات‌چیت
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۸۲۰۰
خدم 1/‏08 ص.‏ 8

‏’‏تمہارا کلام ہمیشہ پُرفضل اور نمکین ہو‘‏

۱.‏ ’‏اپنے کلام کو نمکین‘‏ بنانے کا کیا مطلب ہے؟‏

۱ ”‏تمہارا کلام ہمیشہ ایسا پُرفضل اور نمکین ہو کہ تمہیں ہر شخص کو مناسب جواب دینا آ جائے۔“‏ (‏کل ۴:‏۶‏)‏ اپنے کلام کو نمکین بنانے کا مطلب درست الفاظ کا انتخاب کرنا اور ایسے انداز میں گفتگو کرنا ہے جو سننے والوں کے لئے ہماری بات‌چیت کو خوشگوار بنا دیتا ہے۔ خدمتگزاری کے دوران ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔‏

۲.‏ یسوع ایک سامری عورت کو گواہی دینے کے قابل کیسا ہوا؟‏

۲ یسوع کا نمونہ:‏ ایک مرتبہ کنویں کے قریب آرام کرتے ہوئے یسوع نے ایک سامری عورت سے بات‌چیت کی جو وہاں پانی بھرنے کے لئے آئی تھی۔ اُس عورت نے گفتگو کے دوران کئی مرتبہ یسوع کی توجہ یہودیوں اور سامریوں کے درمیان پائی جانے والی پُرانی دُشمنی کی طرف دلائی۔ اُس نے اپنے اِس اعتقاد کا بھی ذکر کِیا کہ سامری یعقوب کی نسل سے ہیں جبکہ یہودی یہ نہیں مانتے۔ یسوع نے اُس کی باتوں پر اعتراض کرنے کی بجائے اپنی گفتگو کو اُس کے لئے دلچسپ بنایا۔ نتیجتاً، یسوع ایسی گواہی دینے کے قابل ہوا جس سے نہ صرف اُس عورت کی بلکہ اُس کے شہر کے دیگر لوگوں کی بھی مدد ہوئی۔—‏یوح ۴:‏۷-‏۱۵،‏ ۳۹‏۔‏

۳.‏ ہم منادی کے دوران یسوع کے نمونے کی نقل کیسے کر سکتے ہیں؟‏

۳ جب ہم منادی کرتے ہیں تو ہمیں بھی ”‏اچھی چیزوں کی خوشخبری“‏ دینے کے اپنے مقصد کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ (‏روم ۱۰:‏۱۵‏)‏ ہم بھی صاحبِ‌خانہ کے ساتھ بائبل سے ایک دلچسپ اور حوصلہ‌افزا موضوع پر بات‌چیت کرنا چاہتے ہیں۔ اُسے کبھی بھی یہ تاثر نہ دیں کہ آپ اُس کے اعتقادات کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ کسی غلط نظریے کا اظہار کرتا ہے تو ہمیں فوراً اُس پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔ کیا اُس کی گفتگو میں کوئی ایسا نکتہ ہے جس سے ہم متفق ہیں یا جس کی ہم تعریف کر سکتے ہیں؟ شاید ہم یہ کہتے ہوئے ایک صحیفہ متعارف کروا سکتے ہیں:‏ ”‏کیا آپ نے کبھی اِس طرح سوچا ہے جیسے یہاں لکھا ہے؟“‏

۴.‏ اگر صاحبِ‌خانہ بدکلامی کرتا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

۴ اُس صورت میں کیا ہو اگر صاحبِ‌خانہ بدکلامی یا بحث‌وتکرار کرتا ہے؟ ایسی صورتحال میں بھی ہمیں نرمی اور حلیمی سے بات‌چیت کرنی چاہئے۔ (‏۲-‏تیم ۲:‏۲۴، ۲۵‏)‏ لیکن اگر صاحبِ‌خانہ ہمارے بادشاہتی پیغام میں دلچسپی نہیں لیتا تو اچھا ہوگا کہ ہم موقع‌شناسی سے کام لیتے ہوئے وہاں سے اُٹھ جائیں۔—‏متی ۷:‏۶؛‏ ۱۰:‏۱۱-‏۱۴‏۔‏

۵.‏ ایک بہن کو نرم جواب دینے کے نتیجے میں کن عمدہ نتائج کا تجربہ ہوا؟‏

۵ اچھے نتائج:‏ جب یہوواہ کی ایک گواہ نے اپنی پڑوسن کو گواہی دینے کی کوشش کی تو وہ عورت غصے سے گالی‌گلوچ کرنے لگی۔ یہوواہ کی گواہ نے بڑے مہربانہ انداز میں کہا:‏ ”‏اگر آپ کو میری بات بُری لگی ہے تو مَیں اِس کے لئے آپ سے معافی چاہتی ہوں۔ اچھا خدا حافظ۔“‏ دو ہفتے بعد اُس عورت نے بہن کے دروازے پر دستک دی اور اپنے بُرے رویے کی معافی مانگی اور کہا کہ مجھے بتائیں اُس دن آپ کیا کہنا چاہتی تھیں۔ عموماً، نرم جواب کے اچھے نتائج نکلتے ہیں!‏—‏امثا ۱۵:‏۱؛‏ ۲۵:‏۱۵‏۔‏

۶.‏ خدمتگزاری کے دوران ہمارا کلام کیوں پُرفضل اور نمکین ہونا چاہئے؟‏

۶ خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سناتے وقت اپنی بات‌چیت کو ہمیشہ پُرفضل اور نمکین رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر صاحبِ‌خانہ ہماری بات نہیں سننا چاہتا توبھی یاد رکھیں کہ ہمارے اچھے رویے کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ جب یہوواہ کے گواہ دوبارہ کبھی اُس کے دروازے پر دستک دیں تو وہ دلچسپی سے اُن کی بات سنے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں