ہم دوسروں کو بادشاہتی اُمید میں شریک کرتے ہیں
۱ اِن آخری ایّام میں بہتیرے لوگ نااُمید ہیں۔ (افس ۲:۱۲) بعض نے غیردانشمندانہ طور پر مالودولت، انسانی حکمرانوں، جدید سائنس اور اِسی طرح کی دیگر چیزوں پر آس لگا رکھی ہے۔ ہم کتنے شکرگزار ہیں کہ ہمارے پاس مستقبل کے لئے ایک حقیقی اُمید ہے۔ یہ اُمید ہماری ”جان کا ایسا لنگر ہے جو ثابت اور قائم رہتا ہے۔“—عبر ۶:۱۹۔
۲ خدا کی بادشاہتی حکمرانی کے تحت یہ زمین فردوس بن جائے گی۔ مُردے زندہ ہو جائیں گے۔ (اعما ۲۴:۱۵) غربت، ناانصافی، بیماری، بڑھاپا اور موت باقی نہ رہیں گے۔ (زبور ۹:۱۸؛ متی ۱۲:۲۰، ۲۱؛ مکا ۲۱:۳، ۴) یہوواہ خدا کے یہ وعدے بہت جلد پورے ہوں گے۔ آپ خاص طور پر کس اُمید کے پورا ہونے کے منتظر ہیں؟
۳ خوشخبری کا اعلان کریں: ہم بادشاہتی اُمید کو صرف اپنے تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ خدا اور پڑوسی کے لئے محبت ہمیں یسوع مسیح کی نقل کرتے ہوئے ’غریبوں کو خوشخبری سنانے، قیدیوں کو رہائی پانے، اندھوں کو بینائی اور کچلے ہوؤں کو آزادی‘ کی خبر سنانے کی تحریک دیتی ہے۔ (لو ۴:۱۸) پولس رسول نے بازاروں میں اور جہاں کہیں لوگ مل سکتے تھے وہاں خوشخبری سنائی۔ وہ سرگرمی سے منادی کے کام میں مشغول رہا۔ (اعما ۱۸:۵) پولس رسول کے نمونے کی نقل کرتے ہوئے جوشوخروش کے ساتھ منادی کرنا ہمیں ’دُنیا کی فکر اور دولت کے فریب‘ سے بچائے گا اور ہماری مسیحی اُمید کو بھی ماند نہیں پڑنے دے گا۔—مر ۴:۱۹۔
۴ ہماری اُمید اُس وقت بھی ماند نہیں پڑتی جب ہم بےحس لوگوں سے ملتے ہیں جو بادشاہتی پیغام کے لئے کم دلچسپی دکھاتے یا ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ ہم ”اپنی اُمید کے اقرار کو مضبوطی سے تھامے“ ہوئے ہیں۔ (عبر ۱۰:۲۳) ہم ’انجیل سے شرماتے‘ نہیں۔ (روم ۱:۱۶) ہمارا پُختہ یقین اور ثابتقدمی بالآخر بعض لوگوں کو ہمارے پیغام کو سننے کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔
۵ اگرچہ ہم دُنیا کے بگڑتے ہوئے حالات کے متعلق بائبل پیشینگوئیوں کی تکمیل پر توجہ دلاتے ہیں توبھی ہم صرف بربادی کا اعلان نہیں کرتے۔ اِس کے برعکس، ہماری خدمتگزاری کا مرکز بادشاہتی اُمید یعنی خدا کی بادشاہت کی خوشخبری ہے۔ پس، دُعا ہے کہ ہم مکمل اعتماد اور سرگرمی کے ساتھ ”پوری اُمید کے واسطے آخر تک اِسی طرح کوشش“ کرتے ہوئے خوشخبری کی منادی کرتے رہیں۔—عبر ۶:۱۱۔