داناؤں کی مانند چلیں
۱ جب یسوع نے چار ماہیگیروں کو اپنے پیروکار بننے کے لئے کہا تو اُنہوں نے فیصلہ کرنے میں دیر نہ لگائی بلکہ ’فوراً اُس کے پیچھے ہو لئے۔‘ (متی ۴:۱۸-۲۲) جب ترسس کے ساؤل نے اپنا مذہب تبدیل کِیا اور دوبارہ بینائی پانے کے بعد اُس نے ”فوراً عبادتخانوں میں یسوؔع کی مُنادی“ کرنا شروع کر دی۔ (اعما ۹:۲۰) وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے اور گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ پس، یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ’داناؤں کی مانند چلتے‘ ہوئے اِس بات پر غور کریں کہ ہم اپنے وقت کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔—افس ۵:۱۵، ۱۶۔
۲ وقت اور حادثہ: آج ہمیں یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کے جو مواقع حاصل ہیں شاید کل نہ ہوں۔ (یعقو ۴:۱۴) اِس کے علاوہ، کوئی بھی شخص ’ناگہانی حادثات‘ سے محفوظ نہیں ہے۔ (واعظ ۹:۱۱) علاوہازیں، اِس وقت ہمیں بڑھاپے اور اِس سے وابستہ ’بُرے دنوں‘ کا سامنا ہے جو یہوواہ خدا کے لئے ہماری خدمت کو محدود کر دیتے ہیں۔ (واعظ ۱۲:۱) لہٰذا، خود کو یہوواہ خدا کے لئے مخصوص نہ کرنا یا اپنی خدمتگزاری کو بڑھانے کے لئے موزوں حالات کا انتظار کرتے رہنا دانشمندانہ روش نہیں ہے۔ (لو ۹:۵۹-۶۲) ابرہام نے اپنی زندگی کا دانشمندانہ استعمال کِیا اور پورے طور پر یہوواہ کا وفادار رہا۔ اِسی وجہ سے اپنے آخری ایّام میں اُسے امنوسکون حاصل ہوا اور اُس نے ”نہایت ضعیف اور پوری عمر کا ہو کر“ وفات پائی۔—پیدا ۲۵:۸۔
۳ وقت تنگ ہے: ہم اِس وجہ سے بھی اپنے وقت کا دانشمندانہ استعمال کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ”وقت تنگ ہے۔“ (۱-کر ۷:۲۹-۳۱) بہت جلد اِس بُرے نظام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اِس کے علاوہ، ’زمین پر فصل کی کٹائی‘ کے دوران بھیڑخصلت لوگوں کو جمع کرنے کے کام میں حصہ لینے کا وقت بھی ختم ہو جائے گا۔ (مکا ۱۴:۱۵) لہٰذا، ہمیں زندگی کی فکروں اور پریشانیوں کو اِس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ یہ ہمارے اُس وقت کو چھین لیں جسے ہم مؤثر طور پر خدمتگزاری میں استعمال کر سکتے ہیں۔ (لو ۲۱:۳۴، ۳۵) پس، اگر ہم کٹائی کے کام میں بھرپور حصہ لیتے ہیں تو ہمیں اپنے ماضی پر نگاہ ڈالتے وقت کتنا اطمینان حاصل ہوگا!
۴ ہمیں ہمیشہ خبردار رہنا چاہئے تاکہ خدمت کے جو شاندار مواقع ہمیں حاصل ہیں کہیں وہ ہاتھ سے نکل نہ جائیں۔ اِس لئے ’جب تک موقع ہے‘ ہمیں دلوجان سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہنے کا عزم کرنا چاہئے۔ (عبر ۳:۱۳) ایسا کرنے سے ہم یہ ثابت کرنے کے قابل ہوں گے کہ ہم واقعی دانا ہیں کیونکہ ”جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔“—۱-یوح ۲:۱۷۔