سبق نمبر 77
کنوئیں پر ایک عورت
عیدِفسح کے بعد یسوع اور اُن کے شاگرد گلیل جاتے ہوئے سامریہ کے راستے سے گزرے۔ یسوع شہر سُوخار کے قریب اُس کنوئیں پر رُکے جسے یعقوب کا کنواں کہا جاتا تھا۔ جب وہ آرام کر رہے تھے تو اُن کے شاگرد شہر سے کھانا لینے گئے۔
ایک عورت کنوئیں پر پانی بھرنے آئی۔ یسوع نے اُس سے کہا: ”مجھے پانی پلا دیں۔“ اُس نے کہا: ”آپ مجھ سے بات کیوں کر رہے ہیں؟ مَیں تو ایک سامری عورت ہوں اور یہودی سامریوں سے بات نہیں کرتے۔“ یسوع نے اُس سے کہا: ”اگر آپ کو پتہ ہوتا کہ مَیں کون ہوں تو آپ مجھ سے پانی مانگتیں اور مَیں آپ کو زندگی کا پانی دیتا۔“ اُس عورت نے پوچھا: ”آپ کی بات کا کیا مطلب ہے؟ آپ کے پاس تو پانی بھرنے کے لیے کوئی بالٹی بھی نہیں ہے۔“ یسوع نے کہا: ”جو کوئی اُس پانی میں سے پیئے گا جو میرے پاس ہے، اُسے دوبارہ پیاس نہیں لگے گی۔“ اُس عورت نے کہا: ”جناب! مجھے بھی وہ پانی دیں۔“
پھر یسوع نے اُس سے کہا: ”اپنے شوہر کو کنوئیں کے پاس لے کر آئیں۔“ اُس نے کہا: ”میرا کوئی شوہر نہیں ہے۔“ یسوع نے کہا: ”آپ سچ کہہ رہی ہیں۔ آپ کی پانچ بار شادی ہو چُکی ہے اور اب آپ ایک ایسے آدمی کے ساتھ رہ رہی ہیں جس کے ساتھ آپ کی شادی نہیں ہوئی۔“ اُس عورت نے کہا: ”مَیں دیکھ سکتی ہوں کہ آپ ایک نبی ہیں۔ میرے لوگ مانتے ہیں کہ ہم خدا کی عبادت اِس پہاڑ پر کر سکتے ہیں۔ لیکن یہودی کہتے ہیں کہ ہم صرف یروشلم میں ہی عبادت کر سکتے ہیں۔ مَیں مانتی ہوں کہ جب مسیح آئے گا تو وہ ہمیں سکھائے گا کہ ہمیں کیسے عبادت کرنی چاہیے۔“ پھر یسوع نے کچھ ایسا کہا جو اب تک اُنہوں نے کسی سے نہیں کہا تھا۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں ہی مسیح ہوں۔“
وہ عورت جلدی جلدی شہر میں گئی اور سامریوں سے کہا: ”مجھے لگتا ہے کہ مجھے مسیح مل گیا ہے۔ اُس نے میرے بارے میں سب کچھ بالکل صحیح صحیح بتایا ہے۔ آؤ اور اُسے دیکھو۔“ وہ سب اُس عورت کے ساتھ کنوئیں پر گئے اور یسوع کی تعلیم سننے لگے۔
سامریہ کے لوگوں نے یسوع سے کہا کہ وہ کچھ دن اُن کے پاس ہی رُک جائیں۔ یسوع دو دن تک وہیں رہے اور لوگوں کو تعلیم دیتے رہے اور بہت سے لوگ اُن پر ایمان لے آئے۔ لوگوں نے سامری عورت سے کہا: ”اِس آدمی کی باتیں سننے کے بعد ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ یہی دُنیا کو بچانے والا ہے۔“
””آئیں!“ اور جس کسی کو پیاس لگی ہے، وہ آئے اور جو بھی چاہے، زندگی کا پانی مُفت لے۔“—مُکاشفہ 22:17